شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 22 باب الجمع بين الصلاتين بجمع كيف هو ) · حديث 3883
3675 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني مالك عن موسى بن عقبة عن كريب مولى عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عن أسامة بن زيد أنه سمعه يقول دفع رسول الله صلى الله عليه و سلم من عرفة حتى إذا كان بالشعب نزل فبال ثم توضأ فلم يسبغ الوضوء فقلت له الصلاة فقال الصلاة أمامك فركب حتى جاء بالمزدلفة فنزل فتوضأ فأسبغ الوضوء ثم أقيمت الصلاة فصلى المغرب ثم أناخ كل إنسان بعيره في منزله ثم أقيمت العشاء فصلاها ولم يصل بينهما شيئا فقد اختلف عن النبي صلى الله عليه و سلم في الصلاتين بمزدلفة هل صلاهما معا أو عمل بينهما عملا فروي في ذلك ما قد ذكرنا في حديث بن عمر رضي الله عنهما وأسامة واختلف عنه كيف صلاهما فقال بعضهم بأذان وإقامة وقال بعضهم بأذان وإقامتين وقال بعضهم بإقامة واحدة ليس معهما أذان فلما اختلفوا في ذلك على ما ذكرنا وكانت الصلاتان يجمع بينهما بمزدلفة وهما المغرب والعشاء كما يجمع بين الصلاتين بعرفة وهما الظهر والعصر فكان هذا الجمع في هذين الموطنين جميعا لا يكون إلا لمحرم في حرمة الحج فلا يكون لحلال ولا لمعتمر غير حاج وكانت الصلاتان بعرفة تصلى أحدهما في إثر صاحبتها ولا يعمل بينهما عمل وكانتا يؤذن لهما أذانا واحدا ويقام لهما إقامتين كما يفعل بعرفة سواء هذا هو النظر في هذا الباب وهو خلاف قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رضي الله عنهم وذلك أنهم كانوا يذهبون في الجمع بين الصلاتين بعرفة إلى ما ذكرنا ويذهبون في الجمع بين الصلاتين بمزدلفة إلى ان يجعلوا ذلك بأذان وإقامة واحدة ويحتجون في ذلك بما روي عن بن عمر وكان سفيان الثوري يذهب في ذلك إلى أن يصليهما بإقامة واحدة لا أذان معهما على ما روينا عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم والذي رويناه عن جابر من هذا أحب إلينا لما شهد له النظر ثم وجدنا بعد ذلك حديث بن عمر رضي الله عنهما قد عاد إلى معنى حديث جابر رضي الله عنه وذلك أن هارون بن كامل وفهدا حدثانا قالا
کر یب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ کریب نے اسامہ کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوۓ جب گھاٹی میں پہنچے تو سواری سے اتر کر پیشاب سے فراغت حاصل کی پھر پورا وضونہیں کیا صرف ہاتھ دھوئے میں نے کہا نماز قریب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے یعنی مزدلفہ میں پڑھی جائے گی پھر آپ سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ میں تشریف لائے اور اتر کر پورا وضوفرمایا پھر نماز پڑھائی مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد ہر آدمی نے اپنے اونٹ کو اپنے ٹھکانے پر بٹھایا پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ۔ان کے درمیان کوئی چیز ( نمازنفل) نہیں پڑھی گئی ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی نماز کے سلسلہ میں مختلف روایات وارد ہیں کہ آ یا آپ نے ان کو اکٹھادافر مایا یا ان کے مابین بھی کوئی عمل کیا اس سلسلہ میں روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ مذکورہ اور روایت اسامہ رضی اللہ عنہ آتی ہیں ان سے بھی مختلف روایت ہے کہ آپ نے ان دونوں نمازوں کو کس طرح پڑھا۔نمبر:۱ بعض نے کہا ایک اذان واقامت کے ساتھ نمبر ۲ :ایک اذان اور دوا قامت کے ساتھ نمبر۳ :بعض نے کہا ایک اقامت سے بغیر اذان ادا فرمائیں ۔ جب ان روایات میں اس قد راختلاف ہے۔ تو دونوں نماز یں مغرب وعشاءکو مزدلفہ میں اکٹھاپڑ ھاجاۓ ۔جیسا کہ عرفہ میں ظہروعصر کو جمع کر تے ہیں ۔ یہ دونوں جمع ان دونوں مقامات میں حرمت حج کے لئے صرف محرم کے لئے ہے۔ یہ کسی عمرہ کرنے والے یا حلال کے لئے جائز نہیں اور دونوں کے لیے ایک اذان دی جائے گی اور دوا قامتیں کہی جائیں گی ۔جیسا کہ عرفہ میں کیا جا تا ہے۔ اس باب میں باب نظر وفکر کا یہی تقاضا ہے اور یہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف محمد رحمہم اللہ کے قول کے خلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عرفات میں دونوں نمازوں کو مذکور و صورت میں جمع کرتے ہیں اور مزدلفہ میں دونوں نمازوں کی جمع اس طرح مانتے ہیں کہ اذان اورا قامت ایک کہی جاۓ گی ۔اور ان کی دلیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دونوں نمازوں کو بلااذان مگر ایک اقامت سے پڑھا جاۓ گا۔ جیسا کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور وہ روایت جو ہم نے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ یہ قول ہمیں پسند ہے اس لئے کہ نظروفکر اس کے لئے شاہدہے پھر ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت پالی اور اس کا مفہوم بھی روایت جابر رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آیا۔
أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← کُرَيْبٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3883
