شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4003
3787 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سفيان بن بشر الكوفي قال ثنا يحيى بن زائدة عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة عن المسور أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان بالحديبية خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم فثبت بما ذكرنا أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن صد عن الحرم وأنه كان يصل إلى بعضه ولا يجوز في قول أحد من العلماء لمن قدر على دخول شيء من الحرم أن ينحر هديه دون الحرم فلما ثبت بالحديث الذي ذكرنا أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصل إلى بعض الحرم استحال أن يكون نحر الهدي في غير الحرم لأن الذي أباح نحر الهدي في غير الحرم إنما يبيحه في حالة الصد عن الحرم في حال القدرة على دخوله فانتفى بما ذكرنا أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم نحر الهدي في غير الحرم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد احتج قوم في تجويز نحر الهدي في غير الحرم بما
عروہ نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں تھے اور آپ کا خیمہ توحل میں تھامگر مصلٰی نماز حرم کی حدود میں تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم سے نہ رو کے گئے تھے کسی بھی عالم نے آج تک نہیں کہا کہ جوشخص حرم میں مطلقاً داخل ہو سکے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی ہدی حرم کے علاوہ نحرکر ے ۔ مذکورہ بیان سے ثابت ہوا کہ آپ کو حرم سے رکاوٹ نہیں ہوئی تھی ۔حرم کے کچھ حصہ تک آپ پہنچ چکے تھے اور کسی بھی فقیہ کے ہاں کسی شخص کے لئے حرم سے با ہرھدی کا ذبح کرنا درست نہیں جوحرم کے کسی بھی حصہ میں داخلہ کی قدرت رکھتا ہو۔ جب مذکورہ روایت نے ثابت کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے بعض حصے تک پہنچ چکے تھے تو یہ بات ناممکن ہے کہ آپ نے حرم سے باہر قربانی کی ہو۔ کیونکہ حرم سے باہر ھدی کے نحر کا جواز اس صورت میں ہے جب حرم سے رکاوٹ ہو۔حرم میں داخلہ کی طاقت میسر ہونے کی صورت میں جائز نہیں ۔ پس اس بیان سے اس چیز کی نفی ہوگئی کہ آپ نے حرم سے باہر ھدی ذبح کی یامام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے اور بعض حضرات نے غیرمحرم میں ھدی کے ذبح پر اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے بعض حصہ میں داخل ہوئے تو یہ ناممکن ہے کہ ہدی کو غیر حرم میں ذبح کیا ہو کیونکہ جولوگ ہدی کو حرم کے علاوہ جگہ میں ذبح کرنا جائز قرار دیتے ہیں وہ تو احصار کی حالت میں جائز کہتے ہیں اور یہاں تو حرم میں دخول کی قدرت تھی بیت اللہ میں داخلہ کی رکاوٹ تھی۔ اس سے وہ بات غلط ثابت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو غیر حرم میں ذبح کیا تھا۔ میں ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ‘ ابویوسف‘ محمد رحمہم اللہ کاقول ہے۔
الْمِسْوَرِ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يحيى بن زائدة ← سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4003
