Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3991

3775 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا ويونسا حدثاه عن بن شهاب عن عيسى بن طلحة بن عبيد الله عن عبد الله بن عمرو أنه قال وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع للناس يسألونه فجاءه رجل فقال يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح فقال اذبح ولا حرج فجاءه آخر فقال يا رسول الله لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج قال فما سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج

یحیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں لوگوں کے لئے رکے تا کہ لوگ پوچھ لیں تو ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پتہ بھی نہ چلا اور میں نے ذبح سے پہلے حلق کر والیا آپ نے فرمایا ذبح کر واور کچھ گناہ نہیں ۔ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے شعور بھی نہیں ہوا کہ میں نے رمی سے پہلے نحر کر لیا ہے آپ نے فرمایا ۔ رمی کرلواور کچھ حرج نہیں اس دن کسی بھی چیز کی تقدیم و تاخیر سے متعلق جوسوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر ڈالواور کوئی حرج نہیں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ويونسا حدثاه ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3991

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3992

3776 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن عيسى بن طلحة عن عبد الله بن عمرو قال سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال حلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج قال آخر ذبحت قبل أن أرمي قال ارم ولاحرج

عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا میں نے ذبح سے پہلے حلق کروا لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذبح کر واور کچھ حرج نہیں ۔ دوسرے نے کہا میں نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایارمی کرلواور کچھ حرج نہیں۔

ارم ولاحرج ← آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ← «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» ← حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ← سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3992

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3993

3777 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد أن عطاء بن أبي رباح حدثه أنه سمع جابر بن عبد الله يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله يعني أنه وقف للناس عام حجة الوداع يسألونه فجاء رجل فقال لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج قال آخر يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج قال فما سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج فدل ما ذكرنا على انه صلى الله عليه و سلم إنما أسقط الحرج عنهم في ذلك للنسيان لا أنه أباح ذلك لهم حتى يكون لهم مباح أن يفعلوا ذلك في العمد وقد روى أبو سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك أيضا

عطاء بن ابی رباح نے جابر رضی اللہ عنہ کوسنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لئے رکے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے لگے۔ ایک آدی نے آ کر پو چھا مجھے علم نہیں تھا اور میں نے رمی سے پہلے نحر کر لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایارمی کرلو اور کوئی حرج نہیں ۔دوسرے نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یاد بھی نہ رہا اور میں ذبح سے پہلے حلق کرلیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذبح کرو اور کوئی حرج نہیں ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس دن جس نے کسی چیز کے مقدم ومؤخر کرنے کا سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو افعل ولاحرج سے جواب دیا۔ تو یہ مذکورہ بیان اس بات پر دال ہے کہ آپ نے بھول کی وجہ سے ان سے گناہ کو دور فرمایا۔ یہ مطلب نہیں کہ یہ ان کے لئے مباح و جائز ہو کہ اگر جان بوجھ کر لیں تو جائز ہو جائے اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دو آیت کی جواس پر دلالت کرتی ہے۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں ان تمام روایات میں حرج کی نفی فرمائی اس کی وجہ بھول جانا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کوایسا کرنا مباح ہے کہ جس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ جان بو جھ کر بھی ایسا کرنا درست ہے۔ روایت ابوسعید خدر رضی اللہ عنہ ی کی دلالت بھی یہی ہے۔

آخَرَ، ← ارْمِ وَلَا حَرَجَ ← لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّهُ ← أسامة بن زيد أن عطاء بن أبي رباح ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3993

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3994

3778 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا عمرو بن علي عن الحجاج عن عبادة بن نسي قال حدثني أبو زبيد قال سمعت أبا سعيد الخدري قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بين الجمرتين عن رجل حلق قبل أن يرمي قال لا حرج وعن رجل ذبح قبل أن يرمي قال لا حرج ثم قال عباد الله وضع الله عز و جل الحرج والضيق وتعلموا مناسككم فإنها من دينكم أفلا ترى أنه أمرهم بتعلم مناسكهم لأنهم كانوا لا يحسنونها فدل ذلك أن الحرج والضيق الذي رفعه الله عنهم هو لجهلهم بأمر مناسكهم لا لغير ذلك وقد روي في حديث أسامة بن شريك الذي قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الباب ما يدل على هذا المعنى أيضا

ابوز بید نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت سوال کیا گیا جب کہ آپ دونوں جمروں کے درمیان تھے کہ رمی سے پہلے حلق کر لیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ گناہ نہیں ۔ اور اس آدی کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے رمی سے پہلے ذبح کر لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ گناہ نہیں پھر فرمایا۔ اے اللہ تعالی کے بندو! اللہ تعالی نے تم سے تنگی اور گناہ ہٹایا ہے ( جو کام بھول چوک سے ہو جائے) مگر اپنے حج کے احکام سیکھو وہ تمہارے دین کا حصہ ہیں ۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ آپ نے ان کوا حکام حج سیکھنے کاحکم فرمایا کیونکہ وہ ان کو اچھی طرح ادانہ کرتے تھے ۔تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جوتنگی اور گناہ اللہ تعالی نے ان سے دور کی ہے وہ احکام حج سے ناواقفی کی وجہ سے تھا کسی اور وجہ سے نہیں اور حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کی مذکورۃ الصدر روایت اس پر دال ہے۔

لا حرج ثم ← رجل ذبح قبل أن يرمي ← لَا حَرَجَ ← رجل حلق قبل أن يرمي ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بين الجمرتين ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبُو زُبَيْدٍ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← الْحَجَّاجِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3994

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3995

3779 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب وسعيد بن عامر قالا ثنا شعبة عن زياد بن علاقة عن أسامة بن شريك أن الأعراب سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أشياء ثم قالوا هل علينا حرج في كذا وهل علينا حرج في كذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل رفع الحرج عن عباده إلا من اقترض من أخيه شيئا مظلوما فذلك الذي حرج وهلك أفلا ترى أن السائلين لرسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كانوا أعرابا لا علم لهم بمناسك الحج فأجابهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوله لا حرج على الإباحة منه لهم التقديم في ذلك والتأخير فيما قدموا من ذلك وأخروا ثم قال لهم ما ذكر أبو سعيد في حديثه وتعلموا مناسككم ثم قد جاء عن بن عباس رضي الله عنهما ما يدل على هذا المعنى أيضا

زیاد بن علاقہ نے اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ بدو لوگوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کئے پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے ہمیں کیا گناہ بھی ہوگا کیا اس میں گناہ ہوگا ؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے تنگی کو اٹھا دیا ( بھول کر ہونے والی غلطی کا گناہ )مگر وہ شخص جواپنے مسلمان بھائی سے ظلم کے طور پر قرض لے اس میں گناہ اور ہلاکت ہے۔ کیا یہ تمہارے علم میں نہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے والے دیہاتی تھے ان کو حج کے احکام کاعلم نہ تھا ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کولا حرج کا جواب مرحمت فرمایا۔ کہ کچھ گناہ نہیں ۔ یعنی تمہاری تقدیم وتاخیر درست ہے۔ پھر ان کو وہ بات فرمائی جس کو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے ۔ فرمایا حج کے احکام سیکھو ۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ا سے بھی اس مفہوم کی روایت ہے۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← وهب وسعيد بن عامر ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3995

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3996

3780 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا أبو الأحوص عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما قال من قدم شيئا من حجه أو أخره فليهرق لذلك دما

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کوئی چیز مقدم ومؤخر کی ہووہ ایک جانور ذبح کرے۔

مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا مِنْ حَجِّهِ أَوْ أَخَّرَهُ فَلْيُهْرِقْ لِذَلِكَ دَمًا. ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3996

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 30 باب من قدم من حجه نسكا قبل نسك ) · حديث 3997

3781 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا وهيب عن أيوب عن سعيد بن جبير عن بن عباس مثله فهذا بن عباس يوجب على من قدم شيئا من نسكه أو أخره دما وهو أحد من روى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه ما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر من أمر الحج إلا قال لا حرج فلم يكن معنى ذلك عنده معنى الإباحة في تقديم ما قدموا ولا في تأخير ما أخروا مما ذكرنا إذ كان يوجب في ذلك دما ولكن كان معنى ذلك عنده على أن الذي فعلوه في حجة النبي صلى الله عليه و سلم كان على الجهل منهم بالحكم فيه كيف هو فعذرهم بجهلهم وأمرهم في المستأنف أن يتعلموا مناسكهم وتكلم الناس بعد هذا في القارن إذا حلق قبل أن يذبح فقال أبو حنيفة رحمه الله عليه دم وقال زفر رضي الله عنه عليه دمان وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله لا شيء عليه واحتجا في ذلك بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم للذين سألوه عن ذلك على ما قد روينا في الآثار المتقدمة وبجوابه لهم أن لا حرج عليهم في ذلك [ ص 239 ] وكان من الحجة عليهما في ذلك لأبي حنيفة وزفر رحمهما الله ما ذكرنا من شرح معاني هذه الآثار وحجة أخرى وهي أن السائل لرسول الله صلى الله عليه و سلم لم يعلم هل كان قارنا أو مفردا أو متمتعا فإن كان مفردا فأبو حنيفة رحمه الله وزفر لا ينكران أن يكون لا يجب عليه في ذلك دم لأن ذلك الذبح الذي قدم عليه الحلق ذبح غير واجب ولكن كان أفضل له أن يقدم الذبح قبل الحلق ولكنه إذا قدم الحلق أجزأه ولا شيء عليه وإن كان قارنا أو متمتعا فكان جواب للنبي صلى الله عليه و سلم في ذلك على ما ذكرنا فقد ذكرنا عن بن عباس في التقديم في الحج والتأخير أن فيه دما وأن قول النبي صلى الله عليه و سلم لا حرج لا يدفع ذلك فلما كان قول النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك لا حرج لا ينفي عن بن عباس رضي الله عنهما وجوب الدم كان كذلك أيضا لا ينفيه عند أبي حنيفة وزفر رحمهما الله وكان القارن ذبحه ذبح واجب عليه يحل به فأردنا أن ننظر في الأشياء التي يحل بها الحاج إذا أخرها حتى يحل كيف حكمها فوجدنا الله عز و جل قد قال ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله فكان المحصر يحلق بعد بلوغ الهدي محله فيحل بذلك وإن حلق قبل بلوغه محله وجب عليه دم وهذا إجماع فكان النظر على أن يكون كذلك القارن إذا قدم الحلق قبل الذبح الذي يحل به أن يكون عليه دم قياسا ونظرا على ما ذكرنا من ذلك فبطل بهذا ما ذهب اليه أبو يوسف ومحمد رحمهما الله وثبت ما قال أبو حنيفة رحمه الله أو ما قال زفر رحمه الله فنظرنا في ذلك فإذا هذا القارن قد حلق رأسه في وقت الحلق عليه حرام وهو في حرمة حجة وفي حرمة عمرة وكان القارن ما أصاب قرانه مما لو أصابه وهو في حجة مفردة أو عمرة مفردة وجب عليه دم فإذا أصابه وهو قارن وجب عليه دمان فاحتمل أن يكون حلقه أيضا قبل وقته يوجب عليه أيضا دمين كما قال زفر فنظرنا في ذلك فوجدنا الأشياء التي توجب على القارن دمين فيما أصاب في قرانه هي الأشياء التي لو أصابها وهو في حرمة حجة أو في حرمة عمرة وجب عليه دم فإذا أصابها في حرمتهما وجب عليه دمان كالجماع وما أشبهه وكان حلقه قبل أن يذبح لم يحرم عليه بسبب العمرة خاصة ولا بسبب الحج خاصة إنما وجب عليه بسببهما وبحرمة الجمع بينهما لا بحرمة الحجة خاصة ولا بحرمة العمرة خاصة فأردنا أن ننظر في حكم ما يجب بالجمع هل هو شيئان أو شيء واحد فنظرنا في ذلك فوجدنا الرجل إذا أحرم بحجة مفردة أو بعمرة مفردة لم يجب عليه شيء وإذا جمعهما جميعا وجب عليه لجمعه بينهما شيء لم يكن يجب عليه في إفراده كل واحدة منهما فكان ذلك الشيء دما واحدا فالنظر على ذلك أن يكون كذلك الحلق قبل الذبح الذي منع منه الجمع بين العمرة والحج فلا يمنع منه واحدة منهما لو كانت مفردة أن يكون الذي يجب فيه دم واحد فيكون أصل ما يجب على القارن في انتهاكه الحرم في قرانه أن ننظر فيما كان من تلك الحرم تحرم بالحجة خاصة وبالعمرة خاصة فإذا جمعتا جميعا فتلك الحرمة محرمة لشيئين مختلفين فيكون على من أنتهكهما كفارتان وكل حرمة لا تحرمها الحجة على الانفراد ولا العمرة على الانفراد يحرمها الجمع بينهما فإذا انتهكت فعلى الذي أنتهكها دم واحد لأنه انتهك حرمة حرمت عليه بسبب واحد فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبي حنيفة وبه نأخذ

ایوب نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ یہ ابن د عباس رضی اللہ عنہ ہیں جواس آ دمی پر قربانی کولا زم کر رہے ہیں جس نے حج کے اعمال میں تقدیم و تا خیر کرے اور آپ ان حضرات میں سے ایک ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ اس حجۃ الوداع کے دن اگر آپ سے کسی حکم حج کی تا خیر وتقدیم کا پو چھا گیا تو یہی جواب دیالا حرج‘‘ تو گویا ان کے ہاں اس کا معنی نہیں کہ تقدیم وتاخیر مباح ہے۔ اس لئے کہ وہ فتوی میں اس پر قربانی لا زم کر رہے ہیں ۔ بلکہ ان کے ہاں اس کا مطلب یہ تھا کہ جن حضرات نے حجۃ الوداع کے موقع پرایسا کیاوہ حکم سے ناواقف تھے آپ نے علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو معذور قرار دیا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ مناسک کو آ ئند ہ سیکھ لیں ۔لوگوں نے قارن سے متعلق گفتگو کی ہے جو کہ ذبح سے پہلے سرمنڈائے۔ ۱۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا اس پر ایک قربانی ہوگی ۔ ۲۔ امام زفر رحمہ اللہ اس پر دو قربانی لازم کرتے ہیں ۔۳۔ ابو یوسف ومحمدؒ فرماتے ہیں اس پر کچھ بھی لازم نہیں ۔امام ابو یوسف محمدؒ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کیا ہے جو آپ نے سائلین سے لاحرج‘‘فرمایا۔ گذشتہ سطور میں ہم اس کو ذکر کر آئے ۔امام ابوحنیفہ اور زفر ؒ کی طرف سے ان کے خلاف وہ دلیل ہے جو ہم نے آ ثار کی تشریح میں ذکر کی ہے اور مزید دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر نے والے کے متعلق یہ علم نہیں ہے کہ وہ قارن‘ متمتع‘ منفر د میں سے کون سا تھا۔اگر مفردتھا تو امام ابوحنیفہ وزفر اس پر عدم وجوب قربانی کے منکر نہیں کیونکہ جس قربانی پر اس نے حلق کو مقدم کیا وہ لا زم نہ تھی بلکہ اسے فضل یہ تھا کہ وہ ذبح کے بعد حلق کرے مگر جب اس نے حلق کو پہلے کرایا تو یہ اس کے لئے کافی ہے اور اس پر کچھ ازم نہ ہوگا اور اگر وہ قارن یامتمتع ہے ۔ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب وہی معنی رکھتا ہے جو ہم پہلے ذکر کرآئے کہ تقدیم و تا خیر احکام حج میں ابن عباس رضی اللہ عنہ دم کولا زم فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان لاحرج میں اس کی نفی نہیں جب ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں آ پ کا قول ”لا حرج‘‘ وجوب قربانی کی نفی نہیں کرتا ۔ تو امام ابوحنیفہ وزفر کے ہاں بھی و نفی نہ کرے گا ۔ اور قارن کا ذ بیحہ واجب ذ بیحہ تھاوہ اس کے ذریعہ احرام سے نکلتا ہے۔ اب ہم اس پرغور کر نا چاہتے ہیں کہ وہ کیا امور ہیں ۔جن کے ذریعہ حاجی احرام سے باہر آ تا ہے۔ کہ اگر وہ ان کو مؤ خر کرے اور احرام سے نکل گیا تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا ۔ ہم نے قرآن میں فرمان الہٰی پایا ولا تحلقوا رء وسكم حتى يبلغ الهدى محله... کہ قربانی کے قربان گاہ تک پہنچنے سے پہلے تم سر نہ منڈ واؤ۔ پس وہ شخص جس کو حج میں رکاوٹ آ جائے وہ ھدی کے قربان گاہ تک پہنچنے پر حلق کر وا تا ہے اور اس کے ساتھ وہ احرام سے فارغ ہو جا تا ہے اوراگر اس نے قربانی کے حرم تک پہنچنے سے پہلے حلق کر والیا تو اس پر دم لازم ہے اور اس پر تمام کا اتفاق ہے ۔ پس ہم نے اس میں غوروفکر کیا تو معلوم ہوا کہ اس قارن نے ایسے وقت سرمنڈ وایا ہے جب سرمنڈ وانا اس پر حرام تھا یعنی وہ حج یا عمرہ کے احرام کی حالت میں ہو۔ قارن جب ایسا عمل کرے کہ اگر وہ حج مفر دوالا کرتا تو اس پر ایک قربانی لا زم ہوتی یا فقط عمرہ کر تا تو ایک دم آ تا جب وہ قارن اس کا مرتکب ہوا تو اس پر دوقربانیاں لازم ہوں گی ۔اب اس میں یہ احتمال ہوا کہ وقت سے پہلے حلق پر بھی اسے دوقر بانیاں لازم ہوئی چاہئیں ۔ جیسا کہ امام زفر رحمہ اللہ کا قول ہے اب ہم نے اس میں غور وفکر کیا کہ بعض امور میں قارن پر دوقر بانیاں لازم کر تے ہیں جبکہ وہ قران کے احرام میں کرے اوراگر و ہ اشیاءاحرام حج یا فقط عمر ہ والا کرے تو اس پر ایک قربانی لازم ہے ۔ پس اب قارن نے اس کا ارتکاب دونوں احراموں میں کیا تو اس پر دو دم ہیں مثلا جماع اور اس کے مشابہ امور اور اس کا حلق ذبیح سے پہلے عمرہ کی وجہ سے حرام نہیں ہوتا اور نہ حج کی وجہ سے حرام ہوتا ہے۔ بلکہ یہ دونوں کی وجہ سے لازم ہوا بلکہ جمع کرنے کی حرمت سے حرام ہوا۔ فقط حج یا فقط عمرہ اس کوحرام نہیں کرتے ۔اب ہم حج وعمرہ کے جمع کرنے کی صورت میں کیا چیز لازم آتی ہے ۔ اس پر غور کر نا چاہتے ہیں‘ کیا یہ دو چیز یں ہیں یا ایک ہی ہے ۔غور سے معلوم ہوا کہ جب کوئی حج یا عمرہ کا صرف احرام باند ھے تو اس پر کچھ لا زم نہیں ہے اور جب اس نے دونوں کو جمع کر لیا۔ تو اس کے جمع کی وجہ سے وہ چیز لازم آتی ہے جو انفرادی طور پر ان کی ادائیگی نے لازم نہیں ہے ۔اور وہ ایک قربانی ہے ۔ پس نظر وفکر چاہتے ہیں کہ حلق جو ذ بح سے پہلے ہو جس کو حج وعمرہ کے اکٹھ نے منع کیا ہے ۔اگران میں سے ایک ہوتا تو وہ اس سے منع نہ کر تا ۔اگروہ افراد ہوتا تو اس پر ایک دم لا زم ہوتا ۔ تو وہ اصل جس کی بے حرمتی پر قران میں جو چیز لازم ہوتی ہے ۔ تو اس پر غور کرنا ہوگا کہ وہ حرمت حج اور عمرہ جب جمع ہوں تو ان کی وجہ سے خاص ہے ۔اور یہ حرمت دو مختلف چیزوں کی وجہ سے ہوئی پس ان دونوں کی خلاف ورزی پر دو کفارے لا زم ہوں گے‘ اور ہر وہ حرمت جوصرف حج یا صرف عمرہ سے نہیں ہوتی وہ ان دونوں کے اجتماعی طور پر کرنے سے پیدا ہوتی ہے‘ پس جوشخص اسے توڑ دے گا اس پر ایک قربانی لازم ہوگی ۔اس لئے کہ اس نے ایسی حرمت کو پائمال کیا ہے جو ایک سبب سے حرام ہوتی تھی ۔ نظر کا اس باب میں یہی تقاضا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور ہم اسی کواختیار کر تے ہیں۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3997

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 31 باب المكي يريد العمرة من أين ينبغي له أن يحرم بها ) · حديث 3998

3782 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار أخبره عن عمرو بن أوس قال أخبرني عبد الرحمن بن أبي بكر قال أمرني النبي صلى الله عليه و سلم أن أردف عائشة إلى التنعيم فأعمرها

عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ مجھے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا کر تنعیم کی طرف لے جاؤں اور ان کو وہاں سے عمرہ کراؤں ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3998

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 31 باب المكي يريد العمرة من أين ينبغي له أن يحرم بها ) · حديث 3999

3783 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبي مريم قال أنا داود بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن يوسف بن ماهك عن حفصة بنت عبد الرحمن عن أبيها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعبد الرحمن بن أبي بكر أردف أختك فأعمرها من التنعيم فإذا هبطت بها من الأكمة فمرها فلتحرم فإنها عمرة متقبلة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن العمرة لمن كان بمكة لا وقت لها غير التنعيم وجعلوا التنعيم خاصة وقتا لعمرة أهل مكة وقالوا لا ينبغي لهم أن يجاوزوه كما لا ينبغي لغيرهم أن يجاوزوا ميقاتا مما وقته له رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يريد الإحرام إلا محرما وخالفهم بذلك آخرون فقالوا وقت أهل مكة الذي يحرمون منه بالعمرة الحل فمن أي الحل أحرموا بها أجزأهم ذلك والتنعيم وغيرهم من الحل عندهم في ذلك سواء وكان من الحجة لهم في ذلك أنه يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم قصد إلى التنعيم في ذلك لأنه كان أقرب الحل منها لا لأن غيره من الحل ليس هو في ذلك كهو ويحتمل أيضا أن يكون أراد به التوقيت لأهل مكة في العمرة وأن لا يجاوزوه لها إلى غيره فنظرنا في ذلك

حفصہ بنت عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کوفر مایا تم اپنی بہن کو پیچھے سوار کر واورتنعیم سے عمرہ کراؤ۔ جب تم ان کے ساتھ ٹیلوں سے اتر جاؤ تو ان کو حکم دو کہ وہ احرام باندھ لے یہ مقبول عمرہ ہے ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماءکی ایک جماعت نے اس بات کواختیار کیا کہ مکی کے لئے تنعیم کے علاوہ میقات نہیں مکہ والوں کے لیے تنعیم ہی میقات ہے ۔ وہ لوگ جواحرام کا ارادہ رکھتے ہوں ان کو اس مقام سے بلااحرام گزرنا اسی طرح جائز نہیں جس طرح دیگر مواقیت سے بلا احرام گز رنے درست نہیں مگر دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اہل مکہ کی میقات احرام کے لئے حل ہے۔حرم کے باہر جس جگہ سے بھی احرام باند ھے اس کے لئے کافی ہے اس سلسلہ میں تنعیم اور دیگر مقامات برابر ہیں ۔ان کے ہاں اس کی دلیل یہ ہے کہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنعیم کا نام قریب ہونے کی وجہ سے لیا اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ دیگر مقامات اس کی طرح نہیں نمبر۲ دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ آپ نے اہل مکہ اس میقات بنانے کا ارادہ فرمایا ہو تا کہ وہ اللہ سے دوسری جگہوں کی طرف تجاوز نہ کر یں پس اس میں غور کیا تو یزید بن سنان کی روایت سامنے آئی ۔

أَبِيهَا ← حفصة بنت عبد الرحمن ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3999

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 31 باب المكي يريد العمرة من أين ينبغي له أن يحرم بها ) · حديث 4000

3784 - فإذا يزيد بن سنان قد حدثنا قال ثنا عثمان بن عمر قال ثنا أبو عامر صالح بن رستم عن أبي مليكة عن عائشة قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم بسرف وأنا أبكي فقال ما ذاك قلت حضت قال فلا تبكي اصنعي ما يصنع الحاج فقدمنا مكة ثم أتينا منى ثم غدونا إلى عرفة ثم رمينا الجمرة تلك الأيام فلما كان يوم النفر ارتحل فنزل الحصبة قالت والله ما نزلها إلا من أجلي فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر فقال احمل أختك فاخرجها من الحرم قالت والله ما ذكر الجعرانة ولا التنعيم فلتهل بعمرة فكان أدنانا من الحرم التنعيم فأهللت بعمرة فطفنا بالبيت وسعينا بين الصفا والمروة ثم أتيناه فارتحل فأخبرت عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يقصد لما أراد أن يعمرها إلا إلى الحل لا إلى موضع منه بعينه خاصا وأنه إنما قصد بها عبد الرحمن التنعيم لأنه كان أقرب الحل إليهم لا لمعنى فيه يبين به من سائر الحل غيره فثبت بذلك أن وقت أهل مكة لعمرتهم هو الحل وأن التنعيم في ذلك وغيره سواء وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابوملیکہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے ہاں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ مقام سرف میں‘ میں رورہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا حیض آ گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت رو۔ تم وہ تمام اعمال کرو جو حاجی کرتا ہے چنانچہ ہم مکہ میں پہنچے پھرمنٰی میں آئے ۔ پھر صبح عرفات کی طرف روانہ ہوئے پھر ہم نے جمرہ کی ان ایام میں رمی کی جب روانگی کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں نزول فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری وجہ سے اترے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کوحکم دیا اپنی بہن کوسواری پر حرم سے باہر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ کا ذکر نہیں فرمایا اور تنعیم کا ۔ اور یہ عمرہ کا احرام باندھ لے ۔ مقام تنعیم حرم کے سب سے قریب تھا پس میں نے عمرہ کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفاومروہ کی سعی کی پھر ہم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ فرمایا۔ تو حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو عمرہ کرانے کا ارادہ فرمایا تو فقط حل کا ارادہ فرمایا کسی مقام معین کا قصد نہیں فرمایا ۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے تنعیم کا قصد کیا کہ وہ حل میں سب سے قریب ترین جگہ ہے ۔ اس بناء پرنہیں کہ وہ کسی بناء پر دوسرے مقامات سے ممتاز ہے ۔ پس اس سے ثابت ہو گیا کہ مکی کے لیے عمرہ کی میقات حل ہے اور اس سلسلہ میں تنعیم اور دیگر مقامات میں کچھ فرق نہیں اور یہ تمام امام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف وحم رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِي مُلَيْكَةَ، ← أَبُو عَامِرٍ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← فإذا يزيد بن سنان قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4000

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4001

3785 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا سفيان بن عيينة عن عبيد الله بن أبي يزيد عن أبيه عن سباع بن ثابت عن أم كرز قالت أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحديبية أسأله عن لحوم الهدي قال أبو جعفر فذهب قوم إلى ان الهدي إذا صد عن الحرم نحر في غير الحرم واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا لما نحر رسول الله صلى الله عليه و سلم الهدي بالحديبية إذ صد عن الحرم دل ذلك على أن لمن منع من إدخال هديه الحرم أن يذبحه في غير الحرم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز نحر الهدي إلا في الحرم وكان من حجتهم في ذلك قول الله عز و جل هديا بالغ الكعبة فكان الهدي قد جعله الله عز و جل ما بلغ الكعبة فهو كالصيام الذي جعله الله عز و جل متتابعا في كفارة الظهار وكفارة القتل فلا يجوز غير متتابع وإن كان الذي وجب عليه غير منطبق الإتيان به متتابعا فلا تبيحه الضرورة أن يصومه متفرقا فكذلك الهدي الموصوف ببلوغ الكعبة لا يجزئ الذي هو عليه كذلك وإن صد عن بلوغ الكعبة للضرورة أن يذبحه فيما سوى ذلك وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في نحر النبي صلى الله عليه و سلم لذلك الهدي الذي نحره بالحديبية لما صد عن الحرم وتصدق بلحمه بقديد أن قوما زعموا أن نحره إياه كان في الحرم

سباع بن ثابت نے ام کرز سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حد یبیہ میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھاہدایا کے گوشت کا حکم کیا ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ہدی روک لیے جانے کے بعد حرم سے باہر ذبح کر یں گے۔انہوں نے مذکورۃ الصدر روایت کو مستدل بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہدایا کوحدیبیہ میں نحر کیا تو می اس بات کی دلالت ہے کہ جس کو روکا جائے وہ ہدی کو غیر حرم میں ہی ذبح کر دے ۔مگر دیگر جماعت علماء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ ہدایا کوحرم کی حدود میں ہی ذبح کیا جاسکتا ہے۔ان کی دلیل یہ ہے ۔ کہ اللہ تعالی نے فرمایا:ھدیا بالغ الکعبہ کہ وہ ہدی کعبہ تک پہنچنے والی ہو ۔ تو اللہ تعالی نے اس کو ھدی فرمایا جو کعبہ تک پہنچتی ہووہ ان دونوں کی طرح ہے جن کواللہ تعالی نے کفارہ قتل وظہار میں تسلسل کے ساتھ رکھنے کاحکم فرمایا ہے اگران کو بلاتسلسل رکھا جائے تو جائز نہ ہونگے ۔ اگر وہ شخص اس کی طاقت نہ رکھتا ہوتو اس کے لئے ضرورت کے طور پر متفرق رکھنا درست نہیں۔اسی طرح وہ ہدی جو بیت اللہ تک پہنچنے کے ساتھ متصف ہے اگر اس کو روک دیا جائے تو جس شخص پر وہ ہدی لازم ہوئی وہ ضرورت کے طور پر بھی اسے دوسری جگہ ذبح نہیں کر سکتا۔ پس وہ ہدی جو روک لی گئی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حدیبیہ میں ذبح کرقد ید کے مقام پر اس کا گوشت صدقہ کیا اس کے متعلق قول اول کے قائلین کے خلاف دلیل یہ ہے کہ ایک جماعت کے خیال میں آپ نے اسے حد ودحرم میں ذبح کیا تھا۔ روایت ذیل میں ملاحظہ ہو۔

أُمِّ کُرْزٍ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4001

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4002

3786 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا مخول بن إبراهيم بن مخول بن راشد عن إسرائيل عن مجزأة بن زاهر عن ناجية بن جندب الأسلمي عن أبيه قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم حين صد الهدي فقلت يا رسول الله ابعث معي بالهدي فلأنحره في الحرم قال وكيف تأخذ به قلت آخذ به في أودية لا يقدرون علي فيها فبعثه معي حتى نحرته في الحرم فقد دل هذا الحديث أن هدي النبي صلى الله عليه و سلم ذلك نحر في الحرم وقال آخرون كان النبي صلى الله عليه و سلم بالحديبية وهو يقدر على دخول الحرم قالوا ولم يكن صد إلا عن البيت واحتجوا في ذلك بما

مجزاۃ بن زاہر بیان کرتے ہیں کہ ناجیہ بن جندب اسلمی رضی اللہ عنہ نے (اپنے والد سے) روایت نقل کی ہے کہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کے ہدایا کوروک لیا گیا تھا میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہدایا روانہ کر دیں میں ان کو حرم میں ضرورنحر کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کس طرح کرو گے میں نے کہا میں ان کوایسی وادیوں میں سے لے جاؤں گا جن میں وہ مجھ پر قابونہ پاسکیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایا ان کے ساتھ بھیج دیئے انہوں نے لے جا کر حرم میں ذبح کر دیئے ۔ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھدی حرم میں ذبح کی گئی ۔بعض دیگر حضرات کا کہنا ہے کہ آپ حد یبیہ میں تھے اور حرم میں داخلے کی قدرت تھی اور آپ کور کاوٹ تو کعبہ اللہ سے تھی ۔ ان کا استدلال اس طرح ہے ذیل میں ملاحظہ ہو۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم حين صد الهدي فقلت ← أَبِيهِ ← ناجية بن جندب الأسلمي ← مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مخول بن إبراهيم بن مخول بن راشد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4002

chevron_left Previous
1…484950…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter