شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 18 باب صوم يوم السبت ) · حديث 3241
3072 - حدثنا محمد بن حميد بن هشام الرعيني قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال سئل الزهرى عن صوم يوم السبت فقال لا بأس به فقيل له فقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في كراهته فقال ذلك حديث حمصي فلم يعده الزهرى حديثا يقال به وضعفه وقد يجوز عندنا والله أعلم أن يكون ثابتا أن يكون إنما نهى عن صومه لئلا يعظم بذلك فيمسك عن الطعام والشراب والجماع فيه كما يفعل اليهود فأما من صامه لا لإرادته تعظيمه ولا لما تريد اليهود بتركها السعى فيه فان ذلك غير مكروه فان قال قائل فقد رخص في صيام أيام بعينها مقصودة بالصوم وهى أيام البيض فهذا دليل على أن لا بأس بالقصد بالصوم الى يوم بعينه قيل له انه قد قيل إن أيام البيض إنما أمر بصومها لأن الكسوف يكون فيها ولا يكون في غيرها وقد أمرنا بالتقرب الى الله عز و جل بالصلاة والعتاق ليلته وغير ذلك من أعمال البر عند الكسوف فأمر بصيام هذه الأيام ليكون ذلك برا مفعولا بعقب الكسوف فذلك صيام غير مقصود به الى يوم بعينه في نفسه ولكنه صيام مقصود به في وقت شكرا لله عز و جل لعارض كان فيه فلا بأس بذلك وكذلك أيضا يوم الجمعة إذا صامه رجل شكرا لعارض من كسوف شمس أو قمر أو شكرا لله عز و جل فلا بأس بذلك وإن لم يصم قبله ولا بعده يوما
لیثی نے بیان کیا کہ زہری سے یوم سبت کے روزے سے متعلق سوال کیاگیا تو ا نہو ں نے فرمایا اس میں کچھ قباحت نہیں سائل نے کہا کہ اس سلسلہ میں جناب رسول اللہﷺ سے کراہت کی روایت منقول ہے تو انہوں نے فرمایا وہ حمصی روایت ہے اس کو انہوں نے روایت ہی شمار نہیں کیا کہ جس پر ضعف کا حکم لگائیں ۔ ہمارے نزدیک اگر یہ روایت پایہ ثبوت کو پہنچ جاے تو اس کے متعلق یہ کہنا ممکن ہے (واللہ اعلم ) کہ اس دن روزہ رکھنے کی اس وجہ سے ممانعت فرمائی تاکہ کہیں اس دن کی تعظیم کی خاطر یہ اس دن کھانے پینے اور جماع سے نہ رک جائے جیسا کہ یہود کے ہا ں مروج ہے ۔ اگر ترک سے یہ مقصود نہ ہوتو پھر روزے میں کچھ قباحت نہیں۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ معین دنوں کے روزہ کی بالقصد اجازت دی گئی ہے اور وہ ایام بیض کے روزے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ بالقصد کسی دن کو متعین کرکے روزہ رکھنے میں کچھ حرج نہیں اس کے جواب میں کہا جائے گا ۔ کہ ایام بیض کے روزے کا حکم ایک قول کے مطابق اس وجہ سے دیا گیا کیونکہ سورج گرہن انہی دنوں میں (عموماً) ہوتا ہے ۔ دوسرے دنوں میں نہیں ہوتا اور اس موقعہ پر ہمیں نماز اور غلاموں کو آزاد کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا حکم ہے۔ تو ان دنوں میں روزے کا حکم ہے تاکہ کسوف کے بعد یہ نیک عمل ہو۔ معینہ دنوں میں روزے مقصو د نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایسے روزے ہیں جن سے بار گاہ الہیٰ میں شکر مقصود ہے جو ایک عارضہ کی وجہ سے ادا کیا جارہا ہے پس ان میں کچھ حرج نہیں ۔ اسی طرح جمعہ کا روزہ بھی جب کوئی شخص کسی عارضہ کسوف و خوف کی وجہ سے بطور شکریہ رکھے یا مطلق شکریہ مقصود ہو اس میں کچھ حرج نہیں اگر اس کے بعد یا پہلے روز ہ نہ رکھے۔
صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ. ← سُئِلَ الزُّهْرِيُّ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن حميد بن هشام الرعيني
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3241
