شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3289
3119 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أبى حمزة عن مورق عن بن عمر أنه سئل عن القبلة للصائم فأرخص فيها للشيخ وكرهها للشاب فدل ذلك أن هذا كان عنده أولى مما حدثه به عمر مما ذكره عمر بن حمزة في حديثه وأما ما قد احتجوا به من قول بن مسعود رضي الله عنه فإنه قد روى عنه أيضا خلاف ذلك
مورق نے ابن عمرؓ سے نقل کیا کہ ان سے روز ہ دار کے بوسہ کے سلسلہ میں پوچھا گیا تو انہوں نے بوڑھے کے حق میں اس کی اجازت دی اور جوان کے حق میں ممانعت فرمائی اور ناپسند قراردیا۔ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ یہ ان کے ہاں اس سے بہتر تھا۔ جو ان کو حضرت عمر ؓ نے ان کو بیا ن کی اور جس کو عمربن حمزہ اپنی روایت میں لائے۔ باقی قول ابن مسعود ؓ جس کو انہوں نے اپنا مستد ل بنایا تو ان سے اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے جیسا ذیل میں ہے۔
بن عُمَرَ ← مُوَرِّقٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3289
