Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3727

3526 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد ثم ذكر بإسناده مثله ففي حديث طلحة وعمير بن سلمة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أباح للمحرمين أكل لحم الصيد الذي تولى صيده الحلال فقد خالف ذلك حديث على وزيد بن أرقم والصعب بن جثامة عن النبي صلى الله عليه و سلم غير أن حديث طلحة وحديث عمير بن سلمة هذين ليس فيهما دليل على حكم الصيد إذا أراد الحلال به المحرم فنظرنا في ذلك فإذا بن أبى داود قد

لیث نے ابن الہاد سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ حضرت طلحہ اور عمیر بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جو انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے نقل کی اس میں محرم کے لیے شکار کے گوشت کا کھانا حلال قرار دیا گیا جس شکار کو کسی حلال نے کیا ہو اور یہ روایت حضرت علی ، زید بن ارقم اور صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہم کی ان روایات کے خلاف ہے جو انہوں نے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ سے نقل کی ہیں البتہ روایت طلحہ اور عمیر بن سلمہ رضی اللہ عنہ میں اس بات کا کوئی حکم موجود نہیں جبکہ کوئی شکار غیر محرم نے محرم کی نیت سے کیا ہو پس اس میں ہم نے جانچ پڑتال کی تو یہ روایات مل گئیں جو ذیل میں درج ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3727

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3728

3527 - حدثنا قال ثنا عياش بن الوليد الرقام قال ثنا عبد الأعلى عن عبيد الله بن عياض بن عبد الله عن أبى سعيد الخدري قال بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم أبى قتادة الأنصاري على الصدقة وخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه وهم محرمون حتى نزلوا عسفان فإذا هم بحمار وحش قال وجاء أبو قتادة وهو حل فنكسوا رؤوسهم كراهية أن يحدوا أبصارهم فيفطن فرآه فركب فرسه وأخذ الرمح فسقط منه فقال ناولونيه فقالوا ما نحن بمعينيك عليه بشيء فحمل عليه فعقره فجعلوا يشوون منه ثم قالوا رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا قال وكان تقدمهم فلحقوه فسألوه فلم ير بذلك بأسا

عبید اللہ بن عیاض بن عبداللہ نے ابو سعید انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو صدقات پر عامل مقرر فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ اور صحابہ کرام احرام باندھ کر روانہ ہوئے ۔ یہاں تک کہ مقام عسفان میں پہنچ گئے اچانک ایک وحشی گدھا سامنے آیا ۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آئے وہ غیر محرم تھے صحابہ کرام نے شکار کی طرف نگاہ دوڑانے سے اپنی نگائیں ہٹا لیں کہ ابو قتادہ کو خبر کا ذریعہ نہ بنے ۔ ابو قتادہ تو شکار کو پہلے دیکھ چکے تھے وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنا نیزہ لیا وہ گر پڑا انہوں نے کہا مجھے پکڑا دو۔ انہوں نےکہا ہم اس سلسلہ میں تیری کوئی مدد کرنے والے نہیں انہوں نے شکار پر حملہ کر کے اس کو شکار کر لیا بعض اس میں سے گوشت لے کر بھوننے لگے ۔ پھر کہنے لگے ہمارے درمیان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ موجود ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ ان سے کچھ آگے بڑھ گئے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ سے جا ملے اور آپ صلی اللہ علیہ سے اس کے متعلق دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ نے اس میں کوئی حرج قرار نہ دیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عبيد الله بن عياض بن عبد الله ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3728

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3729

3528 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو عمر الحوضى قال أنا خالد بن عبد الله قال أنا عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن أبى قتادة أنه كان على فرس وهو حلال ورسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه محرمون فبصر بحمار وحش فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعينوه فحمل عليه فصرع أتانا فأكلوا منه

عبادبن تمیم نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا میں نے احرام نہیں باندھا تھا اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور صحابہ کرام احرام سے تھے ۔ ابو قتادہ نے ایک حمار وحشی دیکھا آپ نے صحابہ کرام کو انکی کسی قسم کی اعانت سے منع فرمادیا ۔ انہوں نے حملہ کر کے اس کو بچھا لیا اور وہ شکار ہمارے پاس لائے سب نے اس میں سے کھایا ۔

عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3729

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3730

3529 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا شعبة قال أخبرني عثمان بن عبد الله بن وهب عن عبد الله بن أبى قتادة عن أبيه أنه كان في قوم محرمين وليس هو محرما وهم يسيرون فرأى حمارا فركب فرسه فصرعه فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فسألوه عن ذلك فقال أشرتم أو صدتم أو قتلتم قالوا لا قال فكلوا

عبداللہ بن ابو قتادہ نے اپنے والد ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں محرمین کے ساتھ چل رہا تھا اور احرام باندھے ہوئے نہیں تھا ۔ ہم چلے جا رہے تھے ابو قتادہ نے ایک حمار وحشی دیکھا وہ اپنےگھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے شکار کر کے لائے صحابہ کرام اس کو آپ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں لائے اور آپ صلی اللہ علیہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کیا تم نے اشارہ کیا یا شکار کیا یا قتل کیا؟ انہوں نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا پس اس کو کھاؤ ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثَمْانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3730

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3731

3530 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبى النضر عن نافع مولى أبى قتادة عن بن قتادة بن ربعى أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى إذا كان ببعض طريق مكة تخلف مع أصحاب له محرمون وهو غير محرم فرأى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه ثم سأل أصحابه أن يناولوه سوطه فأبوا فسألهم رمحهم فأبوا فأخذه ثم شد على الحمار فقتله فأكل منه بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وأبى بعضهم فلما أدركوا رسول الله صلى الله عليه و سلم سألوه عن ذلك فقال إنما هى طعمة أطعمكموها الله

نافع مولیٰ ابو قتادہ نے ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ تھا مکہ کے کسی راستہ میں وہ اپنے محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گے یہ غیر محرم تھے چنانچہ انہوں نے ایک حمار وحشی دیکھا اور اپنے گھوڑے پر سوارے ہوئے پھر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ ان کو ان کا کوڑا پکڑا دیں انہوں نے انکار کر دیا پھر اپنے نیزے کے متعلق سوال کیا انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا ۔ انہوں نے اپنا نیزہ اور کوڑا خود لے کر شکار پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا اس شکار میں بعض نے کھایا اور بعض نے انکار کر دیا جب ی حضرات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو جاملے تو آپ صلی اللہ علیہ نے اس کے متعلق دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا وہ تو تمارا لقمہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3731

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3732

3531 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أخبره عن أبى قتادة مثله وزاد إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال هل معكم من لحمه شيء فقد علمنا أن أبا قتادة لم يصده في وقت ما صاده إرادة منه أن يكون له خاصة وإنما أراد أن يكون له ولأصحابه الذين كانوا معه فقد أباح رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك له ولهم ولم يحرمه عليهم لأرادته أن يكون لهم معه وفي حديث عثمان بن عبد الله بن وهب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سألهم فقال أشرتم أو سدتم أو قتلتم قالوا لا قال فكلوا فدل ذلك أنه إنما يحرم عليهم إذا فعلوا شيئا من هذا ولا يحرم عليهم بما سوى ذلك وفي ذلك دليل أن معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عمرو مولى المطلب أو يصاد لكم أنه على ما صيد لهم بأمرهم فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد قال بهذا القول أيضا عمر بن الخطاب رضي الله عنه

عطاء بن یسار نے ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے ؟ ہم جان چکے تھے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایسے وقت میں فقط آپ کے لیے شکار نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ اور آپ کے ان اصحاب رضی اللہ عنہم کے لیے کیا جو آپ کے ساتھ تھے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس شکار کو اپنے اور اپنے اصحاب کے لیے مباح قرار دیا اور ابو قتادہ کے اس ارادہ کی وجہ سے کہ یہ آپ اور آپ کے اصحاب کے لیے ہو گا آپ نے اس کو حرام قرار نہیں دیا اور عثمان بن عبداللہ کی روایت میں یہ لفط ہیں( اشرتم اوصدتم او قتلتم قالو الا قال فکلوا) کیا تم نے شکار کے لیے اشارہ کیا یا خود شکار کیا تم نے شکار خود قتل کیا تو انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اسے کھاؤ اس سے یہ دلالت میسرآئی کہ ان کے لیے حرام اس وقت ہو گا جب کہ وہ ان مذکورہ بالا چیزوں میں سے کوئی ایک کریں ۔ اس کے علاوہ وہ شکار ان کے لیے حرام نہ ہو گا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے اس ارشاد کا مطلب جو حدیث عمرو مولیٰ مطلب میں آیا ہے ( اوبصادلکم ) کہ اس سے محرم کے حکم سے شکار کرنا مراد ہے آثار کو سامنے رکھتے ہوئے اس باب کا یہی حکم ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ہے ۔

أبى قتادة مثله وزاد ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3732

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3733

3532 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا هارون بن إسماعيل قال ثنا على بن المبارك قال ثنا يحيى بن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رجلا من أهل الشام استفتاه في لحم الصيد وهو محرم فأمره بأكله قال فلقيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه فأخبرته بمسألة الرجل فقال بما أفتيته فقلت بأكله فقال والذي نفسي بيده لو أفتيته بغير ذلك لعلوتك بالدرة إنما نهيت أن تصطاده

یحییٰ بن ابی سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک شامی آدمی نے مجھ سے احرام کی حالت میں شکار کے گوشت سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اسے استعمال کرنے کا حکم دیا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو اس مسئلہ میں کی خبر دی تو انہوں نے فرمایا تم نے پھر کیا فتویٰ دیا تو میں نے کھانے کا کہا اس پر وہ فرمانے لگے مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تو اس کے علاوہ فتویٰ دیتا تو میں درہ سے تمہاری خدمت کرتا ۔ بلاشبہ تمہیں اس کے شکار سے روکا گیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هارون بن إسماعيل ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3733

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3734

3533 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد أنه سمع سعيد بن المسيب يحدث عن أبى هريرة رضي الله عنه فذكر مثله غير انه قال لفعلت بك يتوعده

سعید بن المسیب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے اسی طرح روایت بیان کی ۔ البتہ یہ الفاظ زائد ہیں ۔ اگر تو اس کے خلاف فتویٰ دیتا تو میں تمہیں سمجھ لیتا (ڈرایا )

لفعلت بك يتوعده ← أبى هريرة فذكر مثله غير انه ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3734

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3735

3534 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سالم أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يحدث عن عمر رضي الله عنه فذكر مثله

ابن شہاب نے سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کرتے پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے ۔

عمر فذكر مثله ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَالِمٍ أَنَّهُ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3735

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3736

3535 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبى داود قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله فلم يكن عمر رضي الله عنه ليعاقب رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في فتياه في هذا بخلاف ما يرى والذي عنده في ذلك مما يخالف ما أفتى به رأيا ولكن ذلك عندنا والله أعلم لأنه قد كان أخذ علم ذلك من غير جهة الرأي

لیث نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو اس کے ذاتی فتویٰ پر سزا نہ دیتے تھے بس اس رائے پر سزا دیتے جس میں وہ سمجھتے کہ یہ رائے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے قول و فعل کے خلاف جارہی ہے ۔ ( اور اس رائے دنے والے کو وہ معلوم نہیں اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا وہ قول و فعل دیکھا اور سنا ہے ) بقیہ اجتہادی مسائل میں وہ کبھی سزا نہ دیتے ۔

بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3736

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3737

3536 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن الأسود أن كعبا سأل عمر رضي الله عنه عن الصيد يذبحه الحلال فيأكله الحرام فقال عمر رضي الله عنه لو تركته لرأيتك لا تفقه شيئا وقد احتج في ذلك المخالفون لهذا القول بما

اسود سے روایت ہے کہ کعب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس شکار کے متعلق پوچھا جس کو حلال ذبح کر ے اور محرم اس کو کھائے یا نہیں تو آپ نے فرمایا اگر تم اس کو چھوڑدو گے تو میں سمجھوں گا کہ تم میں کچھ سمجھ بوجھ نہیں ۔ اس قول کے مخالف حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ والی اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔

الصيد يذبحه الحلال فيأكله الحرام ← الأسود أن كعبا سأل عمر ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3737

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 12 باب الصيد يذبحه الحلال في الحل هل للمحرم أن يأكل منه أم لا ) · حديث 3738

3537 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن يزيد بن أبى زياد عن عبد الله بن الحارث عن أبيه قال كنا مع عثمان وعلى رضي الله عنهما حتى إذا كنا بمكان كذا وكذا قرب إليهم طعام قال فرأيت جفنة كأني أنظر الى عراقيب اليعاقيب فلما رأى ذلك علي رضي الله عنه قام فقام معه ناس قال فقيل والله ما أشرنا ولا أمرنا ولا صدنا فقيل لعثمان رضي الله عنه ما قام هذا ومن معه إلا كراهية لطعامك فدعاه فقال ما كرهت من هذا فقال علي رضي الله عنه أحل لكم صيد البحر وطعامه متاعا لكم وللسيارة وحرم عليكم صيد البر ما دمتم حرما ثم انطلق قال فذهب علي رضي الله عنه الى أن الصيد ولحمه حرام على المحرم قيل لهم فقد خالفه في ذلك عمر بن الخطاب رضي الله عنه وطلحة بن عبيد الله وعائشة رضي الله عنها وأبو هريرة رضي الله عنه وقد تواترت الروايات عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بما يوافق ما ذهبوا اليه وقول الله عز و جل وحرم عليكم صيد البر ما دمتم حرما يحتمل ما حرم عليهم منه هو أن يصيدوه ألا ترى الى قول الله عز و جل يا أيها الذين آمنوا لا تقتلوا الصيد وأنتم حرم ومن قتله منكم متعمدا فجزاء مثل ما قتل من النعم فنهاهم الله تعالى في هذه الآية عن قتل الصيد وأوجب عليهم الجزاء في قتلهم إياه فدل ما ذكرنا أن الذي حرم على المحرمين من الصيد هو قتله وقد رأينا النظر أيضا يدل على هذا وذلك أنهم أجمعوا أن الصيد يحرمه الإحرام على المحرم ويحرمه الحرم على الحلال وكان من صاد صيدا في الحل فذبحه في الحل ثم أدخله الحرم فلا بأس بأكله إياه في الحرم ولم يكن إدخاله لحم الصيد الحرم كإدخاله الصيد نفسه وهو حي الحرم لأنه لو كان كذلك لنهى عن إدخاله ولصنع من أكله إياه فيه كما يمنع من الصيد في ذلك كله ولكان إذا أكله في الحرم وجب عليه ما وجب في قتل الصيد فلما كان الحرم لا يمنع من لحم الصيد الذي صيد في الحل كما يمنع من الصيد الحي كان النظر على ذلك أن يكون كذلك الإحرام أيضا يحرم على المحرم الصيد الحي ولا يحرم عليه لحمه إذا تولى الحلال ذبحه قياسا ونظرا على ما ذكرنا من حكم المحرم فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ہم عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے جب ہم فلاں فلاں مقام پر پہنچے تو ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک بڑا پیالہ دیکھا گویا اس کا منظراب بھی میرے سامنے ہے کہ نر چکوروں کی ایڑیاں نظر آ رہی ہیں جب علی رضی اللہ عنہ نے یہ حال دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ان کے ساتھ تھوڑے سے لوگ آٹھ گئے ان سے کہا گیا اللہ کی قسم ہم نے نہ اشارہ کیا اور نہ ہم نے شکار کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کہا گیا کہ یہ لوگ تمہارے کھانے سے نفرت کی وجہ سے اٹھ گئے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا اورپوچھا آ پ نے کھانے میں سے کون سی چیز نا پسند کی ؟ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( احل لکم صبد البحر وطعامہ الی حرم علیکم صیدالبر مادھم حرما (المائدہ 96) یہ آیت پڑ ھ کر چلے گئے اس سے معلو م ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ کے ہاں محرم پر شکار کا گوشت بہر صورت حرام تھا ۔ ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ انکی اس رائے کے خلاف حضرت عمر ،طلحہ ، عائشہ صدیقہ ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم ہیں اور جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ سے کثرے سے روایات وارد ہوئی ہیں جو ان حضرات کے قول کے موافق ہیں رہی آپ و حرم علیکم صید البر مادھتم حرما) اس میں احتمال ہے کہ شکار میں سے جو ان پر حرام ہو وہ خود ان کا اپنے طور پر شکار کرنا ہو۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں نظر نہیں ڈالتے ( یا یھا الذین امنو تقتلو االصید۔۔۔۔۔) اے ایمان والوں ! تم احرام کی حالت میں شکار مت کرو جو شخص تم میں سے جان بوجھ کر شکار کرے گا تو وہ اس کا بدلہ اسی جیسے جو پائے سے دے " تو اللہ تعالیٰ نے شار کے قتل سے محرم کو منع فرمایا اور اس کے قتل میں ان پر حزاء کو لازم کیا ۔ اس بات سے یہ دلالت میسر ہوئی کہ محرم پر شکار کا قتل حرام ہے اور نظر کا بھی یہی تقاضا ہے او اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پر سب کو اتفاق ہے کہ احرام کی وجہ سے محرم پر شکار حرام ہوا ہے ۔ اور غیر محرم پرشکار کو حرم کی حدود حرام کرنے والی ہیں وہ شخص جس نے حرم سے باہر میں شکار کیا اور پھر اسے حرم کی حدود سے باہر ہی ذبح کیا پھر اس گوشت کو حرم میں داخل کیا تو حرم کے اندر اس گوشت کے کھانے میں کچھ حرج نہیں اور اس کا حرم میں شکار کے گوشت کو لانا حرم کے اندر شکار کو بنفس نفیس لانے کی طرح نہیں ہے جب کہ وہ شکار زندہ ہو اگر شکارزندہ ہو تو اس کا حرم بھی داخلہ بھی ممنوع ہے اور حرم میں اس کے گوشت کا کھانا بھی ممنوع ہے اور حرم میں اس کے کھانے سے وہی واجب ہوتا ہے جو شکار کے قتل میں واجب ہوتا ہے پس جب حرم اس شکار کے گوشت سے منع نہیں کرتا جو غیر حرم میں شکار کیا گیا ہو جیسا کہ زندہ شکار سے روکا جاتا ہے تو اس میں نظر و فکر کا تقاضا بھی یہی ہے کہ احرام کاحکم بھی یہی ہو کہ محرم پر زندہ شکار تو حرام ہواور شکار کا گوشت حرام نہ ہو بشرطیکہ اس کو غیر محرم نے شکار کر کے ذبح کیا ہو قیاس و نظر یہی چاہتے ہیں ۔ اس باب میں نظر یہی ہے اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3738

chevron_left Previous
1…262728…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter