Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 6 باب ما يلبس المحرم من الثياب ) · حديث 3547

وحدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه قالا جميعا عن عبد الله بن دينار عن بن عمر رضي الله عنهما مثله

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن عمر مثله ← عبد الله بن دينار ← جَمِيعًا ← بن وهب أن مالكا ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3547

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 6 باب ما يلبس المحرم من الثياب ) · حديث 3548

3362 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا شعبة قال أخبرني عبد الله بن دينار أنه سمع عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يقول عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال من لم يجد نعلين فليلبس خفين وليشقهما من عند الكعبين فهذا بن عمر رضي الله عنهما يخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم بلبس الخفين الذي إباحه للمحرم كيف هو وأنه بخلاف ما يلبس الحلال ولم يبين بن عباس رضي الله عنهما في حديثه من ذلك شيئا فحديث بن عمر رضي الله عنهما أولاهما وإذا كان ما أباح للمحرم من لبس الخفين هو بخلاف ما يلبس الحلال فكذلك ما أباح له من لبس السراويل هو بخلاف ما يلبس الحلال فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما النظر على ذلك فانا رأيناهم لم يختلفوا فيمن وجد إزارا أن لبس السراويل له غير مباح لأن الإحرام قد منعه من ذلك وكذلك من وجد نعلين فحرام عليه لبس الخفين من غير ضرورة فأردنا أن ننظر في لبس ذلك من طريق الضرورة كيف هو وهل يوجب كفارة أو لا يوجبها فاعتبرنا ذلك فرأينا الإحرام ينهى عن أشياء قد كانت مباحة قبله منها لبس القميص والعمائم والخفاف والسراويلات والبرانس وكان من اضطر فوجد الحر فغطى رأسه ووجد البرد فلبس ثيابه أنه قد فعل ما هو مباح له فعله وعليه الكفارة مع ذلك وحرم عليه الإحرام أيضا حلق الرأس إلا من ضرورة وكان من حلق رأسه من ضرورة فقد فعل ما هو له مباح والكفارة عليه واجبة فكان حلق الرأس للمحرم في غير حال الضرورة إذا أبيح في حال الضرورة لم يكن إباحته تسقط الكفارة بل الكفارة في ذلك كله واجبة في حال الضرورة كهى في غير حال الضرورة وكذلك لبس القميص الذي حرم عليه في غير حال الضرورة فإذا كانت الضرورة فأبيح ذلك له لم يسقط بذلك الضمان فكانت الكفارة عليه واجبة في ذلك كله فلم يكن الضرورة في شيء مما ذكرنا تسقط كفارة كانت تجب في شيء في غير حال الضرورة وإنما تسقط الآثام خاصة فكذلك الضرورات في لبس الخفاف والسراويلات لا توجب سقوط الكفارات التي كانت تجب لو لم تكن تلك الضرورات ولكنها ترفع الآثام خاصة فهذا هو النظر في هذا الباب أيضا وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو جوتے نہ پائے و ہ ٹخنوں کی جگہ سے ان کو چیر دے ۔ تو حضرت ا بن عمر رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے موزے پہننے کی خبر دے رہے ہیں کہ محرم ان کو کس طرح استعمال کرے اور یہ طریقہ غیر محرم کے پہننے کے طریقہ کے خلاف ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں اس قسم کی کوئی بات بیان نہیں فرمائی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہر روایت سے اولیٰ ہے ۔ تو جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے موزوں کو محرم کے لیے پہننے کا طریقہ بتلادیا جو غیر محرم سے مختلف ہے تو بالکل اسی طرح اس کے لیے پاجامہ پہننے کا جو طریقہ بتلایا گیا ہے وہ غیر محرم سے مختلف ہے ۔ روایات کی تصحیح کے طریقہ پر یہ بیان وضاحت ہے جہاں تک قیاس و نظر کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ ازار پہننے والے کو پاجامہ کا استعمال جائز نہیں کیونکہ یہ احرام کے خلاف ہے اسی طرح جس کو جوتا میسر ہو اس کے لیے موزوں کا استعمال درست نہیں ہے اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ بوقت ضرورت ان کے پہننے کا طریق کار کیا ہے اور کیا اس سے کفارہ لازم ہو گا نہیں ؟ ہم نے پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ احرام کی وجہ سے بعض چیزیں ممنوع تھیں ان میں قمیص، پگڑیاں ، موزے دستانے ، پاجامہ ، شلوار وغیرہ شامل ہیں ۔ اب جو شخص گرمی سے مجبور ہو کر سر کو ڈھانپ لے یا سردی کی وجہ سے کپڑے پہن لے اس نے اس ایسا کام کیا ہے جو اس کے لیے جائز مگر اسپر کفارہ تو لازم ہو گا۔ اور احرام کے پیش نظر اس پر سر کا مونڈوانا بھی حرام ہے اب جو شخص ضرورت کی وجہ سے سر منڈوائے گا وہ ایک جائز کام کرتا ہے مگر اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے محرم کے لیے ضرورت میں جو چیز جائز ہو گی تو عدم ضرورت میں وہ عدم جواز کی طرف لوٹے گی تو اس محرم سے یہ چیز کفارے کو ساقط نہ کرے گی ۔ بلکہ عدم ضرورت کی طرح سر منڈانے میں جو کفارہ آتا ہے وہ ضرورت کے وقت منڈانے میں اسی طرح لازم رہے گا قمیص کے متعلق بھی یہی احتمال ہے کہ بلا ضرورت اس کا پہننا نا جائز ہے جب ضرورت میں اس کو جائز قرار دیا جائے گا تو اس سے ضمان ساقط نہ ہو گی اور یہ سب صورتیں اس پر کفارے کو واجب قراردیں گی ۔ پس جب کفارہ ضرورت کے بغیر کسی عمل سے لازم آتا ہے تو وہ ضرورت کی بناء پر ساقط نہ ہوگا ۔ صرف ان کا گناہ نہ ہوگا اسی طرح موزوں ، پاجاموں کے پہننے کی صورت ان سے کفارے کو ساقط نہ کر ےگی ۔ جو کفارہ کو بلا ضرورت استعمال سے لازم آتا ہے یہ اس سے گناہ کو زائل کر دیتی ہے اس باب میں نظر کا تقاضا ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا مسلک ہے ۔

عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3548

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3549

3363 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو داود وأبو صالح كاتب الليث قالا ثنا إبراهيم بن سعد عن الزهرى عن سالم عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تلبسوا ثوبا مسه ورس أو زعفران يعنى في الإحرام

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا احرام میں اس کپڑے کو مت استعمال کرو جس کو درس و زعفران نے چھوا ہو ۔

بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أبو داود وأبو صالح كاتب الليث ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3549

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3550

3364 - حدثنا على بن أبي شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن عبد الله بن دينار عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← على بن أبى شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3550

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3551

3365 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3551

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3552

3366 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذه الآثار فقالوا كل ثوب مسه ورس أو زعفران فلا يحل لبسه في الإحرام وإن غسل لأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يبين في هذه الآثار ما غسل من ذلك مما لم يغسل فنهيه على ذلك كله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما غسل من ذلك حتى صار لا ينفض فلا بأس بلبسه في الإحرام لأن الثوب الذي صبغ إنما نهى عن لبسه في الإحرام لما كان قد دخله مما هو حرام على المحرم فإذا غسل فخرج ذلك منه ذهب المعنى الذي كان له النهى وعاد الثوب الى أصله الأول قبل أن يصيبه ذلك الذي غسل منه وقالوا هذا كالثوب الطاهر يصيبه النجاسة فينجس بذلك فلا تجوز الصلاة فيه فإذا غسل حتى يخرج منه النجاسة طهر وحلت الصلاة فيه وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك أنه استثنى مما حرمه على المحرم من ذلك فقال إلا أن يكون غسيلا

نافع نے ابن عمر سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس آثار کو اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کپڑے میں ورس و زعفران لگی ہو اس کا استعمال احرام میں درست نہیں ہے خواہ اسے دھو ڈالا جائے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ان آثار میں دھوئے جانے والے کپڑے کو نہ دھوئے جانے والے سے الگ ذکر نہیں فرمایا پس ممانعت دونوں ہی قسموں سے متعلق ہو گئی مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا جس کپڑے کو دھولیں اور اس سے مہک ختم ہو جائے اسے حالت احرام میں استعمال کرنا چندان حرج نہیں رکھتا اور ورس و زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کی ممانعت کا سبب یہ کہ وہ ایسا کپڑا پہن کر احرام میں داخل ہو رہا ہے ۔ جس کا استعمال محرم پر حرام ہے ۔جب وہ دھوڈالا گیا تو وہ اس حکم سے نکل گیا اور وجہ ممانعت جاتی رہی اور کپڑا اپنی اصل حالت میں لوٹ آیا جو کہ اس سے پہنچنے سے پہلے کی حالت تھی اس کپڑے کا حال اس پاک کپڑے جیسا ہے کہ جس کو نجاست لگ گئی تو اس کے ساتھ نماز جائز نہ رہی جب نجاست سے پاک کر دیا گیا اور نجاست کو زائل کر دیا تو وہ پاک ہو گیا۔ اس کے ساتھ نماز جائز ہو گی اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے وارد ہے کہ آپ نے محرم پر حرام ہونے والی صورت سے اس کو مستثنیٰ کر کے بیان فرمایا اور فرمایا مگر اس صورت میں کہ اسے دھوڈالا جائے ۔

أبو جعفر فذهب قوم الى هذه الآثار ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3552

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3553

3367 - حدثنا بذلك فهد قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الأزدي قال ثنا أبو معاوية ح

یحییٰ بن عبدالحمید ازدی نے ابو معاویہ سے نقل کیا ۔

أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يحيى بن عبد الحميد الأزدي ← بذلك فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3553

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3554

وحدثنا بن أبى عمران قال ثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي قال ثنا أبو معاوية عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثل الحديث الذي ذكرناه في أول هذا الباب وزاد إلا أن يكون غسيلا قال بن أبى عمران ورأيت يحيى بن معين وهو يتعجب من الحماني أن يحدث بهذا الحديث فقال له عبد الرحمن هذا عندي ثم وثب من فوره فجاء بأصله فأخرج منه هذا الحديث عن أبى معاوية كما ذكره يحيى الحماني فكتبه عنه يحيى بن معين فقد ثبت بما ذكرنا استثناء رسول الله صلى الله عليه و سلم الغسل مما قد مسه ورس أو زعفران وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى ذلك عن نفر من المتقدمين

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے جو ہم اس باب کے شروع میں ذکر کر آئے مگر اس میں یہ اضافہ موجود ہے " الا ان یکون غسیلا" تو جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے ثابت ہو ا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ورس اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے سے دھلے ہوئے کپڑے کو مستثنیٰ فرمایا امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔ متقدمین کی ایک جماعت سے بھی یہ قول مروی ہے ذیل میں ملاحظہ ہو ۔

رأيت يحيى بن معين وهو يتعجب من الحماني ← بن أبي عمران ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3554

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3555

3368 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى بشر عن سعيد بن المسيب أنه أتاه رجل فقال له انى أريد أن أحرم وليس لي إلا هذا الثوب ثوب مصبوغ بزعفران قال آلله ما تجد غيره فحلف فقال اغسله وأحرم فيه

ابو بشر نے سعید بن المسیب کے متعلق نقل کیا کہ ان کے پاس ایک آدمی آکر کہنے لگا میں احرام باندھنا چاہتا ہوں اور میرے پاس صرف زیہ زعفران سے رنگا ہوا کپڑا ہے انہوں نے قسم دے کر کہا کیا تم اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہتے ہو کہ تمہارے پاس اس کے سوال کوئی کپڑا نہیں ہے تو اس نے قسم اٹھائی تو آپ نے فرمایا اس کو دھو ڈالو اور پھر اسے احرام میں استعمال کرو۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3555

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3556

3369 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن سفيان عن ليث عن طاوس قال إذا كان في الثوب زعفران أو ورس فغسل فلا بأس أن يحرم فيه

لیث نے طاوس سے نقل کیا کہ جب کپڑے ، پرورس و زعفران ملا جلا لگ گیا پھر اس نے اسے دھوڈالا تو اس کپڑے کو احرام میں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

طَاوْسٍ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3556

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 7 باب لبس الثوب الذي قد مسه ورس أو زعفران في الإحرام ) · حديث 3557

3370 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عمر عن سفيان عن المغيرة عن إبراهيم في الثوب يكون فيه ورس أو زعفران فغسل إنه لم ير بأسا أن يحرم فيه

مغیرہ نے ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے ایسے کپڑے کے متعلق دریافت کیا گیا جس میں زعفران یا ورس لگ گیا ہو اور پھر اس کو دھولیا گیا ۔ تو اس کو احرام کے لیے استعمال کر لینےمیں حرج نہیں ہے ۔

الْمُغِيرَةِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3557

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3558

3371 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن عطاء بن لبيبة عن عبد الملك بن جابر عن جابر بن عبد الله قال كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم جالسا في المسجد فقد قميصه من جيبه حتى أخرجه من رجليه فنظر القوم الى النبي صلى الله عليه و سلم فقال انى أمرت ببدنى التي بعثت بها أن يقلد اليوم ويشعر على كذا وكذا فلبست قميصى ونسيت فلم أكن لأخرج قميصي من رأسي وكان بعث ببدنه وأقام بالمدينة قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا لا ينبغي للمحرم أن يخلعه كما يخلع الحلال قميصه لأنه إذا فعل ذلك غطى رأسه وذلك عليه حرام فأمر بشقه لذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ينزعه نزعا واحتجوا في ذلك بحديث يعلى بن أمية الذي أحرم وعليه جبة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمره أن ينزعها نزعا وقد ذكرنا ذلك في باب التطييب عند الإحرام فقد خالف ذلك حديث جابر الذي ذكرنا وإسناده أحسن من إسناده فان كانت هذه الأشياء تثبت بصحة الإسناد فان حديث يعلى معه من صحة الإسناد ما ليس مع حديث جابر وأما وجه ذلك من طريق النظر فانا رأينا الذين كرهوا نزع القميص إنما كرهوا ذلك لأنه يغطى رأسه إذا نزع قميصه فأردنا أن ننظر هل يكون تغطية الرأس في الإحرام على كل الجهات منهيا عنها أم لا فرأينا المحرم نهى عن لبس القلانس والعمائم والبرانس فهى أن يلبس رأسه شيئا كما نهى أن يلبس بدنه القميص ورأينا المحرم لو حمل على رأسه شيئا ثيابا أو غيرها لم يكن بذلك بأسا ولم يدخل ذلك فيما قد نهى عن تغطية الرأس بالقلانس وما أشبهها لأنه غير لابس فكان النهي إنما وقع من ذلك على تغطية ما يلبسه الرأس لا على غير ذلك مما يغطى به وكذلك الأبدان نهى عن إلباسها القميص ولم ينه عن تحليها بالأزر فلما كان ما وقع عليه النهى من هذا في الرأس إنما هو الإلباس لا التغطية التي ليست بإلباس وكان إذا نزع قميصه فلاقى ذلك رأسه فليس ذلك بإلباس منه لرأسه شيئا إنما ذلك تغطية منه لرأسه وقد ثبت بما ذكرنا أن النهى عن لبس القلانس لم يقع على تغطية الرأس وإنما وقع على إلباس الرأس في حال الإحرام ما يلبس في حال الإحلال فلما خرج بذلك ما أصاب الرأس من القميص المنزوع من حال تغطية الرأس المنهى عنها ثبت أنه لا بأس بذلك قياسا ونظرا على ما ذكرنا وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد اختلف المتقدمون في ذلك

عبدالملک بن جابر نےجابر بن عبداللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ،آپ نے اپنا قمیص گریبان سے پھاڑ ڈالا یہا ں تک اس کو اپنے پاؤں کی طرف سے نکالا تو لوگوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی طرف دیکھا تو آپ نے فرمایا میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں سے متعلق ان کو حکم دیا ہے جن کو آج قلادہ ڈالنے کے لیے بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا تا کہ ان کو اس طرح اشعار کیا جائے تو میں نے اپنا قمیص پہنا اور میں اسے اتارنا بھول گیا اب میں اپنا قمیص سر کی جانب سے نہ نکالوں گا آپ اس وقت اپنی قربانی کے جانور بھیج چکے تھے اور مدینہ منورہ میں ہی اقامت اختیار کرنے والے تھے ۔ امام طحاوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ محرم کو قمیص اس طرح نہ اتارنی چاہیے جس سے غیر محرم اتارتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کا سر ڈھا نکا جائے گا اور یہ ناجائز ہے پس اس کو کہا جائے گا کہ وہ اسے پھاڑ ڈالے ۔ مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے جس طرح چاہے اتارلے ان کی دلیل حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے احرام باندھا اور اس وقت وہ جبہ پہنے ہوئے تھے پھر وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کو اتارنے کا حکم فرمایا اور یہ بات ہم باب التطیب عند الا حرام میں ذکر کر آئے ہیں مگر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اس کے خلاف ہے اور اس کی سند بھی اس سے مضبوط و قوی ہے اگر دونوں روایات کا صحت کے لحاظ سے توازن کریں تو حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت کو وہ مقام حاصل ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کو حاصل نہیں ہے ۔ اور نظرو فکر کے لحاظ سے اس کی وضاحت اس طرح کہ جو لوگ قمیص کو اتارنا ناپسند کرتے ہیں ان کے ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ قمیص اتارتے وقت سر کو ڈھانپ لے گی اب ہم اس بات کو جانچتے ہیں کہ آیا احرام کی ہر صورت میں سر ڈھانپنا ممنوع ہے یا نہیں چنانچہ غور سے معلوم ہوا کہ محرم کو ٹوپی ، پگڑی اور کوٹ وغیرہ کے ذریعے ڈھانپنے سے تو منع کیا گیا ہے اور اس پر کوئی چیز پہن لینے کی ممانعت کی گئی جس طرح بدن پر قمیص کے پہننے سے منع کیا گیا اور ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر محرم سر پر کوئی کپڑا رکھے اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ سر کو ٹوپی کے ساتھ ڈھانپنے کے حکم میں نہیں کیونکہ وہ اسے پہننے والا نہیں ہے ۔تو ممانعت کی صورت یہ ہو گئی کہ جو شخص اس کو پہن کر سر کو ڈھانپے محض ڈھانپناتاوان کا سبب نہیں بالکل اسی طرح جسم پر قمیص پہنے کی ممانعت ہے ڈھاپننے کی نہیں احرام کی چادر سے جسم ڈھانپنے میں کچھ حرج نہیں ۔ تو جب ممانعت پہننے کی ہے اس ڈھانپنے کی نہیں ہے جس کو پہننا قرار نہ دیا جائے جب قمیص اتاری جائے گی تو وہ سر کو ملے گی تو اس کو پہننا کوئی شمار نہیں کرتا بلکہ یہ تو سر کو ڈھانپنا ہے پس یہ ممنوع نہ ہوگا ۔ اس تمام بحث سے یہ بات ہوئی کہ ٹوپی پہننے کی ممانعت میں سرکا کپڑے سے ڈھانپ شامل نہیں ہے ۔ سر پر ایسی چیز پہننا ممنوع ہے جو احرام کے علاوہ حالت میں پہنی جاتی ہے جبکہ قمیص اتارتے وقت سر سے ٹکرانے کی صورت ڈھانپنے کا اطلاق نہیں ہوتا جو کہ ممانعت میں شامل ہو پس قیاس کے لحاظ سے بھی اس میں کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کاقول ہے ۔ البتہ متقدمین کے اقوال اس سلسلہ میں مختلف منقول ہیں ۔ ذیل میں ملاحظہ ہوں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرٍ، ← عبد الرحمن بن عطاء بن لبيبة ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3558

chevron_left Previous
1…111213…61
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter