شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2824
2668 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا حرملة بن يحيى قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن عمارة بن غزية عن إسحاق بن عبد الله بن أبى طلحة عن أبيه أن أبا طلحة دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم الى عمير بن أبى طلحة حين توفى فأتاهم فصلى عليه فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان أبو طلحة وراءه وأم سليم وراء أبى طلحة لم يكن معهم غيرهم وإنما كان تزوج أبى طلحة وأم سليم بعد قدوم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة بمدة وعمير ولده منها في ذلك النكاح توفى وهو طفل فهذا أخوه عبد الله بن أبى طلحة يذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى عليه
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمیر بن ابی طلحہ پر نماز جنازہ کے لیے بلایا جب اسکی وفات ہوگئی آپ تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ابو طلحہ آپ کے پیچھے تھے اور ام سلیم ابو طلحہ کے پیچھے تھیں ان کے ساتھ اور کوئی شامل نہ تھا ابو طلحہ نے ام سلیم سے شادی اس وقت کی جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آئے کچھ وقت گزر گیا اور یہ عمیر اسی نکاح کے بعد پیدا ہوئے اور بچپن میں وفات پا گئے ۔ یہ ان کا بھائی عبداللہ بیان کررہا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر کی نماز جنازہ پڑھی ۔
إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2824
