شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3727
3526 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد ثم ذكر بإسناده مثله ففي حديث طلحة وعمير بن سلمة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أباح للمحرمين أكل لحم الصيد الذي تولى صيده الحلال فقد خالف ذلك حديث على وزيد بن أرقم والصعب بن جثامة عن النبي صلى الله عليه و سلم غير أن حديث طلحة وحديث عمير بن سلمة هذين ليس فيهما دليل على حكم الصيد إذا أراد الحلال به المحرم فنظرنا في ذلك فإذا بن أبى داود قد
لیث نے ابن الہاد سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ حضرت طلحہ اور عمیر بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جو انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے نقل کی اس میں محرم کے لیے شکار کے گوشت کا کھانا حلال قرار دیا گیا جس شکار کو کسی حلال نے کیا ہو اور یہ روایت حضرت علی ، زید بن ارقم اور صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہم کی ان روایات کے خلاف ہے جو انہوں نے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ سے نقل کی ہیں البتہ روایت طلحہ اور عمیر بن سلمہ رضی اللہ عنہ میں اس بات کا کوئی حکم موجود نہیں جبکہ کوئی شکار غیر محرم نے محرم کی نیت سے کیا ہو پس اس میں ہم نے جانچ پڑتال کی تو یہ روایات مل گئیں جو ذیل میں درج ہیں ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3727
