شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3313
3143 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم عن بن عون عن إبراهيم عن الأسود قال انطلقت أنا وعبد الله بن مسعود الى عائشة رضي الله عنها نسألها عن المباشرة ثم خرجنا ولم نسألها فرجعنا فقلنا يا أم المؤمنين أكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يباشر وهو صائم قالت نعم وكان أملككم لأربه فسؤال عبد الله عائشة رضي الله عنها عن هذا دليل على أنه لم يكن عنده في ذلك شيء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى أخبرته به عائشة رضي الله عنها عنه فدل ذلك على أن ما روى عنه مما قد وافق ذلك كان متأخرا عما روى عنه مما خالف ذلك
اسودکہتے ہیں کہ میں اور ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں گئے ہم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جسم سے جسم ملانے کے متعلق دریافت کریں پھر ہم بغیر پوچھے واپس آگئے مگر پھر ہم نے لوٹ کر پوچھا ، اے ام المومنین! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنا جسم جسم سے ملاتے تھے انہوں نے کہا جی ہاں ! مگر اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کو اس سلسلہ میں کوئی چیز معلوم نہ تھی پھر حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو بتلائیں۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ جو ان سے اس کے موافق مروی ہے وہ بعد میں ہے اور جو اس کے مخالف مروی ہے وہ پہلے کی بات ہے ۔
وعبد الله بن مسعود الى عائشة نسألها ← انْطَلَقْتُ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← بن عون ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3313
