شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 16 باب صوم يوم عرفة ) · حديث 3193
3023 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا المعتمر قال قرأت على الفضيل قال حدثني أبو جرير أنه سمع سعيد بن جبير يقول سأل رجل بن عمر رضي الله عنهما عن صوم يوم عرفة قال كنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم نعد له بصوم سنة فثبت بهذا الأثر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم الترغيب في صوم يوم عرفة فدل ذلك أن ما كره من صومه في الآثار الأول هو للعارض الذي ذكرنا من الوقوف بعرفة لشدة تعبهم وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
ابو حریز بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر ؒ کو کہتے سنا کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ یو م عرفہ کا روزہ کیا مقام رکھتا ہے تو کہنے لگے ہم اس کو جناب رسول اللہ ﷺکے سا تھ ایک سال کے روزے کے برابر سمجھتے تھے ۔ جناب رسول اللہ کے متعلق اس اثر سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی تر غیب ثا بت ہوئی ۔ پس اس سے ثبوت مل گیا کہ پہلی روایات کے مطابق اس دن روزہ رکھنے کی کراہت اس وجہ سے ہے جو ہم نے بیان کی ہے یعنی وقوف عرفات کیونکہ اس میں کافی مشقت ہے ۔ اما م ابو حنیفہ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
أبو جرير ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← الْمُعْتَمِرُ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3193
