Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2977

2812 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله

سفیان نے عبداللہ بن دینار سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2977

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2978

2813 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك عن عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله

مالک نے عبداللہ بن دینار پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2978

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2979

2814 - حدثني محمد بن عيسى بن فليح قال ثنا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار عن سلمان قال أحمد بن على هو بن بلال بن فليح عن عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله

احمد بن علی بن بلال بن فلیح نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی ہے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله ← أحمد بن على هو بن بلال بن فليح ← سَلْمَانَ ← اَبُو الْاَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← محمد بن عيسى بن فليح

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2979

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2980

2815 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد الليثي عن مكحول عن عراك فذكر بإسناده مثله

مکحول نے عراک سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عراك فذكر بإسناده مثله ← مَكْحُولٌ ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2980

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2981

2816 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن زيد عن خيثم بن عراك عن أبيه فذكر بإسناده مثله فلما لم يكن في شيء مما ذكرنا من هذه الآثار دليل على وجوب الزكاة في الخيل السائمة وكان فيها ما ينفى الزكاة منها ثبت بتصحيح هذه الآثار قول الذين لا يرون فيها زكاة فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا رأينا الذين يوجبون فيها الزكاة لا يوجبونها حتى تكون ذكورا وإناثا يلتمس منها صاحبها نسلها ولا تجب الزكاة في ذكورها خاصة ولا في إناثها خاصة وكانت الزكوات المتفق عليها في المواشى السائمة تجب في الإبل والبقر والغنم ذكورا كانت كلها أو إناثا فلما استوى حكم الذكور خاصة في ذلك وحكم الإناث خاصة وحكم الذكور والإناث وكانت الذكور من الخيل خاصة والإناث منها خاصة لا تجب فيها زكاة كان كذلك في النظر الإناث منها والذكور إذا اجتمعت لا تجب فيها زكاة وحجة أخرى أنا قد رأينا البغال والحمير لا زكاة فيها وإن كانت سائمة والإبل والبقر والغنم فيها الزكاة إذا كانت سائمة وانما الاختلاف في الخيل فأردنا أن ننظر أي الصنفين هى به أشبه فنعطف حكمه على حكمه فرأينا الخيل ذوات حوافر وكذلك الحمير والبغال هى ذوات حوافر أيضا وكانت المواشى من البقر والغنم والإبل ذوات أخفاف فذو الحافر بذي الحافر أشبه منه بذي الخف فثبت بذلك أن لا زكاة في الخيل كما لا زكاة في الحمير والبغال وهذا قول أبى يوسف ومحمد رحمهما الله وهو أحب القولين إلينا وقد روى ذلك عن سعيد بن المسيب

حماد بن زید نے خیثم بن عراک عن ابیہ سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت اسی طرح نقل کی ہے پس جب ان تمام آثار میں چرنے والے گھوڑوں کی زکوۃ کے سلسلہ میں کوئی بات نہیں بلکہ ان میں اس کے بالمقابل زکوۃ کی نفی پائی جاتی ہے ان آثار کی تصحیح کے تقاضے سے ان حضرات کا قول ثابت ہو گیا جو ان میں زکوۃ کے قائل نہیں ۔ آثار کے طریقے سے اس بات کی صورت یہ ہے باقی نظر وفکر کے لحاظ سے اس کی وضاحت اس طرح ہے ہم دیکھتے ہیں کہ جو حضرات ان میں زکوۃ کے قائل ہیں وہ صرف اس صورت میں لازم کہتے ہیں جب نر مادہ مخلوط ہوں اور ان کے مالک کا مقصد بھی نسل کشی ہو ۔ اگر فقط نرہوں یا فقط مادہ ہوں تو ان میں ان کے ہاں بھی زکوۃ لازم نہیں حالانکہ جن جانوروں کی زکوۃ پر اتفاق ہے مثلا اونٹ گائے ، بکری وغیرہ تو ان کے نر مادہ دونوں میں لازم ہے جب ان جانوروں میں زکوۃ کا حکم ایک جیسا ہے خواہ نرہوں یا مادہ یا مخلوط حکم یکساں ہے صرف نر گھوڑوں اور صرف مادہ میں زکوۃ لازم نہیں تو قیاس یہی چاہتا ہے کہ مخلوط میں بھی زکوۃ لازم نہ ہو ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ گدھے اور خچر میں زکوۃ نہیں اگرچہ وہ چرنے والے ہوں جبکہ اونٹ گائے بکریاں چرنے والے ہوں تو ان میں زکوۃ ہے اختلاف گھوڑوں میں ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ گھوڑے ان دونوں میں سے کس کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتے ہیں تاکہ ان کا حکم اس کے ساتھ ملایا جائے پس ہم جانتے ہیں کہ گھوڑا سم والا جانور ہے اور گدھے اور خچر بھی سم والے ہیں جب کہ گائے ، بکری اور اونٹ موزے اور ( کھر والے ) جانور ہے پس سم والے جانور کی سم والے جانور سے مشابہت بنسبت موزے والے زیادہ ہے پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ خچر اور گدھے کی طرح گھوڑے میں بھی زکوۃ نہیں یہ قول امام ابو یوسف محمد رحمۃ اللہ علیہم کا ہے اور ہمارے ہاں ایسے قول زیادہ پسندیدہ ہیں اور یہ قول حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے بھی مروی ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2981

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2982

2817 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن عبد الله بن دينار وقال قلت لسعيد بن المسيب أعلى البراذين صدقة فقال أو على الخيل صدقة

شعبہ نے عبداللہ بن دینار سے نقل کیا کہ میں نے سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کیا چھوٹے گھوڑوں پر زکوۃ فرض ہے ؟ انہوں نے کہا کیا عربی گھوڑوں پر زکوۃ ہے یعنی نہیں ہے ۔

أو على الخيل صدقة ← قلت لسعيد بن المسيب أعلى البراذين صدقة ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2982

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2983

2818 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا حماد بن سلمة عن حميد عن الحسين عن عثمان بن أبى العاص أن وفد ثقيف قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهم لا تحشروا ولا تعشروا

حسین نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وفد ثقیف جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا اپنے اموال و مواشی کو عامل کے لیے جمع مت کرو کہ وہ اس میں زکوۃ وصول کر لے اور عشر ادا کرنا تم پر لازم پر لازم نہیں ۔

الحسين ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2983

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2984

2819 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبد الرحمن بن صالح قال ثنا بن أبى زائدة عن إسرائيل بن يونس عن إبراهيم بن مهاجر البجلي عن عمرو بن حريث عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يا معشر العرب احمدوا الله إذ رفع عنكم العشور

عمرو بن حریث نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل عرب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرو اس لیے کہ اس نے تم سے عشر کو اٹھا لیا ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، ← عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← إبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ الْبَجَلِيِّ ← إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أَبِي زَائِدَةَ، ← عبد الرحمن بن صالح ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2984

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2985

2820 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا إسرائيل عن إبراهيم بن المهاجر عن رجل حدثه عن عمرو بن حريث عن سعيد بن زيد قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فذكر مثله

عمرو بن حریث نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ نے اسی طرح فرمایا جیسا روایت بالا میں گزرا ۔

فذكر مثله. ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← رَجُلٌ: ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2985

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2986

2821 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا على بن معبد والحماني قالا ثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب عن حرب بن عبيد الله عن جده أبى أمه عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس على المسلمين عشور إنما العشور على أهل الذمة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الإمام ليس له أن يبعث على المسلمين من يتولى على أخذ صدقاتهم ولكن المسلمين بالخيار إن شاءوا أدوها الى الإمام فتولى وضعها في مواضعها التي أمره الله عز و جل بها وإن شاءوا فرقوها في تلك المواضع وليس للامام أن يأخذها منهم بغير طيب أنفسهم واحتجوا في ذلك بهذه الآثار التي رويناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وبما روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه

حرب بن عبید اللہ نے اپنے دادا ابو امیہ سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں پر عشر نہیں عشور تو اہل ذمہ پر ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ امام المسلمین کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کو مسلمانوں سے زکوۃ وصول کرنے پر مقرر کرے ۔ بلکہ مسلمان اس میں خود مختار ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو امام کو دیں پھر وہ مذکورہ مصارف پر خرچ کرے جہاں اللہ تعالیٰ نے صرف کا حکم دیا ہے اور اگر وہ چاہیں تو خود خرچ کریں امام کو ان کی رضی کے خلاف لینے کا قطعاً حق نہیں بنتا انہوں نے مندرجہ بالا روایات جو ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہیں ان سے استدلال کیا اور اسی طرح طرح ان آثار سے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وارد ہوئے ہیں ۔

أَبِيهِ ← جَدِّهِ أَبِي أُمهِ ← حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← على بن معبد والحماني ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2986

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2987

2822 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا سفيان عن عمرو عن مسلم بن يسار قال قلت لابن عمر أكان عمر يعشر المسلمين قال لا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا للامام أن يولى أصحاب الأموال صدقات أموالهم حتى يضعوها مواضعها وللإمام أيضا أن يبعث عليها مصدقين حتى يعشروها ويأخذوا الزكاة منها وكان من الحجة على أهل المقالة الأولى لهم أن العشر الذي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم رفعه عن المسلمين هو العشر الذي كان يؤخذ في الجاهلية وهو خلاف الزكاة وكانوا يسمونه المكس وهو الذي روى عقبة بن عامر فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما

مسلم بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں سے عشر وصول کر تے تھے انہوں نے کہا نہیں ۔ دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ امام المسلمین کو اس بات کا اختیار ہے کہ مال والوں کو خود ان مصارف زکوۃ پر صرف کی اجازت دے اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ عامل وساعی بھیج کر ان سے زکوۃ کو وصول کر ے۔ قول اول کے قائلین کے خلاف ان کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے جو عشر معار فرمایا اس سے مراد وہ ٹیکس تھا جو زمانہ جاہلیت میں سردار وصول کرتے تھے وہ زکوۃ نہ تھی بلکہ ٹیکس ہی کہلاتا تھا اور یہی وہ روایت ہے جس کو حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔ روایت ذیل میں ہے۔

للامام ← لا وخالفهم في ذلك آخرون ← قلت لابن عمر أكان عمر يعشر المسلمين ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2987

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2988

2823 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبى حبيب عن عبد الرحمن بن شماسة عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يدخل الجنة صاحب مكس يعنى عاشرا فهذا هو العشر المرفوع عن المسلمين وأما الزكاة فلا وقد بين ذلك أيضا ما

عبدالرحمن بن شمار نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹیکس لینے والا جنت میں نہ جائے گا۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2988

chevron_left Previous
1…8910…45
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter