شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 10 باب الدفن بالليل ) · حديث 2860
2703 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن فاطمة بنت محمد عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها قالت ما علمنا بدفن رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى سمعنا صوت المساحى في آخر الليل الليلة الأربعاء وهذا بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لا ينكره أحد منهم فدل ذلك على أن ما كان من نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن الدفن ليلا إنما كان لعارض لا لأن الليل يكره الدفن فيه إذا لم يكن ذلك لعارض وقد قال عقبة بن عامر ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهانا أن نصلى فيهن وأن نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس حتى ترتفع وحين يقوم قائم الظهيرة حتى يميل وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب وقد ذكرنا ذلك بإسناده فيما تقدم من كتابنا هذا فدل ذلك أن ما سوى هذه الأوقات بخلافها في الصلاة على الموتى ودفنهم في الكراهة وقد
عمرہ بنت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ہمیں دفن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عل نہ ہوا یہاں تک کہ ہم نے کدالوں کی آوازیں بدھ کی رات کے آخری حصہ میں سنیں۔ یہ تمام عمل صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ہوا۔ ان میں سے کی نے بھی انکار نہ کیا ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ رات کو دفن کی ممانعت والا ارد کسی عارضہ کی بناء پر تھا ۔ یہ وجہ نہ بھی کہ رات کو دفن میں کچھ قباحت ہے جب کہ وہ عارضہ نہ ہو۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ تین اوقات ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ہمیں نماز سے منع فرمایا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ ہم ان اوقات میں اپنے مردوں کو دفن کریں ۔ 1۔ جبکہ سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند نہ ہو جائے ۔ 2۔ دوپہر کا وقت ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے ۔ 3۔ سورج غروب ہو رہا ہو یہاں تک کہ مکمل مکمل غروب ہو جائے ۔ اس روایت کو اسناد کے ساتھ اپنی اسی کتاب میں ذکرآئے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ان اوقات کے علاوہ اوقات میں میت پر نماز و تدفین میں کراہت نہیں ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2860
