Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2728

2578 - حدثنا يونس قال أخبرني أنس بن عياض عن محمد بن عمرو بن واقد بن عمرو عن نافع بن جبير عن مسعود بن الحكم أنه قال سمعت عليا يقول أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالقيام في الجنازة ثم جلس بعد ذلك وأمرنا بالجلوس

مسعود بن حکم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوکہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ میں ہمیں قیام کا حکم فرمایا پھر آپ بیٹھنے لگے اور ہمیں بھی بیٹھنے کا حکم فرمایا۔

عَلِيًّا ← مَسْعُوْدُ بْنُ الْحَکَمِ اَنَّہٗ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← محمد بن عمرو بن واقد بن عمرو ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2728

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2729

2579 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبى مريم قال أنا محمد بن جعفر عن موسى بن عقبة عن إسماعيل بن الحكم بن مسعود الزرقي عن أبيه قال شهدت جنازة بالعراق فرأيت رجالا قياما ينتظرون أن توضع ورأيت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يشير إليهم أن اجلسوا فان النبي صلى الله عليه و سلم قد أمرنا بالجلوس بعد القيام

اسماعیل بن حکم زرقی سے اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں عراق میں ایک جنازے میں حاضر ہوا میں نےکچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ منتظر ہیں کہ جنازہ رکھا جائے اور تب بیٹھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ان کو اشارہ فرما رہے ہیں کہ بیٹھ جاو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہونے کا حکم دینے کا بعد بیٹھنے کا حکم فرمایا ۔

أَبِيهِ ← إسماعيل بن الحكم بن مسعود الزرقي ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2729

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2730

2580 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن محمد بن المنكدر عن مسعود بن الحكم عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فقمنا ورأيناه قعد فقعدنا فقد ثبت بما ذكرنا أن القيام للجنازة قد كان ثم نسخ فقال قوم إنما نسخ ذلك لخلاف أهل الكتاب واحتجوا في ذلك بما

مسعود بن حکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےنقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور جب بیٹھے دیکھا تو بیٹھ گئے ان مذکورہ روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جنازہ کے لیے قیام تھا پھر منسوخ ہوا بعض علماء نے کہا کہ یہ اہل کتاب کی مخالفت کی بناء پر منسوخ ہوا اور انہوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2730

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2731

2581 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا صفوان بن عيسى قال ثنا بشر بن رافع عن عبد الله بن سليمان عن أبيه عن جنادة بن أبى أمية عن عبادة بن الصامت ذكر النبي صلى الله عليه و سلم قال كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا تبع جنازة لم يجلس حتى توضع في اللحد قال فعرض للنبي صلى الله عليه و سلم حبر من أحبار اليهود فقال يا محمد هكذا نفعل قال فجلس النبي صلى الله عليه و سلم وقال خالفوهم وليس هذا الحديث عندنا يدل على ما ذهبوا اليه لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد روى عنه ما

جنادہ بن ابی امیہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو لحد میں رکھنے تک نہ بیٹھتے تھے ۔ ایک دن ایک یہودی عالم آپ کو ملا تو فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں عبادہ کہتے ہیں آپ بیٹھ گئے اور فرمایا ان کی مخالفت کرو۔ یہ روایت ہمارے اس بات پر دلالت نہیں کرتی جس کو انہوں نے اختیار کیا کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مروی ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ← بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2731

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2732

2582 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن عبيد بن عبد الله بن عتبة عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يسدل شعره وكان المشركون يفرقون رؤوسهم وكان أهل الكتاب يسدلون رؤوسهم وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر فيه بشيء ثم فرق رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه

عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالوں کو کھلا چھوڑا کرتے تھے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی اپنے بالوں کو کھلا چھوڑتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے جب تک اس میں کوئی حکم نہ اترتا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر میں مانگ نکالنی شروع فرمائی۔( جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم مل گیا)

بْنِ عَبَّاسٍ ← عبيد بن عبد الله بن عتبة ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2732

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2733

2583 - حدثنا محمد بن عزير الأيلي قال ثنا سلامة عن عقيل عن بن شهاب قال أخبرني عبيد الله فذكر بإسناده مثله فأخبر بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يتبع أهل الكتاب حتى يؤمر بخلاف ذلك فاستحال ان يكون ما أمر به من القعود في حديث عبادة وبخلاف أهل الكتاب قبل ان يؤمر بخلافهم في ذلك لأن حكمه صلى الله عليه و سلم أن يكون على شريعة النبي الذي كان قبله حتى يحدث له شريعة تنسخ ما تقدمها قال الله عز و جل أولئك اللذين هدى الله فبهداهم اقتده ولكنه ترك ذلك عندنا والله أعلم حين أحدث الله له شريعة في ذلك وهو القعود بنسخ ما قبلها وهو القيام وقد روى هذا المذهب عن على بن أبى طالب رضي الله عنهما

عقیل بن ابن شہاب سے اس نے کہا عبید اللہ نے مجھے خبر دی پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آپ اہل کتاب والی بات کو اپناتے یہاں تک کہ اس کے خلاف کا حکم ملتا ۔ تو یہ بات ناممکن ہے کہ آپ کو حدیث عبادہ میں جو بیٹھنے کا حکم ملا وہ اہل کتاب کے طریقہ کی مخالفت کی وجہ سے ہو اور وہ اس سے پہلے ہو کہ آپ کو ان کی مخالفت کا حکم نہ ہوا ہو۔ کیونکہ آپ نے جس بات کا حکم دیا وہ کسی پہلے پیغمبر کی شریعت کا حکم ہو ۔ یہاں تک کہ اس کے لیے منسوخ کرنے والا حکم آئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا " اولیک الذین ھدی اللہ فبھد اہم اقتدہ " ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ۔ پس ان کی ہدایت کی اقتداء کرو مگر ہمارے نزدیک اس کا ترک (واللہ اعلم) اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی شریعت کا حکم دیا ۔ تو بیٹھنے کی وجہ سے پہلے حکم کو منسوخ ہونا ہے جو کہ قیام ہے اور یہ طریقہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔

عبيد الله فذكر بإسناده مثله فأخبر بن عباس ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← سلامة ← محمد بن عزير الأيلي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2733

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2734

2584 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا ليث بن أبى سليم عن مجاهد عن بن سخبرة قال كنا قعودا مع علي بن أبي طالب رضي الله عنه ننتظر جنازة فمر بجنازة أخرى فقمنا فقال ما هذا القيام فقلت ما تأتون به يا أصحاب محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو موسى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رأيتم جنازة مسلم أو يهودي أو نصرانى فقوموا فانكم لستم لها تقومون إنما تقومون لمن معها من الملائكة فقال علي رضي الله عنه إنما صنع ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم مرة واحدة كان يتشبه بأهل الكتاب في الشيء فإذا نهي عنه تركه فأخبر علي رضي الله عنه في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كان قام مرة في بدء أمره على التشبه منه بأهل الكتاب وعلى الاقتداء بمن كان قبله من الأنبياء حتى أحدث الله تعالى له خلاف ذلك وهو القعود فثبت بذلك ما صرفنا اليه وجه حديث عبادة وقد

مجاہد نے ابن سخرہ سے نقل کیا کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازہ کی انتظار میں بیٹھے تھے کہ وہاں سے ایک اور جنازہ گزرا تو ہم کھڑے ہو گئے تو آپ نے فرمایا تم کیوں کھڑے ہو ئے میں نے کہا اے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سلسلے میں ہمیں کیا فرماتے ہو تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی مسلمان یا یہودی یا نصرانی کا جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ کیونکہ تم اس شخص کے لیے کھڑے نہیں ہوتے ہو بلکہ تم ان فرشتوں کے لیے کھڑے ہوئے ہو جو اس کے ساتھ ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں اس کی خبر دی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء میں ایک مرتبہ کھڑے ہوتے اس کامقصد اہل کتاب کے ساتھ مشابہت تھی اور اپنے سے پہلے انبیا ء اسلام کے طریقے کی پیروی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے خلاف نیا حکم دے دیا اور وہ بیٹھنے کا حکم تھا اس سے وہ بات ثابت ہوئی جسکی طرف ہم حدیث عبادہ کا رخ موڑا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ایک مرتبہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور آپ کی عادت مبارکہ اہل کتاب سے مشابہت کی تھی جب اس سے روک دیا جاتا تو آپ اسے چھوڑ دیتے ۔

بن سخبرة ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2734

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2735

2585 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال ثنا شريك عن عثمان بن أبى زرعة عن زيد بن وهب قال تذاكرنا القيام الى الجنازة وعندنا علي رضي الله عنه فقال أبو مسعود رضي الله عنه قد كنا نقوم فقال علي رضي الله عنه ذلك وأنتم يهود فمعنى هذا أنهم كانوا يقومون على شريعتهم ثم نسخ ذلك بشريعة الإسلام فيه وقد ثبت بما وصفنا في هذا الباب أيضا نسخ ما رويناه في أوله من الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في القيام للجنازة بالآثار التي رويناها بعد ذلك وقد

زید بن وہب کہتے ہیں کہ ہم نے باہمی جنازہ کے لیے قیام کے سلسلہ میں مذاکرہ کیا اس وقت ہمارے پاس علی رضی اللہ عنہ موجود تھے تو ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہم تو کھڑے ہوتے تھے تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو یہود کا طرز عمل ہے کیا تم یہود ہو یعنی یہ حکم پہلے تھا پھر منسوخ ہو گیا ۔ اس بات میں جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے شروع والے آثار جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں جن میں جنازے کے لیے قیام کا تذکرہ ہے ان آثار کی وجہ سے منسوخ ہیں جنکا ہم نے تذکرہ کیا ۔

أبو مسعود قد كنا نقوم ← تذاكرنا القيام الى الجنازة وعندنا علي ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2735

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2736

2586 - حدثنا يونس قال انا بن وهب قال حدثني أنس بن عياض عن أنيس بن أبى يحيى قال سمعت أبى يقول كان بن عمر رضي الله عنهما وأصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يجلسون قبل أن توضع الجنازة فهذا بن عمر رضي الله عنه قد كان يفعل هذا وقد روى عن عامر بن ربيعة عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك فدل تركه لذلك الى ما كان يفعل على ثبوت نسخ فأحدثه عامر بن ربيعة

انیس بن ابی یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جو پہلے یہ عمل کرتے تھے اور عامر بن ربیعہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے خلاف نقل کیا ہے ۔ پس اس سے جو پہلے کرتے تھے اس کے منسوخ ہونے کا ثبوت مل گیا تبھی تو عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اس نئے حکم کو اختیار کیا ۔

أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يجلسون قبل ← كان بن عمر ← أَبِي ← أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2736

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 3 باب الجنازة تمر بالقوم أيقومون لها أم لا ) · حديث 2737

2587 - حدثنا يونس أيضا قال أنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث ان عبد الرحمن بن القاسم حدثه أن القاسم كان يجلس قبل أن توضع الجنازة ولا يقوم لها ويخبر عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان أهل الجاهلية يقومون لها إذا رأوها ويقولون في أهلك ما أنت أهلك ما أنت فهذه عائشة تنكر القيام لها أصلا وتخبر أن ذلك كان من أفعال أهل الجاهلية وكان أبو حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى يذهبون في كل ما ذكرنا في هذا الباب الى ما قد بينا نسخه لما قد خالفه وبه نأخذ

عبدالرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ قاسم جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھ جائے اور کھڑے نہ ہوتے اور اس کے متعلق عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے کہ وہ فرمایا کرتی تھیں زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازے کو دیکھ کر اس کے بے بس کے لیے کھڑے ہوجاتے اور اس طرح کہتے ( فی اھلک ماانت فی اھلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔) تو اپنے گھر میں نہیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا تو جنازے کے لیے قیام کا بالکل انکار کرتی تھیں۔ اور بتلاتیں کہ یہ اہل جاہلیت کا طرز عمل ہے یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں جو بالکل قیام کا انکار کرنے والی ہیں اور بتلا رہی ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت کے افعال سے ہیں ۔ا مام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہ اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم تھا پھر منسوخ ہو گیا ۔ اسی کو ہم اختیار کرنے والے ہیں ۔ ہمار ے آئمہ ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أن القاسم كان يجلس قبل أن توضع الجنازة ولا يقوم لها ويخبر ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، ← بن وَهْبٍ ← يونس أيضا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2737

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 4 باب الرجل يصلى على الميت أين ينبغي أن يقوم منه ) · حديث 2738

2588 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال أنا عبد الوارث بن سعيد عن حسين بن ذكوان قال حدثني عبد الله بن بريدة عن سمرة بن جندب قال صليت خلف النبي صلى الله عليه و سلم على أم كعب ماتت وهى نفساء فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم للصلاة عليها وسطها

عبداللہ بن بریدہ نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ام کعب کا جنازہ پڑھا جو کہ حالت نفاس میں فوت ہو گئیں تھیں آپ جنازے کے لیے میت کے درمیان یعنی سینہ کے برابر کھڑے ہوئے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2738

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 4 باب الرجل يصلى على الميت أين ينبغي أن يقوم منه ) · حديث 2739

2589 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا همام قال ثنا حسين المعلم فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا هذا هو المقام الذي ينبغي للمصلى على الجنازة أن يقومه من المرأة ومن الرجل وخالفهم في ذلك آخرون وقالوا أما المرأة فهكذا يقوم للصلاة عليها وأما الرجل فعند رأسه واحتجوا في ذلك بما

ہمام نے حسین المعلم سے پھر انہوں نےاپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں جنازہ پڑھنے والا عورت کے لیے کھڑا ہو گا۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کیا اور کہا کہ عورت کے لیے تو اس طرح کھرے ہوں گے البتہ مرد کے لیے اس کے سر کے پاس کھڑے ہوں گے اور انہوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2739

chevron_left Previous
1…567…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter