Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3823

3618 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو شهاب عن داود بن أبي هند عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم نصرخ بالحج صراخا فلما قدمنا مكة طفنا بالبيت وبالصفا والمروة فلما كان يوم التروية أحرمنا بالحج فلما كان عمر رضي الله عنه قال إن الله عز و جل كان رخص لنبيه صلى الله عليه و سلم فيما شاء فأتموا الحج والعمرة قال أبو جعفر ويدخل في هذا أيضا حديث أبي موسى الذي قد ذكرناه في أول هذا الباب

ابو نضرہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے آئے جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ سے فارغ ہوئے ( تو ہم نے احرام کھول دیے ) پھر جب ترویہ کا دن آیا تو ہم نے حج کا احرام باندھا پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو جو چاہا رخصت دی اور جس موقعہ پر چاہا دی ۔ اب تم اپنے حج و عمرہ کی تکمیل کرو یعنی ان کو نسخ کرنے کا تمہیں اختیار نہیں ہے ۔ اما م طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حکم میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ والی روایت بھی داخل ہے ۔ جس کو اس باب کے شروع میں ہم ذکر کر آئے ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3823

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3824

3619 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد عن عاصم عن أبي نضرة عن جابر رضي الله عنه قال متعتان فعلناهما على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عنهما عمر رضي الله عنه فلن نعود إليهما

ابو نضرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دو ایسے متعے ہیں جن کو زمانہ نبوت میں ہم نے کیا اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے منع کیا پس ہم ہرگز ان کی طرف نہ لوٹیں گے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3824

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3825

3620 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا عبد الوهاب عن يحيى بن سعيد قال أخبرني كثير بن عبد الله رجل من مزينة عن بعض أجداده أو أعمامه أنه قال ما كان لأحد بعدنا أن يحرم بالحج ثم يفسخه بعمرة

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مجھے کثیر بن عبداللہ نے خبر دی کہ یہ مزینہ سے ہیں انہوں نے اپنے کسی دادا سے یا چچاؤں سے بیان کیا کہ ہمارے بعد کسی کو یہ جائز نہیں کہ وہ حج کا احرام باندھے پھر اس کو نسخ کر کے عمرہ بنا لے۔

ما كان لأحد بعدنا أن يحرم بالحج ثم يفسخه بعمرة ← بعض أجداده أو أعمامه أنه ← كثير بن عبد الله رجل من مزينة ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3825

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3826

3621 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إسحاق بن محمد القروي قال ثنا محمد بن حفص عن كثير بن عبد الله عن بكر بن عبد الرحمن عن عبد الله بن هلال صاحب النبي صلى الله عليه و سلم مثله فقد بين رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما ذكرنا عنه في هذه الآثار أن ذلك الفسخ الذي كان أمر به أصحابه خاصا لهم ليس لأحد من الناس بعدهم وخلطنا بما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما رويناه عمن ذكرنا في هذا الفصل من أصحابه لأن ذلك عندنا مما لا يجوز أن يكونوا قالوه بأرائهم وإنما قالوه من جهة ما وقفوا عليه فهم فيما قالوا في ذلك كمن أضاف الى النبي صلى الله عليه و سلم فقد ثبت بتصحيح هذه الآثار أن الخروج بالحج لا يكون إلا بالطواف في البيت وقد أنكر قوم فسخ الحج وذكروا في ذلك ما

کثیر بن عبداللہ نے بکر بن عبدالرحمن سے انہوں نے عبداللہ بن ہلال رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت بیان کی ( گزشتہ سند کا اجمال دور کردیا ) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ان آثار میں واضح فرما دیا ۔ کہ نسخ جس کا آپ نے اپنے صحابہ کرام کو حکم فرمایا یہ ان کے ساتھ خاص تھا ان کے بعد کسی کےلیے درست نہیں ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے مروی روایات میں صحابہ کرام کے آثار کو بھی ملا دیا ہے کیونکہ یہ بات اپنی رائے سے کہنا ممکن نہیں وہ روایات اس باب کی ابتداء میں ہم ذکر کر آئے ہیں صحابہ کرام نے یہ باتیں آپ سے اطلاع پانے کے بعد ذکر کی ہیں ۔ گویا انہوں نے آپ ہی کی طرح نسبت کر کے یہ بات بیان کی ہے ان آثار کی تصحیح سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حج سے خروج طواف بیت اللہ ہی سے ہو سکتا ہے ۔ بعض حضرات نے حج کے نسخ کا انکار کیا اور یہ روایات اپنی دلیل میں ذکر کیں ۔

بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ، ← إسحاق بن محمد القروي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3826

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3827

3622 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد بن كاسب قال ثنا عبد الله بن رجاء عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم حجاجا فما حللنا من شيء أحرمنا به حتى كان يوم النحر فمن الحجة على من أحتج بهذا أن بكر بن عبد الله قد روى عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه قدموا مكة ملبين بالحج فقال من شاء أن يجعلها عمرة فليفعل إلا من كان معه الهدي وقد ذكر ذلك بإسناده في هذا الباب ففي هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل لهم أن يحلوا إن شاءوا إلا أنه عزم عليهم بذلك فيجوز أن يكونوا لم يحلوا وقد كان لهم أن يحلوا فقد عاد ذلك الى فسخ الحج لمن شاء أن يفسخه الى عمرة وقد روي عن عائشة رضي الله عنها أيضا في ذلك ما

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی معیت میں نکلے ہم حج کا ارادہ رکھتے تھے ہم نے کوئی احرام نہیں کھولا یہاں تک کہ نحر کا دن آیا ۔ جن حضرات نے روایت بالا کو اپنے استدلال میں پیش کیا ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور آپ کے اصحاب مکہ میں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے داخل ہو ئے تو آپ نے فرمایا جو پسند کرے اس کو عمرہ بنا لے البتہ وہ شخص جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو اور یہ روایت اپنی اسناد کے ساتھ اسی باب میں مذکور ہو چکی ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ان کے یہ مقرر فرمایا کہ اگر وہ پسند کریں تو حلال ہو جائیں بلکہ آپ نے ان پر یہ بات موکد کر دی پس یہ کہنا بھی درست ہے کہ انہوں نے احرام نہ کھولا اور ان کے لیے احرام کھولنا درست تھا تو یہ بات حج کے نسخ ہی کی طرف لوٹی کہ جو چاہے اسے نسخ کر ے اور عمرہ بنا لے اور اس سلسلہ میں حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ ہو ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3827

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3828

3623 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا مالك عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم عام حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحج وعمرة ومنا من أهل بالحج وأهل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحج فأما من أهل بعمرة فحل وأما من أهل بالحج أو جمع الحج والعمرة فلم يحلوا حتى كان يوم النحر فقد يجوز أن يكون ذلك عندها كما كان عند بن عمر رضي الله عنهما على ما قد ذكرنا فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا قد وجدنا الأصل أن من أحرم بعمرة وطاف لها وسعى أنه قد فرغ منها وله أن يحلق ويحل هذا إذا لم يكن ساق هديا ورأيناه إذا كان قد ساق هديا لمتعة فطاف لعمرته وسعى لم يحل من عمرته حتى يوم النحر فيحل منها ومن حجته إحلالا واحدا وبذلك جاءت السنة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم جوابا لحفصة رضي الله عنها لما قالت له ما بال الناس حلوا ولم تحل أنت من عمرتك قال إني لبدت رأسي وقلدت هديي فلا أحل حتى أنحر فكان الهدي الذي ساقه لمتعته التي لا يكون عليه فيها هدي إلا بأن يحج بعدها يمنعه من أن يحل بالطواف حتى يوم النحر لأن عقد إحرامه هكذا كان أن يدخل في عمرة فيتمها فلا يحل منها حتى يحرم بحجة ثم يحل منها ومن العمرة التي قدمها قبلها معا وكانت العمرة لو أمرهم بها منفردة حل منها بفراغه منها إذا حلق ولم ينتظر به يوم النحر وكان إذا ساق الهدي لحجة يحرم بها بعد فراغه من تلك العمرة بقي على إحرامه الى يوم النحر فلما كان الهدي الذي هو من سبب الحج يمنعه الإحلال بالطواف بالبيت قبل يوم النحر كان دخوله في الحج أحرى أن يمنعه من ذلك إلى يوم النحر فهذا هو النظر أيضا عندنا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے معیت میں روانہ ہوئے یہ حجۃالوداع والے سال کی بات ہے ہم میں سے بعض تو عمرے کا احرام باندھنے والے تھے اور بعض حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھنے والے تھے ۔ اور بعض صرف حج کا احرام باندھنے والے تھے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حج کا احرام باندھا تو جن لوگوں نے عمر ے کا احرام باندھا تھا وہ طواف وسعی کے بعد حلال ہو گئے ۔ اور جنہوں نے حج کا احرام باندھا یا حج و عمرہ کو جمع کیا وہ یوم نحر تک حلال نہ ہوئے ۔ عین ممکن ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ام المومنین رضی اللہ عنہا بھی اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرح قرار دیتی ہوں ۔ جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ۔ روایات کے معانی کی تصحیح کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی توجیہ یہی ہے اب غور و فکر کے لحاظ سے جانچتے ہیں ہم نے یہ قاعدہ پایا کہ جس آدمی نے احرام عمرہ باندھا اور اس کے لیے اس نے طواف وسعی کی تو وہ اس سے فارغ ہو گیا اسے سر منڈانا اور احرام کھولنا دونوں درست ہیں شرط یہ ہے کہ اس نے ہدی روانہ نہ کی ہو اور ہم یہ بات بھی پاتے ہیں کہ عمرہ کے لیے طواف وسعی کرنے کے بعد ہدی بھیجنے والا شخص نحر کے دن تک اپنے احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔ وہ حج و عمرہ کے دونوں احرام سے بیک وقت نکلے گا۔ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے تو احرام عمرہ کھول دیا اور آپ نے نہیں کھولا تو آپ نے ارشاد فرمایا ۔ میں نے سر پر گوند لگا رکھی ہے اور میں نے ہدی کو قلادہ ڈالا ہے پس میں نحر کرنے تک احرام نہ کھولوں گا آپ نےتمتع کے لیے ہدی چلائی تھی جو حج کے علاوہ آپ پر لازم نہ تھی اسی وجہ نے حج کے بعد احرام نہ کھولا یہاں تک کہ نحر کا دن آیا۔ کیونکہ اس طرح احرام باندھنے سے آپ پر لازم ہو چکا تھا کہ عمرہ کے احرام کو مکمل کر یں یہاں تک کہ حج کا احرام باندھیں پھر اس سے اور پہلے والے احرام عمرہ سے بیک وقت باہر آئیں اور اگر آپ صرف عمرہ ہی کا احرام باندھے ہوتے تو اس سے فراغت کے بعد سر منڈوا کر آپ احرام کھول دیتے اور قربانی کے دن کا انتظار نہ کرتے اور حج کے لیے ہدی چلانے کی صورت میں اس عمرہ سے فراغت کے بعد اس حج کا احرام باندھتے تو نحر کے دن تک احرام اسی طرح برقرار رہتا پس جب حج کی وجہ سے ہدی ہے تو حج شروع کرنے کی وجہ سے زیادہ مناسب ہے کہ یوم نحر سے پہلے احرام نہ کھولا جائے ہمار ےہاں قیاس کا تقاضا یہی ہے ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول یہی ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← مَالِكٍ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3828

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3829

3624 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن الأنصاري ومحمد بن إدريس المكي قالا ثنا سعيد بن منصور قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من جمع بين الحج والعمرة كفاه لهما طواف واحد وسعي واحد ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقالوا على القارن بين الحج والعمرة طواف واحد لا يجب عليه من الطواف غيره وخالفهم بذلك آخرون فقالوا بل يطوف لكل واحد منهما طوافا واحدا ويسعى لهما سعيا وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذا الحديث خطأ أخطأ فيه الدراوردي فرفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم وإنما أصله عن بن عمر عن نفسه هكذا رواه الحفاظ وهم مع هذا فلا يحتجون بالدراوردي عن عبيد الله أصلا فكيف يحتجون به في هذا فاما ما رواه الحفاظ من ذلك عن عبيد الله فما

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص حج اور عمرہ کو جمع کرے تو اسے ایک طواف اور ایک سعی کا فی ہے پھر وہ اس وقت تک حلال نہیں ہوگا جب تک کہ وہ دونوں کے افعال سے فارغ نہ ہو جائے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ قارج پر حج و عمرہ کا طرف ایک طواف ہے اس سے زائد طواف نہیں دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہر ایک کے لیے ایک ایک طواف لازم ہے اور ہر ایک کی ایک ایک سعی کرے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں در اور دی راوی سے خطاء واقع ہوئی ہے کہ اس نے اس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی طرف مرفوع کر دیا حالانکہ اصل یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اثر ہے حفاظ نے اس کو اسی طرح بتلایا ہے اور دوسری بات در اور دی ان کے ہاں قابل حجت نہیں ہے خصوصا جو وہ عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اسی طرح بتلایا ہے اور دوسری بات دراوردی ان کے ہاں قابل حجت نہیں ہے خصوصا جو وہ عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے نقل کرے پس اس سے انکار استدلال نہایت کمزور ہے عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ سے حفاظ نے اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن إدريس المكي ← صالح بن عبد الرحمن الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3829

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3830

3625 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان يقول إذا قرن طاف لهما طوافا واحدا فإذا فرق طاف لكل واحد منهما طوافا وسعيا فإن قال قائل فقد روى أيوب بن موسى وموسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يعود معناه الى معنى ما روى الدراوردي وقد ذكر في ذلك ما

عبیداللہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ فرمایا کرتے تھے جب حج قرآن کرے تو وہ ان دونوں کے لیے ایک طواف کرے اور جب جداجدا کرے تو ہر ایک کے لیے ایک طواف اور سعی الگ الگ کرے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ایوب بن موسیٰ بن عقبہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے جس کا معنی در اور دی والی روایت کی طرف لوٹتا ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ روایت ہے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3830

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3831

3626 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا بن عيينة عن أيوب بن موسى عن نافع أن بن عمر رضي الله عنهما خرج من المدينة إلى مكة مهلا بعمرة مخافة الحصر ثم قال ما شأنهما إلا واحدا أشهدكم أني قد قرنت إلى عمرتي حجة ثم قدم فطاف لهما طوافا واحدا وقال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم

ایوب بن موسیٰ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ مدینہ منورہ سے مکہ کی طرف عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے احصار کا خطرہ تھا پھر فرمانے لگے عمرے اور حج کا معاملہ تو یکساں ہے میں تم کو گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو ملالیا ہے پھر مکہ پہنچے تو ان کے لیے ایک طواف کیا پھر کہنے لگے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ نے اسی طرح کیا ۔

أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← بن عُيَيْنَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3831

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3832

3627 - حدثنا أحمد قال ثنا يعقوب قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما نحوه قالوا فقد وافق هذا ما روى الدراوردي عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قيل لهم فكيف يجوز أن تقبلوا هذا عن بن عمر رضي الله عنهما وقد

موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے انہوں نے کہا دراور دی کی روایت موافق ہو گئی ہے ان سے کہا جائے گا کہ تمہارا اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قبول کرنا کس طرح درست ہو ا جب کہ ان کی روایت موجود ہے ۔ ذیل ملاحظہ ہو ۔

بن عمر وقد ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← فقد وافق هذا ما روى الدراوردي ← بن عمر: نحوه ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3832

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3833

3628 - حدثنا يزيد بن سنان وابن أبي داود قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني سالم أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال تمتع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بالعمرة ثم أهل بالحج وتمتع الناس مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالعمرة إلى الحج فهذا بن عمر رضي الله عنهما يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان في حجة الوداع متمتعا وأنه بدأ فأحرم بالعمرة وقد

ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم نے بتلایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ نے تمتع کیا یعنی حجۃ الوداع میں عمرہ کے ساتھ حج کو ملایا اور ذوالحلیفہ سے ہدی روانہ کی ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے عمر ے کے تلبیہ سے ابتداء کی پھر حج کا احرام باندھا اور لوگوں نے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ عمرے کے ساتھ حج کو ملایا یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے خبر دے رہے ہیں کہ آپ حجۃ الوادع میں تمتع کرنے والے تھے ۔اور آپ نے ابتداء میں عمرہ کا احرام باندھا۔

سَالِمٌ، أَنَّ عَبْد اللَّه بْنَ عُمَرَ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يزيد بن سنان وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3834

3629 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا حميد عن بكر بن عبد الله عن بن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم وأصحابه قدموا مكة ملبين بالحج فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من شاء فليجعلها عمرة إلا من كان معه الهدي فأخبر بن عمر رضي الله عنهما في حديث بكر هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدم مكة وهو ملب بالحج وقد أخبر في حديث سالم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بدأ فأحرم بالعمرة فهذا معناه عندنا والله أعلم أنه كان أحرم أولا بحجة على أنها حجة ثم فسخها فصيرها عمرة فلبى بالعمرة ثم تمتع بها الى الحج حتى يصح حديث سالم وبكر هذين ولا يتضادان وفسخ رسول الله صلى الله عليه و سلم الحج الذي كان فعله وأمر به أصحابه هو بعد طوافهم بالبيت قد ذكرنا ذلك في

بکر بن عبداللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور آپ کے اصحاب مکہ میں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے پہنچے اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو چاہے وہ اس کو عمرہ بنا لے البتہ جس کےساتھ ہدی ہو وہ عمرہ نہیں بنا سکتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بکر بن عبداللہ کی روایت میں خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ مکہ تشریف لائے تو آپ حج کا تلبیہ کہنے والے تھے اور سالم رحمۃ اللہ علیہ والی روایت میں انہوں نے خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ابتداء عمر ہ کے احرام سے فرمائی ۔ ہمارے ہاں اس روایت کا معنی (واللہ اعلم) یہ ہے کہ پہلے آپ حج کا احرام باندھنے والے تھے کہ وہ مطلق حج ہے پھر اس کو نسخ کر دیا اسے عمرہ بنا لیا اور عمرے کا تلبیہ کہا پھر آپ نے اسکے ساتھ حج کا فائدہ حاصل کیا تا کہ سالم و بکر کی دونوں روایات درست ہو جائیں اور ان میں باہمی تضاد نہ رہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے جس حج کا ارادہ کیا تھا اس کو نسخ کر دیا اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اسی کا حکم فرمایا اور یہ ان کے طواف بیت اللہ کے بعد کی بات ہے ہم نے نسخ حج میں اس کی تفصیل کر کے دربارہ تذکرہ سے بے نیاز کر دیا ہے یہ بات تو ناممکن ہے کہ آپ کا وہ طواف جسے آپ نے عمرہ کے لیے کیا جسکو آپ نے حج میں تبدیل کر لیا وہ اس کے لیے کافی ہو او اس حج کے لیے بھی مکتفی بنے جس کا احرام آپ نے بعد کوباندھا لیکن ہمارے ہاں اس کی وجہ (واللہ اعلم) یہ ہے کہ آپ نے یو م نحر سے قبل اپنے حج کا طواف نہیں کیا کیونکہ وہ طواف جو یوم نحر سے پہلے حج میں کیا جاتا ہے وہ تو طواف قدوم کے بعد اس عمرہ کے لیے کیا جس کو آپ نے حج سے بدل لیا اور یہ اسی طرح ہے جیسا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فعل مروی ہے ۔ ذیل میں ملا حظہ ہو ۔

بن عُمَرَ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3834

chevron_left Previous
1…343536…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter