Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3409

3232 - حدثنا بن أبى عمران قال ثنا أحمد بن عيسى المصري قال ثنا بن وهب فذكر بإسناده مثله فكان مما احتج به أهل المقالة الأولى في افساد هذا الحديث أيضا أن حماد بن زيد قد رواه عن يحيى بن سعيد موقوفا ليس فيه عمرة

احمد بن عیسٰی مصری نے ابن وہب سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے یہ روایت عمرہ کے واسطے کے بغیر بھی مذکور ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3409

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3410

3233 - حدثنا بذلك بن أبى عمران قال ثنا أبو بكرة الرمادي قال ثنا على بن المديني قال ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد بذلك يعنى ولم يذكر عمرة فهذا هو أصل الحديث وقد روى عن عائشة رضي الله عنها أيضا في هذا من غير هذا الوجه ما

حماد بن زید عن یحییٰ بن سعید نے عمرہ کے تذکرہ کے بغیر موقوف نقل کی ہے یہ اس روایت کی اصل ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی اس سند کے علاوہ مروی ہے ۔مگر موقوف ہونا چنداں نقصان دہ نہیں کیونکہ دوسری سند سے مرفوع منقول ہے وہ روایت یہ ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أبو بكرة الرمادي ← بذلك بن أبى عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3410

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3411

3234 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي قال ثنا سفيان عن طلحة بن يحيى بن طلحة عن عمته عائشة بن طلحة عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله انا قد خبأنا لك حيسا فقال أما إني كنت أريد الصوم ولكن قربيه سأصوم يوما مكان ذلك قال محمد هو بن إدريس سمعت سفيان عامة مجالستى إياه لا يذكر فيه سأصوم يوما مكان ذلك ثم إني عرضت عليه الحديث قبل أن يموت بسنة فأجاز فيه سأصوم يوما مكان ذلك [ ص 110 ] ففي هذا الحديث ذكر وجوب القضاء وفي حديث عائشة رضي الله عنها ما قد وافق ذلك وليس في حديث أم هانئ ما يخالف ما قد ذكرنا فأقل أحوال حديث عروة وعمرة عن عائشة رضي الله عنها أن يكون موقوفا على من هو دونهما وقد وافقه حديث متصل وهو حديث عائشة بنت طلحة فالقول بذلك من جهة الحديث أولى من القول بخلافه وأما النظر في ذلك فانا قد رأينا أشياء تجب على العباد بإيجابهم إياها على أنفسهم منها الصلاة والصدقة والصيام والحج والعمرة فكان من أوجب شيئا من ذلك على نفسه فقال لله على كذا وكذا وجب عليه الوفاء بذلك ورأينا أشياء يدخل فيها العباد فيوجبونها على أنفسهم بدخولهم فيها منها الصلاة والصيام والحج وما ذكرنا فكان من دخل في حجة أو عمرة ثم أراد إبطالها والخروج منها لم يكن له ذلك وكان بدخوله فيها في حكم من قال لله على حجة فعليه الوفاء بها فان قال قائل إنما منعناه من الخروج منهما لأنه لا يمكنه الخروج منها إلا بتمامها وليست الصلاة والصيام كذلك لأنهما قد يبطلان ويخرج منهما بالكلام والطعام والشراب والجماع قيل له إن الحجة والعمرة وإن كانا كما ذكرت فانا قد رأيناك تزعم أن من جامع فيهما فعليه قضاؤهما والقضاء يدخل فيه بعد خروجه منهما فقد جعلت عليه الدخول في قضائهما إن شاء أو أبى من أجل افساده لهما فهذا الذي يقضيه بدل منه مما كان وجب عليه بدخوله فيه لا بإيجاب كان منه قبل ذلك فلو كانت العلة في لزوم الحجة والعمرة إياه حين أحرم بها وبطلان الخروج منهما هى ما ذكرت من عدم رفضهما ولولا ذلك كان له الخروج منهما كما كان له الخروج من الصلاة والصيام بما ذكرنا من الأشياء التي تخرج منهما إذا لما وجب عليه قضاؤهما لأنه غير قادر على أن لا يدخل فيه فلما كان ذلك غير مبطل عنه وجوب القضاء وكان في ذلك كمن عليه قضاء حجة قد أوجبها لله عز و جل على نفسه بلسانه كان كذلك أيضا في النظر من دخل في صلاة أو صيام فأوجب ذلك لله عز و جل على نفسه بدخوله فيه ثم خرج منه فعليه قضاؤه ويقال له أيضا وقد رأينا العمرة مما قد يجوز رفضها بعد الدخول فيها في قولنا وقولك وبذلك جاءت السنة عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله لعائشة رضي الله عنها دعى عنك العمرة وأهلى بالحج وسنذكر ذلك بإسناده في موضعه من كتابنا هذا إن شاء الله تعالى فلم يكن للداخل في العمرة إذا كان قادرا على رفضها والخروج منها أن يخرج منها فيبطلها ثم لا يجب عليه قضاؤها وكان من دخل فيها بغير إيجاب منه لها قبل ذلك ليس له الخروج منها قبل تمامها إلا من عذر فان خرج منها فأبطلها بعذر أو بغير عذر فعليه قضاؤها فالصلاة والصوم أيضا في النظر كذلك ليس لمن دخل فيهما الخروج منهما وابطالهما إلا من عذر وإن خرج منهما قبل إتمامه إياهما بعذر أو بغير عذر فعليه قضاؤهما فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روى مثل ذلك أيضا عن غير واحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ نے اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کے لئے حلوہ چھپا کر رکھا ہے آپ نے فرمایا میں روزے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن لاؤ( میں استعمال کرتا ہوں ) میں اس کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھ لوں گا ۔امام شافعی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے عام طور پر مجالس میں یہ روایت سنی ہے وہ اس میں : ’’ سا صوم یوما مکان ذلک ‘‘ کے الفاظ بیان نہیں کرتے تھے پھر میں نے وفا ت سے ایک سال پہلے ان کو یہ روایت سنائی تو انہوں نے : ’’ سا صوم یوما مکان ذلک ‘‘کے اضافہ کو درست قرار دیا ۔اس روایت میں قضا کے واجب ہونے کا ذکر ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت بھی اس کے موافق ہےاور ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہاکی روایت میں اس کے خلاف کوئی بات نہیں باقی حضرت عروہ اور عمرہ والی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاوالی روایت کم از کم ان سے نیچے والے روات پر موقوف ہے اور اس کے موافق حضرت عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہا کی متصل روایت ہے ۔پس حدیث کے اصول کے لحاظ سے یہ اس کے خلاف قول اختیار کرنے سے اولیٰ ہے ۔اس سلسلے میں نظر و فکر کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ بعض امور بندے پر لازم کرنے سے لازم ہو جاتے ہیں ان میں سے نماز ،روزہ ،حج ،عمرہ اور صدقہ ہے ۔تو جو شخص اس میں سے کسی چیز کے متعلق یہ کہے کہ ’’ للہ علی کذا و کذا‘‘ کہ مجھ پر اللہ کے لئے ان میں سےفلاں چیز اس طرح اس طرح ہے۔ تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس نذر کو پورا کرے اور بعض ایسے امور ہے کہ بندے ان میں داخل ہو کر ان کو اپنے اوپر واجب کرنے والے ہیں مثلاً نماز ، حج اور جن کا ہم نے ذکر کیا ۔ پس جو شخص حج یا عمرہ میں داخل ہوکر پھر ان کو باطل کرنے کا ارادہ کرے یا ان سے نکلنا چاہے ۔تو اس کے لئے اس کا اختیار نہیں ۔ تو اس کو شروع کرنے سے اس آدمی کے حکم میں ہو گیا جس نے کہا : ’’ للہ علی حجۃ ‘‘ کہ اللہ تعالی کے لیے مجھ پر حق لازم ہے ۔اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ہم نے اس کو نکلنے سے ہیں اس وجہ سے روکتے ہیں کیونکہ ان کو مکمل کرنے کے بغیر وہ اس سے باہر نہیں آ سکتا اس کے بخلاف روزے اور نماز کی یہ صورت نہیں اس لئے کہ وہ بعض اوقات گفتگو ، کھانے ، پینے اور جماع کے ساتھ بھی ان سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اگرچہ حج وعمرہ کی صورت تو اسی طرح ہے جیسے تم کہتے ہو۔ مگر ہم یہ جانتے ہیں ۔کہ بقول تمہارے جو شخص ان میں جماع کرے اس پر ان کی قضا لازم ہے اور قضا میں اس وقت داخل ہو گا جب کہ وہ ان سے نکلے تم نے اس پر قضا کرنا لازم کر دیا خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے اس لیے اس نے دونوں کو فاسد کر دیا ۔یا یہ قضا ء تو اس کا بدل ہے جو اس میں داخل ہونے کی وجہ سے اس کے ذمہ واجب ہو چکا تھا ۔اس کے محض واجب کر دینے سے نہیں ۔اگر حج و عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد حج و عمرہ کے اس کے ذمہ لازم ہونے اور ان سے الگ نہ ہونے کا سبب وہی ہے جو تم نے ذکر کیا کہ وہ ان کو ترک نہیں کر سکتا اور اگر یہ علت مذکورہ نہ ہوتی تو اسے فراغت جائز تھی جیسا کہ کہ وہ نماز ، روزے وغیرہ اشیاء کو چھوڑ سکتا ہے ۔تو اس صورت میں اس پر ان کی قضا لازم نہ ہوگی کیونکہ اس قضا کو شروع کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ پس جب اس کی عدم قدرت اس کے ذمے سے قضا ء کو باطل نہیں کرتی اور اس کا حال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس کے ذمے ایسے حج کی قضا ہو جس کو اس نے اللہ تعالی کی خاطر اپنے اوپر زبان سے لازم کیا ہو ۔نظر کا بھی یہی تقاضا ہے کہ جو آدمی نماز ،روزے کو شروع کرے اور ان کو شروع کرکے رضائے الہی کیلئے اپنے اوپر لازم کرے پھر ان سے نکل جائے تو اس پر قضا لازم ہوگی اور اس کو یہ کہا جائے گا کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ عمرہ ان کاموں میں سے ہے جس کو ہمارے اور تمہارے نزدیک شروع کرنے کے بعد چھوڑنا جائز ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرمایا عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھو۔تو یہ چیز جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے ۔ہم اس روایت کو اسی کتاب میں اس کے مقام پر ذکر کریں گے ، ان شاء اللہ تعالی ۔ پس یہ بات نہیں ہے کہ جو شخص عمرہ میں داخل ہوا اور عمرہ کرنے کی قدرت بھی ہو اور وہ اسے جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس پر قضا لازم نہ ہو اور وہ شخص جو اپنے اوپر لازم کرنے کے بغیر اس کو شروع کرے تو وہ بغیر عذر کے اسے مکمل کرنے کے بغیر چھوڑ نہیں سکتا اور اگر وہ کسی عذر یا بلا عذر اسے ترک کر دے تو اس پر قضا ہے ۔تو نظر کا تقاضہ یہی چاہتا ہے کہ نماز اور روزے کا یہی حکم ہو کہ جو شخص ان کو شروع کردے اس کو بلا عذر چھوڑنا جائز نہیں اور بلاعذر چھوڑنے سے قضا لازم ہوگی ۔اس باب میں نظر کا یہی تقاضا ہے اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہ ، کا قول بھی اسی طرح ہے اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ۔

دخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عمته عائشة بن طلحة ← طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3411

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3412

3235 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة عن أيوب عن سعيد بن أبى الحسن عن بن عباس رضي الله عنهما أنه أخبر أصحابه أنه صائم ثم خرج عليهم ورأسه يقطر فقالوا أو لم تك صائما قال بلى ولكني مرت بي جارية لي فأعجبتنى فأصبتها وكانت حسنة هممت بها وأنا قاضيها يوما آخر

سعید بن ابی الحسن نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے اپنے احباب کو بتلایا کہ ان کا روزہ ہے پھر گھر سے باہر تشریف لائے تو ان کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے انہوں نے کہا کہ کیا آ پ روزہ سے نہ تھے انہوں نے کہا کیوں نہیں ، لیکن میرے پاس سے میری لونڈی کا گزر ہوا تو وہ مجھے پسند آئی میں نے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کا قصد کیا اور قر بت کر لی ۔ بقیہ میں اپنے روزے کی اور دن کی قضا کر لوں گا ۔

قاضيها يوما آخر ← بلى ولكني مرت بي جارية لي فأعجبتنى فأصبتها وكانت حسنة هممت بها ← أو لم تك صائما ← بن عباس أنه أخبر أصحابه أنه صائم ثم خرج عليهم ورأسه يقطر ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3412

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 24 باب الرجل يدخل في الصيام تطوعا ثم يفطر ) · حديث 3413

3236 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا حماد بن زيد قال حدثني زياد بن الجصاص عن أنس بن سيرين قال صمت يوم عرفة فجهدنى الصوم فأفطرت فسألت عن ذلك عبد الله بن عمر فقال يوما آخر مكانه

زیاد بن حصاص نے انس بن سیرین سے بیان کیا کہ میں نے عرفہ کے دن روزہ رکھا ، مجھے روزے نے پریشان کیا تو میں نے روزہ افطار کر دیا چنانچہ اس کے متعلق میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس کی جگہ دوسرے دن سے قضا کر لو ۔

ذلك عبد الله بن عمر فقال يوما آخر مكانه ← صمت يوم عرفة فجهدنى الصوم فأفطرت فسألت ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← زياد بن الجصاص ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3413

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 25 باب الصوم يوم الشك ) · حديث 3414

3237 - حدثنا فهد قال ثنا أبو سعيد الأشج قال ثنا أبو خالد سليمان بن حيان الأزدي الأحمر عن عمرو بن قيس عن أبى إسحاق عن صلة قال كنا عند عمار فأتى بشاة مصلية فقال للقوم كلوا فتنحى رجل من القوم وقال انى صائم قال عمار من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فكره قوم صوم اليوم الذي يشك فيه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بصومه تطوعا بأسا قالوا وانما الصوم المكروه في هذا الحديث هو الصوم على أنه من رمضان فأما تطوعا فلا بأس به واحتجوا في ذلك بما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غير هذا الموضع من قوله لا تتقدموا رمضان بيوم ولا بيومين إلا أن يوافق ذلك صوما كان يصومه أحدكم فليصمه

عمرو بن قیس نے ابو اسحاق سے انہوں نے صلہ سے نقل کیا کہ حماد بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہا ں تھےچنانچہ ایک بھونی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے لوگوں کو فرمایا کھاؤ اس وقت قوم میں سے ایک آدمی ایک طرف ہوگیا اور کہنے لگا میں روزے سے ہوں تو عمار رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جس نے یوم شک کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے شک کے دن روزہ کو مکروہ قرار دیا ہے ۔ مگر دوسروں نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ نفلی روزہ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ، ان کا کہنا یہ ہے کہ جس مکروہ روزے کا تذکرہ اس روایت میں ہے وہ رمضان المبارک کی نیت سے روزہ رکھنا ہے ۔جبکہ نفلی روزہ میں کچھ قباحت نہیں ۔انہوں نے اس سلسلے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کیا ہے جس کو ہم دوسرے مقام پر ذکر کر چکے ہیں ۔ کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کہ رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھو مگر یہ کہ وہ اس روزے کے موافق ہو جاتے جو وہ رکھتا تھا تو وہ روزہ رکھ لے۔

«إِنِّي صَائِمٌ» ← للقوم كلوا فتنحى رجل من القوم ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، ← صِلَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أبو خالد سليمان بن حيان الأزدي الأحمر ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3414

chevron_left Previous
1…42434445
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter