Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3025

2860 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قالا ثنا الوحاظي ح وحدثنا على بن عبد الرحمن وأحمد بن داود قالا ثنا القعنبي قالا ثنا سليمان بن بلال قال ثنا عمرو بن يحيى المازني عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي عن أبى حميد الساعدي قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فأتينا وادى القرى على حديقة امرأة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اخرصوها فخرصها رسول الله صلى الله عليه و سلم وخرصناها عشرة أوسق وقال أحصيها حتى أرجع إليك إن شاء الله تعالى فلما قدمناها سألها رسول الله صلى الله عليه و سلم عن حديقتها كم بلغ تمرها قالت عشرة أوسق ففي هذا الحديث أيضا أنهم خرصوها وأمروها بأن تحصيها حتى يرجعوا إليها فذلك دليل على انها لم تملك بخرصهم إياها ما لم تكن مالكة له قبل ذلك وانما أرادوا بذلك أن يعلموا مقدار ما في نخلها خاصة ثم يأخذون منها الزكاة في وقت الصرام على حسب ما يجب فيها فهذا هو المعنى في هذه الآثار عندنا والله أعلم وقد قال قوم في الخرص غير هذا القول قالوا انه قد كان في أول الزمان يفعل ما قال أهل المقالة الأولى من تمليك الخراص أصحاب الثمار حق الله فيها وهى رطب ببدل يأخذونه منهم تمرا ثم نسخ ذلك بنسخ الربا فردت الأمور الى أن لا يؤخذ في الزكوات إلا ما يجوز في البيعات وذكروا في ذلك ما

سہل بن سعد الساعدی نے ابو حمید الساعدی ؓ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے ہمارا گزروادی القریٰ میں ایک عورت کے کھجوروں کے باغ کے پاس سے ہو ا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اندازہ کرو ہم نے اور جناب رسول اللہﷺ نے اس کا اندازہ دس وسق سے لگایا آپ نے فرمایا اس کو اتنی مقدار جمع کر کے رکھنا ہم واپسی پ ان شاءاللہ تعالیٰ وصول کرلیں گے جب ہم تبوک سے واپس لو ٹے تو اس عورت سے جناب رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کھجور کی کتنی مقدار حاصل ہوئی اس نے کہا دس وسق ۔ اس روایت میں بھی یہ بات بتلائی گئی کہ انہوں نے اندازے کا حکم دیا اور اسے واپسی تک محفوظ کرنے کا حکم فرمایا اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ اندازہ کرنے کی وجہ سے وہ عورت اس کی مالک نہیں بنی اگر وہ پہلے سے اس کی مالک نہ ہو صرف اس اندازے سے مقصد یہ تھا کہ کھجوروں کی مقدار معلوم ہو جائے پھر وہ کٹائی کے وقت جتنی اس کے اندر زکوٰۃ بنتی ہے اتنی وہ وصول کر لے ۔ ہمارے نزدیک ان آ ثار کا یہی مطلب ہے ۔ واللہ اعلم ۔ بعض لوگوں نے "خرص "کے بارے میں ایک دوسرے قول کو اپنا یا ہے کہ یہ شروع زمانہ میں تو تھا جیسا کہ اول قول والے علماء نے کہا کہ اندازہ کرنے والے لوگ پھل والوں کو اللہ کے حق کا مالک بنا دیتے تھے جب کہ ابھی کھجور تر حالت میں ہوتی تھی اور پھر وہ اس کے بدلے میں ان سے خشک کھجور لے لیا کرتے تھے پھر یہ حکم سود کے منسوخ ہونے سے منسوخ ہو گیا اور تمام معاملات اس طرف لوٹا دئیے گئے کہ زکوٰۃ میں وہ چیز لی جائے جس کی خرید و فروخت درست ہو جیسا کہ یہ روایت بتلا رہی ہے۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← على بن عبد الرحمن وأحمد بن داود ← الوحاظي ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3025

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3026

2861 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا أبو الزبير عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الخرص وقال أرأيتم إن هلك الثمر أيحب أحدكم أن يأكل مال أخيه بالباطل فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا قد رأينا الزكاة تجب في أشياء مختلفة منها الذهب والفضة والثمار التي تخرجها الأرض والنخل والشجر والمواشي السائمة فكل قد أجمع أن رجلا لو وجبت عليه على ماله وهو ذهب أو فضة أو ماشية سائمة فسلم ذلك له المصدق على ما لا يجوز عليه البياعات أن ذلك غير جائز له ألا ترى إن رجلا لو وجبت عليه في دراهمه الزكاة فباع ذلك منه المصدق بذهب نسيئة أن ذلك لا يجوز وكذلك لو باعه منه بذهب ثم فارقه قبل أن يقبضه لم يجز ذلك وكذلك لو وجبت عليه في ماشيته الزكاة ثم سلم ذلك له المصدق ببدل مجهول أو ببدل معلوم الى أجل مجهول فذلك كله حرام غير جائز فكان كلما حرم في البياعات في بيع الناس ذلك بعضهم من بعض قد دخل فيه حكم المصدق في بيعه إياه من رب المال الذي فيه الزكاة التي يتولى المصدق أخذها منه فلما كان ما ذكرنا كذلك في الأموال التي وصفنا كان النظر على ذلك أيضا أن يكون كذلك حكم الثمار فكما لا يجوز بيع رطب بتمر نسيئة في غير ما فيه الصدقات فكذلك لا يجوز فيما فيه الصدقات فيما بن المصدق وبين رب المال فهذا هو النظر أيضا في هذا الباب وقد عاد ذلك أيضا الى ما صرفنا اليه الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم التي قدمنا ذكرها فبذلك نأخذ وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو الزبیر نے جابر ؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہﷺ نے خرص سے منع فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر پھل برباد ہو جائے کیا تم پسند کرتے ہوکہ اپنے بھائی کا مال ناجائز ذریعہ سے کھاو۔ یہ تو آثار کے انداز سے اس باب کی وضاحت ہے ۔ باقی غور و فکر کے طور پر اس کا حکم اس طرح ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ زکوٰۃ مختلف اشیا ء میں لازم ہوتی ہے۔ ان میں سونا، چاندی ، پھل جو زمین سے (غلہ جات کی صورت میں ) نکلیں ۔ کھجور اور دیگر پھل اور چرنے والے مویشی وغیرہ ۔ اس پر سب کا اجماع ہے کہ اگر کسی شخص پر اس کے مال میں جب کہ وہ سونا ، چاندی چرنے والے جانور ہوں اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کو ایسی چیز اس کے بدلے میں دے جس کی بیع جائز نہیں تو یہ مصدق کو جائز نہیں ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اگر کسی آدمی کے دراہم میں زکوٰۃ لازم ہوتی ۔ زکوٰۃ لینے والے نے اس سے سونے کے بدلے ادھار خرید لی۔ تو یہ بھی جائز نہیں ۔ اسی طرح اگر اس نے اسے سونے کے بدلے خرید لیا۔ پھر قبضہ سے پہلے جدا ہوگئے تو یہ بھی جائز نہیں اسی طرح اگر اس کے مو یشیوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ۔ پھر عامل نے اس کو بدل نامعلو م جو نامعلوم مدت کے لئے ہے اس کو دے دیا یہ سب حرا م اور ناجائز صورتیں ہیں تو ہر وہ چیز کو جس کا لوگوں کو باہمی خرید و فروخت کرنا حرام ہے۔ تو صدقہ وصول کرنے والا اس مال کے مالک سے جس میں زکوٰۃ لازم ہوئی اور یہ مصدق اس کی وصول کا ذمہ دار بنا وہ چیز بھی اسی حکم میں شامل ہے ۔ پس جب یہ باتیں جن کا تذکرہ ہو ا اموال مذکور کے سلسلہ میں اسی طرح ہیں ۔تو نظر کا تقاضہ بھی یہی ہےکہ پھلوں کا حکم بھی اسی طرح ہو ۔ پس جس طرح تر کھجور کو پختہ کھجور کے بدلے صدقات کے علاوہ مواقع میں ادھار فروخت نہیں کی جاسکتا۔ بالکل اسی طرح وہ اموال جن میں صدقات ہیں صدقہ وصول کرنے والے اور مال کے مالک کے مابین ان کی فروخت درست نہیں ۔ اس باب میں نظر کا یہی تقاضا ہے۔ یہ لوٹ کر مضمون وہی بن گیا جس کا تذکرہ آثار مرویہ میں کیا گیا ہے ۔ ہم انہی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد ﷺکا قول ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3026

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3027

2862 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا قبيصة بن عقبة قال ثنا سفيان عن زيد بن أسلم عن عياض بن عبد الله بن سعيد بن أبى سرح عن أبى سعيد الخدري قال كنا نعطى زكاة الفطر من رمضان صاعا من طعام أو صاعا من تمر أو صاعا من من شعير أو صاعا من أقط

عیاض بن عبداللہ بن سعید نے ابو سعید خدری ؓ سے نقل کیا کہ ہم صدقۃ الفطر رمضان میں طعام سے ایک صاع اور کھجور ، جو اور پنیر میں ایک ایک ساع دیا کرتے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عياض بن عبد الله بن سعيد بن أبى سرح ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3027

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3028

2863 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا أخبره عن زيد بن أسلم عن عياض بن عبد الله أنه سمع أبا سعيد يقول كنا نخرج صدقة الفطر صاعا من طعام أو صاعا من شعير أو صاعا من تمر أو صاعا من أقط أو صاعا من زبيب

عیاض بن عبداللہ کہتے میں نے ابو سعیدؓ کو فرماتے سنا کہ ہم طعام یا جو یا کھجوریا پنیر یا کشمش سے ایک صاع صدقۃ الفطر نکالتے تھے۔

أَبَا سَعِيدٍ ← عياض بن عبد الله أنه ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3028

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3029

2864 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا عبد الرحمن بن مهدى قال ثنا داود بن قيس عن عياض بن عبد الله بن سعد عن أبى سعيد قال كنا نخرج إذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم صدقة الفطر إما صاعا من طعام وإما صاعا من تمر وإما صاعا من شعير وإما صاعا من زبيب وإما صاعا من أقط فلم نزل نخرجه حتى قدم معاوية حاجا أو معتمرا فكان فيما كلم به الناس فقال أدوا مدين من سمراء الشام يعدل صاعا من شعير

عیا ض بن عبداللہ بن سعد نے ابو سعید خدری ؓ نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺْ کے زمانے میں صدقۃالفطر گندم یا کھجو ر یا جو یا کشمش یا پنیر میں سے ایک ایک صاع نکالا کرتے تھے ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک ک امیر معاویہ ؓ حج یا عمرہ کے لئے آئے تو انہوں نے لوگوں سے کہا تم شام کی گندم کے دو مد د دیا کرو جو کے ایک صاع کے برابر ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3029

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3030

2865 - حدثنا يونس قال أخبرني عبد الله بن نافع عن داود بن قيس عن عياض فذكر بإسناده مثله

داود بن قیس نے عیا ض بن عبداللہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔

عياض فذكر بإسناده مثله ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3030

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3031

2866 - حدثنا بن مرزوق قال أنا عثمان بن عمر قال ثنا داود فذكر بإسناده مثله وزاد قال أبو سعيد أما أنا فلا أزال أخرج كما كنت أخرج

عثمان بن عمر نے داود سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں تو اب تک اسی طرح گندم کا بھی ایک ہی نکالتا ہوں جیسا پہلے نکالتا تھا۔

فلا أزال أخرج كما كنت أخرج ← أبو سعيد أما ← داود فذكر بإسناده مثله وزاد ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3031

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3032

2867 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن زيد بن أسلم عن عياض عن أبى سعيد قال كانوا في صدقة رمضان من جاء بصاع من شعير قبل منه ومن جاء بصاع من أقط قبل منه ومن جاء بصاع من تمر قبل منه ومن جاء بصاع من زبيب قبل منه

عیاض نے ابو سعید ؓ سے روایت کی ہے کہ صدقۃالفطر میں جو شخص جو کا صاع لاتا اس سے قبول کرلیا جاتا اور جو بنیر کا صاع لاتا وہ اس سے قبول کرلیا جاتا اور کھجور کا صاع لاتا تو اس سے قبول کر لیا جاتا اور جو کشمش کا صاع لاتا وہ اس سے قبول کر لیا جاتا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عِيَاضٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3032

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3033

2868 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث ح

ربیع المو ذن نے شعیب بن لیث سے نقل کی ہے۔

شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3033

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3034

وحدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قالا ثنا الليث عن يزيد بن أبى حبيب عن عبد الله بن عثمان أن عياض بن عبد الله حدثه أن أبا سعيد قال إنما كنا نخرج على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاع أقط لا نخرج غيره فلما كثر الطعام في زمن معاوية جعلوه مدين من حنطة

عیاض بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم کھجور کا ایک صاع اسی طرح جو، پنیر کا ایک ایک صاع نکالتے تھے اس کے علاوہ نہ نکالتے تھے جب گندم امیر معاویہ کے زمانے میں زیادہ ہوئی تو لوگوں نے گندم کے دو مد مقر ر کردئیے۔

أن أبا سعيد ← عبد الله بن عثمان أن عياض بن عبد الله ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3034

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3035

2869 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عبد الله بن عبد الله بن عثمان عن عياض بن عبد الله قال سمعت أبا سعيد وهو يسأل عن صدقة الفطر قال لا أخرج إلا ما كنت أخرج على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاعا من زبيب أو صاعا من أقط فقال له رجل أو مدين من قمح فقال لا تلك قيمة معاوية لا أقبلها ولا أعلم بها قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذه الآثار فقالوا في صدقة الفطر من أحب أن يعطيها من الحنطة أعطاها صاعا وكذلك إن أحب أن يعطيها من الشعير أو التمر أو الزبيب وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا يعطى صدقة الفطر من الحنطة نصف صاع ومما سوى الحنطة من الأصناف التي ذكرنا صاعا وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن حديث أبى سعيد الذي احتجوا به عليهم إنما فيه أخبار عما كانوا يعطون وقد يجوز أن كانوا يعطون من ذلك ما عليهم ويزيدون فضلا ليس عليهم وقد روى عن غير أبى سعيد في الحنطة خلاف ما روى عن أبى سعيد فمن ذلك ما حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد ح

عیاض بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو سعید الخدری ؓ سے سنا جبکہ ان سے صدقۃ الفطر کا سوال ہوا کہ میں تو آج بھی وہی نکالتا ہوں جو جناب رسول اللہﷺ کے زمانے نکالا کرتا تھا وہ کھجور ، جو ، کشمش ، پنیر ہر ایک میں ایک ایک صاع ہے ایک آدمی نے کہا یا گندم کے دو مد؟ تو آپ نے فرمایا نہیں یہ معاویہ نے قیمت لگائی ہے میں اس کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی میں اس پر عمل کروں گا ۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں علما کی ایک جماعت نے ان آثار کو اختیار کرتے ہوئے کہا جو شخص صدقۃ الفطر گندم سے ادا کرنا چاہے تو وہ گندم کا ایک صاع اور جو یا کھجور اور کشمش دینا چاہیے تو وہ بھی اسی قدر ہوں گے ۔ مگر دیگر علماء نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ گندم سے نصف صاع صدقۃالفطر د ے اور جو وغیرہ سے پورا صاع ادا کرے ۔ قول اول کے قائلین کے خلاف ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابو سعید ؓ کی جس روایت سے استدلال کیا میں تو اس بات کی اطلاع ہے جو وہ دیا کرتے تھے اور اس میں یہ کہنا ممکن ہے کہ وہ اس میں سے وہ بھی دیتے تھے جو ان پر لازم تھا اور کچھ زائد اپنے طور پر دیتے ہوں اور حضرت ابو سعید ؓ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سے گندم کے متعلق اس کے خلاف روایت وارد ہے۔ ذیل میں ملا حظہ ہو۔

صَدَقَةُ الْفِطْرِ ← أبا سعيد وهو يسأل ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3035

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 9 باب مقدار صدقة الفطر ) · حديث 3036

وحدثنا فهد قال ثنا بن أبى مريم قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة وقال بن أبى مريم أنا بن لهيعة عن أبى الأسود عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبى بكر رضي الله عنهما قالت كنا نؤدى زكاة الفطر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم مدين من قمح

فاطمعہ بنت المنذر نے اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہﷺ کے زمانہ میں صدقۃالفطر گندم کے دو مد نکالا کرتے تھے۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← بن لهيعة ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن لهيعة ← أسد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3036

chevron_left Previous
1…121314…45
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter