Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3583

3395 - حدثنا يزيد بن سنان وابن أبى داود قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال حدثني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال تمتع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بالعمرة الى الحج وأهدى وساق معه الهدى من ذي الحليفة وبدأ رسول الله صلى الله عليه و سلم فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج وتمتع الناس مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالعمرة الى الحج

سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا او رہدی کے جانور کو ذوالحلیفہ سے روانہ کیا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے عمرہ سے ابتداء کی پھر حج کا احرام باندھا اور لوگوں نے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حج کو عمرہ کے ساتھ ملا کر کرنے کا نفع اٹھا یا ۔

سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يزيد بن سنان وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3583

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3584

3396 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة رضي الله عنها أخبرته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في تمتعه بالعمرة الى الحج وتمتع الناس معه بمثل الذي أخبرني به سالم عن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فان قال قائل فقد رويتم عن عائشة رضي الله عنها في أول هذا الباب خلاف هذا فرويتم عن القاسم عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفرد الحج ورويتم عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم عام حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحجة وعمرة ومنا من أهل بالحج وأهل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحج ورويتم عن أم علقمة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عام حجة الوداع أفرد الحج ولم يعتمر قيل له قد يجوز أن يكون الإفراد الذي ذكره هذا على معنى لا يخالف معنى ما روى الزهرى عن عروة عن عائشة رضي الله عنها وذلك أنه قد يجوز أن يكون الإفراد الذي ذكره القاسم عن عائشة إنما أرادت به إفراد الحج في وقت ما أحرم وإن كان قد أحرم بعد خروجه منه بعمرة فأرادت أنه لم يخلطه في وقت إحرامه به بإحرام بعمرة كما فعل غيره ممن كان معه وأما حديث محمد بن عبد الرحمن عن عروة عن عائشة رضي الله عنها فإنها أخبرت أن منهم من أهل بعمرة لا حجة معها ومنهم من أهل بحجة وعمرة يعنى مقرونتين ومنهم من أهل بالحج ولم يذكر في ذلك التمتع فقد يجوز أن يكون الذي قد كانوا أحرموا بالعمرة أحرموا بعدها بحجة ليس حديثها هذا ينفي من ذلك شيئا وأنها قالت وأهل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحج مفردا فقد يجوز أن يكون ذلك الحج المفرد بعد عمرة قد كانت تقدمت منه مفردة فيكون قد أحرم بعمرة مفردة على ما في حديث القاسم ومحمد بن عبد الرحمن عن عروة ثم أحرم بعد ذلك بحجة على ما في حديث الزهرى عن عروة حتى تتفق هذه الآثار ولا تتضاد فأما معنى ما روت أم علقمة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفرد الحج ولم يعتمر فقد يجوز أن تكون تريد بذلك أنه لم يعتمر في وقت إحرامه بالحج كما فعل بعض من كان معه ولكنه اعتمر بعد ذلك

عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول للہ صلی اللہ علیہ کے حج تمتع کی خبر دی اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا جیسا کہ مجھے سالم نے عبداللہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ خبر دی ۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ہم نے اس باب کی ابتداء میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح نقل کی کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حجۃ الوداع والے سال نکلے ہم نے بعض نے عمر ے اوربعض نے حج وغیرہ اور بعض نے فقط حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے بھی فقط حج کا احرام باندھا " اسی طرح تیسری روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حجۃ الوداع والے سال افراد کا احرام باندھا اور عمروہ نہیں کیا " اسکو جواب میں یہ کہا جائے گا وہ افراد جس کا تذکرہ ان روایات مذکور ہ بالا میں ہے ممکن ہے کہ وہ افراد اس طرح کا ہو جو زہری رحمۃ اللہ علیہ کی اس روایت کے مفہوم کے مخالف نہ ہو۔ جو انہو نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ اس طرح ہو کہ جس افراد کو قاسم نے پہلی روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا ہے اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ جب آپ نے احرام باندھا تو حج افراد کا باندھا اگر چہ اس سے فراغت کے بعد عمرہ کا احرام باندھا ہو بلکہ ان کی مراد یہ کہ حج کے احرام کے ساتھ عمرے کے احرام کو نہیں ملایا جیسا کہ آپ کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ رہی دوسری روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس میں انہوں نے یہ خبر دی ہے کہ ان میں سے بعض نے فقط عمرے کا اجر باندھا اور بعض نے فقط حج کا احرام باندھا اس روایت میں تمتع کا تذکرہ نہیں ہے تو عین ممکن ہے کہ جنہوں نے پہلے عمرے کا احرام باندھا انہوں نے اس کے بعد حج کا احرام بھی باندھا ہو ان کی اس روایت میں اس بات کی کچھ بھی نفی نہیں ہے ۔ اور حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا تو یہ فرما رہی ہیں واھل رسول اللہ صلی اللہ علیہ بالحج مفردا " تو یہ کہنا ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ حج مفرد ہے اس عمرہ کے بعد جو آپ نے پہلے فقط عمر ے ہی کی احرام باندھا جیسا کہ قاسم و محمد بن عبدالرحمن کی روایات میں ہے کہ پھر آپ نے اس کے بعد حج کا احرام باندھا جیسا کہ زہری والی روایت میں عروہ سے منقول ہے ( یہ اس لئے کہا تاکہ آثار متفق ہو جائیں اور ان میں تضاد نہ رہے رہی علقمہ نے جو حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ( ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ افرد الحج ولم یعتمر ) تو عین ممکن ہے کہ اس سے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہو کہ آپ نے حج کا احرام باندھتے وقت عمرہ نہیں کا جیسا کہ آپ کے ساتھ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیا بلکہ اس کے بعد عمرہ کیا ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عائشة في أول هذا الباب خلاف هذا فرويتم ← قائل فقد رويتم ← عَبْدُ اللَّهِ ← بہ سالم، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3584

