Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3931

3718 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الحسين بن عبد الأول الأحول قالا ثنا يحيى بن آدم قال ثنا سفيان عن حصين ثم ذكر مثله بإسناده

یحییٰ بن آدم سفیان سے انہوں نے حصین سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔

مثله بإسناده ← حصين ثم ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الحسين بن عبد الأول الأحول ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3931

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3932

3719 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبي قال سمعت يونس عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما قال كان أسامة بن زيد ردف النبي صلى الله عليه و سلم من عرفة إلى المزدلفة ثم أردف الفضل بن عباس رضي الله عنهما من مزدلفة إلى منى فكلاهما قالا لم يزل رسول الله صلى الله عليه و سلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة فقد جاءت هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يلبي حتى رمى جمرة العقبة وصح مجيئها ولم يخالفها عندنا ما قدمناه في أول هذا الباب لما قد شرحنا وبينا وهذا الفضل بن عباس رضي الله عنهما فقد كان رديف رسول الله صلى الله عليه و سلم حين دفع من عرفة وقد رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفة يلبي حينئذ وبعد ذلك وقد ذكرنا عن أسامة أنه قال كنت رديف رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفة فلم يكن يزيد على التهليل والتكبير فدلت تلبيته بعرفة أنه كان له أن يلبي أيضا بعرفة وأنه إنما كان تكبيره وتهليله بعرفة كما كان له قبلها لا أن يجعل مكان التلبية تهليلا وتكبيرا ألا ترى الى قول عبد الله في حديث مجاهد لبى رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى رمى جمرة العقبة إلا أنه ربما كان خلط ذلك بتكبير وتهليل فأخبر عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان يخلط التكبير بالتهليل وكان التهليل والتكبير لا يدلان على أن لا تلبية في وقتها والتلبية في ذلك الوقت تدل على أن ذلك الوقت كان وقت تلبيته فثبت بتصحيح هذه الآثار أن وقت التلبية الى أن يرمي جمرة العقبة يوم النحر فإن قال قائل فقد روي عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم خلاف ما صححتم عليه هذه الآثار وذكر ما

عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرمﷺ کے پیچھے بیٹھے تھے جبکہ آپﷺ عرفات سے مزدلفہ تشریف لے جار ہے تھے۔ پھر آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو مز دلفہ سے منیٰ تک پیچھے بٹھا لیا۔ دونوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ جناب رسول اللہﷺ سے یہ ثابت ہور ہا ہے کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک آپ تلبیہ پڑھتے رہے اور یہ روایات صحیح و درست ہیں اور وہ روایات جو شروع باب میں آئی ہیں اور ہم نے ان کی وضاحت کی ہے ۔ وہ اس کے خلاف نہیں ۔ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ جناب رسول اللہﷺ کے پیچھے سوار تھے جب کہ آپ عرفات سے روانہ ہوئے۔ انہوں نے جناب رسول اللہﷺ کو عرفات کے اس موقعہ پر اور بعد میں بھی تلبیہ کہتے سنا اور ہم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ میں عرفات میں جناب رسول اللہﷺ کی سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ اس وقت صرف تکبیرو تہلیل کہہ رہے تھے اور عرفہ کے بعد آپ کا تلبیہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ عرفات میں بھی تلبیہ کہہ سکتے تھے اور آپ کا عرفات میں تکبیرو تہلیل اسی طرح تھا جیسا کہ آپ سے پہلے کہتے تھے ایسا نہیں کہ آپ نے تکبیرو تہلیل تلبیہ کی جگہ کہی۔ کیا تم دیکھتے کہ وہ فرماتے ہیں جناب رسول اللہﷺ جمرہ عقبہ کی کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ البتہ بعض اوقات درمیان میں تکبیر وتہلیل کہتے تھے۔ تو اس میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ بھی تکبیر کوتہلیل سے ملا دیتے تھے اور میں اس بات کی دلالت نہیں کہ اس وقت میں تلبیہ نہیں ہے اورتلبیہ کا وجود یہ ثابت کر تا ہے کہ یہ تلبیہ کا وقت ہے۔ پس ان آ ثار کی تصحیح سے معلوم ہوگیا کہ یوم نحرکو جمرہ عقبہ کنکریاں مارنے تک تلبیہ کا وقت ہے۔اگر کوئی معترض کہے کہ اصحاب رسول اللہﷺ سے ان روایات کے خلاف روایات بھی وارد ہیں جوذیل میں درج ہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3932

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3933

3720 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أنا موسى بن يعقوب عن مصعب بن ثابت عن عمه عامر بن عبد الله بن الزبير عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يهل يوم عرفة حتى يروح

عامر بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے نقل کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ لا الہ الا اللہ عرفہ کے دن پڑھتے رہتے یہاں تک کہ وہاں سے لوٹتے ۔

أبيه أن عمر بن الخطاب كان يهل يوم عرفة حتى يروح ← عمه عامر بن عبد الله بن الزبير ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3933

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3934

3721 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت تترك التلبية إذا راحت إلى الموقف فمن الحجة عليهم لأهل المقالة الأخرى أن القاسم لم يخبر في حديثه الذي رويناه عنه عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت إن التلبية تنقطع قبل الوقوف بعرفة وإنما أخبر عن فعلها فقال كانت تترك التلبية إذا راحت إلى الموقف فقد يجوز أن تكون كانت تفعل ذلك لا على أن وقت التلبية قد انقطع ولكن لأنها تأخذ فيما سواها من الذكر من التكبير والتهليل كما لها أن تفعل ذلك قبل يوم عرفة أيضا ولا يكون ذلك دليلا على انقطاع التلبية وخروج وقتها وكذلك ما رواه عبد الله بن الزبير عن عمر رضي الله عنه في ذلك أيضا وهو مثل هذا وقد

عبدالرحمٰن بن قاسم نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ جب مؤقف عرفات کی طرف روانہ ہوتیں تو تلبیہ چھوڑ دیتیں ۔ان کے خلاف دوسرے قول والوں کی دلیل یہ ہے کہ قاسم رحمہ اللہ نے اپنی اس روایت میں یہ بات نہیں بتلائی کہ ’’وقوف عرفات سے پہلے تلبیہ قطع کر دیاجائے۔صرف حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ کے فعل کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا کہ جب حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ مؤقف کی طرف جاتیں تو تلبیہ ترک کر دیتیں ۔عین ممکن ہے کہ آپ یہ عمل اس لئے نہ کرتی ہوں کہ تلبیہ کاوقت ختم ہوگیا بلکہ اس کے علاوہ تکبیرو تہلیل اذکارکواختیار کرتی تھیں جیسا کہ عرفہ کے دن سے پہلے آپ کر سکتی تھیں ۔ پس یہ ترک تلبیہ اور اس کے وقت چلے جانے کا ثبوت نہیں ہے ۔اس طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جونقل کیاوہ بھی اس کیمثل ہے۔ ملاحظہ ہو ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3934

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3935

3722 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود قال حججت مع الأسود فلما كان يوم عرفة وخطب بن الزبير بعرفة فلما لم يسمعه يلبي صعد اليه الأسود فقال ما يمنعك أن تلبي فقال أو يلبي الرجل إذا كان في مثل مقامك هذا قال الأسود نعم سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يلبي في مثل مقامك هذا ثم لم يزل يلبي حتى صدر بعيره عن الموقف قال فلبى بن الزبير

عبدالرحمٰن بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے اسود کے ساتھ حج کیا جب عرفہ کا دن آیا اور ابن زبیررضی اللہ عنہ نے عرفات میں خطبہ دیا جب اسود نے ان سے تلبیہ نہ سنا تو اسودان کی طرف گئے اور کہنے لگے تلبیہ کیوں نہیں کہتے؟ تو انہوں نے کہا کیا آدی اس مقام پر بھی تلبیہ کہے گا ؟ تو اسود کہنے لگے جی ہاں۔ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس مقام پرتلبیہ کہتے سنا پھر وہ مؤقف سے لوٹنے تک تلبیہ کہتے رہتے ۔ یہ بات سن کر ابن زبیر تلبیہ پڑھنے لگے

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3935

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3936

3723 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر عن صخر بن جويرية عن عبد الرحمن بن الأسود قال سمعت بن الزبير يخطب يوم عرفة فقال إن هذا يوم تسبيح وتكبير وتهليل فسبحوا وكبروا فجد إلي يعني الأسود يحرش الناس حتى صعد اليه وهو على المنبر فقال أشهد على عمر رضي الله عنه أنه لبى على المنبر في هذا اليوم فقال بن الزبير لبيك اللهم لبيك أفلا ترى أن الأسود لما أخبر بن الزبير بتلبية عمر رضي الله عنه في مثل يومه ذلك قبل ذلك منه وأخذ به فلبى ولم يقل له بن الزبير إني قد رأيت عمر رضي الله عنه لا يلبي في هذا اليوم على ما قد رواه عامر بن عبد الله عن أبيه عن عمر رضي الله عنه ولكن بن الزبير إنما حضر من عمر ترك التلبية يومئذ ولم يخبره عمر أن ذلك الترك إنما كان منه لخروج وقت التلبية فكان ذلك عند بن الزبير لخروج وقت التلبية فلما أخبره الأسود عن عمر رضي الله عنه بأنه لبى يومئذ علم بن الزبير أن ذلك الوقت الذي لم يكن عمر رضي الله عنه لبى فيه وقت للتلبية وأن ذلك الترك الذي كان من عمر إنما كان لغير خروج وقت التلبية فتوهم بن الزبير هو أنه لخروج وقت التلبية وليس كذلك فلبى ورآى أن ما أخبره به الأسود عن عمر من تلبيته أولى مما رآه هو منه في ترك التلبية

عبدالرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے ابن الز بیر کو سنا کہ وہ عرفہ کے دن خطبہ دے رہے ہیں اس میں فرمانے لگے یہ تسبیح تہلیل کا دن ہے اس میں تسبیح وتہلیل خوب کرو ۔ لوگوں کو چیرتے ہوئے جلدی سے اسود میری طرف بڑھے یہاں تک کہ منبر پر چڑھ گئے اس وقت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی منبر پر تھے اور کہنے لگے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ وہ آج کے دن منبر پر بھی تلبیہ کہتے تھے ۔ ابن الز بیر رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے لبیک اللہم لبیک ۔کیاتم یہ معلوم نہیں کرر ہے کہ جب اسودرحمہ اللہ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کوصرف عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلایا کہ اس جیسے دن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلبیہ کہتے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کو قبول کرلیا اور تلبیہ کہا، ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسود کو یہ نہیں کہا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے تلبیہ نہیں کہا۔ جیسا کہ عامر بن عبد اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا مگر ابن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت حاضرہوئے جب انہوں نےتلبیہ ترک کیا اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ان کو یہ نہیں بتلایا کہ میں نے اس کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے تلبیہ ترک کیا ہے ۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ ٰ کے ہاں یہ تلبیہ کا وقت نکل جانے کے سبب ترک تھا ۔ پس جب اسود رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ اطلاع دی کہ آپ نے اس دن بھی تلبیہ کہا ہے ۔ تو ابن زبیررضی اللہ عنہ کو معلوم ہو گیا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس وقت تلبیہ نہیں کہا یہ وقت تلبیہ کا ہے اوران کے ترک تلبیہ کی وجہ خروج وقت نہیں بلکہ دوسری وجہ تھی ۔ابن زبیررضی اللہ عنہ کو وقتی طور پر نہ پڑھنے سے یہ خیال ہوا کہ وہ ترک وقت تلبیہ کے نکل جانے کی بناء پر ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا پس انہوں نے تلبیہ کہا انہوں نے سمجھ لیا کہ اسودرحمہ اللہ نے جوعمررضی اللہ عنہ کے تلبیہ سے متعلق فرمایا ہے۔ وہ اس روایت سے جوترک تلبیہ سے متعلق اسودؒ کا قول اولی ہے۔ روایت ذیل میں ملاحظہ ہو۔

بن الزبير يخطب يوم عرفة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3936

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3937

3724 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا إسماعيل بن أبي خالد عن وبرة قال صعد الأسود بن يزيد إلى بن الزبير وهو على المنبر يوم عرفة فساره بشيء ثم نزل الأسود ولبى بن الزبير فظن الناس أن الأسود أمره بذلك

و برہ کہتے ہیں کہ اسود بن یزید ابن الزبیر کے منبر پر بیٹھنے کی حالت میں منبر پر چڑھے اور بی عرفہ کے دن کی بات ہے اور ان کے کان میں کوئی بات کہی پھر اسود نیچے اترے اور ابن الزبیر رضی اللہ عنہ نے تلبیہ شروع کر دیالوگوں نے خیال کیا کہ اسود نے ان کو اس بات کا حکم دیا ہے۔

وَبَرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3937

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3938

3725 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس بن سعد عن عطاء عن بن عباس قال سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يلبي غداة المزدلفة

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کومز دلفہ کی صبح تلبیہ پڑھتے دیکھا۔

عمر بن الخطاب يلبي غداة المزدلفة ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3938

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 26 باب التلبية متى يقطعها الحاج ) · حديث 3939

3726 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال كنت مع عبد الله بعرفة فلبى عبد الله فلم يزل عبد الله يلبي حتى رمى جمرة العقبة فقال رجل من هذا الذي يلبي في هذا الموضع قال وقال عبد الله في تلبيته شيئا ما سمعته من أحد لبيك عدد التراب ففي هذه الآثار أن عمر رضي الله عنه كان يلبي بعرفة وهو على المنبر وأن عبد الله بن الزبير فعل ذلك من بعده لما أخبره الأسود به عن عمر رضي الله عنه ولم ينكر ذلك أحد من أهل الآفاق فذلك إجماع وحجة وهذا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قد فعل ذلك فثبت بفعل من ذكرنا لموافقتهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في فعله ذلك أن التلبية في الحج لا تنقطع حتى ترمى جمرة العقبة وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں عبداللہ کے ساتھ عرفات میں موجود تھا عبداللہ نے تلبیہ کہا اور وہ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کے پاس آئےایک آدمی کہنے لگا یہاں یہ تلبیہ پڑھنے والا کون ہے؟ عبداللہ نے اپنے تلبیہ میں ایسی چیز کہی جو میں نے کسی سے نہیں سنی وہ یہ کلمات تھے : لبیک عد دالتراب ان روایات میں یہ بات موجود ہے کہ جناب عمررضی اللہ عنہ عرفہ میں منبر پر تلبیہ کہتے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی معلوم ہونے پر اس عمل کو اپنایا جب کہ حضرت اسودرحمہ اللہ نے ابن زبیررضی اللہ عنہ کو یہ بتلایا تو اطراف والوں میں سے کسی شخص نے ان پر اعتراض نہ کیا پس یہ جماع اور مستقل دلیل ہے ۔ یہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے یہی طر زاختیار کیا۔ تو جن لوگوں کا ہم نے تذکرہ کیا تو چونکہ انہوں نے جناب رسول اللہﷺ کی موافقت کی ہے ۔ پس ان کے عمل نے یہ ثابت کر دیا کہ جمرہ عقبہ کی کنکریاں یوم نحر کے دن مارنے تک تلبیہ کوترک نہ کیا جائے ۔ چنانچہ امام بوحنیفہ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ کا قول یہی ہے۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3939

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3940

3727 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أنا عبد الله بن لهيعة قال ثنا أبو الأسود عن عروة عن جدافة بنت وهب أخت عكاشة بن وهب أن عكاشة بن وهب صاحب النبي صلى الله عليه و سلم وإخاله آخر جاءاها حين غابت الشمس يوم النحر فألقيا قميصها فقالت مالكما فقالا إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من لم يكن أفاض من هنا فليلق ثيابه وكانوا تطيبوا ولبسوا الثياب

عروہ نے جدافہ بنت وہب جو کہ عکاشہ بن وہب کی ( ماں شریک) بہن ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ عکاشہ بن وہب صحابی رسول اللہﷺ اوران کا دوسرا بھائی عکاشہ بن محصن (ماں شریک بھائی) میرے خیمے میں آئےجبکہ یوم نحر کا سورج ڈوب چکا تھا اور انہوں نے اپنے قمیص نکال رکھے تھے۔ میں نے پوچھا تمہیں کیا ہوا؟ دونوں نے کہا جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا جو یہاں سے مکہ طواف زیارت( شام سے پہلے) نہ کر سکاوہ اپنے سلے کپڑے اتار دے حالانکہ یہ اپنے قمیصوں کو خوشبولگا کر پہن چکے تھے۔

جدافة بنت وهب أخت عكاشة بن وهب ← عُرْوَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← عبد الله بن لهيعة ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3940

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3941

3728 - حدثنا يحيى بن عثمان قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا بن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة عن أم قيس بنت محصن قالت دخل علي عكاشة بن محصن وآخر في منى مساء يوم الأضحى فنزعا ثيابهما وتركا الطيب فقلت مالكما فقالا إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لنا من لم يفض الى البيت من عشية هذه فليدع الثياب والطيب قال أبو جعفر فذهب إلى هذا قوم فقالوا لا يحل اللباس والطيب لأحد حتى يحل له النساء وذلك حين يطوف طواف الزيارة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إذا رمى وحلق حل له اللباس واختلفوا في الطيب فقال بعضهم حكمه حكم اللباس فيحل كما يحل اللباس وقال آخرون حكمه حكم الجماع فلا يحل حتى يحل الجماع واحتجوا في ذلك

عروہ نے ام قیس بنت حصن ( یہ عکاشہ کی حقیقی بہن ہیں) کہتی ہیں کہ میرے ہاں عکاشہ بن حصن آئےاور ان کے ساتھ دوسراصا حب بھی تھا۔ یہ یوم نحرکومنیٰ میں شام کا وقت تھا (ان دونوں نے سلے کپڑے پہن رکھے تھے ) ان کوا تارا ہوا تھا اور خوشبوکو چھوڑ دیا تھا۔ میں نے ان کو کہا تم دونوں کو کیا ہوا دونوں کہنے لگے جناب رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا ہے کہ جو شام تک طواف زیارت کے لئے مکہ نہیں گیا وہ سلے کپڑے اتار دے اور خوشبوترک کر دے۔امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ لباس اور خوشبوکسی شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ اس کے لئے عورتیں حلال نہ ہو جائیں اور یہ اس وقت حلال ہے جب وہ طواف زیارت سے فارغ ہو جائے۔انہوں نے مندرجہ بالا روایت کو استدلال میں پیش کیا ہے ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئےکہا۔ کہ جب وہ کنکریاں مار کر حلق کرے تو اس کولباس پہننا جائز ہے ۔ البتہ خوشبو کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے ۔ بعض علماء نے کہا کہ یہ لباس کا حکم رکھتی ہے اور لباس کی طرح اس کا لگا نا بھی جائز ہے۔جبکہ دوسرے علماء نے کہا کہ اس کا حکم جماع کی طرح ہے پس جماع کے حلال ہونے تک خوشبوحلال نہیں ان کی دلیل ذیل کی روایات ہیں ۔

أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← بن لهيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3941

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 27 باب اللباس والطيب متى يحلان للمحرم ) · حديث 3942

بما حدثنا علي بن معبد قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا الحجاج بن أرطاة عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رميتم وحلقتم فقد حل لكم الطيب والثياب وكل شيء إلا النساء

عمرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا جب رمی اور حلق کر چکوتو تمہارے لئے سلے کپڑے اورخوشبوحلال اور ہر چیز حلال ہے سوائےعورتوں کے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← بِمَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3942

chevron_left Previous
1…434445…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter