Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3655

3461 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد هو بن سلمة عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه قال مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل يسوق بدنة قال اركبها قال انها بدنة قال اركبها

ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو ہدی کو ہانک رہا تھا آپ نے اسے فرمایا سوار ہو جاؤ ۔ اس نے کہا یہ ہدی کا جانور ہے آپ نے فرمایا تب بھی سوار ہو جاؤ ۔

«ارْكَبْهَا»، ← إِنَّهَا بَدَنَةٌ ← «ارْكَبْهَا»، ← مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل يسوق بدنة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حماد هو بن سلمة ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3655

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3656

3462 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن موسى بن أبي عثمان عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

موسیٰ بن ابو عثمان نے اپنے والد سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3656

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3657

3463 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا المقدمي قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا معتمر عن أيوب عن عكرمة عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يسوق بدنة قال اركبها قال انها بدنة قال اركبها بسيرها الذي في عنقها قال فلقد رأيته يساير النبي صلى الله عليه و سلم وفي عنقها نعل

عکرمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے ایک آدمی کو دیکھا وہ ہدی کو چلا رہا ہے آپ نے اسے فرمایا تو سوار ہو جا اس نے کہا وہ تو ہدی کا جانور ہے آ پ نے فرمایا تو اس کی گردن والی علامت کے باوجود سوار ہو جا ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے ہیں کہ میں نے اس کو دیکھا کہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے ساتھ اس کو چلا رہا تھا اس حال میں کہ اس کی گردن میں ہدی کی علامت " نعل " پڑی ہو ئی تھی ۔

فلقد رأيته يساير النبي صلى الله عليه و سلم وفي عنقها نعل ← اركبها بسيرها الذي في عنقها ← إِنَّهَا بَدَنَةٌ ← «ارْكَبْهَا»، ← النبي صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يسوق بدنة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مُعْتَمِرٌ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3657

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3658

3464 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا هشيم عن حجاج بن أرطاة عن نافع أن بن عمر رضي الله عنه رأى رجلا يسوق بدنة قال اركبها وما أنتم بمستنين سنة أهدى من سنة محمد صلى الله عليه و سلم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کے جانور کو ہانک رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ تمہیں سنت محمد صلی اللہ علیہ سے بہتر اپنانے کی راہ نہ ملے گی ۔

نافع أن بن عمر رأى رجلا يسوق بدنة ← حجاج بن أرطاة ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3658

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3659

3465 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا حميد الطويل عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل وهو يسوق بدنة قال اركبها قال إنها بدنة قال اركبها

حمید الطویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو ہدی کے ایک اونٹ کو چلا رہا تھا آپ نےفرمایا تم اس پر سور ہو جاؤ اس نے کہا یہ تو ہدی کا جانور ہے آپ نے فرمایا اس کے باوجود اس پر سوار ہو جاؤ۔

«ارْكَبْهَا»، ← إِنَّهَا بَدَنَةٌ ← «ارْكَبْهَا»، ← مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل وهو يسوق بدنة ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3659

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3660

3466 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش البصري قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا هشام وشعبة قالا ثنا قتادة عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى إن الرجل إذا ساق بدنة لمتعة أو قران أن له أن يركبها واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إنما كان هذا من النبي صلى الله عليه و سلم لضر رآه من الرجل فأمره بما أمره به لذلك وهكذا نقول نحن لا بأس بركوبها في حال الضرورة ولا يجوز في حال الوجود فاحتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أمر بذلك للضرورة كما قالوا واحتمل أن يكون ذلك لا للضرورة ولكن لأن حكم البدن كلها كذلك تركب في حال الضرورة وفي حال الوجود فنظرنا في ذلك

ہشام شعبہ دونوں نے قتادہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے اسی طرح روایت کی ہے امام طحاوی کہتے ہیں کہ جب ایک آدمی تمتع یا قران کی ھدی روانہ کرے تو وہ اس پر سواری کر سکتا ہے اس قول کو علماء کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے ۔ اور انہوں نے اس سلسلہ میں ان آثار کو بطور دلیل کے پیش کیا اور دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی طرف سے اس آدمی کی شدید حاجت کو دیکھ کر خاص اجازت تھی اور اس کو یہ حکم دیا اور ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کہ ضرورت کے وقت اس پر سواری کر نے میں کچھ حرچ نہیں مگر دوسری سواری کی موجودگی میں یہ درست نہیں ہے پس اس روایت میں یہ احتمال پیدا ہو گیا کہ یہ حکم آپ نے ضرورت کے پیش نظر دیا جیسا کہ دوسرے قول والوں نے کہا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ضرورت کی وجہ سے نہ ہو ۔ لیکن تمام ہدیا کے جانوروں کا حکم ہے کہ ضرورت کے وقت ان پر سواری کی جا سکتی ہے ۔ پس اب ہم اس میں غور کرتے ہیں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ وَشُعْبَةُ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عبد الله بن محمد بن خشيش البصري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3660

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3661

3467 - فإذا نصر بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا على بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن حميد عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يسوق بدنة وقد جهد قال اركبها قال يا رسول الله انها بدنة قال اركبها

حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے کہ آپ نے ایک آدمی کو ہدی کا جانور ہانکتے دیکھا وہ آدمی تھکاوٹ سے چور چور تھا آپ نے فرمایا سوار ہو جاؤ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ یہ ہدی کا جانور ہے ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فإذا نصر بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3661

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3662

3468 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان والنفيلى قالا ثنا زهير بن معاوية قال ثنا حميد الطويل عن ثابت عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يسوق بدنة فكأنه رأى به جهدا فقال اركبها فقال انها بدنة قال اركبها وإن كانت بدنة وقد روى في حديث بن عمر رضي الله عنهما حرف يدل على هذا المعنى أيضا

ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ہدی کا جانور ہانک رہا ہے آپ نے اس آدمی کو سخت مشقت میں پایا تو اسے فرمایا سوار ہو جاؤ،اس نے کہا وہ ہدی کا جانور ہے آپ نے فرمایا سوار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا جانور ہے ۔ اور حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ ایسے الفاظ موجود ہیں جو اسی مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان والنفيلى ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3662

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3663

3469 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا هشيم عن الحجاج عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان يقول في الرجل إذا ساق بدنة فأعيى اركبها وما أنتم بمستنين سنة أهدى من سنة محمد صلى الله عليه و سلم فدل ذلك أيضا أن ما أمر به بن عمر رضي الله عنه وأخبر أنه سنة محمد صلى الله عليه و سلم هو ركوب البدنة في حال الضرورة ثم التمسنا حكم ركوب الهدى في غير حال الضرورة هل نجد له ذكرا في غير هذه الآثار فإذا فهد قد

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ اس آدمی کے بارے میں جو ہدی بھیجے اور وہ تھکاوٹ سے عاجز آجائے تو اس پر سوار ہو جائے اور تمہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے طریقہ سے بہتر طریقہ نہ ملے گا۔ اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جس بات کا حکم دیا اور جس کے متعلق یہ اطلاع دی کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ کی سنت ہے وہ یہ ہے کہ ضرورت کے وقت ھدی کے جانور پر سواری درست ہے اب ہم بلا ضرورت ھدی کے جانور پر سواری کا حکم تلاش کرتے ہیں کیا دوسرے آثار میں اس کا تذکرہ پایا جاتا ہے روایت ذیل میں ہے ۔

بن عمر أنه كان ← نَافِعٍ ← الْحَجَّاجِ، ← هُشَيْمٌ ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3663

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3664

3470 - حدثنا قال ثنا أبو بكر بن أبى شيبة قال ثنا أبو خالد الأحمر عن بن جريج عن أبى الزبير عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اركبوا الهدى بالمعروف حتى تجدوا ظهرا

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہدی پر مناسب انداز سے سواری کرتے رہو یہاں تک کہ تم سواری پا لو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3664

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3665

3471 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن أبى مريم ح

یزید بن سنان کہتے ہیں کہ ہمیں ابن ابی مریم نے بیان کیا ۔

بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3665

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 10 باب الهدى يساق لمتعة أو قران هل يركب أم لا ) · حديث 3666

وحدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن صالح قالا ثنا بن لهيعة عن أبى الزبير عن جابر رضي الله عنه في ركوب الهدى سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا فأباح النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث ركوبها في حال الضرورة ومنع من ذلك إذا ارتفعت الضرورة ووجد غيرها فثبت بذلك أن هذا حكم الهدى من طريق الآثار تركب للضرورات وتترك لارتفاع الضرورات ثم اعتبرنا حكم ذلك من طريق النظر كيف هو فرأينا الأشياء على ضربين فمنها ما الملك فيها متكامل لم يدخله شيء يزيل عنه شيئا من أحكام الملك كالعبد الذي لم يدبره مولاه وكالأمة التي لم تلد من مولاها وكالبدنة التي لم يوجبها صاحبها فكل ذلك جائز بيعه وجائز الانتفاع به وجائز تمليك منافعه بإبدال وبلا ابدال ومنها ما قد دخله شيء منع من بيعه ولم يزل عنه حكم الانتفاع به من ذلك أم الولد التي لا يجوز لمولاها بيعها والمدبر في قول من لا يرى بيعه فذلك لا بأس بالانتفاع به وبتمليك منافعه للذي يريد أن ينتفع بها ببدل أو بلا بدل فكان ماله أن ينتفع به فله أن يملك منافعه من شاء بإبدال وبلا أبدال ثم رأينا البدنة إذا أوجبها ربها فكل قد أجمع أنه لا يجوز له أن يؤاجرها ولا يتعوض بمنافعها بدلا فلما كان ليس له تمليك منافعها ببدل كان كذلك ليس له الانتفاع بها ولا يكون له الانتفاع بشيء إلا شيء له التعوض بمنافعه ابدالا منها فهذا هو النظر أيضا وهو قول أبى حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روى ذلك عن جماعة من المتقدمين

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے رکوب ہدی کے سلسلہ میں روایت کیا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو فرماتے سنا اس پر خوش اسلوبی سےسواری کرو جب کہ تم مجبور ہو جاؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں اور سواری میسر ہو جائے ۔ پس اس روایت میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے ضرورت کے وقت سواری کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور ضرورت پورا ہونے پر وک دیا اور دوسری بات پائی گئی پس آثا کے پیش نظر تو ھدی کا حکم یہی ہے ۔ کہ ان پر ضرورت کے لیے سواری کی جا سکتی ہے اور اختتام ضرورت پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اب بطور نظر و فکر اس کا حکم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا ہو گا ہم نے اشیاء کو دو قسم پر پایا بعض اشیاء وہ ہیں جن میں ملک کامل ہے اور اس میں کوئی چیز ملک کے حکم کو زائل نہیں کر سکتی مثلاَ وہ غلام جس کو آقا نے مدبرنہ بنایا ہوا اور وہ لونڈی جس سے آقا کی اولاد نہ ہوئی ہو اسی طرح وہ ہدی کا جانور جس کی قربانی کو ھدی روانہ کرنے والے نے اپنے اوپر لازم نہ کیا ہو ۔ ان سب کا فروخت کرنا اور ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے اور تبادلے میں ان کے منافع کا کسی کو مالک بنانا بھی جائز ہے ۔ اور بلا بدل مین مالک منافع بنایا جا سکتا ہے ۔ اور دوسری قسم وہ ہے کہ جس میں کسی ایسی چیز کی مداخلت کی وجہ سے اس کی بیع کو ناجائز قرار دیا مگر اس سے مالک کی ملک زائل نہیں ہوئی ، اور نہ اس سے نفع اٹھانے کا حکم زائل ہوا ان میں سے ام والد ہے کہ اس کے آقاکو اس کی فروخت درست نہیں ہے اسی طرح مد بران لوگوں کے بقول جو اس کی بھی بیع کے قائل نہیں ان سے انتقاع میں کچھ حرج نہیں جو شخص ان چیزوں سے نفع حاصل کرنا چاہے خواہ بدل کے ذریعہ یا بلا بدل وہ انکے منافع کے مالک بن جائے گا اور ان سے نافع اٹھانے میں کچھ حرج نہیں وہ اس کا مال ہے وہ اس سے منافع اٹھاسکتا ہے اور اس کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کے منافع کا مالک بدلے کے ساتھ یابلا بدل کے جس کو چاہے بنائے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہدی کو اس کے مالک نے اپنے اوپر لازم کیا پس سب کا اس کے منافع کا مالک بنانا جائز نہیں تو اس سے نفع اٹھا نا بھی جائز نہیں پس اس چیز سے نفع حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے منافع کے عوض و بدلہ کا لین دین جائز ہو ۔ قیاس کا یہی تقاضا ہے اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔

جابر في ركوب الهدى ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3666

chevron_left Previous
1…202122…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter