Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 38 باب نكاح المحرم ) · حديث 4135

3909 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال كنت عند عطاء فجاءه رجل فقال هل يتزوج المحرم فقال عطاء ما حرم الله عز و جل النكاح منذ أحله [ ص 271 ] قال ميمون فقلت له إن عمر بن عبد العزيز كتب إلي أن سل يزيد بن الأصم أكان رسول الله صلى الله عليه و سلم حين تزوج ميمونة حلالا أو حراما فقال يزيد تزوجها وهو حلال فقال عطاء ما كنا نأخذ هذا إلا عن ميمونة كنا نسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم تزوجها وهو محرم فأخبر جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران بالسبب الذي له وقع إليه هذا الحديث عن يزيد بن الأصم وأنه إنما كان ذلك من قول يزيد لا عن ميمونة ولا عن غيرها ثم حاج ميمون به عطاء فذكره عن يزيد ولم يجوزه به فلو كان عنده عمن هو أبعد منه لأحتج به عليه ليؤكد بذلك حجته فهذا هو أصل هذا الحديث أيضا عن يزيد بن الأصم لا عن غيره والذين رووا أن النبي صلى الله عليه و سلم تزوجها وهو محرم أهل علم وأثبت أصحاب بن عباس رضي الله عنه سعيد بن جبير وعطاء وطاوس ومجاهد وعكرمة وجابر بن زيد وهؤلاء كلهم أئمة فقهاء يحتج برواياتهم وآرائهم الذين نقلوا عنهم فكذلك أيضا منهم عمرو بن دينار وأيوب السختياني وعبد الله بن أبي لحيج فهؤلاء أيضا أئمة يقتدى بروايتهم ثم قد روي عن عائشة أيضا ما قد وافق ما روي عن بن عباس رضي الله عنهما وروي ذلك عنها من لا يطعن أحد فيه أبو عوانة عن مغيرة عن أبي الضحى عن مسروق فكل هؤلاء أئمة يحتج بروايتهم فمما رووا من ذلك أولى مما روي من ليس كمثلهم في الضبط والثبت والفقه والأمانة وأما حديث عثمان رضي الله عنه فإنما رواه نبيه بن وهب وليس كعمرو بن دينار ولا كجابر بن زيد ولا كمن روى ما يوافق ذلك عن مسروق عن عائشة وليس لنبيه أيضا موضع في العلم كموضع أحد ممن ذكرنا فلا يجوز إذ كان كذلك أن يعارض به جميع من ذكرنا ممن روى بخلاف الذي روى هو [ ص 272 ] فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار فأما النظر في ذلك فان المحرم حرام عليه جماع النساء فاحتمل أن يكون عقد نكاحهن كذلك فنظرنا في ذلك فوجدناهم قد أجمعوا أنه لا بأس على المحرم بأن يبتاع جارية ولكن لا يطؤها حتى يحل ولابأس بأن يشتري ليتطيب به بعدما يحل ولابأس بأن يشتري قميصا ليلبسه بعدما يحل وذلك الجماع هو التطيب واللباس حرام عليه كله وهو محرم فلم يكن حرمة ذلك عليه تمنعه عقد الملك عليه ورأينا المحرم لا يشتري صيدا فاحتمل أن يكون حكم عقد النكاح كحكم عقد شراء الصيد أو حكم عقد شراء وصفنا مما سوى ذلك فنظرنا في ذلك فإذا من أحرم وفي يده صيد أمر أن يطلقه ومن أحرم وعليه قميص وفي يده طيب أمر أن يطرحه عنه ويرفعه ولم يكن ذلك كالصيد الذي يؤمر بتخليته ويترك حبسه ورأيناه إذا أحرم ومعه امرأة لم يؤمر بإطلاقها بل يؤمر بحفظها وصونها فكانت المرأة في ذلك كاللباس والطيب لا كالصيد فالنظر على ذلك أن يكون في استقبال عقد النكاح عليها في حكم استقبال عقد الملك على الثياب والطيب الذي يحل له به لبس ذلك واستعماله بعد الخروج من الإحرام فقال قائل فقد رأينا من تزوج أخته من الرضاعة كان نكاحه باطلا ولو اشتراها كان شراؤه جائزا فكان الشراء يجوز أن يعقد على ما لا يحل وطؤه والنكاح لا يجوز أن يعقد إلا على من يحل وطؤها وكانت المرأة حراما على المحرم جماعها فالنظر على ذلك أن يحرم عليه نكاحها فكان من الحجة للآخرين عليهم في ذلك أنا رأينا الصائم والمعتكف حرام على كل واحد منهما الجماع وكل قد اجمع أن حرمة الجماع عليهما لا يمنعهما من عقد النكاح لأنفسهما إذ كان ما حرم الجماع عليهما من ذلك إنما هو حرمة دين كحرمة حيض المرأة الذي لا يمنعها من عقد النكاح على نفسها فحرمة الإحرام في النظر أيضا كذلك وقد رأينا الرضاع الذي لا يجوز تزويج المرأة لمكانه إذا طرأ على النكاح فسخ النكاح وكذلك لا يجوز استقبال النكاح عليه وكان الإحرام إذا طرأ على النكاح لم يفسخه فالنظر على ذلك أيضا أن يكون لا يمنع استقبال عقدة النكاح وحرمة الجماع بالإحرام كحرمته بالصيام سواء فإذا كانت حرمة الصيام لا تمنع عقد النكاح فكذلك حرمة الإحرام لا تمنع عقدة النكاح أيضا فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد

جعفر بن برقان نے میمون بن مہران سے نقل کیا کہ میں عطاءرحمتہ اللہ کے ہاں تھا تو ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کیا محرم شادی کر سکتا ہے؟ عطاء کہنے لگے اللہ تعالی نے جب سے نکاح حلال کیا ہے پھر حرام نہیں کیا۔ میمون کہنے لگے۔ میں نے کہا عمر بن عبدالعزیز نے میری طرف لکھا کہ یزید بن اصم سے پوچھا گیا۔ کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میمونہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو کیا آپ حلال کی حالت میں تھے یا حالت احرام میں تھے؟ میمون کہنے لگے کہ یزید نے جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حلال ہونے کی حالت میں نکاح کیا۔۔عطاءرحمتہ اللہ نے کہا ہم تو یہ روایت میمونہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے ہم سنا کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے احرام کی حالت میں نکاح کیا جعفر بن برقان رحمتہ اللہ نے میمون بن مہران رحمتہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے وہ سبب ذکر کیا جس سے یہ روایت یزید بن اصم رحمتہ اللہ سے ان تک پہنچی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ یزید کا قول ہے ۔حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کا قول نہیں ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کا ہے۔ پھر میمونہ رحمتہ اللہ نے عطاء رحمتہ اللہ سے بحث کرتے وقت یزید کی یہ روایت نقل کی تو انہوں نے اس کوقبول نہ کیا۔ اگر یہ ان کے ہاں اوپر تک روایت جاتی تو میمون اس سے ضرور استدلال کرتے اور اس سے اپنی دلیل کو مضبوط بنالیتے ۔ پس اس روایت کی اصل اتنی ہے کہ یہ صرف یزید بن اصم رحمتہ اللہ سے مروی ہے اور کسی سے نہیں ۔اور جن لوگوں نے یہ روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں نکاح کیا وہ اہل علم ہیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے معتبر شا گر دسعید بن جبیر اور عطاء طاؤس‘ مجاہد عکرمہ‘ جابر بن زیدرحمہم اللہ ہیں یہ تمام فقاہت کے ائمہ ہیں ان کی آراء سے استدلال کیا جا تا ہے ۔ان سے نقل کر نے والے ایوب سختیانی اور عبد اللہ بن ابی الحیح رحمہم اللہ ہیں ۔ یہ بھی ائمہ ملامقتداءعلم ہیں ان کی روایات کوم سلم مانا جا تا ہے ۔ جن کی اقتداء کی جاتی ہے۔ پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی موافقت میں روایت آتی ہے اور اس روایت کے روات وہ حضرات ہیں جوکسی کے ہاں بھی مطعون نہیں ‘حضرت ابوعوانہ مغیرہ سے وہ ابوالضحٰی سے اور وہ مسروق سے روایت کرتے ہیں یہ تمام ایسے ائمہ ہیں جن کی روایت سے استدلال کیا جا تا ہے ۔ پس ان کی روایات ان حضرات کی روایات کے مقابل اولیٰ ہیں جو کہ ضبط پختگی‘ فقاہت اور امانت میں ان کے برابر نہیں ہیں ۔ رہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت اس کو نبیہ بن وھب نے روایت کیا جو کہ درجہ میں عمر و بن دینار کے برابر نہیں اوراسی وہ جابر بن زید کو بھی نہیں پہنچ سکتے اور نہ ان کو پہنچ سکتے ہیں‘ جو ان کے موافق مسروق کی وساطت سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور نبیہ بن وھب کا کوئی علمی مقام نہیں جیسا مذکورۃ الصد رلوگوں کا ہے ۔ جب کہ روایت کی صورت حال یہ ہے تو پھر وہ حضرات ان مذکورہ روات کے مقابل نہیں ہو سکتے ۔ روایات کو سامنے رکھ کر یہ اس باب کی صورت ہے۔ باقی قیاس تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ محرم پر عورتوں سے جماع حرام ہے ۔ تو اس کا احتمال ہے کہ عقد نکاح کاحکم اسی طرح ہو ۔ جب ہم نے اس سلسلہ میں غوروخوض کیا تو ان کو اس سلسلہ میں متفق پایا کہ محرم پر لونڈی خریدنے میں چنداں حرج نہیں مگر احرام سے نکلنے تک اس سے جماع نہیں کر سکتا۔ خوشبو کی خریداری میں کچھ حرج نہیں مگر احرام میں استعمال نہیں کر سکتا بلکہ بعد میں کرے گا۔قمیص کی خرید میں کچھ حرج نہیں مگر اس کا پہنا احرام سے فراغت کے بعد ہوگا ۔ یہ جماع ‘خوشبو‘ لباس تمام اس پر حرام ہیں مگر ان کی حرمت عقد ملکیت کے لیے رکاوٹ نہیں ہے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ محرم شکار کی خریداری نہیں کر سکتا پس اس سے یہ احتمال پیدا ہوسکتا ہے کہ نکاح کاحکم شکار کے خریدنے کی طرح ہو یا مطلق خرید وفروخت کا ہو ۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ پس ہم نے اس میں غور کیا تو ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ جوشخص احرام باند ھے اور اس وقت اس کے قبضہ میں شکار ہو۔ تو اسے چھوڑ نے کاحکم دیا جائے گا۔اسی طرح جس نے احرام باندھا اور اس نے قمیص زیب تن کر رکھی ہو اور اس کے ہاتھ میں خوشبو ہو۔ تو اسے حکم کیا جائے گا کہ وہ اسے پھینک دے اورقمیص کو اتار دے اور یہ شکار کی طرح نہیں ہے کہ جس کا چوڑنے کا حکم کیا جائے گا اور اسے قید بھی نہ کیا جائے گا اور ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے احرام باندھا اور اس کے ساتھ بیوی تھی تو اسے اس کو آزاد کرنے کا حکم نہ دیا جائے گا بلکہ اس کی حفاظت دصیانت کاحکم دیا جائے گا عورت کی حیثیت اس کے لئے لباس وخوشبوجیسی ہوگی شکار جیسی نہ ہوگی ۔ پس نظر وفکر کا تقاضا تو یہی ہے کہ عقد نکاح کرنا کپڑے اور خوشبو کی خریداری کے عقد کی طرح ہے ۔ وہ کپڑا کہ جس کا استعمال لاحرام سے خروج کے بعد اس کو درست ہے۔ایک معترض کا کہنا یہ ہے ہم نے دیکھا کہ جس شخص نے رضاعی بہن سے نکاح کر لیا تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر اس نے اس کوخرید لیا تو اس کی خریداری درست ہے اور یہ عقد شراء درست ہے اور عقد شراء اس لونڈی کا بھی درست ہے جس سے قربت حلال نہ ہو حالانکہ نکاح کا عقداسی سے منعقد ہوتا ہے جس سے وطی حلال ہو۔ اور محرم کو بیوی سے حالت احرام میں جماع حرام ہے ۔ پس نظر وفکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس سے نکاح بھی حرام ہو ۔ فریق اول کے خلاف فریق ثانی کی دلیل یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ روزہ دار معتکف ہر دو کے لئے بیوی سے جماع حرام ہے اور سب کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لئے جماع کی حرمت اپنے عقد نکاح سے مانع نہیں ہے ۔اس لئے کہ ان پر جماع کی حرمت وہ دینی حرمت ہے جیسا کہ حیض کی حالت میں عورت کی حرمت ہے اور یہ حیض عقد نکاح سے عورت کو مانع نہیں ہے۔ تو قیاس ونظر میں احرام کی حرمت بھی اسی طرح ہے۔ ہم نے نگاہ دوڑائی تو ہم نے دیکھا کہ رضاع کے ہوتے ہوۓ اس عورت سے نکاح درست نہیں۔اگر وہ نکاح پر طاری ہو جائے تو نکاح فسخ ہو جائے گا۔ اسی طرح اس پر نکاح کا کر نا درست نہیں اور احرام جب نکاج پر طاری ہوتو وہ نکاح کو فسخ نہیں کر تا پس نظر وفکر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عقد نکاح کے پیش آنے سے مانع نہیں ہے اور جماع کی حرمت احرام کے ساتھ روزے کی حرمت کی طرح ہے اور دونوں برابر ہیں ۔ پس جب حرمت روز و عقد نکاح سے رکاوٹ نہیں تو حرمت احرام کا حکم بھی یہی ہے کہ وہ بھی عقد نکاح سے مانع نہیں ہے۔ اس باب میں تقاضا نظر یہی ہے اور یہی امام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ تعالی کا قول ہے۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4135

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 38 باب نكاح المحرم ) · حديث 4136

3910 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا جرير بن حازم عن سليمان الأعمش عن إبراهيم أن بن مسعود رضي الله عنه كان لا يرى بأسا أن يتزوج المحرم

سلیمان الاعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے کہ محرم عقد نکاح کر لے۔

إبراهيم أن بن مسعود كان لا يرى بأسا أن يتزوج المحرم ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4136

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 38 باب نكاح المحرم ) · حديث 4137

3911 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن حبيب المعلم وقيس وعبد الكريم عن عطاء أن بن عباس رضي الله عنهما كان لا يرى بأسا أن يتزوج المحرمان

حبیب المعلم ، قیں‘ عبدالکریم تمام نے عطاء سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ محرم نکاح کرنے میں کوئی حرج نہ خیال کرتے تھے۔

عطاء أن بن عباس كان لا يرى بأسا أن يتزوج المحرمان ← حبيب المعلم وقيس وعبد الكريم ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4137

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 38 باب نكاح المحرم ) · حديث 4138

3912 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أحمد بن صالح قال ثنا بن أبي فديك قال حدثني عبد الله بن محمد بن أبي بكر قال سألت أنس بن مالك رضي الله عنه عن نكاح المحرم فقال وما بأس به هل هو إلا كالبيع

عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نکاح محرم کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں وہ تو بیع وشراء کی طرح ہے۔

نكاح المحرم فقال وما بأس به هل هو إلا كالبيع ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ← بن أبي فديك ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4138

chevron_left Previous
1…58596061
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter