شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3847
3641 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت خرجنا موافين للهلال فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من شاء أن يهل بالحج فليهل ومن شاء أن يهل بالعمرة فليهل فأما أنا فإني أهل بالحج لأن معي الهدي قالت عائشة رضي الله عنها فمنا من أهل بالحج ومنا من أهل بالعمرة وأما أنا فإني أهللت بالعمرة فوافاني يوم عرفة وأنا حائض فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم دعي عنك عمرتك وانقضي شعرك وامتشطي ثم لبي بالحج فلبيت بالحج فلما كانت ليلة الحصبة وطهرت أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم عبد الرحمن بن أبي بكر فذهب بي الى التنعيم فلبيت بالعمرة قضاء لعمرتها فبينت عائشة أن حجتها كانت مفصولة من عمرتها قد كانت فيما بينهما نقضت شعرها وامتشطت فكيف يجوز أن يكون طوافها لحجتها التي بينها وبين عمرتها ما ذكرنا من الإحلال يجزء لحجتها هذا محال وهو أولى من حديث أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه لأن ذلك إنما أخبر فيه جابر رضي الله عنه بقصة عائشة رضي الله عنها وأنها لم تكن حلت بين عمرتها وحجتها وأخبرت عائشة رضي الله عنها في هذا بأمر النبي صلى الله عليه و سلم إياها قبل دخولها في حجتها أن تدع عمرتها وأن تفعل ما يفعل الحلال بما ذكرت في حديثها ودل ذلك أيضا على أن حديث عطاء عن عائشة رضي الله عنها كما رواه عنه الحجاج وعبد الملك لا كما رواه عنه بن أبي نجيح واحتج أيضا الذين قالوا يطوف القارن لحجته وعمرته طوافا واحدا بما
ہشام بن عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ ہم چاند کی تاریخ کے مطابق نکلے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اعلان فرمایا جو چاہے حج کا احرام باندھے اور جو چاہے عمرہ کا احرام باندھے باقی میں تو حج کا احرام باندھوں گا اس لیے کہ میرے ساتھ ہدی ہے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم میں سے بعض لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرے کا اور میں نے عمرے کا احرام باندھا مگر عرفہ کے دنوں میں مجھے حیض آنے لگا۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم اپنے عمرہ کو ترک کر دو اور اپنے بالوں کو کھول ڈالو اور کنگھی کر لو پھر حج کا تلبیہ کہو پس میں نے حج کا تلبیہ کہا جب منی سے واپسی کی رات آئی اور میں حیض سے پاک ہو گئی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہا کو حکم دیا وہ مجھے تنعیم لائے پس میں نے عمرہ کا تلبیہ اپنے عمرے کی قضائے کے لیے کہا ۔ پس حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کر دیا کہ میرا حج عمرہ سے الگ تھا اور ان دونوں کے مابین انہوں نے اپنے بالو ں کو کنگھی کی اور کھولا تو اب آپ ہی فرمائیں کہ یہ کس طرح جائز ہے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا طواف ان کے حج کے لیے تھا و ہ حج جو کہ اس حج اور ان کے عمرے کے مابین تھا کہ وہ طواف ان کے حج و عمر دونوں کے لیے کافی ہو یہ بالکل ناممکن ہے اور یہ روایت ابو الزبیر کی روایت سے اولیٰ ہے جو انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کیونکہ اس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے صرف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے اور عمرہ اور حج کا مابین احرام کھولنے کا تذکرہ نہیں جبکہ اس روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ مجھے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ حج شروع کرنے سے قبل ترک عمرہ اور احرام سے خارج لوگوں والے افعال کا حکم فرمایا اور میں نے اسی طرح کیا جیسا کہ روایت میں مذکور ہے اور اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عطا والی روایت تو حجاج و عبدالملک والی روایت کی طرح ہے ابن ابی نجیح کی طرح نہیں جو لوگ قارن کے لیے حج وعمر کا ایک ہی طواف مانتے ہیں ان کی مستدل روایت ذیل میں ہے ۔
عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3847
