Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2941

2777 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله

وہب نے شعبہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

شعبة فذكر بإسناده مثله ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2941

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2942

2778 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن زيد بن عقبة عن سمرة بن جندب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فقد أباح هذا الحديث المسألة في كل أمر لا بد من المسألة فيه فدخل في ذلك ما أبيحت فيه المسألة في حديث قبيصة بن وزاد هذا الحديث عليه ما سوى ذلك من الأمور التي لا بد منها وفي ذلك إباحة المسألة بالحاجة خاصة لا بالزمانة وقد روى عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا المعنى ما قد

زید بن عقبہ نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اس روایت میں ہر ایسے کام کے سلسلہ میں سوال کو درست قرار دیا جہاں سوال لازم ہو اس میں وہ بات بھی شامل ہے جس میں حضرت قبیصہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مانگنا مباح قرار دیا گیا ۔ اس روایت میں کچھ اضافہ ہے جو کہ نہایت ضروری ہے ان میں خاص طور پر ضرورت کے پیش نظر مانگنا ہے اپاہج ہونا نہیں اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی جناب نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2942

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2943

2779 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال حدثني الأخضر بن عجلان عن أبى بكر الحنفي عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رجلا من الأنصار أتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال إن المسألة لا تصلح إلا لثلاث لغرم موجع أو دم مفظع أو فقر مدقع قال أبو جعفر فكل هذه الأمور مما لا بد منه فقد دخل ذلك أيضا في معنى حديث سمرة وقد روى عن أبى سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما قد

ابو بکر حنفی رضی اللہ عنہ نے نقل کیا کہ ایک انصاری جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا سوال تین آدمیوں کو جائز اور مناسب ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام ضروری امور حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے معنی میں داخل ہیں اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسی طرح کی بھی روایت کی ہے ۔ 1۔ تکلیف دہ چٹی کا چکار ہونے والا۔ 2۔دم دیت قتل جس میں قاتل کے ورثاء کے پاس دینے کو مال نہ ہو ۔ 3۔فقر جو سخت ہونے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا کر دے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي بَکْرٍ الْحَنَفِيِّ ← الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2943

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2944

2780 - حدثنا فهد هو بن سليمان قال ثنا الحسن بن الربيع قال ثنا أبو إسحاق عن سفيان عن عمران البارقي عن عطية بن سعد عن أبى سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تحل الصدقة لغني إلا أن يكون في سبيل الله أو بن السبيل أو يكون له جار فيتصدق عليه فيهدى له أو يدعوه

عطیہ بن سعد نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ کسی مالدار کو اس وقت حلال ہے جبکہ وہ اللہ تعالی ٰکی راہ میں (جہاد میں ) ہو یا پھر سفر میں ہو یا اس کا پڑوسی ہو اس کا مستحق ہونے کی وجہ سے صدقہ دیا جا سکتا ہے اور وہ اس کو ہدیہ میں دے یا اسکی دعوت کر ے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عطية بن سعد ← عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ ← سُفْيَانَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← فهد هو بن سليمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2944

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2945

2781 - حدثنا عبد الرحمن بن الجارود قال ثنا عبيد الله بن موسى قال أنا بن أبى ليلى عن عطية عن أبى سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فأباح رسول الله صلى الله عليه و سلم الصدقة للرجل إذا كان في سبيل الله أو بن السبيل فقد جمع ذلك الصحيح وغير الصحيح فدل ذلك أيضا على أن الصدقة إنما تحل بالفقر كانت معه الزمانة أو لم تكن وقد روى عن وهب بن حنبش عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد

عطیہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جو مسافر ہو یا جہاد میں ہو صدقہ دینا جائز قرا ر دیا اس میں صحت مند اور بیمار کو جمع فرمایا اس سے اس بات کاثبوت مل گیا کہ صدقہ فقرو احتیاج کی وجہ سے جائز ہوتا ہے ۔ خواہ وہ معذور ہو یا نہ ہو ۔ حضرت وھب بن خنبش رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کی ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ ہو ۔

وهب بن حنبش ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← بن أَبِي لَيْلَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عبد الرحمن بن الجارود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2945

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2946

2782 - حدثنا أبو أمية قال ثنا المعلى بن منصور قال أخبرني يحيى بن سعيد قال أخبرني مجالد عن الشعبي عن وهب قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو واقف بعرفة فسأله رداءه فأعطاه إياه فذهب به ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم إن المسألة لا تحل إلا من مدقع أو غرم مفظع ومن سأل الناس ليثرى به له فإنه خموش في وجهه ورضف يأكله من جهنم إن قليل فقليل وإن كثير فكثير فأخبر النبي صلى الله عليه و سلم أيضا في هذا الحديث أن المسألة تحل بالفقر والغرم فذلك دليل على أنها تحل بهذين المعنيين خاصة ولا يختلف في ذلك حال الزمن ولا غيره وقد

شعبی نے وہب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جبکہ آپ عرفات میں وقوف فرمارہے تھے اس نے آپ سے اوڑھنے والی چادر مانگی آپ نے اس کو عنایت فرما دی وہ لے کر چلا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوال ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ فقرو احتیاج کی وجہ سے سوال کیا جائز ہو جاتا ہے اسی طرح تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان دو حالتوں میں خصوصاَ سوال درست و حلال ہو جاتا ہے اس میں معذوری و غیرہ کا فرق نہیں ہے ۔ مزید روایات ذیل میں ہیں ۔ 1۔ شدید فقر جو ہلاک کن ہو ۔ 2۔ رسوا کن چٹی کی صورت میں درست ہے جس نے مالدار بننے کے لیے سوال کیا وہ اس کے چہرے پر خراش ہو گا۔ اور جہنم کا گرم پتھر ہو گا جس کو وہ کھائے گا اگر تھوڑا ہو گا تو تھوڑا اور زیادہ سوال ہو گا تو زیادہ گرم پتھر کھانا پڑے گا۔

وَھْبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2946

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2947

2783 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا مخول بن إبراهيم قال ثنا إسرائيل عن أبى إسحاق عن حبشي بن جنادة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من سأل من غير فقر فانما يأكل الجمر

ابو اسحاق نے حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے محتاجی کے بغیر سوال کیا وہ گویا انگارے کھا رہا ہے ۔

من سأل من غير فقر فانما يأكل الجمر ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← حُبْشِي بْنِ جُنَادَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مِخْوَلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2947

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2948

278462 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا إسرائيل فذكر بإسناده مثله فهذا حبشي قد حكى هذا عن النبي صلى الله عليه و سلم فوافق ما حكى من ذلك ما حكاه الآخرون من أن المسألة إنما تحل بالفقر وقد جاءت الآثار أيضا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك متواترة

ابو غسان نے اسرائیل سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے اسی طرح بیان کی۔ تو یہ حبشی رضی اللہ عنہ ہیں جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کررہے ہیں کہ فقر کے بغیر مانگنے والا شعلے کھانے والا ہے تو یہ ارشاد دوسرے قول والوں کی بات کو موافق ہے کہ فقر سے سوال درست ہو جاتا ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر روایات وارد ہیں چند ملاحظہ ہوں۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2948

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2949

2785 - حدثنا الحسين بن نصر قال ثنا الفريابي ح

حسین بن نصر نے فریابی سے نقل کیا ۔

الْفِرْيَابِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2949

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2950

وحدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم قالا جميعا عن سفيان عن حكيم بن جبير عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد النخعي عن أبيه عن بن مسعود رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يسأل عبد مسألة وله ما يغنيه إلا جاءت شينا أو كدوحا أو خدوشا في وجهه يوم القيامة قيل يا رسول الله وماذا غناه قال خمسون درهما وحسابها من الذهب

عبدالرحمن بن یزید نخعی نے اپنے والد سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب کوئی بندہ ایسی حالت میں سوال کرتا ہے جبکہ اس کے پاس ایسی چیز موجود ہے جو اس کو مستغنی کر سکتی ہے وہ اس کے لیے قیامت کے دن چہرے پر خراش و زخم ہو گا کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی غناء کیا ہے فرمایا پچاس درہم اور اس کا حساب سونے سے ہوگا۔

بن مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← محمد بن عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← حكيم بن جبير ← سُفْيَانَ، ← جَمِيعًا ← أَبُو عَاصِمٍ ← وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2950

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2951

2786 - حدثنا أحمد بن خالد البغدادي قال ثنا أبو هشام الرفاعي قال ثنا يحيى بن آدم قال ثنا سفيان فذكر بإسناده مثله غير أنه قال كدوحا في وجهه ولم يشك وزاد فقيل لسفيان لو كانت عن غير حكيم فقال حدثناه زبيد عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد مثله

یحییٰ بن آدم نے سفیان سے نقل کی پھر اپنی اسناد سے روایت کی البتہ صرف کدوحا کا لفظ بولا ہے اور یہ اضافہ ہے سفیان سے کہا گیا اگر یہ غیر حکم سے روایت ہو ؟ تو انہوں نے فرمایا ہم اس کو زبید عن محمد بن عبدا لرحمن بن یزید سے اسی طرح روایت کریں گے ۔

محمد بن عبد الرحمن بن يزيد مثله ← زُبَيْدٍ، ← غير حكيم فقال ← كدوحا في وجهه ولم يشك وزاد فقيل لسفيان لو كانت ← سفيان فذكر بإسناده مثله غير أنه ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ← أحمد بن خالد البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2951

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2952

2787 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا أيوب بن سويد عن عبد الرحمن بن يزيد قال حدثني ربيعة بن يزيد عن أبى كبشة السلولي قال حدثني سهل بن الحنظلية قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من سأل الناس عن ظهر غنى فانما يستكثر من جمر جهنم قلت يا رسول الله وما ظهر غنى قال أن يعلم أن عند أهله ما يغديهم أو ما يعشيهم

ابو کبشہ سلولی نے کہا مجھے سہل بن الحنظلیہ نے بیان کیا اس نے کہا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جو شخص مالدار ہو کہ لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے وہ اپنے لیے جہنم کے انگاروں کا ڈھیر بنا رہا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالداری کیا ہے ؟ فرمایا وہ جانتا ہو کہ اس کے اہل میں اتنی چیزیں ہیں جو ان کو صبح یا شام کا فی ہو سکتی ہیں ۔

ظهر غنى فإنما يستكثر من جمر جهنم قلت ← «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَهْلُ بْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ← أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2952

chevron_left Previous
1…567…45
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter