شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3349
3178 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا لهيعة قال ثنا عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال أفطر الحاجم والمحجوم قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الحجامة تفطر الصائم حاجما كان أو محجوما واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يفطر الحجامة حاجما ولا محجوما وقالوا ليس فيما رويتموه عن النبي صلى الله عليه و سلم من قوله أفطر الحاجم والمحجوم ما يدل أن ذلك الفطر كان من أجل الحجامة قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أخبر أنهما أفطرا بمعنى آخر وصفهما بما كانا يفعلانه حين أخبر عنهما بذلك كما يقول فسق القائم ليس انه فسق بقيامه ولكنه فسق بمعنى غير القيام وقد روى عن أبى الأشعث الصنعاني وهو أحد من روى ذلك الحديث في هذا المعنى
سعید بن مسیب نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا : ’’افطر الحاجم والمحجوم‘‘ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،۔بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ سینگی لگانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے انہوں نے ان آثار کو اپنا مستدل بنایا اور دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سینگی لگانے اور لگوانے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا ۔(ان روایت کے جواب میں انہوں نے کہا )کہ ان روایات میں : ’’افطر الحاجم والمحجوم‘ ‘ میں تو اس بات کی کوئی دلیل نہیں کے سینگی لگانے کی وجہ سے ٹوٹا ۔عین ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور بنا پر ان کے روزہ ٹوٹنے کا ذکر فرمایا ہو ۔مگر بیان کرتے ہوئے ان کے وقتی عمل کا ذکر کیا ۔جیسا کوئی اس طرح کہے کہ کھڑا ہونے والا فاسق ہو گیا ۔اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ کھڑا ہونے کی وجہ سے فاسق ہوا بلکہ فسق کی اور کوئی وجہ ہے اس مفہوم کو ابوالا شعث صنعانی نے بھی اپنی روایت میں ذکر کیا ہے اور وہ اس حدیث میں من جملہ راو ت کے ہیں ، روایت درج ذیل ہے
أبو جعفر فذهب قوم إلى ← أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3349