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3585

3397 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا بن لهيعة عن أبى الأسود أن عبد الله مولى أسماء بنت أبى بكر الصديق رضي الله عنهما حدثه أنه سمع أسماء لما مرت بالحجون تقول صلى الله على رسول الله لقد نزلنا معه ههنا ونحن خفاف الحقائب قليل ظهورنا قليلة أزوادنا فاعتمرت أنا وأختى عائشة رضي الله عنها والزبير وفلان وفلان فلما مسحنا البيت أحللنا ثم أهللنا من العشى بالحج فهذه أسماء تخبر أن من كان حينئذ ابتدأ بعمرة فقد أحرم بعدها بحجة فصار بها متمتعا

ابو الاسود سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ نے بیان کیا کہ اس نے اسماء سے سنا جبکہ ان کا گزر راوی حجون سے ہوا تو وہ کہنے لگیں اللہ تعالیٰ کے رسول پر رحمتیں نازل ہوں ۔ ہم آپ کے ساتھ یہاں اترے ہمارے پاس سامان کم اور سواریاں تھوڑی تھیں ۔ زادراہ بھی تھوڑا تھا میں اور میری بہن عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھا اور زبیر اور فلاں فلاں ہمارے ساتھ تھے جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو ہم نے احرام کھول دیا پھر شام کو حج کا احرم باندھ لیا ۔ یہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہی ہیں کہ جن حضرات نے اس عمرہ سے ابتداء ک تھی انہوں نے اس کے بعد حج کا احرام باندھا تو اس کے ذریعہ وہ متمتع ہو گئے ۔ روایات ذیل میں ہیں ۔

أَنَّهُ ← أبى الأسود أن عبد الله مولى أسماء بنت أبى بكر الصديق ← بن لهيعة ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3585

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3586

3398 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن مطرف عن عمران قال تمتعنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ونزل فيها القرآن فلم ينهنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينسخها شيء ثم قال رجل برأيه ما شاء

مطرف نے عمران سے روایت کی کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ تمتع کیا اور اس دوران قرآن مجید اترا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ہمیں تمتع سے منع کیا اور نہ اس میں سے کوئی چیز منسوخ کی اب اس کے بعد جو آدمی اپنی رائے سے جو کہتا ہے کہتا رہے ۔

عِمْرَانُ، ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3586

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3587

3399 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن حميد عن الحسن عن عمران بن حصين قال تمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم متعة الحج فلم ينهنا عنها ولم ينزل الله فيها نهيا

حسن نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے زمانہ میں حج تمتع کیا اور آپ نے ہمیں اس سے نہ روکا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اس میں کوئی وحی اتاری ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3587

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3588

3400 - حدثنا سليمان قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن أبى نضرة عن جابر بن عبد الله قال تمتعنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما ولى عمر خطب الناس فقال إن القرآن هو القرآن وإن الرسول هو الرسول وانهما كانتا متعتان على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم متعة الحج فافصلوا بين حجكم وعمرتكم فإنه أتم لحجكم وأتم لعمرتكم والأخرى متعة النساء فأنهى عنها وأعاقب عليها

ابو نضرہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے زمانہ میں دو متعے تھے ایک متعتہ الحج پس تم اپنے حج و عمرہ میں فصل کرو ۔ وہ تمہارے حج کے لیے تکمیل کا باعث ہے اور عمرہ زیادہ مکمل کرنے والا ہے اور دوسرا عورتوں کا متعہ ہے پس میں اس سے روکتا ہوں اور اس پر سزادوں گا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَیْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3588

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3589

3401 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد عن عاصم عن أبى نضرة عن جابر رضي الله عنه قال متعتان فعلناهما على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم نهانا عنهما عمر رضي الله عنه فلم نعد إليهما وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله ما يدل على أنه كان كذلك أيضا

ابو نضرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دو متعے ایسے ہیں جن کو ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے زمانہ میں کیا ہمیں عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے روک دیا اب ہم ان کی طرف لوٹ نہیں سکتے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے بھی ایسی روایات ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ بھی اسی حالت میں تھے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3589

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3590

3402 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن بن عمر عن حفصة رضي الله عنهم أنها قالت لرسول الله صلى الله عليه و سلم ما شأن الناس حلوا بعمرة ولم تحلل أنت من عمرتك فقال انى لبدت رأسي وقلدت هديى فلا أحل حتى أنحر فدل هذا الحديث أنه كان متمتعا لأن الهدى المقلد لا يمنع من الحل إلا في المتعة خاصة هذا إن كان ذلك القول منه بعد طوافه للعمرة وقد يحتمل أيضا أن يكون هذا القول كان منه قبل أن يحرم بالحج وقبل أن يطوف للعمرة فكان ذلك حكمه لولا سياقه الهدى يحل كما يحل الناس بعد أن يطوف فلم يطف حتى أحرم بالحج فصار قارنا فليس يخلو حديث حفصة رضي الله عنها الذي ذكرنا من أحد هذين التأولين وعلى أيهما كان في الحقيقة فإنه قد نفى قول من قال إنه كان مفردا بحجة لم يتقدمها عمرة ولم يكن معها عمرة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل القران في ذلك بين العمرة والحجة أفضل من إفراد الحج ومن التمتع بالعمرة إلى الحج وقالوا كذلك فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع وذكروا في ذلك ما

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں گزارش کی لوگ عمرہ کر کے حلال ہو گئے مگر آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا تو آپ نے فرمایا میں نے بالوں کو تلبید کر دی ہے ( درا سی گوند وغیرہ لگانا تاکہ بال جمے رہیں منتشر نہ ہوں اس کو تلبید کہتے ہیں ) اور میں نے اپنے ہدی کو قلادہ ڈال دیا ( قلادہ ہدی کے گلے میں ڈالا جانے والا پٹا یا چمڑہ وغیرہ ) میں اس وقت تک حلال نہ ہو ں گا یہاں تک کہ میں قربانی کو ذبح نہ کرلوں ۔ تو یہ روایت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ آپ تمتع کرنے والے تھے اس لیے کہ قلادہ والا ہدی حلال ہونے سے صرف تمتع کی صورت میں مانع ہے اور آ پ صلی اللہ علیہ نے یہ بات عمرے کا طواف کرلینے کے بعد فرمائی اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ارشاد احرام حج سے پہلے کا ہو اور عمرے کا طواف کرنے سے پہلے فرمایا ہو پس یہی اس کا حکم تھا اگر آپ نے ہری روانہ نہ کی ہوتی تو آپ دوسرے حضرات کی طرح احرام کو طواف کے بعد کھول دیتے ۔ تو آپ نے طواف نہ کیا بلکہ اس سے پہلے حج کا احرام باندھ لیا پس اس سے آپ قارن بن گئے حضرت حفصہ والی مذکورہ روایت میں ان دو میں سے ایک تاویل پائی جاتی ہے خواہ حقیقت میں جو صورت بھی ہو ۔ پس اس سے لوگوں کے قول کی تو نفی ہو گئی کہ جنہوں نے یہ کہا کہ آپ نے حج افراد کیا اور اس پہلے عمرہ نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ عمرہ کیا جب کہ دیگر علماء کی جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا قرآن یعنی حج وغیرہ کو ملانا افضل ہے ۔ یہ حج افراد تمتع دونوں سے افضل ہے ۔

حَفْصَۃَ: أَنَّھَا ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3590

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3591

3403 - حدثنا يونس قال أنا بشر بن بكر عن الأوزاعي قال حدثني عبدة بن أبى لبابة قال حدثني شقيق بن سلمة قال حدثني رجل من تغلب يقال له بن معبد قال أهللت بالحج والعمرة جميعا فلما قدمت على عمر بن الخطاب رضي الله عنه ذكرت له إهلالي فقال هديت لسنة نبيك أو لسنة النبي صلى الله عليه و سلم

شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی تغلب کے ایک آدمی نے بیان کیا جس کو ابن معبد کہتے تھے کہ میں نے حج و عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا جب میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور میں نے ان کو اپنا احرام بتلایا تو انہوں نے فرمایا تو اپنے پیغمبر رضی اللہ عنہ کی طرف راستہ پانے والا ہے یا کہا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی سنت کو پانے والا ہے ۔

رجل من تغلب يقال له بن معبد ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3591

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3592

3404 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن منصور والأعمش عن أبى وائل مثله

منصور و اعمش نے ابووائل سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے ۔

أبى وائل مثله ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3592

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3593

3405 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة قال أنا منصور قال سمعت أبا وائل يحدث أن الصبي فذكر مثله

شعبہ نے منصور سے انہوں نے ابو وائل سے نقل کیا کہ وہ اس طرح بیان کرتے تھے کہ الصبی نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أن الصبي فذكر مثله ← أَبَا وَائِلٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3593

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 9 باب ما كان النبي صلى الله عليه و سلم به محرما في حجة الوداع ) · حديث 3594

3406 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا سلمة بن كهيل عن أبى وائل مثله

حماد نے سلمہ بن کھیل سے انہوں نے ابووائل سےاسی طرح روایت بیان کی ۔

أبى وائل مثله ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3594

chevron_left Previous
1…141516…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter