Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2824

2668 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا حرملة بن يحيى قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن عمارة بن غزية عن إسحاق بن عبد الله بن أبى طلحة عن أبيه أن أبا طلحة دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم الى عمير بن أبى طلحة حين توفى فأتاهم فصلى عليه فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان أبو طلحة وراءه وأم سليم وراء أبى طلحة لم يكن معهم غيرهم وإنما كان تزوج أبى طلحة وأم سليم بعد قدوم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة بمدة وعمير ولده منها في ذلك النكاح توفى وهو طفل فهذا أخوه عبد الله بن أبى طلحة يذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى عليه

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمیر بن ابی طلحہ پر نماز جنازہ کے لیے بلایا جب اسکی وفات ہوگئی آپ تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ابو طلحہ آپ کے پیچھے تھے اور ام سلیم ابو طلحہ کے پیچھے تھیں ان کے ساتھ اور کوئی شامل نہ تھا ابو طلحہ نے ام سلیم سے شادی اس وقت کی جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آئے کچھ وقت گزر گیا اور یہ عمیر اسی نکاح کے بعد پیدا ہوئے اور بچپن میں وفات پا گئے ۔ یہ ان کا بھائی عبداللہ بیان کررہا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر کی نماز جنازہ پڑھی ۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2824

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2825

2669 - حدثنا عبد العزيز بن معاوية قال ثنا إسماعيل بن سعيد الجبيرى قال ثنا أبى عن زياد بن جبير بن حية عن أبيه فيما يحسب عبد العزيز يشك في أبيه خاصة عن المغيرة بن شعبة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الطفل يصلى عليه

زیاد بن جبیر بن حیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ( عبدالعزیز راوی کو ان کے والد کے متعلق شک ہے ) وہ مغیرہ بن شعبہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے پر نماز پڑھی جائے گی ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أبيه فيما يحسب عبد العزيز يشك في أبيه خاصة ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ← أَبِي ← إسماعيل بن سعيد الجبيري ← عبد العزيز بن معاوية

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2825

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2826

2670 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو نعيم قال ثنا عبد السلام عن ليث عن عامر عن البراء قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أحق من صليتم عليه أطفالكم وقد قال عامر الشعبي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان صلى على ابنه إبراهيم ولم يكن ليقول ذلك الا وقد كان ثبت عنده

عامر نے براہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بچے تمہاری نماز جنازہ کے زیادہ حقدار ہیں اور عامر شعبی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےبیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی ۔

الْبَرَاءِ، ← عَامِرٍ، ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ السَّلامِ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2826

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2827

2671 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن سفيان عن جابر عن الشعبي قال مات إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بن ستة عشر شهرا فصلى عليه النبي صلى الله عليه و سلم

شعبی کہتے ہیں کہ ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اس وقت ان کی عمر چھ ماہ تھی تو ان پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی ۔

الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2827

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2828

حدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور قال ثنا الهيثم بن جميل قال حدثني شريك عن جابر فذكر مثله بإسناده غير أنه قال وهو بن ستة عشر شهرا أو ثمانية عشر شهرا ففي هذه الآثار اثبات الصلاة على الأطفال فلما تضادت الآثار في ذلك وجب أن ننظر الى ما عليه عمل المسلمين الذي قد جرت عليه عاداتهم فيعمل على ذلك ويكون ناسخا لما خالفه فكانت عادة المسلمين الصلاة على أطفالهم فثبت ما وافق ذلك من الآثار وانتفى ما خالفه فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا رأينا الأطفال يغسلون باتفاق المسلمين على ذلك وقد رأينا البالغين كل من غسل منهم صلى عليه ومن لم يغسل من الشهداء ففيه اختلاف فمن الناس من يصلى عليه ومنهم من لا يصلى عليه فكان الغسل لا يكون الا وبعده صلاة وقد يكون الصلاة ولا غسل قبلها فلما كان الأطفال يغسلون كما يغسل البالغون ثبت أن يصلى عليهم كما يصلى على البالغين فهذا هو النظر في هذا الباب وقد وافق ما جرت عليه عادة المسلمين من الصلاة على الأطفال وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى ذلك عن جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

شریک نے جابر سے اس نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے البتہ روایت میں اتنا فرق ہے کہ اس نے سولہ ماہ کہا ہے یا اٹھارہ ماہ کہا ہے ۔ یہ آثار بچوں پر نما زجنازہ کو ثابت کرتے ہیں پس روایات میں ظاہری طور پر تضاد ہے تو یہ غور کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کا معمول کیا چلا آرہا ہے تاکہ اس پر عمل کیا جائے اور وہ دوسرے حکم کا ناسخ ہو ۔ تو مسلمانوں کی عادت بچوں پر نماز جنازہ کا ادا کرنا ہے ۔ پس جو روایات اس کے مطابق ہیں وہ ثابت ہو گئیں اور مخالف روایات کی خود نفی ہو گئی آثار کے پیش نظر اس باب کا حکم یہ ہے باقی نظر و فکر کے لحاط سے اس کی صورت یہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والے بچوں کو بالا تفاق غسل دیا جاتا ہے اور یہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جن بالغین کو غسل دیتے ہیں ان پر نمازہ جنازہ بھی پڑھتے ہیں اور جن کو غسل نہیں دیا جاتا ( جیسے شہداء) تو ان کی نماز جنازہ میں اختلاف ہے پس بعض کو نماز جنازہ پڑھی گئی اور بعض کی نہ پڑھی گئی پس جہاں غسل ہے اس کے بعد نماز ہے ۔ اور بعض اوقات جنازہ تو پڑھتے ہیں مگر اس سے پہلے غسل نہیں ہوتا ۔ تو جب بچوں کو بھی بڑوں کی طرح غسل دیا جاتا ہے ۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ بالغوں کی طرح ان کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے اس باب میں قیاس اسی بات کو چاہتا ہے اور مسلمانوں کا معمول بھی اسی طرح ہے ۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم کا منسلک یہی ہے اور یہی بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے بھی مروی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2828

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2829

2672 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب عن يونس عن نافع أنه حدثه أن عبد الله بن عمر صلى في الدار على مولود له ثم أمر به فحمل فدفن

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان فرمایا انہوں نے ایک گھر میں ایک نومولود پر نماز جنازہ پڑھی پھر اس کو اٹھانے اور دفن کرنے کا حکم فرمایا۔

نَافِعٌ أَنَّهُ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2829

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2830

2673 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا محمد بن راشد عن عطاء عن جابر بن عبد الله قال إذا استهل الصبي ورث وصلى عليه

عطاء نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا جب بچہ پیدائش کے بعد چیخ مارے تو وہ وارث بھی بن جاتا ہے اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جاتی ہے ۔

إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ وُرِّثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2830

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2831

2674 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب عن بن لهيعة عن يزيد بن أبى حبيب عن منصور بن أبى منصور عن أبى هريرة رضي الله عنه أنه استفتى في صبي مولود مات أيصلى عليه قال نعم

ابو منصور نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ان سے کسی نے دریافت کیا اگر کوئی بچہ مر جائے تو کیا اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی انہوں نے کہاں جی ہاں ۔

نَعَمْ ← أبى هريرة أنه استفتى في صبي مولود مات أيصلى عليه ← منصور بن أبى منصور ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2831

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2832

2675 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن يحيى بن سعيد بن المسيب قال رأيت أبا هريرة رضي الله عنه صلى على منفوس لم يعمل خطيئة قط فسمعته يقول اللهم أعذه من عذاب القبر

یحییٰ بن سعید بن المسیب نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ انہوں نے اس جان (نابالغ بچے) پر نماز جنازہ پڑھی جس نے کبھی غلطی نہ کی تھی میں نے سنا کہ وہ اس طرح دعا کر رہے ہیں " اللھم اعذہ من عذاب القبر"

اللهم أعذه من عذاب القبر ← رأيت أبا هريرة صلى على منفوس لم يعمل خطيئة قط فسمعته ← يحيى بن سعيد بن المسيب ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2832

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2833

2676 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا شعبة قال ثنا الأسود بن شيبان قال ثنا خالد بن سمير قال حدثني بشير بن نهيك عن بشير بن الخصاصية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يمشي بين القبور في نعلين فقال ويحك يا صاحب السبتيتين ألق سبتيتيك

بشیر بن نہیک نے بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جوتوں سمیت قبور کے درمیان چل رہا تھا تو آپ نے فرمایا تیرا ناس ہوا سے سبتی نعل والے اپنے جوتے کو اتار دے ۔

بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2834

2677 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الحماني قال ثنا وكيع عن الأسود فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث فكرهوا المشي بالنعال بين القبور وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أمر ذلك الرجل بخلع النعلين لا لأنه كره المشي بين القبور بالنعال لكن لمعنى آخر من قذر رآه فيها يقذر القبور وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى وعليه نعلاه ثم أمر بخلعهما فخلعهما وهو يصلى فلم يكن ذلك على كراهة الصلاة في النعلين ولكنه للقذر الذي كان فيهما وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على إباحة المشي بين القبور بالنعال

وکیع نے اسود سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس روایت کو اختیار کرتے ہوئے جوتوں سمیت قبروں کے درمیان چلنے کی ممانعت فرمائی ہے ۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو کسی اور وجہ سے جوتا اتار کرقبور کے درمیان چلنے کا حکم دیا ہو مثلاً کوئی گندگی وغیرہ اس کے جوتے کے ساتھ لگی ہو ۔ اس بناء پر نہیں کہ قبرستان میں جوتا اتار کر چلنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے کے ساتھ نماز پڑھا رہے تھے پھر آ پ کو اس کے اتارنے کا حکم دیا تو آپ نے جوتے نماز کے دوران ہی اتار دیے ۔ یہ اس بناء پر نہیں کہ جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے بلکہ چلتے ہوئے کہیں ان کے ساتھ گندگی لگ گئی ( جس سے اتارنے کا حکم ہوا ) دوسری طرف جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایات منقول ہیں جو جوتوں سمیت قبور کے درمیان چلنے کو درست ثابت کرتی ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2834

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2835

2678 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا آدم بن أبى إياس قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر حديثا طويلا في المؤمن إذا دفن في قبره والذي نفسي بيده انه ليسمع خفق نعالكم حين تولوا عنه مدبرين

ابو سلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا انہوں نے مومن کو دفن کرنے کے متعلق طویل روایت نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک وہ تمہارے جوتوں کی کھٹ کھٹاہٹ کو سنتا ہے جبکہ تم واپس لوٹتے ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2835

chevron_left Previous
1…131415…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter