Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2989

2824 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا حماد عن عطاء بن السائب عن حرب بن عبيد الله عن رجل من أخواله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم استعمله على الصدقة وعلمه الإسلام وأخبره بما يأخذ فقال يا رسول الله كل الإسلام قد علمته إلا الصدقة أفأعشر المسلمين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما يعشر اليهود والنصارى ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثه على الصدقة وأمره أن لا يعشر المسلمين وقال له إنما العشور على اليهود والنصارى فدل ذلك أن العشور المرفوعة عن المسلمين هي خلاف الزكاة

عطاء بن السائب نے حرب بن عبیدا للہ سے انہوں نے اپنے اخوال میں سے ایک آدمی سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ کا عامل مقرر فرمایا اور اس کو اسلام کے احکام سکھائے اور اسے بتلایا کچھ تم نے لینا ہے اس نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے صدقے کے سواء سارا اسلام سکھا دیا کیا میں عشر وصول کر وں گا؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود ونصاری پر دسواں حصہ ہے اس روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقات پر مقررفرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ مسلمانوں دسواں کے حصہ وصول نہ کریں اور ارشاد فرمایا ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتے ہیں اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ عشر جس کی معافی کا اعلان فرمایا وہ زکوۃ سے الگ چیز ہے اس کی وضاحت حسین بن نصر کی روایت سے ہو تی ہے ۔

رجل من أخواله ← حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2989

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2990

2825 - ومما يبين ذلك أيضا أن حسين بن نصر حدثنا قال ثنا الفريابي قال أنا سفيان عن عطاء بن السائب عن حرب بن عبيد الله الثقفى عن خال له من بكر بن وائل قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسألته عن الإبل والغنم أعشرهن قال إنما العشور على اليهود والنصارى وليس على المسلمين فدل هذا على أن العشر الذي ليس على المسلمين المأخوذ من اليهود والنصارى هو خلاف الزكاة لأن ما يؤخذ من النصارى واليهود من ذلك إنما هو حق للمسلمين واجب عليهم كالجزية الواجبة لهم عليهم والزكاة ليست كذلك لأنها إنما تؤخذ طهارة لرب المال وهو مثاب على أدائها واليهود والنصارى ليس ما يؤخذ منهم من العشر طهارة لهم ولا هم مثابون عليه فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يؤخذ منهم مما لا ثواب لهم عليه وأقر ذلك على اليهود والنصارى

حرب بن عبیداللہ ثقفی نے اپنے ماموں سے جو بکر بن وائل سے ہیں بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اورمیں نے آپ سے اونٹوں اور بکریوں کے عشر کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا یہ عشور تو یہود نصاری پر ہیں مسلمانوں پر واجب نہیں ۔ اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ دسواں حصہ مسلمانوں پر لازم نہیں اور وہ یہود نصاری سے وصول کیا جاتا ہے وہ زکوۃ کے خلاف ہے ۔ کیونکہ جو کچھ یہود نصاریٰ سے لیا جاتا ہے وہ مسلمانوں کا حق ہے اور ا ن پر جزیہ کی طرح لازم ہے حالانکہ زکوۃ کی یہ صورت نہیں ہے کیونکہ وہ مالدار کے مال پاکیزگی کے لیے لی جاتی ہے اور اس کی ادائیگی پر ثواب ہے جس کو یہود نصاریٰ سے جو دسواں حصہ وصول کیا جاتا ہے وہ ان کو طہارت کا باعث نہیں اور نہ ہی ان کو اس پر کچھ ثواب ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے وہ چیز ہٹا دی جس میں ان کو کچھ ثواب نہیں اور یہود و نصاریٰ پر قائم رہنے دیا ۔

الإبل والغنم أعشرهن ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسألته ← خال له من بكر بن وائل ← حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ومما يبين ذلك أيضا أن حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2990

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2991

2826 - حدثنا أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا أبو عامر قال ثنا بن أبى ذئب عن عبد الرحمن بن مهران أن عمر بن عبد العزيز كتب الى أيوب بن شرحبيل أن خذ من المسلمين من كل أربعين دينارا دينارا ومن أهل الكتاب من كل عشرين دينارا دينارا إذا كانوا يريدونها ثم لا تأخذ منهم شيئا حتى رأس الحول فإني سمعت ذلك ممن سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول ذلك ففي هذ الحديث أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم المصدقين أن يأخذوا من أموال المسلمين ما ذكرنا ومن أموال أهل الذمة ما وصفنا وقد روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ما قد وافق هذا

عبدالرحمن بن مہران کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ایوب بن شرجیل کو لکھا کہ مسلمانوں سے ہر چالیس دینار پر ایک دینار اور اہل کتاب سے ہر بیس دینار ہر ایک دینار جب کہ وہ چاہتے ہوں پھر سال کے گزرنے تک ان سے کچھ مت لو میں نے یہ باتیں اس سے سنی ہیں جس نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ یہی فرما رہے تھے پس اس روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ لینے والوں کو فرمایا کہ وہ مسلمانوں کے اموال سے وہی وصول کریں جس کا ہم نے تذکرہ کیا اور اہل ذمہ کے مال میں سے وہ جو ہم کہہ آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح فرمایا جو ہم ذکر کیا ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2991

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 5 باب الزكاة هل يأخذها الإمام أم لا ) · حديث 2992

2827 - حدثنا أبو بشر الرقى قال ثنا معاذ بن معاذ العنبري عن بن عون عن أنس بن سيرين قال أرسل الى أنس بن مالك رضي الله عنه فأبطأت عليه ثم أرسل الى فأتيته فقال إن كنت أرى أنى لو أمرتك أن تعض على حجر كذا وكذا ابتغاء مرضاتي لفعلت أخبرت لك عملا فكرهته أو أكتب لك سنة عمر رضي الله عنه قال قلت اكتب لي سنة عمر رضي الله عنه قال فكتب خذ من المسلمين من أربعين درهما درهما ومن أهل الذمة من كل عشرين درهما درهما وممن لا ذمة له من كل عشرة دراهم درهما قال قلت من لا ذمة له قال الروم كانوا يقدمون من الشام فلما فعل عمر رضي الله عنه هذا بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكره عليه منهم أحد منكر كان ذلك حجة واجماعا منهم عليه فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا قد رأيناهم أنهم لا يختلفون أن للامام أن يبعث الى أرباب المواشى السائمة حتى يأخذ منهم صدقة مواشيهم إذا وجبت فيها الصدقة وكذلك يفعل في ثمارهم ثم يضع ذلك في مواضع الزكوات على ما أمره به عز و جل لا يأبى ذلك أحد من المسلمين فالنظر على ذلك أن يكون بقية الأموال أن الذهب والفضة وأموال التجارات كذلك فأما معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس على المسلمين عشور إنما العشور على اليهود والنصارى فعلى ما قد فسرته فيما تقدم من هذا الباب وقد سمعت أبا بكرة يحكى ذلك عن أبى عمر الضرير وهذا كله قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روى عن يحيى بن آدم في تفسير قول النبي صلى الله عليه و سلم ليس على المسلمين عشور إنما العشور على اليهود والنصارى معنى غير المعنى الذي ذكرنا وذلك أنه قال إن المسلمين لا يجب عليهم بمرورهم علي العاشر في أموالهم ما لم يكن واجبا عليهم لو لم يمروا بها عليه لأن عليهم الزكاة على أي حال كانوا عليها واليهود والنصارى لو لم يمروا بأموالهم على العاشر لم يجب عليهم فيها شيء فالذى رفع عن المسلمين هو الذي يوجبه بالمال على العاشر ولم يرفع ذلك عن اليهود والنصارى

انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میری طرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا میں نے تاخیر کر دی انہوں نے دوبارہ بھیجا تو میں حاضر ہو ا انس کہنے لگے مجھے خیال آیا کہ میں تجھے حکم دیتا کہ فلاں فلاں پتھر چباؤ تا کہ تم مجھے راضی کرو تو ایسا حکم دے سکتا تھا میں نے ایک بات بتلائی اور تو نے اسے نا پسند کیا کیا میں تمہیں عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ لکھ دوں میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ لکھ دو ابن سرین کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ لکھ کر دیا کہ مسلمانوں سے ہر چالیس پر ایک درہم اور ذمیوں سے ہر بیس پر ایک درہم لو اور جو ذمی نہیں ہیں ان کے ہر دس درہم سے ایک درہم لو ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا غیر ذمی سے مراد کون لوگ ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا رومی لوگ جو شام سے اسلامی مملکت میں داخل ہوتے تھے وہ مراد ہیں ان سے ہرگز رنےپر ٹیکس لیا جائے گا ) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں اس کو نافد کیا تو کسی صحابی نے ان کی مخالفت نہ کی تو یہ اس معاملے میں دلیل اور اجماع صحابہ کرام ہے آثار کے طریق سے اس باب کی وضاحت اسی طرح ہے اب رہا نظر و فکر کے طور پر تو اس کی وضاحت اس طرح ہے ہم یہ بات جانتے ہیں کہ امام چرنے والے جانوروں کے مالکوں کے ہاں کسی بھی بھیج سکتا ہے جبکہ ان میں زکوۃ لازم ہو ۔ اسی طرح وہ پھلوں کے سلسلہ میں بھی کر سکتا ہے پھر وہ اس زکوۃ کو مصارف زکوۃ پر خرچ کرے گا جن کا تذکرہ قرآن مجیدمیں ہے ۔ اس سے تو کسی کو قطعا انکار نہیں پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ بقیہ اموال سونا ، چاندی تجارتی اموال بھی اسی طرح ہو ں باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ مسلمانوں پر دسواں نہیں بلا شبہ دسواں تو یہود و نصاریٰ پر ہے اس کی وضاحت سابقہ سطور میں کی جاچکی طحاوی کہتے ہیں میں نے خود ابوبکرہ کی سند سے اس کو ابو عمر الضریر سے نقل کیا ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے یحییٰ بن آدم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول لیس علی المسلمین عشور ۔۔۔۔کا معنی ہمارے معنی سے مختلف نقل کیا ہے اور وہ اس طرح کہ مسلمانوں پر عاشر کے پاس سے گزرنے پر کچھ لازم نہ آئے گا جب تک ان پر گزرجانے کے بغیر واجب نہ ہو کیونکہ ان کے ذمہ تو صرف زکوۃ ہے وہ کسی بھی حالت میں ہو اور یہود و نصاریٰ اگر عاشر کے پاس سے نہ گزریں تو ان پر بھی کچھ لازم نہ ہوگا پس وہ چیز جو مسلمانوں سے ہٹا لی گئی تو وہی ہے جو ل مال کے ساتھ عاشر کے قریب گزرنے سے لازم ہو تی ہے اور وہ یہود نصاریٰ سے نہیں ہٹائی گئی ۔

أرسل الى أنس بن مالك فأبطأت عليه ثم أرسل الى فأتيته ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← بن عون ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2992

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 6 باب ذوات العوار هل تؤخذ في صدقات المواشى أم لا ) · حديث 2993

2828 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد بن كاسب قال ثنا عيينة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت بعث النبي صلى الله عليه و سلم مصدقا في أول الإسلام فقال خذ الشارف والبكر وذوات العيب ولا تأخذ حزرات الناس قال هشام أرى ذلك ليستا لفهم ثم جرت السنة بعد ذلك

ہشام نے عروہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع اسلام میں ( جب مدینہ منورہ میں زکوۃ فرض ہوئی ) ایک عامل بھیجا اور اس کو فرمایا ان کے اموال سے بوڑھی اونٹنی اور جوان سال اونٹ اور عیب والے جانور وصول کرنا لوگوں کے اعلی اموال سے مت لینا ہشام راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ ان کو مانوس کرنے کے لیے شروع میں فرمایا آئندہ ایک طریقہ جاری ہوا۔

خذ الشارف والبكر وذوات العيب ولا تأخذ حزرات الناس ← بعث النبي صلى الله عليه و سلم مصدقا في أول الإسلام ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُيَيْنَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2993

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 6 باب ذوات العوار هل تؤخذ في صدقات المواشى أم لا ) · حديث 2994

2829 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب قال ثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه قال أبو جعفر فذهب قوم الى تقليد هذا الخبر وقالوا هكذا ينبغي للمصدق أن يأخذ وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يأخذ في الصدقات ذات عيب وانما يأخذ عدلا من المال واحتجوا في ذلك بما

ہشام نے اپنے والد سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے جو اسی طرح ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک گزر وہ علماء نے اس روایت کو اختیار کیا اور کہا کہ صدقہ کی وصولی کرنے والے کو اسی طرح لینا چاہیے مگر دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا زکوۃ میں عیب والا جانور نہ لیا جائے بلکہ درمیانی قسم کا جانور وصول کر ے ان کی دلیل یہ روایت ذیل ہے ۔

هكذا ينبغي للمصدق أن يأخذ وخالفهم في ذلك آخرون ← أبو جعفر فذهب قوم الى تقليد هذا الخبر ← النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2994

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 6 باب ذوات العوار هل تؤخذ في صدقات المواشى أم لا ) · حديث 2995

2830 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال حدثني أبى عن ثمامة بن عبد الله عن أنس أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه لما استخلف وجه أنس بن مالك رضي الله عنه إلى البحرين فكتب له هذا الكتاب هذه فريضة يعنى الصدقة التي فرض رسول الله على المسلمين التي أمر الله عز و جل بها رسوله صلى الله عليه و سلم فمن سئلها من المؤمنين على وجهها فليعطها ومن سأل فوقها فلا يعطه فذكر فرائض الصدقة وقال لا يؤخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس الغنم

ثمانہ بن عبداللہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کے زمانہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بحرین کی طرف روانہ کیا اور ان کو یہ خط تحریر کر کے دیا یہ صدقہ فرض ہے جس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مقرر کرنے کا حکم فرمایا ہے پس جو آدمی اس کو ای انداز سے طلب کرے اس کو دے دو اور جو اس سے زیادہ کا مطالبہ کرے اس کو نہ دیا جائے پھر آپ نے اس میں صدقے کے فرائض ذکر کیے اور فرمایا صدقہ میں بوڑھی اونٹنی نہ لی جائے اور نہ عیب والا جانور لیا جائے اور نہ بکریوں کا جفتی کرنے والا نر لیا جائے ۔

أَنَسٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2995

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 6 باب ذوات العوار هل تؤخذ في صدقات المواشى أم لا ) · حديث 2996

2831 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الحكم بن موسى قال ثنا يحيى بن حمزة قال ثنا سليمان بن داود قال حدثني الزهرى عن أبى بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتب كتابا الى أهل اليمن فيه الفرائض والسنن فكتب فيه لا يؤخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس الغنم فهكذا كانت كتب رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى بكر وعمر رضي الله عنهم تجرى من بعده وكتب علي رضي الله عنه بعد ذلك فدل ما ذكرنا على نسخ ما في حديث عائشة رضي الله عنها الذي بدأنا بذكره في هذا الباب وفيه أيضا ما يدل على تقديمه بما رويناه بعده وهو قول عائشة رضي الله عنها إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يبعث مصدقا في صدر الإسلام فأمره بذلك ونسخ ذلك بما ذكرنا في كتاب أبى بكر لأنس وفي كتاب عمرو بن حزم وهذا كله قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

زہری نے ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے انہوں نے اپنے والد اور اپنے دادا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے نام ایک خط لکھا اس میں فرائض و سنن دونوں کو ذکر فرمایا اس میں یہ بھی لکھا صدقات میں بہت بوڑھا جانور اور عیب دار جانور اور جفتی نر نہ لیا جائے اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او رابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کے خطوط اور علی رضی اللہ عنہ کے خطوط چلتے رہے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں جو کچھ مذکور ہے جو کہ اس باب کےشروع میں لکھا گیا ہے وہ منسوخ ہے نیز اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت صدیقہ نے جو فرمایا " ان رسول اللہ کان یبعث مصدقا فی صدر الاسلام فامرہ بذلک" کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع سلام میں مصدق کو بھیجتے اور اس کو حکم دیتے کہ یہ منسوخ ہے اور یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خط اور حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے خطوط میں مذکورہ احکام سے منسوخ ہوا یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2996

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 2997

2832 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان الثوري عن عمرو بن يحيى المازني عن أبيه عن أبى سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس فيما دون خمسة أوسق صدقة وليس فيما دون خمس ذود صدقة وليس فيما دون خمس أواق صدقة

عروہ بن یحیٰ مازنی نے اپنے والد سے انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم مقدار اور پانچ اونٹ سے کم انٹوں میں پانچ اوقیہ سے کم مقدار چاندی میں زکوۃ نہیں ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2997

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 2998

2833 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا همام عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن يحيى فذكر بإسناده مثله

یحییٰ بن سعید نے عمرو بن یحیی سے انہوں نے اپنی اسناد سےروایت نقل کی ہے ۔

عمرو بن يحيى فذكر بإسناده مثله ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← هَمَّامٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2998

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 2999

2834 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا يحيى بن سعيد عن عمرو فذكر بإسناده مثله

یحییٰ بن سعید نے عمرو بن یحیی سے انہوں نے اپنی اسناد سےروایت نقل کی ہے ۔

عمرو فذكر بإسناده مثله ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2999

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 7 باب زكاة ما يخرج من الأرض ) · حديث 3000

2835 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن عبد الله بن سالم ومالك وسفيان الثوري وعبد الله بن عمر أن عمرو بن يحيى حدثهم فذكر بإسناده مثله

۳۰۰۰۔سفیان ثوری اور عبداللہ بن عمر ، مالک ، یحییٰ بن عبداللہ نے عمرو بن یحییٰ سے روایت کی انہوں نے اپنی اسناد سے نقل کی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3000

chevron_left Previous
1…91011…45
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter