Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2680

2536 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبى داود قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث بن سعد قال ثنا عقيل بن خالد ثم ذكر مثله بإسناده

لیث بن سعد نے عقیل بن خالد سے پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

مثله بإسناده ← عقيل بن خالد ثم ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2680

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2681

2537 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا سعيد بن عفير قال ثنا يحيى بن أيوب قال ثنا عقيل عن بن شهاب عن سالم عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان يمشى أمام الجنازة وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمشى بين يدي الجنازة وأبو بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم وكذلك السنة في اتباع الجنازة

ابن شہاب نے سالم سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ وہ جنازے سے آگے چلتے تھے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ سے آگے چلتے اور ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم بھی جنازے سے آگے چلتے ۔ جنازوں کے ساتھ چلنے کایہ طریقہ ہے ۔

سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2681

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2682

2538 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك ح

ابن مرزوق کہتے ہیں ہمیں قعنبی نے انہوں نے مالک سے روایت نقل کی ہے ۔

مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2682

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2683

وحدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا أخبره عن بن شهاب قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشى أمام الجنازة وابن عمر رضي الله عنهما والخلفاء هلم جرا الى يومنا هذا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن المشي أمام الجنازة أفضل من المشي خلفها واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا المشي خلفها أفضل من المشي أمامها وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن حديث بن عيينة الذي ذكرناه في أول هذا الباب قد رواه عن الزهرى عن سالم عن أبيه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر وعمر رضي الله عنهما يمشون أمام الجنازة فصار في ذلك خبرا من بن عمر رضي الله عنهما عما رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم يفعلونه في ذلك وقد يجوز أن يكونوا كانوا يفعلون شيئا وغيره عندهم أفضل منه للتوسعة كما قد توضأ رسول الله صلى الله عليه و سلم مرة مرة والوضوء اثنتين اثنتين أفضل منه والوضوء ثلاثا ثلاثا أفضل من ذلك كله ولكنه فعل ما فعل من ذلك للتوسعة ثم قد خالف بن عيينة في إسناد هذا الحديث كل أصحاب الزهرى غيره فرواه مالك عن الزهرى قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشى أمام الجنازة فقطعه ثم رواه عقيل ويونس عن بن شهاب عن سالم قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبو بكر وعمر عثمان رضي الله عنهم يمشون أمام الجنازة هذا معناه وإن لم يكن لفظه كذلك لأن أصل حديثه إنما هو عن سالم قال كان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يمشى أمام الجنازة وكذلك كان رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبو بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم فصار هذا الكلام كله في هذا الحديث إنما هو من سالم لا من بن عمر رضي الله عنهما فصار حديثا متقطعا وفي حديث يحيى بن أيوب عن عقيل وكذلك السنة في اتباع الجنازة زيادة على ما في حديث الليث وسلامة عن عقيل فكذلك أيضا لا حجة فيه لأنه إنما هو من كلام سالم أو من كلام الزهري وقد روى عن بن عمر رضي الله عنهما مما سنرويه في موضعه من هذا الباب إن شاء الله وقال أصحاب المقالة الولي وقد روى عن جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهم كانوا يمشون أمام الجنازة وذكروا ما

ابن شہاب کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ سے آگے چلتے ابن عمر رضی اللہ عنہ اور خلفا ء موجودہ کی یہی کیفیت ہے ۔ حضرت امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ جنازے کے آگے چلنا اس کے پیچھے چلنے سے افضل ہے انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔ لیکن دوسرے علماء کہتے ہیں کہ آگے کی بجائے پیچھے چلنا زیادہ چلنا افضل ہے ۔ اول قول والوں کے خلاف ان کی دلیل پر ابن عیینہ والی روایت ہے جس کو ہم شروع باب میں ذکر کر آئے اور اوس کو زھری نے بھی حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکرو عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے تو اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم کے افعال کی خبر دی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ ان حضرات نے یہ عمل بیان جواز کے لیے کیا ہو جب کہ ان کے نزدیک دوسرا عمل افضل ہو اور یہ عمل امت کی آسانی کے لیے ہو جس طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا ۔ حالانکہ دو دو مرتبہ اعضاء وضو کا دھونا اس سے افضل ہے اور تین تین مرتبہ دھونا ان تمام سے افضل ہے مگر آپ نے یہ عمل امت پر سہولت کے لیے کیا دوسری بات یہ ہے کہ ابن عینہ نے زھری کے تمام شاگردوں کے خلاف روایت نقل کی ہے ۔ مالک نے زہری سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے آگے چلتے تو انہوں نے منقطع روایت ذکر کی پھر اس کو عقیل ،یونس نے ابن شہاب سے انہون نے سالم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم جنازے کے آگے چلتے تھے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عثمان رضی اللہ عنہم اسی طرح کرتے تھے پس اس روایت میں یہ تمام کلام سالم کا قول ہے نہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ پس یہ منقطع روایت ہے اور روایت یحییٰ میں جو انہون نے عقیل سے نقل کی ہے یہ الفاظ زائد ہیں " فکذالک السنۃ فی اتباع الجنازہ " یہ عقل کی اس روایت پر اضافہ ہے جو اس سے لیث وسلامہ سے نقل کی ہے اسی طرح روایت میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ سالم یا زہری کا کلام بنتا ہے اور ابن عمر کی روایت ہم عنقریب نقل کریں گے پہلے قول والوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے متعلق منقول ہے کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے ۔ روایات ذیل میں ہیں ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2683

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2684

2539 - حدثنا يونس قال حدثنا سفيان عن بن المنكدر سمع رفيعة بن هدير يقول رأيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقدم الناس أمام جنازة زينب رضي الله عنها

ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کو زینب رضی اللہ عنہ کو جنازے میں لوگوں سے آگے چلتے دیکھا۔

رأيت عمر بن الخطاب يقدم الناس أمام جنازة زينب ← رفيعة بن هدير ← بن المنكدر ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2684

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2685

2540 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني مالك عن بن المنكدر فذكر بإسناده مثله

مالک نے ابن المنکدر سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن المنكدر فذكر بإسناده مثله ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2685

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2686

2541 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا إسرائيل عن عبد الأعلى قال سألت سعيد بن جبير عن المشي أمام الجنازة فقال نعم رأيت بن عباس رضي الله عنهما يمشي أمام الجنازة

عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے جنازہ سے آگے چلنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو جنازے سے آگے چلتے دیکھا۔

المشي أمام الجنازة فقال نعم رأيت بن عباس يمشي أمام الجنازة ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2686

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2687

2542 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبى لهيعة عن عبيد الله بن المغيرة أن أبا راشد مولى معيقيب بن أبى فاطمة أخبره أنه رأى عثمان بن عفان رضي الله عنهما وطلحة بن عبيد الله والزبير بن العوام يفعلونه

عبیداللہ بن مغیرہ کہتے ہیں کہ ابو راشد مولی معیقیب بن ابی فاطمہ نے بتلایا کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور طلحہ بن عبیداللہ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے چلتا دیکھا ۔

عبيد الله بن المغيرة أن أبا راشد مولى معيقيب بن أبى فاطمة ← بن أبي لهيعة ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2687

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2688

2543 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني بن أبى ذئب عن صالح مولى التوأمة أنه رأى أبا هريرة رضي الله عنه وعبد الله بن عمر وأبا أسيد الساعدي وأبا قتادة يمشون أمام الجنازة قالوا فقد دل هذا على أن المشي أمام الجنازة أفضل من المشي خلفها قيل لهم ما دل ذلك على شيء مما ذكرتم ولكنه أباح المشي أمام الجنازة وهذا مما لا ينكره مخالفهم أن المشي أمام الجنازة مباح وإنما اختلفتم أنتم وإياه في الأفضل من ذلك ومن المشي خلف الجنازة فان كان عندكم أثر صحيح فيه أن المشي أمام الجنازة أفضل من المشي خلفها ثبت بذلك ما قلتم والا فقوله الى الآن مكافىء لقولكم وإن احتجوا في ذلك بما

مولیٰ التوآمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، ابن عمر ، ابو اسید ساعدی ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہم کو جنازہ سے آگے چلتے دیکھا ۔ انہوں نے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جنازے سے آگے چلنا پیچھے چلنے سے افضل ہے ۔ ان کے جواب میں یہ کہا جائے گا اس میں تو تمہاری مذکورہ بات پر کوئی دلالت نہیں ہے پس اتنی بات ہے کہ اس سے جنازے کے آگے چلنا مباح ثابت ہو گیا۔ جس کا ان کے مخالفین انکار نہیں کرتے ۔ اس لیے کہ اختلاف تمہارے اور ان کا افضلیت میں ہے کہ آگے چلنا یا پیچھے چلنا افضل ہے پس اگر تمہارے پاس کوئی جنازے سے آگے چلنے کی افضیلت کو ظاہر کرتا ہے تو پھر آگے چلنا افضل ہو ۔ ورنہ تو ان کا " قولہ الا الان " ورنہ یہ تمہارے قول کے برابر ہے اگر وہ اس روایت کو دلیل میں پیش کریں ۔

صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2688

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2689

2544 - حدثنا يونس قال انا بن وهب عن مالك عن بن شهاب قال ليس من السنة المشي خلف الجنازة قال بن شهاب والمشى خلف الجنازة من خطأ السنة قيل لهم هذا كلام بن شهاب فقوله في ذلك كقولكم إذ كان لمخالفه ومخالفكم من الحجة عليه وعليكم ما سنذكره في هذا الباب إن شاء الله تعالى ثم رجعنا الى ما روى في هذا الباب من الآثار هل فيه شيء يبيح المشي خلف الجنازة فإذا ربيع الجيزي وابن أبى داود

ابن شہاب کہتے ہیں کہ جنازے کے پیچھے چلنا سنت نہیں ہے ۔ ابن شہاب کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جب پیچھے چلنا سنت نہیں تو خلاف سنت ہے یہ تو ابن شہاب زہری کا قول ہے جو کہ نہ اثر صحابی ہے نہ قول رسول ہے پس فریق ثانی کے اپنے قول کے برابر ہے جس کو ان کے خلاف حجت میں پیش نہیں کرسکتے ۔ ہم توجنازے کے پیچھے چلنے کا سنت ہونا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہ سے ثابت کرتے ہیں ۔ روایت یہ ہے کہ اس کو ربیع اور ابن ابی داؤد نے نقل کیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہجنازے کے پیچھے چلنا خلاف سنت ہے ۔ اس روایت کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ابن شہاب کا کلام ہے اور اس سلسلہ میں اس کا اور تمہارا قول برابر ہے ۔ اس لیے کہ اس کے اور تمہارے مخالفین کے پاس اس کے خلاف دلیل موجود ہے ۔ ہم عنقریب اس لائیں ہے۔ اب ہم دوبارہ اس باب کے آثار کی طرف رجوع کرتے ہیں آیا ان آثار میں کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو جنازے کے پیچھے چلنے کو مباح ثابت کرے ۔ تو ربیع چیزی اور ابن ابی داود کی روایات مل گئیں۔ ان تمام صحابہ کرام کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ آگے چلنا افضل ہے ۔

ليس من السنة المشي خلف الجنازة ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2689

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2690

قد حدثانا قالا ثنا أبو زرعة قال أنا يونس بن يزيد عن بن شهاب عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر وعمر رضي الله عنهما كانوا يمشون أمام الجنازة وخلفها

ابن شہاب نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم جنازے کے آگے اور پیچھے بھی چلتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو زُرْعَةَ ← قد حدثانا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2690

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 2 باب المشي في الجنازة أين ينبغي أن يكون منها ) · حديث 2691

2545 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن بشار قال ثنا محمد بن بكر البرساني عن يونس بن يزيد ثم ذكر بإسناده مثله ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمشى خلف الجنازة كما كان يمشى أمامها فان كان مشى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى بكر وعمر رضي الله عنهما امام الجنازة حجة لكم أن ذلك أفضل من المشي خلفها فكذلك مشى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى بكر وعمر رضي الله عنهما خلفها حجة لمخالفكم عليكم أن ذلك أفضل من المشي أمامها فقد استوى خصمكم وأنتم في هذا الباب فلا حجة لكم فيه عليه وقد

محمد بن بکر برسانی نے یونس بن یزید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے پیچھے چلتے جیسا کہ آگے چلتے اگر جنازے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہم کا جنازے سے آگے چلنا تمہاری دلیل ہے اور یہ پیچھے چلنے سے افضل ہے تو اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کا پیچھے چلنا تمہارے مخالفین کی دلیل ہے اور آگے چلنے سے ان کے ہاں افضل ہے ۔ اب اس سلسلے میں تم اور تمہارا حزب مکالف برابر ہو گیا ۔ پس اب تمہاری دلیل میں ان کے خلاف کوئی حجت نہ رہی ۔

بإسناده مثله ففي هذا الحديث ← يونس بن يزيد ثم ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2691

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter