Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2953

2788 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو عمر الحوضى قال ثنا يزيد بن زريع عن سعيد بن أبى عروبة عن قتادة عن سالم بن أبى الجعد عن معدان بن أبى طلحة عن ثوبان قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من سأل وله ما يغنيه جاءت شينا في وجهه يوم القيامة

معدان بن ابی طلحہ نے ثوبان سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس وقت سوال کیا جبکہ اس کے پاس اتنا مال تھا جو اس کو دوسروں سے بے پروا کرنے والا ہے قیامت کے دن اس کے چہرے پر عیب ہو گا ۔

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2953

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2954

2789 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا بن أبى الرجال عن عمارة بن غزية عن عبد الرحمن بن أبى سعيد الخدري عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من سأل وله قيمة أوقية فقد ألحف

عبدالرحمن بن ابی سعید نے اپنے والد ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس وقت سوال کیا جبکہ اس کے پاس ایک اوقیہ چاندی کی قیمت تھی اس نے اصرار سے مانگا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← بن أبي الرجال ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2954

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2955

2790 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي قال ثنا محمد بن الفضيل عن عمارة القعقاع عن أبى زرعة عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من سأل الناس أمواله تكثرا فانما هو جمر فليستقل منه أو ليستكثر

ابو زرعہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا وہ مال انگارہ ہے خواہ اس کو تھوڑا طلب کرے یا زیادہ ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عمارة القعقاع ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2955

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2956

2791 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن رجل من بنى أسد قال نزلت وأهلي بقيع الغرقد فقال لي أهلي اذهب الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فاسأله لنا شيئا نأكله وجعلوا يذكرون حاجتهم فذهبت الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدت عنده رجلا يسأله ورسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا أجد ما أعطيك فولى الرجل وهو مغضب وهو يقول لعمرى انك لتفضل من شئت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم انه ليغضب على أن لا أجد ما أعطيه من سأل منكم وعنده أوقية أو عدلها فقد سألها إلحافا قال الأسدي فقلت للقحة لنا خير من أوقية قال والأوقية أربعون درهما قال فرجعت ولم أسأله فقدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ذلك بشعير وزبيب وزبد فقسم لنا منه حتى أغنانا الله

عطاء بن یسار نے بنی اسد کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ میں نے اپنے اہل و عیال سمیت بقیع غرقد میں اترا مجھے میرے گھر والوں نے کہا تم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور ان سے کھانے کی کوئی چیز مانگ لاؤ اور گھر والے اپنی ضروریات ذکر کرنے لگیں پس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا میں نے آپ کے ہاں ایک سائل کو پایا جو کہہ رہا تھا مجھے کچھ دو اور آپ فرما رہےتھے میرے پاس تجھے دینےکو کچھ نہیں وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا اور وہ ناراضی سے کہہ رہا تھا میری عمر کی قسم تم جس پر چاہتے ہو مہربانی کرتے ہو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس بات پر ناراض ہے کہ میں اسے دینے کے لیے کچھ نہیں پاتا جس آدمی نے ایسے وقت سوال کیا جبکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا بدل ہو تو وہ اصرار سے سوال کرنے والوں میں شمار ہو گا اسدی کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہمارے پاس اوقیہ سے بہتر گابھن اونٹنی موجود ہے جبکہ اوقیہ چالیس درہم کے برابر وزن چاندی کو کہا جاتا ہے اسدی کہتے ہیں میں لوٹ آیا اور آپ سے سوال نہ کیا ۔ اس کے بعد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کشمش آئی اس کو ہم میں تقسیم فرمایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کردیا ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2956

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2957

2792 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن إبراهيم الهجري عن أبى الأحوص عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الأيدى ثلاث فيد الله العليا ويد المعطى التي تليها ويد السائل السفلى الى يوم القيامة فاستعفف ما استطعت ولا تعجز عن نفسك ولا تلام على كفاف وإذا آتاك الله خيرا فلير عليك قال أبو جعفر فكانت المسألة التي أباحها رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار كلها هى للفقر لا غيره وكان تصحيح معاني هذه الآثار عندنا يوجب أن من قصد اليه النبي صلى الله عليه و سلم بقوله لا تحل الصدقة لذى مرة سوى هو غير من استثناه من ذلك في حديث وهب بن خنبش بقوله إلا من فقر مدقع أو غرم مفظع وأنه الذي يريد بمسألته أن يكثر ماله ويستغنى من مال الصدقة حتى تصح هذه الآثار وتتفق معانيها ولا تتضاد وهذا المعنى الذي حملنا عليه وجوه هذه الآثار هو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى فان سأل سائل عن معنى حديث عمر المروي عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في نحو من هذا وهو ما

ابوالا حوص نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاتھ تین قسم ہیں ۔ 1۔ اللہ کا ہاتھ تو بلندیوں والا ہے ۔ 2۔ دینے والے کا ہاتھ جو اس ( ید اللہ) کے قریب ہے ۔ 3۔ سائل کا ہاتھ نیچا ہے اور قیامت تک نیچا ہے جہاں تک ہو سکے سوال سے بچو اپنے نفس کو عاجز مت قرار دے گزراوقات موجود ہوتو قابل ملامت نہیں جب تیرے پاس مال آجائے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سوال صرف فقر کی وجہ سے مباح ہے نہ کچھ اور تو روایات کے معانی کی درستی کا تقاضا یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا " لا تحل الصدقۃ لذی مرۃ سوی۔۔۔" تو اس سے مراد وہ لوگ نہیں کہ جن کو روایت وھب بن خنبش میں الامن فقرمد قع اوغرم مفظع سے مستثنیٰ فرمایا ہے بلکہ وہ شخص مراد ہے جو سوال کر کے مال کی کثر ت اور مال صدقہ سے مالدار بننا چاہتا ہے تا کہ یہ روایات درست ثابت ہوں اور ان کے معانی یکساں ہو کر تضاد ختم ہو اور ان روایات سے جن وجوہ کو ہم نے ذکر کیا وہی درست مفہوم ہے اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ کا مسلک ہے ۔ اگر معترض یہ کہے عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا پھر کیا مفہوم بنے گا۔ جو ذیل میں ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2957

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2958

2793 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهرى قال ثنا السائب بن يزيد أن حويطب بن عبد العزى أخبره أن عبد الله بن السعدي أخبره أنه قدم على عمر بن الخطاب رضي الله عنه في خلافته فقال له عمر ألم أحدث أنك تلي من أعمال الناس أعمالا فإذا أعطيت العمالة كرهتها فقال نعم فقال عمر فما تريد الى ذلك قلت إن لي أفراسا وأعبدا وأنا أتجر وأريد أن يكون عمالتي صدقة على المسلمين فقال عمر فلا تفعل فإني كنت أردت الذي أردت وقد كان النبي صلى الله عليه و سلم يعطينى العطاء فأقول أعطه من هو أفقر اليه منى حتى أعطانى مرة مالا فقلت له ذلك فقال النبي صلى الله عليه و سلم خذه فتموله فما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه ومالا فلا تتبعه نفسك قال ففي هذا الحديث تحريم المسألة أيضا قيل له ليس هذا على أموال الصدقات إنما هذا على الأموال التي يقسمها الإمام على الناس فيقسمها على أغنيائهم وفقرائهم كما فرض عمر لأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم حين دون الدواوين ففرض للأغنياء منهم وللفقراء فكانت تلك الأموال يعطاها الناس لا من جهة الفقر ولكن لحقوقهم فيها فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر حين أعطاه الذي كان أعطاه منها قوله أعطه من هو أفقر اليه منى أي انى لم أعطك ذلك لأنك فقير إنما أعطيتك ذلك لمعنى آخر غير الفقر ثم قال له خذه فتموله فدل ذلك أيضا أنه ليس من أموال الصدقات لأن الفقير لا ينبغي له أن يأخذ من الصدقات ما يتخذه مالا كان ذلك عن مسألة منه أو عن غير مسألة ثم قال فما جاءك من هذا المال الذي هذا حكمه وأنت غير مشرف أي تأخذه بغير اشراف والإشراف أن تريد به ما قد نهيت عنه وقد يحتمل قوله ولا مشرف أي ولا تأخذ من أموال المسلمين أكثر مما يجب لك فيها فيكون ذلك شرفا فيها ولا سائل أي ولا سائل منها ما لا يجب لك فهذا وجه هذا الباب عندنا والله أعلم فأما ما جاء في أموال الصدقات فقد أتينا بمعانى ذلك فيما تقدم ذكره من هذا الباب

عبداللہ بن السعدی نے بتلایا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں گیا تو انہوں نے مجھے فرمایا کیا میں نے تجھے نہیں بتلایا کہ تم لوگوں کے اعمال کے ذمہ دار بنتے ہو اور جب تمہیں تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اس کو ناپسند کرتے ہو میں نے کہا جی ہاں! تو عمر کہنے لگے تیرے تنخواہ واپس کرنے سے کیا مقصد ہے میں نےکہا میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں تجارت بھی کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ بن جائے عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ایسا نہ کرو میں نے بھی وہی ارادہ کیا جو تو نے ظاہر کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا جومجھ سے زیادہ ضرورت مند ہے اس کو دے دیں یہاں تک کہ ایک مرتبہ مجھےمال دیا تو میں نے یہ بات کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو لے لو اور اپنے پاس جمع کر لو تمہارے پاس جو مال ہے (بلا اشرف ) بلا سوال اور بلا توقع آجائے تو اس کو لے لو۔ جو ایسا نہ ہو تو اس کی طلب میں اپنے کومت لگاؤ اگرکوئی معترض کہے کہ اس روایت میں بھی سوال کی ممانعت ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا اس روایت میں اموال صدقہ نہیں بلکہ اس سے وہ اموال مراد ہیں جن کو حاکم اغناء اور فقرا ء میں تقسیم کرتا ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اموال مقرر کیے اور وہ ان میں سے اغنیاء اور فقراء سب کو تقسیم فرماتے یہ اموال انکی محتاجی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے حقوق کی بناء پر ان کو دیا جاتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطیہ دیا اور انہوں نے واپس کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو دے دیا جائے تو آپ نے فرمایا یہ تمہارے فقیر کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا بلکہ یہ اسکے علاوہ بات کےپیش نظر ہے ۔ پھر آپ نے ان کو فرمایا اس مال کو لے کر اسے اپنی ملکیت بناؤ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ مال صدقات سے نہ تھا ۔ کیونکہ محتاج کےلیے تو مناسب نہیں کہ وہ مال کو اکٹھا کرنے کے لیے صدقہ لے ۔ خواہ وہ سوال کر کے حاصل کرے یا بغیر سوال اسے دیا جائے۔ پھر آپ نے ان کو یہ بھی فرمایا کہ جو اس قسم کا مال تمہارے پاس آئے اور تم اس کی طرف امیدنابدھنے والے نہ ہوتو اسے لے لو اور اشراف یہ ہے کہ تم اس مال کی طمع رکھنے والے ہو جس سے تمہیں روکا گیا ہے ۔ اور لامشرف کا قول اس بات کابھی احتمال رکھتا ہے کہ اس میں اس بات کی ممانعت ہےکہ مسلمانوں کے اموال میں سے اپنے حصہ سے زائد نہ لو ۔ اگر لو گے تو وہ دوسروں پر برتری بن جائے گی جو کہ درست نہیں ولا سائل کا مطلب یہ ہےکہ تم مت اس مال کا سوال کرو جو تمہارا حق نہیں بنتا ہمارے ہاں اس باب کی یہ صورت ہے واللہ اعلم باقی جو آثار اموال صدقہ کے سلسلہ میں آئے ہیں ان کے معانی کی وضاحت اس باب کی پہلی سطور میں کر آئے ہیں ۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2958

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 3 باب المرأة هل يجوز لها أن تعطى زوجها من زكاة مالها أم لا ) · حديث 2959

2794 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبى عن الأعمش قال حدثني شقيق عن عمرو بن الحارث عن زينب امرأة عبد الله قال فذكرته لإبراهيم فحدثني إبراهيم عن أبى عبيدة عن عمرو بن الحارث عن زينب امرأة عبد الله مثله سواء قال كنت في المسجد فرآنى النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد فقال تصدقن ولو من حليكن وكانت زينب تنفق على عبد الله وأيتام في حجرها فقالت لعبد الله سل رسول الله صلى الله عليه و سلم أيجزى عنى إن أنفقت عليك وعلى أيتام في حجرى من الصدقة قال سلى أنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلقت الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدت امرأة من الأنصار على الباب حاجتها مثل حاجتي فمر علينا بلال فقلت سل لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم هل يجزى عنى أن أتصدق على زوجي وأيتام في حجري من الصدقة وقلنا لا تخبر بنا قالت فدخل فسأله فقال من هما قال زينب قال أي الزيانب هى قال امرأة عبد الله فقال نعم يكون لها أجر القرابة وأجر الصدقة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن المرأة جائز لها أن تعطى زوجها من زكاة مالها واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وممن ذهب الى ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهما الله وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو حنيفة رحمه الله فقالوا لا يجوز للمرأة أن تعطى زوجها من زكاة مالها كما لا يجوز له أن يعطيها من زكاة ماله وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في حديث زينب الذي احتجوا به عليهم أن تلك الصدقة التي حض عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك الحديث إنما كانت من غير الزكاة وقد بين ذلك ما قد

عمرو بن حارث نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سےنقل کیا ( یہ روایت شقیق عن عمرو اور ابو عبیدعن عمر و دونوں اسناد سے ایک جیسی ہے زینب کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں دیکھ کر فرمایا تم عورتیں صدقہ کرو خواہ اپنے زیورات سے کرنا پڑے یہ زینب اپنے خاوند عبداللہ اور پرورش میں لیے ہوئے چند یتامی پر اپنا مال خرچ کر تیں انہوں نے اپنے خاوند عبداللہ کو کہا کیا میرے لیے تجھ پر صدقہ خرچ کرنا درست ہو جائے گا اور اسی طرح ان زیر پرورش یتیموں پر ؟(انہوں نے دریافت نہ کیا) پس میں خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی تو وہاں ایک اور انصاری عورت اپنی ضرورت کی خاطر آپ کے دروازہ پر تھی دونوں کاکام ایک تھا ہمارے پاس سے بلال کا گزر ہوا تو میں نے کہا کہ ہماری طرف سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر دو کیا مجھے صدقہ کا مال اپنے خاوند اور زیر سرپرستی یتامی پر خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تم ہمار ےنام مت بتلانا زینب کہتی ہیں وہ داخل ہوئے اور آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ دونوں کون کون ہیں ؟ انہوں نے کہا وہ زینب ہے آپ نے فرمایا وہ کون سی زینب ہے َ انہوں نے کہا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ نے فرمایا ہاں اس کو قرابت اور صدقے دونوں کا اجر ہو گا۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس سے یہ استدلال کیا کہ عورت اپنے خاوند کوزکوۃ دے سکتی ہے اور یہ قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف محمد رحمۃ اللہ علیہم نے اختیار کیا دیگر علماء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کسی عورت کو جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کو زکوۃ دے جیسا کہ کسی مرد کو جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو زکوۃ دے اور پہلے قول والوں کے خلاف انہوں نے اسی حدیث زینب رضی اللہ عنہا سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدقہ جس پر اس حدیث میں آمادہ کیا گیا وہ زکوۃ کے علاوہ ہے اور اس کی وضاحت اس روایت ذیل میں ملاحظہ ہو ۔

كنت في المسجد فرآنى النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد ← زينب امرأة عبد الله مثله سواء ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ ← زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2959

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 3 باب المرأة هل يجوز لها أن تعطى زوجها من زكاة مالها أم لا ) · حديث 2960

2795 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا الليث عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله عن رابطة بنت عبد الله امرأة عبد الله بن مسعود وكانت امرأة صنعاء وليس لعبد الله بن مسعود رضي الله عنه مال فكانت تنفق عليه وعلى ولده منها فقالت لقد شغلتنى والله أنت وولدك عن الصدقة فما أستطيع أن أتصدق معكم بشيء فقال ما أحب إن لم يكن لك في ذلك أجر أن تفعلى فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم هي وهو فقالت يا رسول الله انى امرأة ذات صنعة أبيع منها وليس لولدى ولا لزوجى شيء فشغلونى فلا أتصدق فهل لي فيهم أجر فقال لك في ذلك أجر ما أنفقت عليهم فأنفقي عليهم ففي هذا الحديث أن تلك الصدقة مما لم يكن فيه زكاة ورابطة هذه هي زينب امرأة عبد الله لا نعلم أن عبد الله كانت له امرأة غيرها في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم والدليل على أن تلك الصدقة كانت تطوعا كما ذكرنا قولها كنت امرأة صنعاء أصنع بيدى فأبيع من ذلك فأنفق على عبد الله فكان قول رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي في هذا الحديث وفي الحديث الأول جوابا لسؤالها هذا وفي حديث رابطة هذا كنت أنفق من ذلك على عبد الله وعلى ولده منى وقد أجمعوا على أنه لا يجوز للمرأة أن تنفق على ولدها من زكاتها فلما كان ما أنفقت على ولدها ليس من الزكاة فكذلك ما أنفقت على زوجها ليس هو أيضا من الزكاة وقد روى أيضا عن أبى هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل أن تلك الصدقة التي أباح لها رسول الله صلى الله عليه و سلم انفاقها على زوجها كانت من غير الزكاة

عبید اللہ نے رائطہ بنت عبد اللہ جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی روایت کی ہے یہ بہت دستکار عورت تھی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بالکل مال نہ تھا یہ اپنی محنت کے کام سے ان پر اور اپنی اولاد پر خرچ کرتی تھیں ایک دن کہنے لگیں مجھے تو اور تیری اولاد نے صدقہ سے مشغول کر دیا میں تمہارے خرچ کے ہوتے ہوئے صدقہ نہیں کر سکتی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر اس خرچہ کا تمہیں اجر نہ ملے تو پھر میں اس خرچ کرنے کو پسند نہیں کرتا (یعنی تم نہ کرو) جناب عبداللہ نے اور زینب رضی اللہ عنہ دونوں نے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں دستکار عورت ہوں وہ چیزیں میں فروخت کرتی ہوں میرے خاوند اور اولاد کےپاس مال نہیں ان پر خرچ نے مجھے صدقے سے روک دیا ہے میں صدقہ نہیں کر سکتی کیا مجھے ان پر خرچ میں اجرو ثواب ملے گا یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہیں اس میں اجع ملے گا جو ان پر خرچ کروگی تم خرچ کر تی رہو ۔ اس روایت میں اس بات کی وضاحت ہے کہ وہ صدقہ زکوۃ سے نہ تھا اور ریطہ یہ وہی زینب ہیں جو کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں ہمارے علم میں یہ بات نہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی زینت کے علاوہ کوئی اور بیوی ہو ۔ اور اس بات کی دلیل کہ وہ صدقہ نقلیہ تھا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ان پر یہ قول ہے کنت امراۃ صنعاء اضع بیری فابیع من ذلک فانفق علی عبداللہ کہ میں دست کاری سے واقف عورت تھی پس میں نے اپنےہاتھ سے کام کر کے اس کو فروخت کرتی اور اسے اپنے اوپر اور عبداللہ پر خرچ کرتی پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جو اس روایت اور اس سےپہلی روایت میں وارد ہے وہ اس کے اسی کمائی کے مال سے متعلق سوال ہے اور اس حدیث ربطہ میں یہ الفاظ کنت انفق من ذلک علی عبداللہ وعلی وندہ منی " کہ اس سے عبداللہ اور اپنی اولاد پر خرچ کرتی ہوں وہ بھی زکوۃ سے نہ ہو اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہوئی ہے وہ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ صدقہ جس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لیے مباح قرار دیا کہ وہ اپنے خاوند پر خرچ کرے وہ زکوۃ کے علاوہ تھا روایت ذیل میں ہے ۔

رابطة بنت عبد الله امرأة عبد الله بن مسعود ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2960

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 3 باب المرأة هل يجوز لها أن تعطى زوجها من زكاة مالها أم لا ) · حديث 2961

2796 - حدثنا فهد قال ثنا على بن معبد قال ثنا إسماعيل بن أبى كثير الأنصاري عن عمرو بن نبيه الكعبي عن المقبري عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول اله صلى الله عليه و سلم انصرف من الصبح يوما فأتى على النساء في المسجد فقال يا معشر النساء ما رأيت من ناقصات عقول ودين أذهب بعقول ذوى الألباب منكن وانى قد رأيت أنكن أكثر أهل النار يوم القيامة فتقربن الى الله بما استطعتن وكان في النساء امرأة عبد الله بن مسعود رضي الله عنها فانقلبت الى عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فأخبرته بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم وأخذت حليا لها فقال بن مسعود رضي الله عنه أين تذهبين بهذا الحلى فقالت أتقرب به الى الله والى رسوله لعل الله أن لا يجعلنى من أهل النار قال هلمى بذلك ويلك تصدقى به على وعلى ولدى فقالت لا والله حتى أذهب به الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذهبت تستأذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله هذه زينب تستأذن فقال أي الزيانب هي قالوا امرأة عبد الله بن مسعود فدخلت على النبي صلى الله عليه و سلم فقالت انى سمعت منك مقالة فرجعت الى بن مسعود فحدثته فأخذت حلي أتقرب به الى الله عز و جل وإليك رجاء أن لا يجعلني من أهل النار فقال بن مسعود رضي الله عنه تصدقي به على وعلى بنى فإنا له موضع فقلت له حتى أستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تصدقى به عليه وعلى بنيه فإنهم له موضع

مقری نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا یک صبح کو نماز سے لوٹے تو مسجد میں عورتوں والی جگہ سے گزر ہوا تو آپ نے انکو فرمایا اے عورتوں کی جماعت میں خیال کرتا ہوں کہ تم دین و عقل میں ناقص ہو مگر بڑے بڑے عقلاء کی عقلوں کو اڑا دیتی ہو اور میں نے دیکھا کہ تمہاری اکثریت جہنم میں قیامت کے دن ہو گی پس تمہیں مناسب ہے کہ جس قدر ہو سکے تم اللہ تعالیٰ کا قرب ھاصل کرو ۔ ان میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی تھیں وہ عبداللہ کی طرف لوٹ آئیں اور ان کو اس بات کی اطلاع دی جو اس نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اور اپنے زیورات لیے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے یہ زیور کہاں لے جاؤ گی اس نے جواب دیا کہ میں اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کروں گی شاید کہ میں اس سے جہنم سے بچ جاؤں عبداللہ کہنے لگے اس کو روک تمہارا ناس ہو اور مجھ پر اور میری اولاد پر خرچ کرو زینب کہنے لگی اللہ کی قسم میں ایسا نہ کروں گی جب تک کہ میں ان کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ لے جاؤں چنانچہ وہ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی جو حضرات اندر تھے انہوں نے بتلایا کہ زینب آئی ہیں اور آپ کے ہاں آنے کی اجازت چاہتی ہیں آپ نے فرمایا یہ کون سی زینت ہے ؟ انہوں نے بتلایا یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہے (اجازت ملنے پر ) وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں داخل ہوئیں اور عرض کی میں نے آپ کا ارشاد سنا ہے کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں گئی اور اس کو آپ کی بات ذکر کی پھر میں اپنا زیور لائی ہوں تاکہ اس سے میں اللہ تعالیٰ کا قرب اور آپ کا قرب (تعمیل ارشاد ) حاصل کروں اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم سے محفوظ کر دے ۔ مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتا ہے کہ اس مال کو مجھ پر اور میری اولاد پر خرچ کرو میں اس کا حقدار ہوں میں نے اس کی بات سن کر کہا یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر اور اس کی اولاد پر خرچ کرو وہ اس کے خرچ کا محل ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عمرو بن نبيه الكعبي ← إسماعيل بن أبي كثير الأنصاري ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2961

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 3 باب المرأة هل يجوز لها أن تعطى زوجها من زكاة مالها أم لا ) · حديث 2962

2797 - حدثنا الحسين بن الحكم الجيزي قال ثنا عاصم بن على قال ثنا إسماعيل بن جعفر قال أخبرني بن أبى عمرو عن أبى سعيد المقبري عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فبين أبو هريرة رضي الله عنه في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أراد بقوله تصدقى في الصدقة التطوع التي تكفر الذنوب وفي حديثه قال فجاءت بحلى لها الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت يا رسول الله خذ هذا أتقرب به الى الله عز و جل والى رسوله فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم تصدقى به على عبد الله وعلى بنيه فإنهم له موضع فكان ذلك على الصدقة بكل الحلى وذلك من التطوع لا من الزكاة لأن الزكاة لا توجب الصدقة بكل المال وإنما توجب الصدقة بجزء منه فهذا أيضا دليل على فساد تأويل أبى يوسف رحمه الله ومن ذهب الى قوله للحديث الأول فقد بطل بما ذكرنا أن يكون في حديث زينب ما يدل أن المرأة تعطى زوجها من زكاة مالها إذا كان فقيرا وإنما نلتمس حكم ذلك بعد من طريق النظر وشواهد الأصول فاعتبرنا ذلك فوجدنا المرأة باتفاقهم لا يعطيها زوجها من زكاة ماله وإن كانت فقيرة ولم تكن في ذلك كغيرها لأنا رأينا الأخت يعطيها أخوها من زكاته إذا كانت فقيرة وإن كان على أخيها أن ينفق عليها ولم تخرج بذلك من حكم من يعطى من الزكاة فثبت بذلك أن الذي يمنع الزوج من أعطاء زوجته من زكاة ماله ليس هو وجوب النفقة لها عليه ولكنه السبب الذي بينه وبينها فصار ذلك كالنسب الذي بينه وبين والديه في منع ذلك إياه من إعطائهما من الزكاة فلما ثبت بما ذكرنا أن سبب المرأة الذي منع زوجها أن يعطيها من زكاة ماله وإن كانت فقيرة هو كالسبب الذي بينه وبين والديه الذي يمنعه من إعطائهما من زكاته وإن كانا فقيرين ورأينا الوالدين لا يعطيانه أيضا من زكاتهما إذا كان فقيرا فكان الذي بينه وبين والديه من النسب يمنعه من إعطائهما من الزكاة ويمنعهما من إعطائه من الزكاة فكذلك السبب الذي بين الزوج والمرأة لما كان يمنعه من إعطائهما من الزكاة كان أيضا يمنعها من إعطائه من الزكاة وقد رأينا هذ السبب بين الزوج والمرأة يمنع من قبول شهادة كل واحد منهما لصاحبه فجعلا في ذلك كذوى الرحم المحرم الذي لا يجوز شهادة كل واحد منهما لصاحبه ورأينا أيضا كل واحد منهما لا يرجع فيما وهب لصاحبه في قول من يجيز الرجوع في الهبة فيما بين القريبين فلما كان الزوجان فيما ذكرنا قد جعلا كذوى الرحم المحرم فيما منع فيه من قبول الشهادة ومن الرجوع في الهبة كانا في النظر أيضا في إعطاء كل واحد منهما صاحبه من الزكاة كذلك فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبى حنيفة رحمه الله تعالى

ابو سعید المقبری نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں واضح کر دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد " تصدقی" میں صدقہ نفلی کا ارادہ فرمایا جو کہ گناہوں کا کفارہ بنتا ہے ۔ اور ان کی روایت میں ہے فجاء ت بجلی لھا الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالت یا رسول اللہ خذ ھذا تقرب بہ الی اللہ عزوجل والی رسولہ فقال لھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تصدقی بہ علی عبداللہ وعلی بنیہ فانھم لہ موضع زینب اپنے تمام زیورات لےکر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان زیورات سے میں اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں تو ان کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو ابن مسعود اور اس کی اولاد پر صرف کرو وہ اس کے خرچ کامحل ہیں ۔ تو یہ تمام زیورات صدقہ نفلیہ ہی ہو سکتا ہے ۔ زکوۃ نہیں ہو سکتی کیونکہ زکوۃ میں تمام مال کا خرچ لازم نہیں ہوتا بلکہ اسکے چالیسویں حصہ کا خرچ لازم ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر حضرات جو ان کے حامی ہیں ان کا پہلی روایت سے یہ استدلال غلط ہے اور جو ہم نے مذکورہ بحث کی ہے اس سے اس حدیث زینب رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ کہی گئی بات باطل ہو گئی کہ عورت اپنے خاوند کو جب کہ وہ محتاج ہو زکوۃ دے سکتی ہے ۔ اب ہم اس کا حکم نظر و فکر سے تلاش کرتے ہیں اور یہ اصول کے شواہد سے اسے جانچتے ہیں پس ہم نے دیکھا کہ بالا تفافق عورت کو اس کا خاوند زکوۃ نہیں دے سکتا اگرچہ وہ محتاج ہو وہ اس سلسلہ میں دیگر عورتوں کی طرح نہیں کیونکہ ہم نے دیکھا کہ بہن اگر محتاج ہوتو اس کا بھائی اسے زکوۃ دے سکتا ہے ۔ اگرچہ اس کی ذمہ داری ہے کہ بہن پر خرچ کرے مگر اس کے باوجود وہ ان لوگوں سے نہیں نکلتی جن کو زکوۃ دی جاتی ہے پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ بیوی کو خاوند کے زکوۃ دینے سے رکاوٹ یہ بات نہیں کہ خاوند پر اس کا خرچہ لازم ہے بلکہ اصل وجہ ان کے مابین زکوۃ سے مانع وہ رشتہ ازدواج ہے جو کہ اس نسبی رشتہ کی طرح بن گیا جو اس کے اور والدین کے مابین اور ان کو زکوۃ دینے سے مانع ہے ۔ اگرچہ وہ محتاج ہوں ۔ اور اسی طرح والدین بھی اپنی زکوۃ دے اور والدین کےلیے چارج ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زکوۃ دیں پس اسی طرح وہ سبب جو میاں بیوی میں پایا جاتا ہے جب مرد کے لیے مانع ہے کہ وہ عورت کو اپنی زکوۃ دے تو وہ عورت سے مانع ہے کہ ایک کی گواہی دوسرے کے حق میں قبول کی جائے اس سلسلے میں وہ دونوں ذی رحم محرم کی طرح قرار دیے گئے ہیں وہ ذی رحم کہ جن کی گواہی ایک دوسرے کے لیے جائز نہیں ۔ اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ انہوں نے جو ایک دوسرے کو ھبہ کے رجوع کو جائز قرار دیتے ہیں جب میاں بیوی اس حال میں ہوئے اور ان کو ذی رحم محرم کی طرح عدم قبول شہادت میں قرار دیا گیا ۔ اور ھبہ کے رجوع میں بھی ۔ تو قیاس کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو زکوۃ دینے میں وہ یہی حکم رکھتے ہیں نظر کا تقاضا یہی ہے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مسلک ہے ۔

أبو جعفر فبين أبو هريرة في هذا الحديث ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← بن أبي عمرو ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← الحسين بن الحكم الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2962

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2963

2798 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا معلى بن أسد قال ثنا عبد العزيز بن المختار عن سهيل بن أبى صالح عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر الخيل فقال هي لثلاثة لرجل أجر ولرجل ستر وعلى رجل وزر فأما الذي هى له ستر فالرجل يتخذها تكرما وتجملا ولا ينسى حق ظهورها وبطونها في عسرها ويسرها

سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کا ذکر فرمایا کہ وہ تین قسم ہیں ۔ 1۔ آدمی کے لیے اجر کا باعث ہے ۔ 2۔ آدمی کےلیے باعث سترہے ۔ 3۔ آدمی کے لیے بوجھ ہے وہ گھوڑا جو ستر کا باعث ہے وہ جس کو عزت و جمال کے لیے پالا ہو اور اس میں وہ گھوڑے کا حق نہ بھولتا ہو اس کو خوب خوراک اور مناسب سواری و بار برداری کرتا ہو جو تنگ دست ہویا خوش حال ۔ ( اجروالا جو جہاد وغیرہ دینی مقاصد کے لیے پالا جائے اور بوجھ وہ گھوڑا جو ریاکاری اور دکھلاوے کےلیے پالا جائے )۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2963

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2964

2799 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن أبى صالح السمان عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال ولم ينس حق الله في رقابها ولا في ظهورها فقط

ابو صالح السمان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ یہ لفظ مختلف ہیں اس نے اس کی گردن کے سلسلہ میں اس کا حق اور اللہ تعالیٰ کا حق نہیں بھلایا۔

ولم ينس حق الله في رقابها ولا في ظهورها فقط ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2964

chevron_left Previous
1…678…45
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter