شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2965
2800 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني هشام بن سعد عن زيد بن أسلم فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى وجوب الصدقة في الخيل إذا كانت ذكورا وإناثا وكان صاحبها يلتمس نسلها واحتجوا في إيجابهم الزكاة فيها بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينس حق الله فيها قالوا ففي هذا دليل أن لله فيها حقا وهو كحقه في سائر الأموال التي يجب فيها الزكاة واحتجوا في ذلك بما روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے پھرانہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ گھوڑوں میں صدقہ لازم ہے جب کہ نرو مادہ دونوں مخلوط ہوں اور ان کا مالک ان کی نسل کشی چاہتا ہو۔ انہوں نے وجوب زکوۃ کے لیے اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے استدلال کیا ولم ینس حق اللہ فیھا " ان کا کہنا ہے اس میں دلیل ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے وہ لزوم زکوۃ میں دیگر اموال کی طرح ہیں اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی استدلال کیا جو ذیل میں ہے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2965
