شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2929
2765 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو بكر بن عياش فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الصدقة لا تحل لذى المرة السوى وجعلوه فيها كالغنى واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا كل فقير من قوى وزمن فالصدقة له حلال وذهبوا في تأويل هذه الآثار المتقدمة الى أن قول النبي صلى الله عليه و سلم لا تحل الصدقة لذى مرة سوى أي أنها لا تحل له كما تحل للفقير الزمن الذي لا يقدر على غيرها فيأخذها على الضرورة وعلى الحاجة من جميع الجهات منه إليها فليس مثله ذي المرة السوى القادر على اكتساب غيرها في حلها له لأن الزمن الفقير يحل له من قبل الزمانة وذو المرة السوى إنما تحل له من جهة الفقر خاصة وإن كانا جميعا قد يحل لهما أخذها فان الأفضل لذى المرة السوى تركها والأكل من الاكتساب بعمله وقد يغلظ الشيء من هذا فيقال لا يحل أو لا يكون كذا على أنه غير متكامل الأسباب التي بها يحل ذلك المعنى وإن كان ذلك المعنى قد يحل بما دون تكامل تلك الأسباب من ذلك ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال ليس المسكين بالطواف ولا بالذي ترده التمرة والتمرتان واللقمة واللقمتان ولكن المسكين الذي لا يسأل ولا يفطن له فيتصدق عليه فلم يكن المسكين الذي يسأل خارجا من أسباب المسكنة وأحكامها حتى لا يحل له أخذ الصدقة وحتى لا يجزئ من أعطاه منها شيئا مما أعطاه من ذلك ولكن ذلك على أنه ليس بمسكين متكامل أسباب المسكنة فكذلك قوله لا تحل الصدقة لذى مرة سوى أي أنها لا تحل له من جميع الأسباب التي بها تحل الصدقة وإن كان قد تحل له ببعض تلك الأسباب واحتج أهل المقالة الأولى لمذهبهم أيضا بما
ابو غسان نے ابوبکر بن عیاش سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ صدقہ تندرست و صحت مند طاقت والے آدمی کو دینا درست نہیں اور انہوں اس مالدار کی طرح قرار دیا اور آثار بالا سے استدلال کیا ان کی اس بات سے علماء کی دوسری جماعت نے اختلاف کیا اور فرمایا فقر خواہ صحت مند ہو یا اپاہچ اس کے لیے صدقہ حلال ہے انہوں نے ان آثار متقدمہ کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی لاتحل الصدقہ لذی مرۃ سوی الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ اس کے لیے اس طرح جائز نہیں جس طرح ایک اپاہج کے لیے جائز ہے جو کہ کمانے کی قدرت نہیں رکھتا اور حاجت مند ہونے کی بناء پر لیتا ہے اور وہ ہر اعتبار سے محتاج ہے س جو شخص صحت مند اور طاقتور ہے وہ حالت صدقہ میں اپاہج فقیر کی طرح نہیں اس کے لیے تو اپاہج ہونا کمانے کی قدرت نہ ہونے کی بناء پر صدقہ حلال ہے اور تندرست فقیر کے لیے صرف محتاجی کی وجہ سے حلال ہے اگرچہ صدقہ تو دونوں کے لیے حلال ہے مگر تندرست و صحت مند کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ صدقہ نہ لے بلکہ اپنےکام سے کمائی کر کے کھائے یہ افضل و بہتر ہے بعض اوقات مختلف احکام میں اس لیے سختی اختیار کی جاتی ہے اور یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ حلال نہیں( کہ اس کے لیے بہتر ہوتا ) یا اس وجہ اس میں حلال ہونے کا اسباب پورے نہیں اگرچہ اسباب پورے نہ ہونے کی صورت میں اسے صدقہ لینا درست ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اسی قسم سے ہے ۔ لیس المسکین بالطواف ولا بالذی تردہ۔۔۔پس وہ مسکین نہیں ہے کہ جس میں مسکینی کے اسباب کامل طور پر موجود ہوں ۔ پس اسی طرح یہ ارشاد لا تحل الصدقۃ لذی مرۃ سوی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے تمام اسباب حلت کے اعتبار سے حلال نہیں اگرچہ ان میں سے بعض اسباب کے پائے جانے کی وجہ سے صدقہ اس کو حلال ہو اول قول کے قائلین نے اپنے استدلال کے لیے ان روایات کو بھی اختیار کیا جو ذیل میں ہے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2929
