Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3013

2848 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب قال ثنا عمي عبد الله بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن سالم عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما سقت السماء العشور وفيما سقى بالسانية نصف العشور

سالم نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا جس کو بارش کا پانی سیراب کرے ان میں عشر ہے اور جو اونٹنی سے سیراب کیا جائے اس میں نصف عشر ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3013

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3014

2849 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال ثنا بن لهيعة عن يزيد بن أبى حبيب عن بن شهاب عن سالم عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم فرض فيما سقت الأنهار والعيون أو كان عثريا يسقى بالسماء العشور وفيما سقى بالناضح نصف العشور

سالم نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی روایت نقل کی ہے کہ جس کو نہر یں اور چشمے سیراب کریں یا اس کو بادل سیراب کرے ان میں عشر ہے اور جس کو اونٹ راہٹ سے پلائیں ان میں نصف عشر ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3014

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3015

2850 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا سعيد بن أبى مريم قال أنا عبد الله بن وهب قال حدثني يونس بن يزيد عن بن شهاب عن سالم عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سالم نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول ﷺ سے اسی روایت نقل کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3015

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3016

2851 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن أبى مريم قال ثنا بن لهيعة عن يزيد بن أبى حبيب عن بن شهاب عن سالم عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سالم نے اپنے والد سے ، انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3016

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3017

2852 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني عمرو بن الحارث أن أبا الزبير حدثه أنه سمع جابر بن عبد الله يذكر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال فيما سقت الأنهار والغيم العشور وفيما سقي بالسانية نصف العشور قال أبو جعفر ففي هذه الآثار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل فيما سقت السماء ما ذكر فيها ولم يقدر في ذلك مقدار ففي ذلك ما يدل على وجوب الزكاة في كل ما خرج من الأرض قل أو كثر فان قال قائل ممن يذهب الى قول أهل المدينة إن هذه الآثار التي رويتها في هذا الفصل غير مضادة للآثار التي رويتها في الفصل الأول إلا أن الأولى مفسرة وهذه مجملة فالمفسر من ذلك أولى من المجمل قيل له هذا محال لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبر في هذه الآثار أن ذلك الواجب من العشر أو نصف العشر فيما يسقى بالأنهار أو بالعيون أو بالرشاء أو بالدالية فكان وجه الكلام على كل ما خرج مما سقي بذلك وقد رويتم أنتم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه رد ماعزا عند ما جاء فأقر عنده بالزنا أربع مرات ثم رجمه بعد ذلك ورويتم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأنيس أغده على امرأة هذا فان اعترفت فارجمها فجعلتم هذا دليلا على أن الاعتبار بالإقرار بالزنا مرة واحدة لأن ذلك ظاهر قول رسول الله صلى الله عليه و سلم فان اعترفت فارجمها ولم تجعلوا حديث ماعز المفسر قاضيا على حديث أنيس المجمل فيكون الإعتراف المذكور في حديث أنيس المجمل هو الإعتراف المذكور في حديث ماعز المفسر فإذ كنتم قد فعلتم هذا فيما ذكرنا فما تنكرون على من فعل في أحاديث الزكوات ما وصفنا بل حديث أنيس أولى أن يكون معطوفا على حديث ماعز لأنه ذكر فيه الإعتراف واقراره مرة واحدة ليس هو اعترافا بالزنا الذي يوجب الحد عليه في قول مخالفكم وحديث معاذ وابن عمر وجابر رضي الله عنهم في الزكاة إنما فيه ذكر إيجابها فيما سقى بكذا وفيما سقى بكذا فذلك أولى أن يكون مضادا لما فيه ذكر الأوساق من حديث أنيس لحديث ماعز وقد حمل حديث معاذ وجابر وابن عمر رضي الله عنهم على ما ذكرنا وذهب في معناه الى ما وصفنا إبراهيم النخعي ومجاهد

ابو الزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر ؓ سے جناب رسول ﷺ کیا یہ ارشاد نقل کرتے سنا کہ اُپ نصف عشر ہے ۔ان روایت میں جبنب رسول اللہﷺنے فرمایا :جس کو ندی اور بادل سیراب کرے اس میں عشر ہےاور جس کو راہٹ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے ۔اور جس کو راہٹ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے ۔ امام طحاوی ؒفرماتے ہیں ان روایات میں جناب رسول ﷺ نے بارش سے سیراب ہونے والی کھیتی میں صدقے کو لازم فرمایا اس میں کسی مقدار کی تعیین نہیں فرمائی ۔ اس سے یہ دلالت ملتی ہے کہ زمین سے نکلنے والی ہر چیز پر صدقہ لازم ہے ۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ تم نے اس فصل میں جن روایات کو نقل کیا وہ شروع باب کی روایات سے متضا د نہیں بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلی روایات میں یہ وضاحت ہے اور ان اجمال پس مفصل مجمل سے اولیٰ ہیں ۔ اس شخص کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ بات ناممکن ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان روایات میں یہ خبر دی کہ دسوا ں یا بیسواں حصہ ان اراضی میں لازم ہے۔ جن کو چشموں ، ڈولوں اور راہٹ سے سیراب کیاجائے ۔ اب رہا ان احادیث کو مجمل اور ان کو مفسر قرار دینا تو ہر مقام پر یہ محمول نہیں کیا جاتا ہا ں فریق اول کے ہاں مفسر کا متروک ہو کر مجمل پر عمل ہونا تسلیم شدہ ہے ملا حظہ کریں ماعز اسلمیؓ کا اقرار زنا چار مرتبہ ہے اور اس کو مسلم نے فی الحدودص۱۷میں نقل کیا ہے اور دو سری طرف اینس بن ضحاک اسلمیؓ کی روایت میں عورت والے واقعہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کل صبح جا کر اس عورت سے دریافت کر لو اگر وہ اقرار کر لے تو اس کو رحم کر دینا مسلم فی الحد ودنمبر ۲۵میں یہ روایت موجود ہے چنانچہ اس عورت نے اقرار کیا تو اس کو سنگسار کر دیا گیا تمہارے ہاں حدیث اینس ؓ کے پیش نظر چار مرتبہ اقرار ضروری نہیں بلکہ ایک مرتبہ کو کافی کہتے ہو اس کا قاعدہ کو باب الزکوٰۃ میں مسلم نہیں مانتے ہو کہ مجمل کو مفسر پر محمول کرکے اقرار کو چار مرتبہ ضروری قرار نہیں دیتے تو یہاں بھی ان روایات کو جو بقول تمہارے مجمل ہیں اسی عام پر حکم پر رکھیں گے اور شخصیص مقدار والی روایات پر محمول نہ کریں گے پس روایات معاذ، ابن عمر، جابر جو ہر پیداوار میں عشر ثابت کرتی ہیں خواہ اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ انہی کو افضل قراردے کر ان کو معمول بہا ٹھہرایا جائے گا اوساق والی روایات سے استدلال درست نہ ہوگا چنانچہ تا بعین میں امام ابراہیم و مجاہد رحمہم اللہ نے اسی کے موافق فتویٰ اختیار کیا ہے۔

أبو جعفر ففي هذه الآثار ← فيما سقت الأنهار والغيم العشور وفيما سقي بالسانية نصف العشور ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ؛ ← أَنَّهُ ← عمرو بن الحارث أن أبا الزبير ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3017

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3018

2853 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال أنا شريك عن منصور عن إبراهيم قال في كل شيء أخرجت الأرض الصدقة

شریک نے منصور سے انہوں نے ابراہیم سے نقل کیا ہر چیز جو زمین نکالے اس میں صدقہ ہے۔

في كل شيء أخرجت الأرض الصدقة ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3018

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3019

2854 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا على بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن خصيف عن مجاهد قال سألته عن زكاة الطعام فقال فيما قل منه أو كثر العشر ونصف العشر والنظر الصحيح أيضا يدل على ذلك وذلك أنا رأينا الزكوات تجب في الأموال والمواشي في مقدار منها معلوم بعد وقت معلوم وهو الحول فكانت تلك الأشياء تجب بمقدار معلوم ووقت معلوم ثم رأينا ما تخرج الأرض يؤخذ منه الزكاة في وقت ما تخرج ولا ينتظر به وقت فلما سقط أن يكون له وقت يجب فيه الزكاة بحلوله سقط أن يكون له مقدار يجب الزكاة فيه ببلوغه فيكون حكم المقدار والميقات في هذا سواء إذا سقط أحدهما سقط الآخر كما كانا في الأموال التي ذكرنا سواء لما ثبت أحدهما ثبت الآخر فهذا هو النظر وهو قول أبى حنيفة رحمه الله تعالى

خصیف نے مجاہد سے نقل کیا کہ میں نے ان سے کھانے کی اشیا ء کے صدقہ سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس کے قلیل و کثیر میں عشر اور نصف عشر ہے ۔ درست غور و فکر بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اموال اور مویشوں میں زکوٰۃ کی مقررہ مقدار سال گزرنے کے بعد لازم ہے ۔ تو ان اشیا ء میں ایک مقدار معلوم ایک مخصو ص وقت میں لازم ہے پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین کی پیداوار میں جو زکوٰۃ لی جاتی ہے وہ اسی وقت ہے جب وہ پیداوار ہو اس کےلیے کسی وقت کا انتظار نہیں کیا جاتا جب اس کی زکوٰۃ کے لیے وقت سا قط ہو گیا تو اس کی مقدار واجبہ بھی ساقط ہونی چاہیے جس تک پہنچے پر زکوٰۃ دی جائے ۔ پس اس میں وقت و مقدار کا حکم یکساں ہوگا جب ایک ساقط ہوگا تو دوسرا بھی ساقط ہوجائے گا ۔ جیسا کہ مذکورہ اموال میں یہ دونوں چیز یں برابر ہیں۔ کہ جب ایک ثابت ہو تو دوسری بھی ثابت ہوجائے نظر کا یہی امام ابو حنیفہؒ کا قول ہے۔

زكاة الطعام ← سَأَلْتُهُ ← مُجَاهِدٍ ← خُصَيْفٍ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3019

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3020

2855 - حدثنا يزيد بن سفيان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر رضي الله عنهما قال كانت المزارع تكرى على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم على إن لرب الأرض ما على الساقي من الزرع وطائفة من التبن لا أدرى كم هو قال نافع فجاء رافع بن خديج وأنا معه فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطى خيبر يهود على أنهم يعملونها ويزرعونها على أن لهم نصف ما يخرج منها من ثمر أو زرع على أن نقر كم فيها ما بدا لنا قال فخرصها عليهم عبد الله بن رواحة فصاحوا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم من حرصه فقال لهم عبد الله بن رواحة أنتم بالخيار إن شئتم فهى لكم إن شئتم فهى لنا نخرصها ونؤدي إليكم نصفها فقالوا بهذا قامت السماوات والأرض

نافع نے ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین ٹھیکہ پر دی جاتی تھی اس کا طریقہ یہ تھا کہ زمین کے مالک کو اتنی مقدار ملے گی جتنی کھیت کے پانی کے کنارے کے قریب ہے اور کچھ بھوسہ دیا جائے گا مجھے معلوم نہیں اس کی مقدار کیا تھی نافع کہتے ہیں کہ رافع بن خدیج آئے اور میں ان کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا جناب رسول اللہﷺ نے یہود کو خیبر کی زمینیں اس شرط پر عنایت فرمائیں کہ وہ کام کریں گے اور کھیتی لگائیں گے اور کل پیداوار کا نصف مسلمانوں کو دیں گے خواہ غلہ ہو یا پھل اور جب تک مناسب ہوگا ہم تمہیں یہاں ٹھہرا ئیں گے پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن رواجہ کو اندازہ کرنے کےلیے مقر ر فرمایا تو انہوں نے ان کے اندازے کی جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں فریاد کی؟ تو جناب عبداللہ نے فرمایا تمہیں اس میں اختیارہے اگر چاہو تم لے لو اور اگر ہم چاہیں گے ہم لے لیں گے ہم اندازہ کریں گے اور اس کا نصف جو بنے گا وہ تمہیں ادا کر دیں گے وہ کہنے لگے یہی وہ عدل و انصاف ہے جس کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں ۔

بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3020

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3021

2856 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو عون الزيادي قال ثنا إبراهيم بن طهمان قال ثنا أبو الزبير عن جابر رضي الله عنه قال أفاء الله خيبر فأقرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم كما كانوا وجعلها بينه وبينهم فبعث عبد الله بن رواحة فخرصها عليهم ثم قال يا معشر اليهود أنتم أبغض الخلق إلي قلتم أنبياء الله وكذبتم على الله وليس يحملني بغضي إياكم أن أحيف عليكم وقد خرصت عليكم بعشرين ألف وسق من تمر فان شئتم فلكم وإن شئتم فلى

ابو الزبیر نے جابر ؓ سے روایت کی ہے اللہ تعالیٰ نے مال فئی کے طور پر خیبر عنایت فرمایا جناب رسول اللہﷺ نے ان کو ان زمینوں پر بر قرار رکھا جیسا پہلے تھے اور اس پیداوار کو اپنے اور ان کے مابین بانٹ لیا پھر آپ نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو بھیجا انہوں نے اندازہ لگایا پھر فرمایا اے یہود ! تم میرے ہاں مخلوق میں مبغوض ترین لوگ ہو تم نے انبیا ءؑ کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے مگر میرا بغض تمہارے متعلق مجھے اس بات پر آمادہ نہ کرے گا کہ میں پر ظلم کرو ں میں نے تمہارے متعلق اندازہ لگایا کہ کھجور کی مقدار بیس ہزار و سق ہوگی اگر تم چاہو تم لے لو اور اگر چاہو مجھے دے دہ۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3021

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3022

2857 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إبراهيم بن المنذر قال ثنا عبد الله بن نافع قال ثنا محمد بن صالح عن بن شهاب عن سعيد بن المسيب عن عتاب بن أسيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمره أن يخرص العنب زبيبا كما يخرص الرطب قال أبو جعفر فذهب قوم أن الثمرة التي يجب فيها العشر هكذا حكمها تخرص وهى رطب تمرا فيعلم مقدارها فتسلم الى ربها ويملك بذلك حق الله تعالى فيها ويكون عليه مثلها مكيلة ذلك تمرا وكذلك يفعل في العنب واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا ذلك وقالوا ليس في شيء من هذه الآثار أن التمرة كانت رطبا في وقت ما خرصت في حديث بن عمر وجابر رضي الله عنهما وكيف يجوز أن يكون كانت رطبا حينئذ فتجعل لصاحبها حق الله فيها بمكيلة ذلك تمرا يكون عليه نسيئة وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع التمر في رءوس النخل بالتمر كيلا ونهى عن بيع الرطب بالتمر نسيئة وجاءت بذلك عنه الآثار المروية الصحيحة قد ذكرنا ذلك في غير هذا الموضع من كتابنا هذا ولم يستثن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك شيئا فليس وجه ما روينا في الخرص عندنا على ما ذكرتم ولكن وجه ذلك عندنا والله أعلم أنه إنما أريد بخرص بن رواحة ليعلم به مقدار ما في أيدى كل قوم من الثمار فيؤخذ مثله بقدره في وقت الصرام لا أنهم يملكون منه شيئا مما يجب لله فيه ببدل لا يزول ذلك البدل عنهم وكيف يجوز ذلك وقد يجوز أن تصيب بعد ذلك آفة فتتلفها أو نار فتحرقها فتكون ما يؤخذ من صاحبها بدلا من حق الله تعالى فيها مأخوذا منه بدلا مما لم يسلم له ولكنه إنما أريد بذلك الخرص ما ذكرنا وكذلك في حديث عتاب بن أسيد فهو على ما وصفنا من ذلك أيضا وقد دل على ذلك أيضا ما

سعید بن المسیب سے عتاب بن اسیدؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ انگور کا اندازہ کشمش کے طور پر لگایا جائے جیسا کہ تازہ کھجور سے کھجور کا اندازہ کیا جاتاہے ۔ اما م طحاوی ؒنے فرمایا علماء کی ایک جماعت نے فرمایا کہ جس پھل میں عشر واجب ہے ۔ اس کا حکم یہ ہے کہ جب تر کھجور کی صورت میں ہو تو اس کی مقدار معلوم کرلی جائے اور اس کے مالک کے ان کو سپرد کردیا جائے اس سے ان میں اللہ تعالیٰ کا حق اس مالک پر لازم ہو جائے گا ۔ جب وہ یک جائیں اسی کیل سے کھجور اس پر لازم ہوگی انگوروں کے سلسلہ میں بھی اسی طرح کیا جائے گا ۔ انہوں نے ان آثار کو دلیل نہ بنایا مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے اس کو مکروہ قرار دیا اور کہا کہ ان آثار میں اس سلسلہ کی کوئی با ت نہیں ہے کہ کھجور کو تر حالت میںاندازہ کیا جائے ۔ نہ تو حدیث ابن عمر میں اور نہ جابر ؓ میں تو پھر یہ کہنا کیسے درست ہو ا کہ تر کھجور سے ہی ان کھجوروں کے مالک پر کیل کے ذریعے سے حق لازم کردیاجائے اور وہ پکی ہوئی کھجور تو اس کے ذمہ ادھار ہو جائے گی حا لانکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے درخت کے اوپر کھجور کے بدلے میں کھجور کو کیل کرنے سے منع فرمایا اسی طرح آپ نے تر کھجوروں کو خشک کھجور کے بدلے ادھار فروخت سے منع فرمایا اور اس سلسلے میں بہت ساری صحیح روایات وارد ہیں جن کو ہم نے اپنی اسی کتاب میں دوسرے مقام پر ذکر کیا ہے ۔ جناط رسول اللہ ﷺ نے کسی صورت کو مستشنیٰ نہیں فرمایا ۔ فلہذا ہمارے ہاں اندازہ کرے کے سلسلے میں وہ صورت نہیں ہے جو تم نے بیان کی ہے بلکہ ہمارے اس کہنے کا مطلب یہ ہے (واللہ اعلم )کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ سے اندازہ لگوانے کا مطلب یہی تھا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جماعت کے پاس کتنا پھل ہے تاکہ کٹائی کے وقت اتنا پھل ان سے لے لیا جائے ۔اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ وہ اندازہ کرنے سے اس چیز کے مالک بن گئے جس میں اللہ کا حق ان پر واجب ہو گیا اور جس کا بدل ادا کرنا ان کو ضروری ہو گیا ۔ آپ ہی فرمائیں کہ یہ کس طرح جائز ہے کہ اس کے بعد کہ آفت سے وہ پھل ہلاک ہو جائے یا آگ سے جل جائے تو گویا مالک سے ایسی چیز کا بد ل لیا جارہا ہے جو اس نے وصول ہی نہیں کی۔ پس اس اندازہ سےوہی مراد ہے جو ہم نے مراد لیا اور حضرت عتاب بن اسید ؓ کی روایت میں اسی بات کا تذکرہ ہے جو ہم نے بیان کی اور یہ روایت بھی اس پر دلالت کررہی ہے۔

عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3022

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3023

2858 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن خبيب بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن مسعود بن نيار عن سهل بن أبى حثمة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع فقد علمنا أن ذلك لا يكون في وقت ما يؤخذ الزكاة لأن ثمرته لو بلغت مقدار ما يجب فيه الزكاة لم يحط عنه شيء مما وجب عليه فيها فأخذ منه ما وجب عليه فيها بكماله هذا مما اتفق عليه المسلمون ولكن الحطيطة المذكورة في هذا الحديث إنما هى قبل ذلك في وقت ما يأكل من الثمرة أهلها قبل أوان أخذ الزكاة منها فأمر الخراص أن يلقوا مما يخرصون المقدار المذكور في هذا الحديث لئلا يحتسب به على أهل الثمار في وقت أخذ الزكاة منهم وقد روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كان يأمر الخراص بذلك أيضا

عبدالرحمنٰ بن مسعود بن دینار نے سہل بن ابی حثمہ ؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اندازہ کر لو تو کم از کم ثلث کو چھوڑدو اور اگر تم ثلث نہ چھوڑ و تو ربع تو ضرور چھوڑ دو۔ ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ اس وقت کا حکم نہیں جب زکوٰۃ لی جائے کیونکہ جب پھل کی مقدار اتنی ہوجائے جس پر زکوٰۃ لازم ہے تو جتنی زکوٰۃ لازم ہے اس سے کم نہیں کیا جاسکتا بلکہ پورے واجب کو وصول کیا جائے گا اس پر پوری امت کا اتفاق ہے تو اس روایت میں جتنی مقدار کو چھوڑنے کا ثذکرہ ہے تو اس وقت کی بات ہے جب زکوٰۃ کی ادائیگی سے پہلے مالکوں کو اس سے کھانے کی ضرورت پڑتی ہے تو اندازہ لگانے والے کو حکم دے دیا کہ پھل کی جس مقدار کا وہ اندازہ لگائیں اس میں ثلث یار بع کو چھوڑدیں تاکہ باغات کا عشر و صول کرتے ہوئے اس کو حساب میں شامل نہ کیاجائے ۔ حضرت فاروق اعظم ؓ اندازہ لگانے والے کو اس بات کا حکم فرماتے تھے، جیسا کہ اگلے اثر سے واضح ہے۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3023

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3024

2859 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا أبو بكر بن عياش عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار عن سعيد بن المسيب قال بعث عمر بن الخطاب رضي الله عنه سهل بن أبى حثمة يخرص على الناس فأمره إذا وجد القوم في نخلهم أن لا يخرص عليهم ما يأكلون فهذا أيضا دليل على ما ذكرنا وقد روى عن أبى حميد الساعدي أيضا في صفة خرص رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على ما ذكرنا

سعید بن المسیب ؒ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نھے سہل بن حثمہ ؓ کو حکم دیا وہ لوگوں کے پھلوں کا اندازہ لگائے اور فرمایا جب لوگوں کو کھجوروں میں پاو تو جو وہ کھالیں اس کو خرص میں شمار نہ کرو۔ یہ ہماری بات کی دلیل ہے اور حضرت ابو حمید ساعدی نے بھی جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی بات نقل کی ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3024

chevron_left Previous
1…111213…45
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter