شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 10 باب وزن الصاع كم هو ) · حديث 3085
2917 - حدثنا بن أبى عمران قال أنا على بن صالح وبشر بن الوليد جميعا عن أبى يوسف قال قدمت المدينة فأخرج الى من أثق به صاعا فقال هذا صاع النبي صلى الله عليه و سلم فقدرته فوجدته خمسة أرطال وثلث رطل وسمعت بن أبى عمران يقول يقال إن الذي أخرج هذا لأبى يوسف هو مالك بن أنس وسمعت أبا حازم يذكر أن مالكا سئل عن ذلك فقال هو تحرى عبد الملك لصاع عمر بن الخطاب رضي الله عنه فكان مالكا لما ثبت عنده أن عبد الملك تحرى ذلك من صاع عمر وصاع عمر رضي الله عنه صاع النبي صلى الله عليه و سلم وقد قدر صاع عمر على خلاف ذلك
علی بن صالح اور بشر بن الولید دونوں نے بیان کیا کہ امام ابو یوسف ؒ نے فرمایا میں خود مدینہ منورہ آیا (تاکہ صاع کی تحقیق کروں تو امام مالک نے) میری قابل اعتماد شخصیت نے صاع نکال کر دکھایا اور کہنے لگے یہ جنابت نبی اکر م ﷺ کا صاع ہے تو میں نے اس کو ماپا تو ۵ رطل اور ثلث رطل پایا ابن ابی عمران نے قابل اعتماد آدمی کا نام مالک بن انس بتلایا ہے اور ابو خارم کو میں نے کہتے سنا کہ جب مالک سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا یہ جانچ پڑتال کرنے والا عبدالملک تھا اور اس نے عمر ؓ کے صاع کے سلسلہ میں تحری کی تھی جب مالک کے ہاں یہ بات ثابت ہوگئی کہ عبدالملک سے صاع عمر کی تحری کی اور صاع عمر ہی صاع نبی ﷺ تھا اور صاع عمر کا اندازہ اس کے خلاف تھا جیسا کہ ان روایات سے معلو م ہوتا ہے۔
أَبِي يُوسُفَ ← على بن صالح وبشر بن الوليد جميعا ← بن أبي عمران
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3085
