شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3607
3419 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا إسرائيل عن إبراهيم بن عبد الأعلى قال سمعت سويدا يقول سمعت عمر رضي الله عنه يقول أفردوا بالحج قيل له ليس ذلك عندنا على كراهته لما سوى الأفراد من التمتع والقران ولكنه لأرادته معنى آخر سوى ذلك قد بينه عبد الله بن عمر رضي الله عنهما
ابراہیم بن عبدالاعلی کہتے ہیں کہ میں نے سوید سے سنا وہ کہا کرتے تھے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے کہ حج افراد کیا کرو ۔ اسکے جواب میں یہ کہا جائیگا ۔ہمارے ہاں اس کا مطلب افراد کے علاوہ یعنی تمتع وقرآن کو ناپسند کرنا نہیں بلکہ آپ نے ایک دوسرا مفہوم مراد لیا جس کو ابن عمر رضی اللہ عنہ اس طرح بیان کرتے ہیں ۔
عُمَرَ، ← سُوَيْدًا ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3607
