Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2929

2765 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو بكر بن عياش فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الصدقة لا تحل لذى المرة السوى وجعلوه فيها كالغنى واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا كل فقير من قوى وزمن فالصدقة له حلال وذهبوا في تأويل هذه الآثار المتقدمة الى أن قول النبي صلى الله عليه و سلم لا تحل الصدقة لذى مرة سوى أي أنها لا تحل له كما تحل للفقير الزمن الذي لا يقدر على غيرها فيأخذها على الضرورة وعلى الحاجة من جميع الجهات منه إليها فليس مثله ذي المرة السوى القادر على اكتساب غيرها في حلها له لأن الزمن الفقير يحل له من قبل الزمانة وذو المرة السوى إنما تحل له من جهة الفقر خاصة وإن كانا جميعا قد يحل لهما أخذها فان الأفضل لذى المرة السوى تركها والأكل من الاكتساب بعمله وقد يغلظ الشيء من هذا فيقال لا يحل أو لا يكون كذا على أنه غير متكامل الأسباب التي بها يحل ذلك المعنى وإن كان ذلك المعنى قد يحل بما دون تكامل تلك الأسباب من ذلك ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال ليس المسكين بالطواف ولا بالذي ترده التمرة والتمرتان واللقمة واللقمتان ولكن المسكين الذي لا يسأل ولا يفطن له فيتصدق عليه فلم يكن المسكين الذي يسأل خارجا من أسباب المسكنة وأحكامها حتى لا يحل له أخذ الصدقة وحتى لا يجزئ من أعطاه منها شيئا مما أعطاه من ذلك ولكن ذلك على أنه ليس بمسكين متكامل أسباب المسكنة فكذلك قوله لا تحل الصدقة لذى مرة سوى أي أنها لا تحل له من جميع الأسباب التي بها تحل الصدقة وإن كان قد تحل له ببعض تلك الأسباب واحتج أهل المقالة الأولى لمذهبهم أيضا بما

ابو غسان نے ابوبکر بن عیاش سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ صدقہ تندرست و صحت مند طاقت والے آدمی کو دینا درست نہیں اور انہوں اس مالدار کی طرح قرار دیا اور آثار بالا سے استدلال کیا ان کی اس بات سے علماء کی دوسری جماعت نے اختلاف کیا اور فرمایا فقر خواہ صحت مند ہو یا اپاہچ اس کے لیے صدقہ حلال ہے انہوں نے ان آثار متقدمہ کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی لاتحل الصدقہ لذی مرۃ سوی الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ اس کے لیے اس طرح جائز نہیں جس طرح ایک اپاہج کے لیے جائز ہے جو کہ کمانے کی قدرت نہیں رکھتا اور حاجت مند ہونے کی بناء پر لیتا ہے اور وہ ہر اعتبار سے محتاج ہے س جو شخص صحت مند اور طاقتور ہے وہ حالت صدقہ میں اپاہج فقیر کی طرح نہیں اس کے لیے تو اپاہج ہونا کمانے کی قدرت نہ ہونے کی بناء پر صدقہ حلال ہے اور تندرست فقیر کے لیے صرف محتاجی کی وجہ سے حلال ہے اگرچہ صدقہ تو دونوں کے لیے حلال ہے مگر تندرست و صحت مند کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ صدقہ نہ لے بلکہ اپنےکام سے کمائی کر کے کھائے یہ افضل و بہتر ہے بعض اوقات مختلف احکام میں اس لیے سختی اختیار کی جاتی ہے اور یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ حلال نہیں( کہ اس کے لیے بہتر ہوتا ) یا اس وجہ اس میں حلال ہونے کا اسباب پورے نہیں اگرچہ اسباب پورے نہ ہونے کی صورت میں اسے صدقہ لینا درست ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اسی قسم سے ہے ۔ لیس المسکین بالطواف ولا بالذی تردہ۔۔۔پس وہ مسکین نہیں ہے کہ جس میں مسکینی کے اسباب کامل طور پر موجود ہوں ۔ پس اسی طرح یہ ارشاد لا تحل الصدقۃ لذی مرۃ سوی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے تمام اسباب حلت کے اعتبار سے حلال نہیں اگرچہ ان میں سے بعض اسباب کے پائے جانے کی وجہ سے صدقہ اس کو حلال ہو اول قول کے قائلین نے اپنے استدلال کے لیے ان روایات کو بھی اختیار کیا جو ذیل میں ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2929

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2930

2766 - حدثنا أبو أمية قال ثنا جعفر بن عون قال ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عبيد الله بن عدى بن الخيار قال حدثني رجلان من قومي أنهما أتيا النبي صلى الله عليه و سلم وهو يقسم الصدقة فسألاه منها فرفع البصر وخفضه فرآهما جلدين قويين فقال إن شئتما فعلت ولا حق فيها لغنى ولا لقوى مكتسب

عبیدا للہ بن علوی بن الخیار نے بیان کیا کہ مجھے میری قوم کے دو آدمیوں نے بتلایا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت آئے جب آپ صدقات کی تقسیم فرما رہے تھے ہم نے آپ سے صدقے کا سوال کیا تو آپ نے پہلے نگاہ اٹھائی پھر جھکا لی اور دیکھا کہ ہم مضبوط اور طاقت ور ہیں تو فرمایا اگر تم دونوں چاہتے ہوتو میں دے دیتا ہوں مگر اس صدقہ میں کسی مالدار اور کمائی کرنے والے طاقت ور کا حق نہیں ہے ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2930

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2931

2767 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث والليث بن سعد عن هشام بن عروة فذكر بإسناده مثله

لیث نے ہشام بن عروہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روائت کی ہے ۔

هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2931

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2932

2768 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة وهمام عن هشام فذكر بإسناده مثله قالوا فقد قال لهما لا حق فيها لقوى مكتسب فدل ذلك على أن القوى المكتسب لاحظ له في الصدقة ولا تجزئ من أعطاءه منها شيئا فالحجة للآخرين عليهم في ذلك أن قوله إن شئتما فعلت ولا حق فيها لغنى أي أن غناكما يخفى على فان كنتما غنيين فلا حق لكما فيها وإن شئتما فعلت لأنى لم أعلم بغناكما فمباح لي أعطاؤكما وحرام عليكما أخذ ما أعطيتكما إن كنتما تعلمان من حقيقة أموركما في الغنى خلاف ما أرى من ظاهركما الذي استدللت به على فقركما فهذا معنى قوله إن شئتما فعلت ولا حق فيها لغنى وأما قوله ولا لقوة مكتسب فذلك على أنه لا حق للقوى المكتسب من جميع الجهات التي يجب الحق فيها فعاد معنى ذلك الى معنى وقد يقال فلان عالم حقا إذا تكاملت فيه الأسباب التي بها يكون الرجل عالما ولا يقال هو عالم حقا إذا كان دون ذلك وإن كان عالما فكذلك لا يقال فقير حقا إلا لمن تكاملت فيه الأسباب التي يكون بها الفقير فقيرا وإن كان فقيرا ولهذا قال لهما ولا حق فيها لقوى مكتسب أي ولا حق له فيها حتى يكون به من أهلها حقا وهو قوى مكتسب ولولا أنه يجوز للنبي صلى الله عليه و سلم إعطاؤه للقوى المكتسب إذا كان فقيرا لما قال لهما إن شئتما فعلت وهذا أولى ما حملت عليه هذه الآثار لأنها إن حملت على ما حملها عليه أهل المقالة الأولى ضادت سواها مما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فمن ذلك ما

حماد بن سلمہ اور ہمام نے ہشام سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت کی ہے ۔ قول اول والوں نے اس طرح استدلال کیا ہے کہ آپ نے ان کو فرمایا کہ اس صدقہ میں طاقت ور کمائی کرنے والے کا کوئی حق نہیں ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ طاقت ور کمائی کرنے والے کا صدقہ میں کوئی حصہ نہیں اور نہ اس کو دینے والے کا حصہ دار ہے دوسرے علماء کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ان کو فرمایا ان شتما فعلت ولا حق فیھا لغنی یعنی تمہاری مالدار میرے سامنے ظاہر نہیں ہے اگر تو تم مال دار ہو تو تمہارا اس سے کچھ حق نہیں اور اگر تم چاہتے ہو ( اور اپنے مستحق خیال کرتے ہو ) تو میں دے دیتا ہوں کیونکہ مجھے تمہارے غناء کا علم نہیں پس مجھے تو جائز ہے کہ میں تمہارے ظاہر کو دیکھ کر دے دوں اور اگر تم حقیقتا اپنے آپ کو غنی جانتے ہوئے لیتے ہو تو میں جو کچھ دوں گا وہ تم پر حرام ہے اس لیے کہ وہ تمہارے ظاہر کے خلاف ہے جس سےاستدلال کرکے میں نے تمہیں فقیر خیال کیا ( اور دے رہا ہوں ) پس یہ اس ارشاد ان شئتما فعلت ولا حق فیھا لغنی الحدیث کا مطلب ہے رہا آپ کا ارشاد " ولا لقوی مکتسب " پس یہ اس لحاظ سے ہے کہ طاقت ور کمانے والا تمام جہات سے اس صدقے کا حقدار نہیں ( اگرچہ بعض جہات اس میں موجود ہیں ) پس اس روایت کا مفہوم اس روایت کے مفہوم کی طرح ہو گیا ولا لذی مرقوی جو ہم بیان کر آئے مہاورہ میں کہتے ہیں " فلان عالم حقا" جبکہ اس میں وہ تمام اسباب کمال جمع ہوں گے جن سے کامل عالم ہوتا ہے اس کو ہو عالم حقا نہیں کہتے جس میں تمام اسباب علم جمع نہ ہوں اگرچہ وہ عالم ہو پس اسی طرح یہ نہیں کہتے " ھو فقیر حقا " کہ وہ واقعی فقیر ہے جب تک کہ اس میں تمام اسباب فقر موجود نہ ہو۔ اگرچہ وہ محتاج و فقیر ہو۔ اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا لاحق فیھا لقوی مکتب یعنی اس کا اس میں کچھ حق نہیں جب تک کہ وہ اس کے واقعی مستحق لوگوں میں س نہ ہو جائے اگرچہ وہ طاقتور کمائی کرنے والا ہو۔ اگر طاقتورکمانے والے کو دینا جائز نہ ہوتا جب کہ وہ فقیر محتاج ہو تو آپ ان کو ہرگز یہ نہ فرماتے " ان شتما فلت " اگر تم چاہتے ہو تو میں معاونت کر دیتا ہوں ان آثار کا یہ سب سے بہتر مفہوم ہے کیونکہ اگر قول اول والوں کی بات پر محمول کیا جائے تو ان روایات کے علاوہ بقیہ تمام روایات جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں باہمی متضاد ہو جائیں گی ذیل کی روایات ملاحظہ ہوں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2932

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2933

2769 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر الزهراني قال ثنا شعبة عن أبى حمزة عن هلال بن حصين قال نزلت دار أبى سعيد الخدري بالمدينة فضمنى وإياه المجلس فقال أصبحوا ذات يوم وقد عصبوا على بطنه حجرا من الجوع فقالت له امرأته أو أمه لو أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسألته فقد أتاه فلان فسأله فأعطاه وأتاه فلان فسأله فأعطاه فقلت لا والله حتى أطلب فطلبت فلم أجد شيئا فاستبقت اليه وهو يخطب وهو يقول من استغنى أغناه الله ومن أستعف أعفه الله ومن سألنا إما أن نبذل له وإما أن نواسيه ومن استعف عنا واستغنى أحب إلينا ممن سألنا قال فرجعت فما سألت أحدا بعد فما زال الله يرزقنا حتى ما أعلم بيتا في المدينة أكبر سؤالا منا

ہلال بن حسین کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں مدینہ میں گیا میں ان کی مجلس میں بیٹھا تھا تو کہنے لگے کہ گھر والوں نے ایک صبح اس حالت میں پایا کہ ابو سعید نے پیٹ پر بھوک سے پتھر باندھ رکھے تھے اس پر انکی بیوی یا والدہ نے کہا اگر تم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاتے تو مناسب تھا آپ کے ہاں فلاں شخص گیا آپ نے اس کو دے دیا اور فلا ں شخص نے سوال کیا آپ نے اس کو بھی دے دیا میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں پہلے تلاش کروں گا اگر نہ ملی تو پھر جاؤں گا میں نے کھانے کی چیز تلاش کی مگرمجھے کوئی چیز نہ ملی میں آپ کی خدمت میں پہنچا اس وقت آ پ خطبہ میں یہ ارشاد فرما رہے تھے جو شخص اللہ سے غنا طلب کرتا ہے اللہ اسکو غنی کر دیتا ہے ۔اور جو سوال سے بچتا ہے اللہ تعالی اس کو سوال سے بچاتا ہے جو شخص ہم سے مانگے گا ہم یا تو اس کے دے دیں گے یااس سے ہمدردی کا اظہار کریں گے اگر نہ ہو گا جو ہم سے سوال کرنے سےبچے گا اور غنا ء اختیار کر ے گا وہ ہمیں ان کی بسنسبت زیادہ پسند ہے جو ہم سے سوال کریں گے ابو سید کہنے لگے میں یہ سن کر واپس لوٹا اس کے بعد میں نے کسی سے نہ مانگا اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت سے رز ق عنایت فرما رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں میرے علم کے مطابق کوئی گھر ایسا نہیں جہاں اس قدر کثرت سے سوال کرنے والے آتے ہوں جتنے ہمارےہاں آتے ہیں ۔

نزلت دار أبى سعيد الخدري بالمدينة فضمنى وإياه المجلس ← هِلَالَ بْنَ حُصَيْنٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2933

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2934

2770 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا سعيد بن أبى عروبة عن قتادة عن هلال بن مرة عن أبى سعيد الخدري قال أعوزنا مرة فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال النبي صلى الله عليه و سلم من استعف أعفه الله ومن استغنى أغناه الله ومن سألنا أعطيناه قال قلت فلأستعف فيعفني الله ولأستغنى فيغنيني الله قال فوالله ما كان إلا أياما حتى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قسم زبيبا فأرسل إلينا منه ثم قسم شعيرا فأرسل إلينا منه ثم سألت علينا الدنيا فغرقتنا إلا من عصم الله

حلال بن مرہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک مرتبہ ہمیں شدید محتاجی نے آلیا تو میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے اس کا تذکرہ کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سوال سے بچے گا اللہ تعالیٰ اسکو سوال سے محفوظ کر دیں گے اور جو غناء اختیار کر ے گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی بنا دیں گے اور جو ہم سے سوال کرے گا ہم اسے دے دیں گے ابو سعید کہتے ہیں میں سوال سے دامن کو بچا لیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے سوال سے محفوظ رکھا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے غنا مانگا اس نے مجھے غناء عنایت فرما دیا ابو سعید کہتے ہیں ابھی چند دن گزرے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش تقسیم فرمائی تو اس میں سے کچھ ہمارے ہاں بھی بھیجی پھر جو تقسیم کئے اس میں سے کچھ ہماری طرف بھیجے پھر ہم پر دنیا بہہ پڑی اور اس نے ہمیں ڈبو دیا مگر وہ بچا جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔

فوالله ما كان إلا أياما حتى ← قلت فلأستعف فيعفني الله ولأستغنى فيغنيني الله ← أعوزنا مرة فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← هلال بن مرة ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2934

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2935

2771 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد قال ثنا هشام عن قتادة عن هلال بن حصين أخى بنى مرة بن عباد عن أبى سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال بن أبى داود هذا هو الصحيح قال أبو جعفر فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من سألنا أعطيناه ويخاطب بذلك أصحابه وأكثرهم صحيح لا زمانة به إلا أنه فقير فلم يمنعهم منها لصحتهم فقد دل ذلك على ما ذكرنا وفضل من استعف ولم يسأل على من سأل فلم يسأله أبو سعيد لذلك ولو سأله لأعطاه إذ قد كان بذل ذلك له ولأمثاله من أصحابه وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا من غير هذا الوجه ما يدل على ما ذكرنا

ہلال بن حصین جو بنی مرہ بن عباد کے بھائی ہیں انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ابن ابی داؤد نے اس کی تصحیح کی ہے ۔ امام طحاوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ جو شخص ہم سے مانگے گا ہم اسے دیں گے اکثر صحابہ کرام تندرست و توانا تھے اور صحت مند تھے معذو ر و اپاہج نہ تھے وہ تنگ دست تھے تو ان کی صحت مندی کی وجہ سے آپ نے ان سے صدقہ کو روکا اور نہ حرام قرار دیا ۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی جو ہم نے اوپر ذکر کی آپ نے سوال نہ کرنے کا فضل قرار دیا مگر سوال کرنے والے سے نہیں پوچھا ۔ حضرت ابو سعید نے سوال سے بچتے ہوئے سوال نہیں کیا اگر وہ سوال کرتے تو آپ ان کو ضرور عنایت فرما تے اللہ نے اس کا بدل انکو عنایت کر دیا اور اسی طرح اور بھی ان کے ساتھی تھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے علاوہ سند سے روایت وارد ہے جو ہماری اس بات پر دلالت کرتی ہے ۔

أبو جعفر فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن أبى داود هذا هو الصحيح ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← هلال بن حصين أخى بنى مرة بن عباد ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2935

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2936

2772 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن زياد بن نعيم أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي يقول أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم على قومي فقلت يا رسول الله أعطنى من صدقاتهم ففعل وكتب لي بذلك كتابا فأتاه رجل فقال يا رسول الله أعطنى من الصدقة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل لم يرض بحكم نبي ولا غيره في الصدقات حتى حكم فيها هو من السماء فجزأها ثمانية أجزاء فان كنت من تلك الأجزاء أعطيتك منها قال أبو جعفر فهذا الصدائي قد أمره رسول الله صلى الله عليه و سلم على قومه ومحال أن يكون أمره وبه زمانة ثم قد سأله من صدقة قومه وهى زكاتهم فأعطاه منها ولم يمنعه منه لصحة بدنه ثم سأله الرجل الآخر بعد ذلك فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم إن كنت من الأجزاء الذين جزأ الله عز و جل الصدقة فيهم أعطيتك منها فرد رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك حكم الصدقات الى ما ردها الله عز و جل اليه بقوله إنما الصدقات للفقراء والمساكين الآية فكل من وقع عليه اسم صنف من تلك الأصناف فهو من أهل الصدقة الذين جعلها الله عز و جل لهم في كتابه ورسوله في سنته زمنا كان أو صحيحا وكان أولى الأشياء بنا في الآثار التي رويناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الفصل الأول من قوله لا تحل الصدقة لذى مرة سوى ما حملناها عليه لئلا يخرج معناها من الآية المحكمة التي ذكرنا ولا من هذه الأحاديث الأخر التي روينا ويكون معنى ذلك كله معنى واحدا يصدق بعضه بعضا ثم قد روى قبيصة بن المخارق عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد دل على ذلك أيضا

زیاد بن نعیم کہتے ہیں کہ میں نے زیاد بن حارث کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم پر امیر بنایا میں نے عرض کیا مجھے ان کے صدقات میں سے کچھ عنایت فرمائیں آپ نے دے دیا اور میرے لیے اس سلسلے میں ایک تحریر کروا کر عنایت فرمایا اس وقت آپ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے صدقہ میں کچھ دیں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاا للہ تعالیٰ نے کسی نبی اور غیر نبی کے فیصلے کو صدقات کے سلسلہ میں پسند نہیں کیا یہاں تک کہ آسمان سے اس کے متعلق فیصلہ اتار دیا اور اس کو آٹھ اقسام پر بانٹ دیا اگر تم ان میں سے ہو تو میں تجھے دے دیتا ہوں امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حضرت صدائی رضی اللہ عنہ ہیں جن کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم پر عامل بنایا اور یہ بات ناممکن ہے کہ آپ اس کو امیر بنائیں اور وہ اپاہج ہوں ۔ آپ سے انہوں نے اپنی قوم کے صدقات میں سوال کیا اور وہ اس وقوم کے اموال زکوۃ تھے تو آپ نے ان کو اس میں سے عنایت فرمایا اور ان کے قوی و صحت مندہونے کی وجہ سے منع نہ فرمایا پھر اس کے بعد دوسرے آدمی نے سوال کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو جن پر اللہ تعالیٰ نے صدقہ کو تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے تو میں تمہیں اس میں سے دے دیتا ہوں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم ان لوگوں ی طرف لوٹا دیا جن کی اللہ نے لوٹا یا ہے " انما الصدقات للفقراء والمساکن " ۔۔۔۔۔ پس ہر وہ شخص جو ان اضا ف کے تحت داخل ہو گا اس پر صدقہ درست ہو گا ۔ جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سنت میں فرماتے ہیں خواہ وہ شخص اپاہج ہو جا تندرست ہمارے لیے فصل اول میں مذکور آثار میں وہی معن لا تحل الصدقۃ۔۔۔۔۔ کا لینا مناسب ہے جو ہم نے بیان کیا ہے تاکہ اس کا مفہوم آیت محکہ او دیگر احادیث باہر نہ نکلے بلکہ تمام کا معنی ایک ہو جو ایک دوسرے پر صادق آ سکے دوسری بات یہ ہے کہ حضرت قبیصہ بن المخارق رضی اللہ عنہ کی جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقولہ روایت بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے ۔

أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم على قومي فقلت ← زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ ← زياد بن نعيم أنه ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2936

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2937

2773 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن هارون بن رئاب عن كنانة بن نعيم عن قبيصة بن المخارق أنه تحمل بحمالة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فيها فقال تخرجها عنك من إبل الصدقة أو نعم الصدقة يا قبيصة إن المسألة حرمت إلا في ثلاث رجل تحمل بحمالة فحلت له المسألة حتى يؤديها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة فاجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو سدادا من عيش ثم يمسك ورجل أصابته حاجة حتى تكلم ثلاثة من ذوى الحجى من قومه أن حلت حلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو سدادا من عيش ثم يمسك وما سوى ذلك من المسألة فهم سحت

کنانہ بن نعیم نے قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے ایک ذمہ داری اٹھائی اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم اس کو صدقہ کے اونٹوں سے لے لینا ۔ ابل الصدقہ یا نعم الصدقہ کا لفظ فرمایا اے قبیصہ سوال تین آدمیوں کو درست ہے ۔ 1۔ جس آدمی نے کسی کی ضمانت اٹھائی وہ اس پر پڑ گئی اور اس وقت تک سوال کر سکتا ہے جب تک اس کی ادائیگی کرنا ہو گی ۔2۔وہ آدمی جس کو کوئی آسمانی آفت پہنچی جس سے اس کا مال جاتا رہا اس کو اس وقت تک درست ہے یہاں تک کہ گزر اوقات یا مناسب گزار ا پا لے پھر وہ رک جائے ۔

کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2937

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2938

2774 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد عن هارون بن رئاب عن كنانة بن نعيم العدوى عن قبيصة بن المخارق عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

کنانہ بن نعیم عدوی نے قبیصہ بن المخارق رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2938

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2939

2775 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن هارون بن رئاب فذكر بإسناده مثله وزاد رجل تحمل بحمالة عن قومه أراد بها الإصلاح فأباح رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث لذى الحاجة أن يسأل لحاجته حتى يصيب قواما من عيش أو سدادا من عيش فدل ذلك أن الصدقة لا تحرم بالصحة إذا أراد بها الذي تصدق بها عليه سد فقر وإنما تحرم عليه إذا كان يريد بها غير ذلك من التكثر ونحوه ومن يريد بها ذلك فهو ممن يطلبها لسوى المعاني الثلاثة التي ذكرها رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث قبيصة بن مخارق الذي ذكرنا فهو عليه سحت وقد روى سمرة أيضا مثل ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

حماد بن سلمہ نے ہارون بن راب سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ کسی آدمی نے کسی قوم کاذمہ اصلاح کے لیے اٹھایا اس ارشاد میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت والے کے لیے مباح کر دیا کہ وہ اپنی حاجت کے متعلق سوال کرے اور اس وقت تک سوال کر سکتا ہے جب تک کہ اس کا مناسب گزر اوقات یا بہتر حالا گزران نہ پالے۔ اس سے یہ بات دلالت مل گئی کہ صدقہ صحت کی وجہ سے حرام نہیں ہوتا جب کہ وہ شخص جس کو صدقہ دیا گیا ہے وہ اپنی فقر والی حالت کا ازالہ چاہتا ہو۔ وہ بلا شبہ اس پر اس وقت حرام ہو گا جب کہ اس کا مقصد مال میں کثرت کرنا وغیرہ ہو اور جس کا یہ ارادہ ہو وہ ان لوگوں سے ہے جو ان مقاصد کے علاوہ ماننے والوں سے ہے ۔ جن کا تذکرہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ والی روایت میں فرمایا وہ صدقہ اس مانگنے والے کے لیے نری آگ ہے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ جو ذیل ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2939

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 2 باب ذي المرة السوى الفقير هل يحل له الصدقة أم لا ) · حديث 2940

2776 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا شعبة عن عبد الملك بن عمير عن زيد بن عقبة قال سمعت سمرة بن جندب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال السائل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء أبقى على وجهه ومن شاء ترك إلا أن يسأل الرجل ذا سلطان أو يسأل في أمر لا يجد منه بدا

زید بن عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے سوال کرنے والا اپنے چہرے کو نوچنے والا ہے جو آدمی نوچنے کے آثار کو اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے سوال نہ کر کے اس کو بچائے البتہ جو آدمی مرتبہ والے حاکم سے سوال کرے یا ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں کوئی چارہ کار نہ ہو ۔ (تو درست ہے)

النبي صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2940

chevron_left Previous
1…456…45
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter