شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3025
2860 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قالا ثنا الوحاظي ح وحدثنا على بن عبد الرحمن وأحمد بن داود قالا ثنا القعنبي قالا ثنا سليمان بن بلال قال ثنا عمرو بن يحيى المازني عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي عن أبى حميد الساعدي قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فأتينا وادى القرى على حديقة امرأة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اخرصوها فخرصها رسول الله صلى الله عليه و سلم وخرصناها عشرة أوسق وقال أحصيها حتى أرجع إليك إن شاء الله تعالى فلما قدمناها سألها رسول الله صلى الله عليه و سلم عن حديقتها كم بلغ تمرها قالت عشرة أوسق ففي هذا الحديث أيضا أنهم خرصوها وأمروها بأن تحصيها حتى يرجعوا إليها فذلك دليل على انها لم تملك بخرصهم إياها ما لم تكن مالكة له قبل ذلك وانما أرادوا بذلك أن يعلموا مقدار ما في نخلها خاصة ثم يأخذون منها الزكاة في وقت الصرام على حسب ما يجب فيها فهذا هو المعنى في هذه الآثار عندنا والله أعلم وقد قال قوم في الخرص غير هذا القول قالوا انه قد كان في أول الزمان يفعل ما قال أهل المقالة الأولى من تمليك الخراص أصحاب الثمار حق الله فيها وهى رطب ببدل يأخذونه منهم تمرا ثم نسخ ذلك بنسخ الربا فردت الأمور الى أن لا يؤخذ في الزكوات إلا ما يجوز في البيعات وذكروا في ذلك ما
سہل بن سعد الساعدی نے ابو حمید الساعدی ؓ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے ہمارا گزروادی القریٰ میں ایک عورت کے کھجوروں کے باغ کے پاس سے ہو ا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اندازہ کرو ہم نے اور جناب رسول اللہﷺ نے اس کا اندازہ دس وسق سے لگایا آپ نے فرمایا اس کو اتنی مقدار جمع کر کے رکھنا ہم واپسی پ ان شاءاللہ تعالیٰ وصول کرلیں گے جب ہم تبوک سے واپس لو ٹے تو اس عورت سے جناب رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کھجور کی کتنی مقدار حاصل ہوئی اس نے کہا دس وسق ۔ اس روایت میں بھی یہ بات بتلائی گئی کہ انہوں نے اندازے کا حکم دیا اور اسے واپسی تک محفوظ کرنے کا حکم فرمایا اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ اندازہ کرنے کی وجہ سے وہ عورت اس کی مالک نہیں بنی اگر وہ پہلے سے اس کی مالک نہ ہو صرف اس اندازے سے مقصد یہ تھا کہ کھجوروں کی مقدار معلوم ہو جائے پھر وہ کٹائی کے وقت جتنی اس کے اندر زکوٰۃ بنتی ہے اتنی وہ وصول کر لے ۔ ہمارے نزدیک ان آ ثار کا یہی مطلب ہے ۔ واللہ اعلم ۔ بعض لوگوں نے "خرص "کے بارے میں ایک دوسرے قول کو اپنا یا ہے کہ یہ شروع زمانہ میں تو تھا جیسا کہ اول قول والے علماء نے کہا کہ اندازہ کرنے والے لوگ پھل والوں کو اللہ کے حق کا مالک بنا دیتے تھے جب کہ ابھی کھجور تر حالت میں ہوتی تھی اور پھر وہ اس کے بدلے میں ان سے خشک کھجور لے لیا کرتے تھے پھر یہ حکم سود کے منسوخ ہونے سے منسوخ ہو گیا اور تمام معاملات اس طرف لوٹا دئیے گئے کہ زکوٰۃ میں وہ چیز لی جائے جس کی خرید و فروخت درست ہو جیسا کہ یہ روایت بتلا رہی ہے۔
أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← على بن عبد الرحمن وأحمد بن داود ← الوحاظي ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3025
