Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3799

3594 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس بن سعد عن عطاء عن جابر رضي الله عنه قال قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة لأربع خلون من ذي الحجة فلما طافوا بالبيت وبين الصفا والمروة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اجعلوها عمرة فلما كان يوم التروية لبوا فلما كان يوم النحر قدموا فطافوا بالبيت ولم يطوفوا بين الصفا والمروة

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ مکہ تشریف لائے جبکہ ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے جب آپ نے طواف اور سعی کر لی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اس کو عمرہ بنالو جب تردیہ کا دن آیا تو انہوں نے حج کا تلبیہ کہا جب حر کا دن آیا وہ آئے اوربیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی نہ کی ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3799

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3800

3595 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان قال ثنا عمرو بن دينار عن عطاء عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة صبيحة رابعة فأمرنا أن نحل قلنا أي حل يا رسول الله قال الحل كله فلو استقبلت من أمري ما استدبرت لصنعت مثل الذي تصنعون

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ مکہ آئے یہ 4ذی الحجہ تھی آپ صلی اللہ علیہ نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا کہا کیسا حلا ل ہوں؟ آپ نے فرمایا مکمل طور پر حلال ہو جاؤ ۔ اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا تو میں اسی طرح کرتا جیسا تم کرنے والے ہو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3800

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3801

3596 - حدثنا محمد بن حميد الرعيني قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن خصيف عن عطاء عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال لما قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة في حجة الوداع سأل الناس بما أحرمتم فقال أناس أهللنا بالحج وقال آخرون قدمنا متمتعين وقال آخرون أهللنا بإهلالك يا رسول الله فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان قدم ولم يسق هديا فليحلل فإني لو استقبلت من أمري ما استدبرت لم أسق الهدي حتى أكون حلالا فقال سراقة بن مالك بن جعشم يا رسول الله عمرتنا هذه لعامنا أم للأبد فقال بل لأبد الأبد

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں مکہ پہنچے تو لوگوں سے سوال کیا تم نے کیا احرام باندھا ؟ کچھ لوگوں نے کہا ہم نے حج کا احرام باندھا ہے دوسروں نے کہا ہم نے حج کا ارادہ کیا اور کچھ لوگوں نے کہا ہم نے وہی احرام باندھا جو آپ صلی اللہ علیہ نے باندھا ہے آپ نے ان سے فرمایا جو حج کے لیے آیا اور اس ے ہدی روزنہ نہیں کی وہ حلال ہو جائے میں اگر اپنے معاملے کو پہلے جانتا ہوتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں بھی ہدی روانہ نہ کرتا یہاں تک کہ میں حلال ہو جاتا اس پر سراقہ بن مالک نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ کیا ہمارا عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے (حج کے ساتھ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← خُصَيْفٍ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← محمد بن حميد الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3801

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3802

3597 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن جريج عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أنه قال أهل رسول الله صلى الله عليه و سلم وأهللنا معه بالحج خالصا حتى إذا قدمنا مكة رابعة ذي الحجة فطفنا بالبيت وبالصفا والمروة ثم أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم من لم يكن ساق هديا أن يحل قال ولم يعزم في أمر النساء قال جابر رضي الله عنه فقلنا تركنا حتى إذا لم يكن بيننا وبين عرفة إلا خمس ليالي أمرنا نحل فنأتي عرفات والمذي يقطر من مذاكيرنا ولم يحلل هو فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ساق الهدي فبلغ قولنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام فخطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم ذكر الذي بلغه من قولهم فقال لقد علمتم أني أصدقكم وأتقاكم لله وأبركم ولولا أني سقت الهدي لحللت ولو استقبلت من أمري ما استدبرت ما أهديت قال جابر رضي الله عنه فسمعنا وأطعنا فحللنا

عطاء بن ابی رباح نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے احرام باندھا اور ہم نے آپ کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا یہاں تک کہ جب ہم مکہ پہنچے تو چار ذی الحجہ تھی ہم نے طواف اور سعی صفاء مروہ کی پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حکم فرمایا جس نے ہدی روانہ نہیں کی وہ حلال ہو جائے جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ نے عورتوں کے متعلق کوئی مستقل بات نہیں فرمائی جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا ہم تو چھوڑ دیے گئے جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں ہم نے کہا ہم عرفات میں آئیں گے اس حال میں کہ مذی ہمارے مذاکیر سے ٹپک رہی ہو گی آپ صلی اللہ علیہ نے احرام نہ کھولا اس لیے کہ آپ ہدی روانہ کر چکے تھے ۔ ہماری بات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو پہنچ گئی آپ صلی اللہ علیہ خطبہ کے لیے کھڑے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی پھر آپ صلی اللہ علیہ نے اس بات کا تذکرہ کیا جو ہماری طرف سے پہنچی تھی آپ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ تقویٰ والا ہوں اور سب سے زیادہ نیکی والا ہوں اگر میں نے ہدی روانہ نہ کی ہوتی تو میں ضرور حلا ہوجاتا ۔ اور اگر مجھے اپنے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد کو علم ہوا تو میں ہدی روانہ نہ کرتا ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے آ پ صلی اللہ علیہ کا یہ حکم سنا اور مان لیا اور احرام کھول دیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← بن جُرَيْجٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3802

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3803

3598 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا مكي قال ثنا بن جريج قال أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابرا وهو يخبر عن حجة النبي صلى الله عليه و سلم قال أمرنا بعدما طفنا أن نحل وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أردتم أن تنطلقوا الى منى فأهلوا فأهللنا من البطحاء

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے حج کے متعلق اطلاع دے رہے تھے جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ نے ہمیں طواف کے بعد حلال ہونے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا جب تم منیٰ کا ارادہ کرو تو احرام باندھ لو چنانچہ ہم نے بطحاء سے احرام باندھا۔

أمرنا بعدما طفنا أن نحل ← حجة النبي صلى الله عليه و سلم ← جابرا وهو يخبر ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← مكي ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3803

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3804

3599 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن عطاء أنه سمعه يحدث عن جابر بن عبد الله قال أهللنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي الحليفة بالحج خالصا لا نخلطه بعمرة فقدمنا مكة لأربع ليال خلون من ذي الحجة فلما طفنا بالبيت وسعينا بين الصفا والمروة أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نجعلها عمرة وأن نخلو الى النساء فقلنا ليس بيننا وبين عرفة الا خمس ليال فنخرج إليها وذكر أحدنا يقطر منيا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إني لأبركم وأصدقكم فلولا الهدي لحللت فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال يا رسول الله متعتنا هذه لعامنا هذا أم للأبد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بل لأبد الأبد فكان سؤال سراقة لرسول الله صلى الله عليه و سلم المذكور في هذا الحديث إنما هو على المتعة أي أنا قد صارت حجتنا التي كنا دخلنا أولا عمرة ثم قد أحرمنا بعد حلنا منها بحجة فصرنا متمتعين فتمتعنا هذه لعامنا هذا خاصة فلا تفعل ذلك فيما بعد أم للأبد فنتمتع بالعمرة الى الحج كما تمتعنا في عامنا هذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بل للأبد وليس ذلك على أن لهم فيما بعد أن يحلوا من حجة قبل عرفة لطوافهم بالبيت ولسعيهم بين الصفا والمروة وسنذكر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما بعد هذا من هذا الكتاب ما يدل على أن ذلك الإحلال الذي كان منهم قبل عرفة خاصا لهم ليس لمن بعدهم ونضعه في موضعه إن شاء الله

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ ذوالحلیفہ سے فقط حج کا احرام بندھا اس میں ہم نے عمرہ کی ملاوٹ نہ کی ذی الحجہ کی چار تاریخ کو ہم مکہ پہنچے جب ہم طواف سے فارغ ہو چکے اور صفا و مروہ کے مابین سعی بھی کر لی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حکم فرمایا کہ ہم اس کو عمرہ بنا لیں اور عورتوں سے خلوت کی بھی اجازت دی ہم نے کہا ہمارے اور عرفہ کے درمیان اب صرف پانچ راتیں باقی ہیں تو کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں گے کہ ہمارے مذاکیر سے منی کے قطرات ٹپک رہے ہوں گے اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں اگر ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا ۔ یہ بات سن کر سراقہ بن مالک کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ آپ نے اس کو ہمارے اس سال کے لیے تمتع بنا دیا یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تو حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کا وہ سوال جو اس روایت میں مذکور ہے وہ حج تمتع سے متعلق تھا یعنی ہم اپنے اس حج میں سے پہلے عمرہ میں داخل ہوئے پھر اس سے حلا ل ہونے کے بعد ہم نے حج کا احرام باندھا اس سے ہم متمتع بن گئے تو کیا یہ ہمارا تمتع اس سال کے ساتھ خاص ہے کہ اسے آئندہ نہ کریں یا ہمیشہ کے لیے ہے ہم عمرہ کو حج کے ساتھ کریں گے ۔ جیسا اس سال ہم نے تمتع کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا بلکہ ہمیشہ کے لیے یہ اسی طرح ہے ۔ یہ بات اسطرح نہ تھی کہ ان کے لیے جائز ہے کہ وہ حج سے عرفات سے پہلے ہی طواف بیت اللہ سعی صفا و مروہ کر کے فارغ ہو جائیں عنقریب ہم اپنی اسی کتاب میں یہ ذکر کریں گے کہ ان کا یہ حلال ہونا جو عرفہ سے پہلے پیش آیا یہ انہی کے ساتھ خاص تھا یہ بعد والوں کے لیے درست نہیں ہم اسے اس کے موقعہ پر بیان کریں گے۔

عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3804

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3805

3600 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا الحجاج قال ثنا حماد قال ثنا حميد عن بكر بن عبد الله عن بن عمر رضي الله عنهما قال أن النبي صلى الله عليه و سلم وأصحابه قدموا مكة ملبين بالحج فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من شاء أن يجعلها عمرة إلا من كان معه الهدي

بکر بن عبداللہ نے ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور آپ کے صحابہ کرام مکہ میں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے آئے تو جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو چاہے اس کو عمرہ بنا لے البتہ وہ شخص عمرہ نہیں بنا سکتا جس کےساتھ ہدی ہو۔

بن عُمَرَ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3805

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3806

3601 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا أبو عوانة عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا ولا نرى الا أنه الحج فلما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة طاف ولم يحل وكان معه الهدي فطاف من معه من نسائه وأصحابه فحل منهم من لم يكن معه الهدي

اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ہم مدینہ سے نکلے ہمارے خیال میں صرف حج تھا جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ مکہ پہنچے اور طواف کر کے آپ نے احرام نہ کھولا اور آپ کے ساتھ ہدی تھی آپ کے ساتھ جو اصحاب اور ازواج تھیں انہوں نے بھی طواف کیا پس وہ تو حلا ل ہو گئے جن کے ساتھ ہدی نہ تھی ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3806

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3807

3602 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال خرجنا من المدينة نصرخ بالحج صراخا فلما قدمنا طفنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اجعلوها عمرة إلا من كان معه الهدي فلما كان عشية عرفة أهللنا بالحج

ابو نضرہ نے ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے جب ہم مکہ پہنچ گئے اور طواف کر لیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا ا سکو عمرہ بنالو سوائے اس شخص کے کہ جس کے پاس ہدی ہو ۔ جب عرفہ کی رات ہوئی تو ہم نے حج کا احرام باندھا۔

خرجنا من المدينة نصرخ بالحج صراخا فلما قدمنا طفنا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3807

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3808

3603 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا وهيب عن منصور عن عبد الرحمن عن أمه عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنها قالت قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه مهلين بالحج وكان مع الزبيري الهدي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحابه من لم يكن معه الهدي فليحلل قالت فلم يكن معي عامئذ هدي فأحللت

عبدالرحمن نے اپنی والدہ سے انہوں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور آپ کے صحابہ حج کا تلبیہ کہتے آئے اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اپنے صحابہ کرام کو فرمایا۔ جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے اسماء کہتی ہیں کہ میرے پاس اس سال ہدی نہ تھی اس لیے میں ے احرام کھول دیا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أُمِّهِ2، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← وُهَيْبٌ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3808

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3809

3604 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا حبان بن هلال قال ثنا وهيب قال ثنا أيوب عن أبي قلابة عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى الظهر بالمدينة أربعا وصلى العصر بذي الحليفة ركعتين وبات بها حتى أصبح فلما صلى الصبح ركب راحلته فلما انبعثت به سبح وكبر حتى إذا استوت به على البيداء جمع بينهما فلما قدمنا مكة أمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يحلوا فلما كان يوم التروية أهلوا بالحج

ابو قلابہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعت ادا فرمائی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت ادا کی اور وہیں رات گزاری جب صبح ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ صبح کی نماز ادافرما چکے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے جب اونٹنی آپ کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ نے تسبیح اور تکبیر کہی جب اونٹنی مقام بیداء پر بلند ہوئی تو تسبیح و تکبیر کو اکٹھا کہا جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ نے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ وہ احرام کھول دیں اور جب ترویہ کا دن آئے تو احرام حج باندھ لیں ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3809

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3810

3605 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا مكي بن إبراهيم قال ثنا عبيد الله بن أبي حميد عن أبي مليح عن معقل بن يسار قال حججنا مع النبي صلى الله عليه و سلم فوجدنا عائشة رضي الله عنها تنزع ثيابها فقال لها مالك قالت أنبئت أنك قد أحللت وأحللت أهلك فقال أحل من ليس معه هدي فأما نحن فلم نحلل لأن معنا هديا حتى نبلغ عرفات قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذه الآثار فقلدوها وقالوا من طاف بالبيت قبل وقوفه بعرفة ولم يكن ساق هديا فقد حل وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ليس لأحد دخل في حجة أن يخرج منها إلا بتمامها ولا يحله منها شيء قبل يوم النحر من طواف ولا غيره وقالوا أما ما ذكرتموه من قول الله عز و جل ثم محلها إلى البيت العتيق فهذا في البدن ليس في الحاج ومعنى البيت العتيق ههنا هو الحرم كله كما قال في الآية الأخرى حتى يبلغ الهدي محله فالحرم هو محل الهدي لأنه ينحر فيه فأما بنو آدم فإنما محلهم في حجهم يوم النحر وأما ما احتجوا به من الآثار التي ذكرناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في أمره أصحابه بالحل من حجهم بطوافهم الذي طافوه قبل عرفة فإن ذلك عندنا كان خاصا لهم في حجتهم تلك دون سائر الناس بعدهم والدليل على ذلك ما

ابو ملیح نے متقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حج کیا ہم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو احرام کے کپڑے اتارتے ہوئے پایا ۔ آ پ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تجھے کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے احرام کھول دیا اور آپ کے گھروالوں نے بھی احرام کھول دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا وہ حلا ل ہوئے ہیں جن کے پاس ہدی کا جانور نہیں ہے باقی ہم حلال نہ ہوں گے کیونکہ ہمارے پاس ہدی ہیں ۔ ہم تو عرفات پہنچ کر (یعنی یو م نحر کو ہدی نحر کر کے احرام کھولیں گے) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض نے ان آثار کو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جس نے وقوف عرفات سے پہلے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور اس نے ہدی روانہ نہ کیا تھا وہ احرام سے فارغ ہو گیا مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا جو شخص حج کا احرام باندھ لے اسے تکمیل کے بغیر اس سے نکلنا جائز نہیں اور نحر کے دن سے پہلے اس کو طواف وغیرہ کوئی چیز بھی احرام سے فارغ نہیں کر سکتی اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ( ثم محلھا الی البیت العتیق) ذکر کیا ہے یہ تو ہدایا کے متعلق ہے نہ کہ حجاج سے اور البیت العتیق سے مراد مکمل سر زمین حرم ہے ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے ( حتی یبلغ الھدی محلہ) پس سر زمین حرم وہ ہدی کے ذبح ہونے کی جگہ ہے کیونکہ وہیں اس کو نحر کیا جائے گا البتہ انسان (حجاج ) کے حج سے حلال ہونے کی جگہ نحر کا دن ہے ۔ رہے وہ آثار جن کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے صحابہ کرام کے سلسلہ میں ہم نے ذکر فرمایا کہ وہ طواف کے ذریعہ اپنے حج سے حلال ہو گئے وی طواف جو انہوں نے عرفہ سے قبل کیا تھا ہمارے نزدیک یہ ان کی خصوصیت صرف اس حج کے لیے تھی بعد والے لوگوں کے لیے یہ حکم نہیں اس کی دلیل یہ روایات ہیں ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي مَلِيحٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3810

chevron_left Previous
1…323334…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter