Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3775

3572 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا شيبان بن عبد الرحمن أبو معاوية عن الأشعث بن أبي الشعثاء عن الأسود بن يزيد عن عائشة رضي الله عنها قالت سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحجر فقال هو من البيت فقلت ما منعهم أن يدخلوه فيه قال عجزت بهم النفقة

اسود بن یزید نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے حجرا سود کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا یہ بیت اللہ کا حصہ ہے میں نے پوچھا پھر انہوں نے اس کو بیت اللہ میں کیوں شامل نہیں کیا ؟ تو آ پ صلی اللہ علیہنے فرمایا خرچہ کی تنگی نے ان کو اس سے عاجز کر دیا کہ وہ اس کو تعمیر میں شامل کریں ۔

عجزت بهم النفقة ← الحجر فقال هو من البيت فقلت ما منعهم أن يدخلوه فيه ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← الأشعث بن أبي الشعثاء ← شيبان بن عبد الرحمن أبو معاوية ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3775

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3776

3573 - حدثنا فهد قال ثنا الحسن بن الربيع قال ثنا أبو الأحوص عن الأشعث عن الأسود بن يزيد قال قالت عائشة رضي الله عنها سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحجر أمن البيت هو قال نعم قلت ما لهم لم يدخلوه في البيت قال إن قومك قصرت بهم النفقة فقلت ما شأن بابه مرتفع قال فعل قومك ليدخلوا من شاءوا ويمنعوا من شاءوا ولولا أن قومك حديثو عهدهم بجاهلية فأخاف أن تنكر قلوبهم ذلك لنظرت أن أدخل الحجر في البيت وأن ألزق بابه بالأرض

اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے حطیم کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وہ بیت اللہ کا حصہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جی ہاں میں نے کہا پھر انہوں نے اسے بیت اللہ کی عمارت میں کیونکر داخل نہ کیا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ نے جواب دیا تمہاری قوم کے پاس رقم ختم ہو گئی میں نے پوچھا بیت اللہ کا دروازہ اتنا بلند کیوں ہے آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا یہ تمہاری قوم نے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے کیا تاکہ جس کو وہ چاہیں داخل ہونے دیں جس کو وہ نہ چاہیں داخل نہ ہونے دیں اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی جس سے مجھے خطرہ ہے کہ ان کے دل اسلام سے برگشتہ ہوجائیں گے تو میرا خیال تھا کہ میں حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا اور دروازہ کوزمین کے برابر کر دیتا،۔

إن قومك قصرت بهم النفقة فقلت ما شأن بابه مرتفع ← «نَعم» قلتُ: ما لَهم لم يُدخِلوهُ في البيتِ؟ ← الْحِجْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ ← عائشة سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← الْأَشْعَثِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3776

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3777

3574 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا سليم بن حبان قال ثنا سعيد بن ميناء قال حدثني عبد الله بن الزبير قال حدثتني عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها لولا أن قومك حديثو عهد بالجاهلية لهدمت الكعبة وألزقتها بالأرض وجعلت لها بابين بابا شرقيا وبابا غربيا ولزدت ستة أذرع من الحجر في البيت إن قريشا استقصرته لما بنت البيت

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی ۔ تو میں کعبہ کو گرا کر اس کا دروازہ زمین سے چمٹا دیتا اور اس کے دروازے مشرقی اور مغربی جانب بنا دیتا اور چھ ہاتھ حصہ بیت اللہ سے چھوٹ گیا ہے وہ اس میں شامل کر دیتا جب قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی تو ان کے ہاں خرچہ کم ہو گیا ۔

حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← سعيد بن ميناء، ← سُلَيْمُ بْنُ حَبَّانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3777

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3778

3575 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عبد الله بن بكر السهمي قال ثنا حاتم بن أبي صغيرة عن أبي قزعة أن عبد الملك بن مروان بينما هو يطوف بالبيت إذ قال قائل عبد الله بن الزبير حيث يكذب على أم المؤمنين يقول سمعتها وهي تقول إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يا عائشة لولا حدثان قومك بالكفر لنقضت البيت حتى أزيد فيه من الحجر فقال الحارث بن عبد الرحمن بن ربيعة لا تقل ذلك يا أمير المؤمنين فأنا سمعت أم المؤمنين تقوله قال وددت أني كنت سمعت هذا منك قبل أن أهدمه فتركته فلما ثبت أن الحجر من البيت وأن الركنين اللذين يليانه ليسا بركنين للبيت ثبت أنهما كما بين الركنين اليمانيين فكما كان بين الركنين اليمانيين لا يستلم فكذلك هذان أيضا في النظر لا يستلمان وقد استدل عبد الله بن عمر رضي الله عنهما بما استدللنا به من هذا في ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم استلام ذينك الركنين

ابو قزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اس نے کہا ابن زبیر کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرے کہ وہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کے متعلق جھوٹ بولتا تھا کہ میں نے ام المومنی سے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم کفر کے قریب زمانہ والی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کوتوڑتا اور اس میں حطیم کو داخل کر دیتا ۔ حارث بن عبدالرحمن بن ربیعہ نے کہا اے امیر المومنین آپ اس طرح نہ کہیں یہ بات تو میں نے خود ام المومنین رضی اللہ عنہا سے سنی ہے اس پر عبدالملک کہنے لگا کاش یہ بات میں تم سے اس سے پہلے سن لیتا تو میں اسے نہ گراتا ۔ جب یہ بات ثابت شدہ حقیقت بن گئی کہ مقام حجر یہ بیت اللہ شریف کا حصہ ہے اس سے متعلق دونوں ارکان بیت اللہ کے اصل ارکان نہیں تویہ خود ثابت ہو گیا کہ وہ دونوں ارکان یمانی ارکان کے مابین دیوار کی طرح ہیں جیسا کہ اس کا استلام نہیں اسی طرح اس کا بھی استلام نہیں نظرو فکر اسی کے متقاضی ہیں کہ ان کا استلام نہ کیا جائے ان دو ارکان کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے استلام نہ کرنے کا سلسلہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سے ہمارے والا استدلا ل کیا ۔

سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ ← قائل عبد الله بن الزبير حيث يكذب على أم المؤمنين ← أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3778

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 15 باب ما يستلم من الأركان في الطواف ) · حديث 3779

3576 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سالم بن عبد الله أن عبد الله بن محمد بن أبي بكر الصديق رضي الله عنهما أخبر عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم قال ألم تري أن قومك حين بنو الكعبة اقتصروا عن قواعد إبراهيم عليه السلام قالت فقلت يا رسول الله أفلا تردها على قواعد إبراهيم قال لولا حدثان قومك بالكفر قال فقال عبد الله بن عمر رضي الله عنهما لئن كانت عائشة رضي الله عنها سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أرى رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك استلام الركنين اللذين يليان الحجر إلا أن البيت لم يتم على قواعد إبراهيم عليه السلام فثبت بهذه الآثار ما ذكرنا وأنه لا ينبغي أن يستلم من أركان البيت إلا الركنين اليمانيين وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عبداللہ بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کیا تو نہیں دیکھتی کہ جب تمہاری قوم قریش نے کعبہ تعمیر کیا تو انہوں نے ابراہیم السلام کی بنیادوں سے اسے کم کر دیا ۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ کیا ہم اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہ لوٹا دیں ؟آپ نے فرمایا اگروہ قریش نئے نئے مسلمان نہ ہوئے اور ان کا کفر والا زمانہ قریب نہ ہوتا ( تو میں ایسا کر دیتا ) اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ سے سن رکھی ہے تو میرا خیال ہے کہ حطیم کے قریب والے ارکان کا استلام جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسی وجہ سے ترک فرمایا کیونکہ بیت اللہ شریف ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں ( اوریہ رکن اپنے مقام پر نہیں ہیں پس قابل استلام نہیں )ان آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بیت اللہ کے ارکان میں سے صرف دویمانی ارکان کا استلام ہے یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔پس آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ صرف ارکان یمانیہ کا استلام کیا جائے گا۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3779

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 16 باب الصلاة للطواف بعد الصبح وبعد العصر ) · حديث 3780

3577 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أنا سفيان عن أبي الزبير عن بن باباه عن جبير بن مطعم رفعه أنه قال يا بني عبد المطلب لا تمنعوا أحدا يطوف بهذا البيت ويصلي أي ساعة شاء من ليل أو نهار

ابن باباہ نے جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اے بنی عبدالمطلب ! تم تو کسی کو اس بیت اللہ کا طواف کرنے سے مت رکوا ور نہ نماز سے روکو خواہ وہ کسی وقت نماز ادا کرے رات کا وقت ہو یا دن کا ۔

جبير بن مطعم رفعه أنه ← بن باباه ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3780

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 16 باب الصلاة للطواف بعد الصبح وبعد العصر ) · حديث 3781

3578 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب قال ثنا حسان بن إبراهيم عن إبراهيم بن يزيد بن مردانبة عن عطاء عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يا بني عبد مناف إن وليتم هذا الأمر فلا تمنعوا أحدا طاف بهذا البيت وصلى أي ساعة شاء من ليل أو نهار قال أبو جعفر فذهب قوم إلى إباحة الصلاة للطواف في الليل والنهار فلا يمنع من ذلك عندهم وقت من الأوقات المنهي عن الصلاة فيها واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا حجة لكم في هذه الآثار لأن ما أباح رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها وأمر بني عبد المطلب أو بني عبد مناف أن لا يمنعوا أحدا منه من الطواف والصلاة هو الطواف على سبيل ما ينبغي أن يطاف والصلاة على سبيل ما ينبغي أن تصلى فأما على ما سوى ذلك فلا ألا ترى أن رجلا لو طاف بالبيت عريانا أو على غير وضوء أو جنبا أن عليهم أن يمنعوه من ذلك لأنه طاف على غير ما ينبغي الطواف عليه وليس ذلك بداخل فيما أمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يمنعوا منه من الطواف فكذلك قوله لا تمنعوا أحدا يصلي هو علي ما قد أمر أن يصلى عليه من الطهارة وستر العورة واستقبال القبلة في الأوقات التي قد أبيحت الصلاة فيها فأما ماسوى ذلك فلا وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم نهيا عاما عن الصلاة عند طلوع الشمس وعند غروبها ونصف النهار وبعد الصبح حتى تطلع الشمس وبعد العصر حتى تغيب الشمس وتواترت بذلك الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد ذكرت بأسانيدها في غير هذا الموضع من هذا الكتاب فكان مما احتج به أهل المقالة الأولى لقولهم في ذلك ما

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اے بنی عبدمناف ! اگر تم اس معاملے کے ذمہ دار ہو تو کسی کو اس گھر کا طواف کرنے اور کسی بھی وقت میں نماز پڑھنے سے مت روکو خواہ وہ دن رات کی کوئی سی گھڑی ہو ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے یہ موقف اختیار کیا کہ طواف کی نماز دن اور رات کے کسی وقت میں پڑھی جا سکتی ہے اس کے لیے کوئی ممنوع وقت نہیں خواہ وہ ممنوعہ اوقات سے ہو ان کی دلیل یہ مذکورہ بالا آثار ہیں دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ ان آثار میں کوئی اثر بھی آپ کی دلیل نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے بنی عبد المطلب اور بنی عبدمناف کو یہ فرمایا اے بنی عبدالملطلب و بنی عبدمناف تم کسی کو طواف اور نماز سے مت منع کرو۔ اس نماز و طواف سے مراد وہ نماز و طواف ہے جو اس طریق پر ہو جو مناسب ہے کہ نماز پڑھی جائے اور جیسا مناسب ہے طواف کیاجائے ۔ باقی جو اس کے علاوہ ہے وہ درست نہیں ۔ کیا تم یہ بات نہیں پاتے کہ اگر کوئی شخص بیت اللہ شریف کا ننگا طواف کر لے یا بلاوضو کر لے یا جنابت کے ساتھ طواف کر ے تو ان متولیوں کو لازم ہے کہ اسے منع کریں کیونکہ وہ غیر مناسب انداز سےطواف کر رہا ہے اور یہ اس ممانعت میں داخل نہیں کہ اس کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ترک کا حکم فرمایا ۔ پس اسی طرح آپ کا ارشاد ( لا تمنعواحدا یصلی) کی مراد بھی یہی ہے کہ جواس طریقے سے نماز ادا کر رہا ہو جس شرائط و آداب سے ادائیگی کا حکم ہے مثلاً طہارت ، ستر عورت اور استقبال قبلہ نماز کے اوقات مباحہ کا لحاظ کر کے نماز پڑھی جائے باقی جو ان کا لحاظ کئے بغیر ادا کرے وہ مراد نہیں ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے طلوع و غروب اور نصف النھا ر کے اوقات میں نماز کی عمومی نفی فرمائی اسی طرح نما ز صبح کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز (نفل ) سے روکا گیا اور یہ کثیر و متوارتر روایات ہیں جو اسی کتاب میں اپنے موقعہ پر مذکور ہیں اہل مقالہ اول نے اپنے استدلال کے لیے ان روایات کا سہارا لیا ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَرْدَانَبَهْ، ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3781

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 16 باب الصلاة للطواف بعد الصبح وبعد العصر ) · حديث 3782

3579 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا بشر بن السري عن إبراهيم بن طهمان عن أبي الزبير عن عبد الله بن باباه قال طاف أبو الدرداء بعد العصر وصلى قبل مغارب الشمس فقلت أنتم أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم تقولون لا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس فقال إن هذا البلد ليس كسائر البلدان فقالوا فقد دل قول أبي الدرداء على أن الصلاة للطواف لم يدخل فيها نهي عن النبي صلى الله عليه و سلم من الصلاة في الأوقات التي ذكرتم قيل لهم فأنتم لا تقولون بهذا الحديث لأنا قد رأيناكم تكرهون الصلاة بمكة في الأوقات المنهي عن الصلاة فيها لغير الطواف لنهي النبي صلى الله عليه و سلم عن الصلاة في تلك الأوقات ولا تخرجون حكم مكة في ذلك من حكم سائر البلدان وأبا الدرداء فقد أخرج في الحديث الذي احتججتم به حكم مكة من حكم سائر البلدان سواها في المنع من الصلوات في ذلك وأخبر أن النهي لم يدخل حكمها فيه وأنه إنما أريد به ما سواها مع أنه قد خالف أبا الدرداء في ذلك عمر بن الخطاب رضي الله عنه

ابو الزبیر نے عبداللہ بن باباہ سے روایت کی ہے کہ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد طواف کیا اور غروب آفتاب سے پہلے طواف کی دو رکعت ادا کر لیں میں نے کہا تم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ کہتے ہو کہ عصر کے بعد غروب تک کوئی نماز نہیں ہوتی تو انہوں نے فرمایا اس شہر مکہ کا حکم عام شہروں والا نہیں ہے قول اول کے قائلین کا کہنا یہ ہے کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت اس پر دلالت کر رہی ہے کہ طواف والی نماز اس بھی میں داخل ہی نہیں جس میں اوقات مذکور ہ میں نماز ممنوع ہے ۔ ان کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ تم بھی اس حدیث کے مطابق عمل پیرا نہیں ہو کیونکہ ہم یہ پاتے ہیں کہ تم از خود مکہ شریف میں ان ممنوعہ اوقات میں دیگر نمازوں کی ادائیگی مکروہ جانتے ہو اس لیے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ نے ان اوقات میں نماز کی ممانعت فرمائی ہے اور اس سلسلہ میں تم مکہ مکرمہ کا حکم دوسرے شہروں سے الگ قرار نہیں دیتے ہو ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسی روایت سے تمام نمازوں کے سلسلہ میں مکہ کے حکم کو دوسرے شہروں سے الگ قرار دیا ہے اور یہ صاف بتلایا کہ انہی میں مکہ مکرمہ شامل و داخل نہیں ہے ۔ بلکہ ممانعت میں دوسرے شہر مراد ہیں ۔ اور ایک بات یہ بھی ہے ۔ حضرت ابو الدرد رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس معاملے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اختلاف کیا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3782

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 16 باب الصلاة للطواف بعد الصبح وبعد العصر ) · حديث 3783

3580 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن عروة عن عبد الرحمن بن عبد القاري قال طاف عمر رضي الله عنه بالبيت بعد الصبح فلم يركع فلما صار بذي طوى وطلعت الشمس صلى ركعتين

عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا اور رکعات طواف ادا نہ کیں روانہ ہو کر جب مقام ذی طویٰ میں پہنچ گئے اور سورج طلوع ہو چکا تو دو رکعت نماز اد اکی ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3783

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 16 باب الصلاة للطواف بعد الصبح وبعد العصر ) · حديث 3784

3581 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن بن عبد القاري مثله فهذا عمر رضي الله عنه لم يركع حينئذ لأنه لم يكن عنده وقت صلاة وأخر ذلك الى أن دخل عليه وقت الصلاة فصلى وهذا بحضرة سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكره عليه منهم منكر ولو كان ذلك الوقت عنده وقت صلاة للطواف لصلى ولما أخر ذلك لأنه لا ينبغي لأحد طاف بالبيت أن لا يصلي حينئذ إلا من عذر وقد روي عن معاذ بن عفراء مثل ذلك وقد ذكرت ذلك فيما تقدم من هذا الكتاب وقد روي مثل ذلك أيضا عن بن عمر رضي الله عنهما

ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن بن عبدالقاری سے اسی طرح روایت کی ہے یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اس وقت نماز ادا نہ کی کیونکہ وہ ان کے ہاں نماز کا وقت نہ تھا اور اس کو موخر کیا یہاں تک کہ ان کے ہاں نماز کا وقت ہو گیا ۔ اور یہ فعل حضرت عمر رضی اللہ عنہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ایک بڑی جماعت کی موجودگی میں انجام دیا اور ان میں سے کسی نے انکار نہ کیا ۔ اگر وہ ان کے ہاں رکعات طواف کا وقت ہو تا تو آپ اس وقت میں ادا فرماتے اور مؤخر نہ کرتے کیونکہ جو شخص طواف کرے تو اس کے بلا عذر نماز طواف کو مؤخر ہ کرنا چاہیے ۔ حضرت معاذ بن عفراء اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی اسی طرح منقول ہے اور اسی کتاب میں ہم یہ پہلے بیان کر آئے ہیں ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3784

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 16 باب الصلاة للطواف بعد الصبح وبعد العصر ) · حديث 3785

3582 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا همام قال أنا نافع أن بن عمر رضي الله عنهما قدم مكة عند صلاة الصبح فطاف ولم يصل إلا بعد ما طلعت الشمس والنظر يدل على ذلك أيضا لأنا قد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن صيام يوم الفطر ويوم النحر فكل قد أجمع أن ذلك في سائر البلدان سواء فالنظر على ذلك أن يكون ما نهى عنه من الصلوات في الأوقات التي نهى عن الصلوات فيها في سائر البلدان كلها على السواء فبطل بذلك قول من ذهب إلى إباحة الصلاة للطواف في الأوقات المنهي عن الصلاة فيها ثم افترق الذين خالفوا أهل المقالة الأولى في ذلك على فرقتين فقالت فرقة منهم لا يصلي في شيء من هذه الخمسة الأوقات للطواف كما لا يصلي فيها للتطوع وممن قال ذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد وافقهم في ذلك ما روينا عن عمر رضي الله عنه ومعاذ بن عفراء وابن عمر رضي الله عنهما وقالت فرقة يصلي للطواف بعد العصر قبل اصفرار الشمس وبعد الصبح قبل طلوع الشمس ولا يصلي لذلك في الأوقات الثلاثة البواقي المنهي عن الصلاة فيها وممن قال ذلك مجاهد وإبراهيم النخعي وعطاء

حضرت نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نما ز صبح کے وقت مکہ میں آئے اور بیت اللہ کا طواف کیا مگر نماز طواف اس وقت ادا نہ کی یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا ۔ اس پر نظر کا تقاضا یہ ہے کہ ان اوقات ممنوعہ میں نمازوں کی ممانعت کا تعلق تمام شہروں سے برابر ہو ۔ اس سے ان لوگوں کا قول نا درست ثابت ہوا جو رکعات طواف کی ادائیگی کو اوقات ممنوعہ میں جائز قرار دیتے ہیں پھر وہ حضرات جنہوں نے قول اول کے قائلین سے اختلاف کیا ان کی دو جماعتیں ہو گئیں ۔ ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ طواف کی ان دو رکعات کو ان پانچوں اوقات میں سے کسی میں بھی ادا نہ کیا جائے گاجیسا کہ نوافل کو ان پانچ اوقات میں پڑھا نہیں جاتا اور یہ قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا ہے اور حضرت عمر ، معاذ بن عفراء اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کا قول بھی روایات میں اسی طرح ہے ان میں سے دوسری جماعت نے کہا کہ طواف کی رکعات کو عصر کے بعد سورج کے زر د ہونے سے پہلے ادا کر سکتے ہیں اور اسی طرح صبح کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے بھی ادا کر سکتے ہیں البتہ باقی تین اوقات میں ان کی ادائیگی نہیں کی جا سکتی یہ مجاہد ، ابراہیم نخعی ، عطاء اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

نَافِعٍ ← هَمَّامٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3785

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 16 باب الصلاة للطواف بعد الصبح وبعد العصر ) · حديث 3786

3583 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال طف وصل ما كنت في وقت فإذا ذهب الوقت فأمسك

مغیرہ نے ابراہیم سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا طواف کرو اور نماز پڑھو جب تک وقت کی حدود میں ہو جب وقت چلا جائے تو رک جاؤ۔

طف وصل ما كنت في وقت فإذا ذهب الوقت فأمسك ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3786

chevron_left Previous
1…303132…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter