Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 22 باب الجمع بين الصلاتين بجمع كيف هو ) · حديث 3883

3675 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني مالك عن موسى بن عقبة عن كريب مولى عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عن أسامة بن زيد أنه سمعه يقول دفع رسول الله صلى الله عليه و سلم من عرفة حتى إذا كان بالشعب نزل فبال ثم توضأ فلم يسبغ الوضوء فقلت له الصلاة فقال الصلاة أمامك فركب حتى جاء بالمزدلفة فنزل فتوضأ فأسبغ الوضوء ثم أقيمت الصلاة فصلى المغرب ثم أناخ كل إنسان بعيره في منزله ثم أقيمت العشاء فصلاها ولم يصل بينهما شيئا فقد اختلف عن النبي صلى الله عليه و سلم في الصلاتين بمزدلفة هل صلاهما معا أو عمل بينهما عملا فروي في ذلك ما قد ذكرنا في حديث بن عمر رضي الله عنهما وأسامة واختلف عنه كيف صلاهما فقال بعضهم بأذان وإقامة وقال بعضهم بأذان وإقامتين وقال بعضهم بإقامة واحدة ليس معهما أذان فلما اختلفوا في ذلك على ما ذكرنا وكانت الصلاتان يجمع بينهما بمزدلفة وهما المغرب والعشاء كما يجمع بين الصلاتين بعرفة وهما الظهر والعصر فكان هذا الجمع في هذين الموطنين جميعا لا يكون إلا لمحرم في حرمة الحج فلا يكون لحلال ولا لمعتمر غير حاج وكانت الصلاتان بعرفة تصلى أحدهما في إثر صاحبتها ولا يعمل بينهما عمل وكانتا يؤذن لهما أذانا واحدا ويقام لهما إقامتين كما يفعل بعرفة سواء هذا هو النظر في هذا الباب وهو خلاف قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رضي الله عنهم وذلك أنهم كانوا يذهبون في الجمع بين الصلاتين بعرفة إلى ما ذكرنا ويذهبون في الجمع بين الصلاتين بمزدلفة إلى ان يجعلوا ذلك بأذان وإقامة واحدة ويحتجون في ذلك بما روي عن بن عمر وكان سفيان الثوري يذهب في ذلك إلى أن يصليهما بإقامة واحدة لا أذان معهما على ما روينا عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم والذي رويناه عن جابر من هذا أحب إلينا لما شهد له النظر ثم وجدنا بعد ذلك حديث بن عمر رضي الله عنهما قد عاد إلى معنى حديث جابر رضي الله عنه وذلك أن هارون بن كامل وفهدا حدثانا قالا

کر یب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ کریب نے اسامہ کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوۓ جب گھاٹی میں پہنچے تو سواری سے اتر کر پیشاب سے فراغت حاصل کی پھر پورا وضونہیں کیا صرف ہاتھ دھوئے میں نے کہا نماز قریب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے یعنی مزدلفہ میں پڑھی جائے گی پھر آپ سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ میں تشریف لائے اور اتر کر پورا وضوفرمایا پھر نماز پڑھائی مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد ہر آدمی نے اپنے اونٹ کو اپنے ٹھکانے پر بٹھایا پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ۔ان کے درمیان کوئی چیز ( نمازنفل) نہیں پڑھی گئی ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی نماز کے سلسلہ میں مختلف روایات وارد ہیں کہ آ یا آپ نے ان کو اکٹھادافر مایا یا ان کے مابین بھی کوئی عمل کیا اس سلسلہ میں روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ مذکورہ اور روایت اسامہ رضی اللہ عنہ آتی ہیں ان سے بھی مختلف روایت ہے کہ آپ نے ان دونوں نمازوں کو کس طرح پڑھا۔نمبر:۱ بعض نے کہا ایک اذان واقامت کے ساتھ نمبر ۲ :ایک اذان اور دوا قامت کے ساتھ نمبر۳ :بعض نے کہا ایک اقامت سے بغیر اذان ادا فرمائیں ۔ جب ان روایات میں اس قد راختلاف ہے۔ تو دونوں نماز یں مغرب وعشاءکو مزدلفہ میں اکٹھاپڑ ھاجاۓ ۔جیسا کہ عرفہ میں ظہروعصر کو جمع کر تے ہیں ۔ یہ دونوں جمع ان دونوں مقامات میں حرمت حج کے لئے صرف محرم کے لئے ہے۔ یہ کسی عمرہ کرنے والے یا حلال کے لئے جائز نہیں اور دونوں کے لیے ایک اذان دی جائے گی اور دوا قامتیں کہی جائیں گی ۔جیسا کہ عرفہ میں کیا جا تا ہے۔ اس باب میں باب نظر وفکر کا یہی تقاضا ہے اور یہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف محمد رحمہم اللہ کے قول کے خلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عرفات میں دونوں نمازوں کو مذکور و صورت میں جمع کرتے ہیں اور مزدلفہ میں دونوں نمازوں کی جمع اس طرح مانتے ہیں کہ اذان اورا قامت ایک کہی جاۓ گی ۔اور ان کی دلیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دونوں نمازوں کو بلااذان مگر ایک اقامت سے پڑھا جاۓ گا۔ جیسا کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور وہ روایت جو ہم نے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ یہ قول ہمیں پسند ہے اس لئے کہ نظروفکر اس کے لئے شاہدہے پھر ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت پالی اور اس کا مفہوم بھی روایت جابر رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آیا۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← کُرَيْبٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3883

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 22 باب الجمع بين الصلاتين بجمع كيف هو ) · حديث 3884

3676 - حدثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن بن شهاب عن سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال جمع النبي صلى الله عليه و سلم بين المغرب والعشاء بجمع وهي المزدلفة صلى المغرب ثلاثا ثم سلم ثم أقام العشاء فصلاها ركعتين ثم سلم ليس بينهما سجدة فهذا يخبر أنه صلاهما بإقامتين وقد وجدنا عن بن عمر رضي الله عنهما نفسه مما لم يرفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم أنه أذن لهما

سالم بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب وعشا ءکو مزدلفہ میں جمع فرمایا مغرب تین رکعت ادا فرمائی پھر سلام پھیرا پھر عشاء کی اقامت کہی اور اس کو دورکعت ادا کیا پھر سلام پھیران کے درمیان کوئی نماز نہ تھی ۔ یہ روایت خبر دے رہی ہے کہ آپ نے دوا قامتوں سے دونوں نمازوں کوادا کیا اور ہمیں یہ روایت بھی ملی ہے جس کو انہوں نے مرفوع قرارنہیں دیا کہ ان دونوں نمازوں کے لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔

سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← بن شِهَابٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3884

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 22 باب الجمع بين الصلاتين بجمع كيف هو ) · حديث 3885

3677 - حدثنا يوسف بن يزيد قال ثنا حجاج بن إبراهيم قال ثنا هشيم قال أنا بشر عن سعيد بن جبير عن بن عمر رضي الله عنهما أنه جمع بين المغرب والعشاء بجمع بأذان وإقامة ولم يجعل بينهما شيئا فكان محالا أن يكون أدخل في ذلك أذانا إلا وقد علمه من رسول الله صلى الله عليه و سلم والذي رويناه عن جابر رضي الله عنه من هذا أحب إلينا لما شهد له من النظر

سعید بن جبیر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے مغرب وعشاءکومزدلفہ میں جمع کیا اور ایک اذان اور اقامت کہی ان کے درمیان اور کوئی چیز نہیں کی ۔اور یہ بات ناممکن ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اذان کہی ہو اور جو کچھ ہم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ ہمارے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے اس لئے کہ قیاس اس کا مؤید ہے۔

بن عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← بِشْرٌ، ← هُشَيْمٌ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3885

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3886

3678 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر ح

ابن مرزوق نے ابو عامر سے روایت نقل کی ہے ۔

أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3886

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3887

وحدثنا يونس قال ثنا بن أبي وهب عن بن أبي ذئب عن شعبة مولى بن عباس عن بن عباس قال كنت فيمن بعث به النبي صلى الله عليه و سلم يوم النحر فرمينا الجمرة مع الفجر

شعبہ مولیٰ ابن عباس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں بھی ان میں شامل تھا جن کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر ( کی رات کومز دلفہ سے منیٰ بھیج دیا) پس ہم نے جمرہ عقبہ کی رمی فجر کے ساتھ ہی کر لی۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← شعبة مولى بن عباس ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن أبي وهب ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3887

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3888

3679 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا خلاد بن يحيى قال ثنا إسماعيل بن عبد الملك بن أبي الصفير عن عطاء قال أخبرني بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال للعباس ليلة المزدلفة اذهب بضعفائنا ونسائنا فليصلوا الصبح بمنى وليرموا جمرة العقبة قبل أن يصيبهم دفعة الناس قال فكان عطاء يفعله بعد ما كبر وضعف قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن للضعفة أن يرموا جمرة العقبة بعد طلوع الفجر واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا ينبغي لهم أن يرموها حتى تطلع الشمس فإن رموها قبل ذلك أجزأتهم وقد أساءوا وقالوا لم يذكر بن عباس رضي الله عنهما في حديث شعبة مولاه أنهم رموا الجمرة عند طلوع الفجر بأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم إياهم بذلك وقد يجوز أن يكونوا فعلوا ذلك بالتوهم منهم أنه وقت الرمي لها ووقته في الحقيقة غير ذلك وأما ما رواه عطاء عنه فإنه لم يذكر فيه وقت رمي جمرة العقبة هل هو بعد طلوع الشمس أو قبل ذلك واحتج أهل المقالة الأولى لقولهم أيضا بما

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ کو مزدلفہ کی رات فرمایا تم ہمارے کمزوروں اور عورتوں کو لے جاؤ تا کہ وہ صبح کی نمازمنیٰ میں ادا کر یں اور جمر وعقبہ کی رمی اس سے پہلے پہلے ادا کر لیں کہ لوگوں کی بھیٹران کو پہنچے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ کمز ورلوگ طلوع صبح صادق کے بعد جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار سکتے ہیں اور انہوں نے مذکورۃ الصدر روایت کو اپنا مستدل بنایا ہے۔مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوۓ فرمایا کہ طلوع آفتاب تک کنکریاں مارنا مناسب نہیں ہے اگر انہوں نے اس سے پہلے کنکریاں ماردیں تو وہ کافی ہو جائیں گی مگر وہ غلطی کرنے والے ہیں ۔ان کا کہنا یہ ہے کہ روایت شعبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ انہوں نے طلوع صبح صادق کے وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کنکریاں ماری تھیں ۔عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ خیال کر کے کنکریاں ماریں کہ یہ مارنے کا وقت ہے۔ جب کہ حقیقت میں اس کا وقت اس کے علاوہ ہواور عطا ورحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جو روایت کیا ہے اس میں بھی جمرہ عقبہ کی کنکریوں کا وقت مذکور نہیں کہ آیاوہ طلوع آفتاب سے پہلے تھا یا بعد اول قول کے اپنے موقف کے لئے اس روایت کو بھی اپنا مستدل بنایا ہے۔ روایت ذیل میں ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عطاء کبروضعف کی عمر میں اسی طرح کرتے تھے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← إسماعيل بن عبد الملك بن أبي الصفير ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3888

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3889

3680 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن سالم أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يقدم ضعفة أهله فيقفون عند المشعر الحرام والمزدلفة بليل فيذكرون الله عز و جل ما بدا لهم ثم يدفعون قبل أن يقف الإمام وقبل أن يدفع فمنهم من يقدم منى لصلاة الفجر ومنهم من يقدم بعد ذلك فإذا قدموا رموا الجمرة وكان بن عمر رضي الله عنه يقول رخص لأولئك رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان من الحجة عليهم لأهل المقالة الأخرى أنه لم يذكر في هذا الحديث عن بن عمر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رخص لهم في رمي جمرة العقبة حينئذ وقد يجوز أن تكون الرخصة التي كان رخصها لهم هي الدفع من مزدلفة بليل خاصة واحتجوا أيضا في ذلك بما

سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ اپنے اہل میں عورتوں اور بچوں کو پہلے بھیج دیتے کہ وہ مشعرحرام ومزدلفہ میں وقوف کرتے اور اللہ تعالی کا تھوڑی دیر ذکر کرتے پھرامام حج کے وقوف سے پہلے منیٰ کوروانہ ہو جاتے اور اس کے چلنے سے پہلے جاتے ۔ان میں بعض تو نماز فجر کے وقت منٰی پہنچ جاتے اور بعض اس سے کچھ دیر بعد اور جب وہ آ جاتے اسی وقت جمرہ کی رمی کر لیتے ۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی ہے ۔قول اول کے قائلین کے خلاف دوسرے قول والوں کی دلیل یہ ہے۔ کہ روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ میں یہ بات قطعا مذکورنہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمر وعقبہ کی کنکریاں مارنے کی رخصت دی ۔ عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صرف مزدلفہ سے رات کے جانے کی اجازت دی ہو ۔انہوں نے اس سلسلہ میں ذیل کی روایت سے استدلال کیا ہے۔

سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3889

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3890

3681 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا سعيد بن سالم عن بن جريج قال أخبرني عبد الله مولى أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنها أنها قالت أي بني هل غاب القمر ليلة جمع وهي تصلي ونزلت عند المزدلفة قال قلت لا فصلت ساعة ثم قالت أي بني هل غاب القمر أو قد غاب فقلت نعم قالت فارتحلوا إذا فارتحلنا بها حتى رمت الجمرة ثم رجعت فصلت الصبح في منزلها فقلت لها أي هنتاه لقد غلستنا قالت كلا يا بني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أذن للظعن فقد يحتمل أن يكون أراد التغليس في الدفع من مزدلفة ويجوز أن يكون أراد التغليس في الرمي فأخبرته أن نبي الله صلى الله عليه و سلم أذن لهم في التغليس لما سألها عن التغليس به من ذلك وكان من الحجة للذين ذهبوا إلى أن وقت رميهم بعد طلوع الشمس ما

عبداللہ مولٰی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اسماء فرماتیں اے بیٹے! کیا مزدلفہ کی رات کا چاندغروب ہو گیا ہے وہ اس وقت نماز ادا فرمارہی تھیں وہ مزدلفہ میں اتریں۔عبداللہ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں۔ پھر انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی پھر کہنے لگیں ۔اے بیٹے ۔ کیا چا ندغروب ہو گیا یا قریب الغروب ہے میں نے کہا جی ہاں تو فرمانے لگیں۔ پھر تم کوچ کر و۔ ہم نے ان کے ساتھ کوچ کیا یہاں تک ( منٰی پہنچ کر انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھراپنے ٹھکانے پر پانچ کر فجر کی نماز ادا کی۔عبداللہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا اے محترمہ! تو نے بہت اندھیرے میں روانگی اختیار کی ۔ وہ کہنے لگیں اے بیٹے ایسانہیں ! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوچ کی اجازت مرحمت فرمائی ۔اس روایت میں یہ احتمال بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے میں مزدلفہ سے واپسی کا حکم فرمایا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ کنکریاں مارنے کے وقت اند ھیرامراد ہو۔ اس لئے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ نے ان کے پوچھنے پر بتلایا کہ آپ نے ان کو اندھیرے میں کنکریاں مارنے کی اجازت دی ہے۔ اور ان لوگوں کی دلیل جن کے ہاں طلوع آفتاب کے بعد جمرہ کی رمی ہے ۔انہوں نے اس روایت ذیل سے استدلال کیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ, ← بن جُرَيْجٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3890

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3891

3682 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا فضيل بن سليمان قال حدثني موسى بن عقبة قال أنا كريب عن بن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يأمر نساءه وثقله صبيحة جمع أن يفيضوا مع أول الفجر بسواد ولا يرموا الجمرة إلا مصبحين ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرهم بالإفاضة مع أول الفجر وأن لا يرموا حتى يصبحوا فدل ذلك على أن الوقت الذي أمرهم بالرمي فيه ليس أوله طلوع الفجر ولكن أوله الإصباح الذي بعد ذلك

کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عورتوں اور بوجھ کے متعلق مزدلفہ کی صبح کو حکم فرماتے کہ وہ اندھیرے میں فجر کے پہلے وقت میں روانہ ہو جائیں مگر رمی جمرہ صبح کے وقت کر یں۔اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فجر کی ابتداء میں لوٹنے اور صبح کے وقت رمی کا حکم فرمایا تھا۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ کنکریاں مارنے کا یہ وقت طلوع فجرنہیں بلکہ صبح کا ابتدائی حصہ ہے جوصبح صادق کے بعد ہوتا ہے۔ روایت ذیل ملاحظہ ہو۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← كُرَيْبٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3891

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3892

3683 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال أنا الحجاج عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثه في الثقل وقال لا ترموا الجمار حتى تصبحوا فاحتمل أن يكون ذلك الإصباح هو طلوع الشمس واحتمل أن يكون قبل ذلك فنظرنا في ذلك

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سامان کے ساتھ بھیج دیا اور فرمایا صبح سے پہلے رمی جمارمت کرو ۔ عین ممکن ہے کہ اس سے طلوع آفتاب مراد ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے پہلے کا وقت ہو۔ پس ہم نے اس کے متعلق بحث وکر ید کی ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْحَجَّاجِ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3892

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3893

3684 - فإذا بن أبي داود قد حدثنا قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قال ثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لبني هاشم يا بني أخي تعجلوا قبل حازم الناس ولا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنی ہاشم ! اے میرے بھائی کی اولا دلوگوں کے تنگ باند ھنے ( کوچ کرنے) سے پہلے کوچ کرو مگر طلوع آفتاب سے پہلے ری مت کرو۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← فإذا بن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3893

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 23 باب وقت رمي جمرة العقبة للضعفاء الذين يرخص لهم في ترك الوقوف بالمزدلفة ) · حديث 3894

3685 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا خالد بن عبد الرحمن قال ثنا المسعودي عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنه قال قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم ضعفة أهله ليلة جمع قال فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم إنسانا منهم فحرك فخذه وقال لا ترمين جمرة العقبة حتى تطلع الشمس

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مزدلفہ کی رات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزوروں کو پہلے بھیج دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک انسان کے پاس آۓ اور اس کے ران کوحرکت دی اور فرمایا جمرہ عقبہ کو ہرگز رمی نہ کرنا جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو چکے ۔

لا ترمين جمرة العقبة حتى تطلع الشمس ← فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم إنسانا منهم فحرك فخذه ← قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم ضعفة أهله ليلة جمع ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3894

chevron_left Previous
1…394041…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter