شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 2 باب المواقيت التي ينبغي لمن أراد الإحرام أن لا يتجاوزها ) · حديث 3451
3270 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا وكيع قال ثنا جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران عن بن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم وقت لأهل المدينة ذا الحليفة ولأهل الشام الجحفة ولأهل اليمن يلملم ولأهل الطائف قرن قال بن عمر رضي الله عنهما وقال الناس لأهل المشرق ذات عرق فهذا بن عمر يخبر أن الناس قد قالوا ذلك ولا يريد بن عمر من الناس إلا أهل الحجة والعلم بالسنة ومحال أن يكونوا قالوا ذلك بأرائهم لأن هذا ليس مما يقال من جهة الرأي ولكنهم قالوا بما أوقفهم عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال قائل وكيف يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم وقت لأهل العراق يومئذ ما وقت والعراق إنما كانت بعده قيل له كما وقت لأهل الشام ما وقت والشام إنما فتحت بعده فإن كان يريد بما وقت لأهل الشام من كان في الناحية التي افتتحت حينئذ من قبل الشام فكذلك يريد بما وقت لأهل العراق من كان في الناحية التي افتتحت حينئذ من قبل العراق مثل جبل طي ونواحيها وان كان ما وقت لأهل الشام إنما هو لما علم بالوحى أن الشام ستكون دار إسلام فكذلك ما وقت لأهل العراق إنما هو لما علم بالوحى أن العراق ستكون دار إسلام فإنه قد كان صلى الله عليه و سلم ذكر ما سيفعله أهل العراق في زكواتهم مع ذكره ما سيفعله أهل الشام في زكواتهم
میمون بن مہران نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کیلئے ذوالحلیفہ ، اہل شام کیلئے جحفہ ، اور اہل یمن کیلئے یلملم ہے اور اہل طائف کے لئے قرن کو میقات مقرر فرمایا ۔ابن عمر کہتے ہیں کہ کہ لوگ کہتے ہیں کہ اہل مشرق کیلئے ذات عرق ہے ۔یہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ رہے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی مراد لوگوں سے یہاں اہل علم و تقویٰ ہیں اور یہ بات ممکن نہیں کہ انہوں نے یہ اپنی رائے سے کہی ہے ۔ کیونکہ یہ اجتہادی چیزوں سے نہیں ، بلکہ انہوں نے وہی بات کہی جس کی اطلاع جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو دی ۔اگر کوئی معترض یہ کہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ نے اہل عراق کے لئے میقات مقرر کیا جب کہ اس وقت اہل اسلام کے پاس نہ تھا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل شام کے لیے میقات مقرر فرمایا کہ حالا نکہ شام دور صدیقی میں فتح ہوا ۔اصل مقصد اہل شام کے میقات کا یہ تھا کہ جو اس جانب بسننے والے لوگ ہیں ۔ اسی طرح عراق کے میقات سے جانب عراق مراد ہے ۔ کہ مثلاً طی پہا ڑ اور ان کے اطراف اور اہل میقات کی تقریر ی وحی الہیٰ سے ہوئی تو وحی سے یہ علم ہواکہ عنقریب شام دارالاسلام ہوگا ۔پس اہل عراق کے میقات کا بھی یہی حال ہے کہ آپ کو وحی سے معلوم ہواکہ عراق عنقریب اہل عراق اپنی زکوۃ میں وہ کچھ کریں گے جو اہل شام اپنی ذکوۃکے سلسلے میں کرینگے ۔ذیل کی روایت ملاحظہ ہو۔
بن عُمَرَ ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3451
