Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2812

2656 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قال ثنا أبو بكر بن عياش عن يزيد بن أبى زياد عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنهما قال أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد بالقتلى فجعل يصلى عليهم فيوضع تسعة وحمزة فيكبر عليهم سبع تكبيرات ثم يرفعون ويترك حمزة ثم يجاء بتسعة فيكبر عليهم سبعا حتى فرغ عنهم

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا مقتولین کو لایا جائے آپ ان پر نماز پڑھنے لگے حمزہ رضی اللہ عنہ کا جسد پڑا تھا تو اور لائے جاتے اور ان پر سات تکبیرات کہی جاتی تھیں پھر ان کو اٹھالیا جاتا اور حمزہ رضی اللہ عنہ کو وہیں چھوڑ دیا جاتا پھر اور نو لائے جاتے اور ان پر تکبیرات کہی جاتیں یہاں تک کہ آپ جنازے سے فارغ ہو گئے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2812

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2813

2657 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس عن بن إسحاق قال حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه يعنى عن عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر يوم أحد بحمزة فسجى ببرده ثم صلى عليه فكبر تسع تكبيرات ثم أتى بالقتلى يصفون ويصلى عليهم وعليه معهم فهذا بن عباس وابن الزبير قد خالفا أنس بن مالك فيما رويناه عنه قبل هذا وقد روى مثل هذا أيضا عن أبى مالك الغفاري

یحییٰ بن عباد عبد اللہ بن زبیر نے اپنے والد (دادا) عبداللہ بن زبیر سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن حکم فرمایا کہ حمزہ کے جسم کو چادر سے ڈھانپ دیا جائے پھر ان پر نماز جنازہ پڑھی اور تو تکبیرات کہیں پھر دیگر مقتولین کو صف میں رکھ دیا جاتا اور ان پر حمزہ رضی اللہ عنہ پر نماز جنازہ پڑھی جاتی ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أبيه يعني ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← بن إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2813

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2814

2658 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا آدم بن إياس قال ثنا شعبة عن حصين بن عبد الرحمن قال سمعت أبا مالك الغفاري قال كان قتلى أحد يؤتى بتسعة وعاشرهم حمزة فيصلى عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم يحملون ثم يؤتى بتسعة فيصلى عليهم وحمزة مكانه حتى صلى عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روى أيضا عن عقبة بن عامر أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى على قتلى أحد بعد مقتلهم بثمان سنين

حصین بن عبدالرحمن کہتے ہں کہ میں نے ابو مالک غفاری رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے تھے کہ مقتولین احد میں نو نو کر لایا جاتا اور ان میں دسویں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھتے پھر انہیں اٹھالیا جاتا پھر نو اور لائے جاتے آپ ان پر اور حمزہ رضی اللہ عنہ جو اپنی جگہ پڑے تھے نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام پر نماز جنازہ پڑھی اور عقبہ بن عامر کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی ۔

أبا مالك الغفاري ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ إِيَاسٍ، ← بكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2814

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2815

2659 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني عمرو وابن لهيعة بن يزيد بن أبى حبيب أن أبا الخير أخبره أنه سمع عقبة بن عامر يقول ان آخر ما خطب لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه صلى على شهداء أحد ثم رقى على المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال إني لكم فرط وأنا عليكم شهيد

ابو الخیر نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدا ء احد پر نماز جنازہ پڑھنے کے بعد منبر پر چڑھ کر ہمیں آخری خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تم سے آگے جانے والا ہوں اور میں تم پر گواہ ہو ں گا ۔

عمرو وابن لهيعة بن يزيد بن أبى حبيب ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2815

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2816

2660 - حدثنا على بن معبد قال ثنا يونس بن محمد قال ثنا الليث بن سعد عن يزيد بن أبى حبيب عن أبى الخير عن عقبة بن عامر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج يوما فصلى على أهل أحد صلاته على الميت ففي حديث عقبة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى على قتلى أحد بعد مقتلهم بثمان سنين فلا يخلو صلاته عليهم في ذلك الوقت من أحد ثلاثة معان إما أن يكون سنتهم كانت أن لا يصلى عليهم ثم نسخ ذلك الحكم بعد بأن يصلى عليهم أو أن تكون تلك الصلاة التي صلاها عليهم تطوعا وليس للصلاة عليهم أصل في السنة والإيجاب أو يكون من سنتهم أن لا يصلى عليهم بحضرة الدفن ويصلى عليهم بعد طول هذه المدة لا يخلو فعله صلى الله عليه و سلم من هذه المعاني الثلاثة فاعتبرنا ذلك فوجدنا أمر الصلاة على سائر الموتى هو أن يصلى عليهم قبل دفنهم ثم تكلم الناس في التطوع عليهم قبل أن يدفنوا وبعد ما يدفنون فجوز ذلك قوم وكرهه آخرون فأمر السنة فيه أوكد من التطوع لاجتماعهم على السنة واختلافهم في التطوع فان كان قتلى أحد ممن تطوع بالصلاة عليهم كان في ثبوت ذلك ثبوت السنة في الصلاة عليهم قبل أوان وقت التطوع بها عليهم وكل تطوع فله أصل في الفرض فان ثبت أن تلك الصلاة كانت من النبي صلى الله عليه و سلم تطوعا به فلا يكون ذلك الا والصلاة عليهم سنة كالصلاة على غيرهم وان كانت صلاته عليهم لعلة نسخ فعله الأول وتركه الصلاة عليهم فان صلاته هذه عليهم توجب أن من سنتهم الصلاة عليهم وأن تركه الصلاة عليهم عند دفنهم منسوخ وإن كانت صلاته عليهم إنما كانت لأن هكذا سنتهم أن لا يصلى عليهم الا بعد هذه المدة وأنهم خصوا بذلك فقد يحتمل أن يكون كذلك حكم سائر الشهداء أن لا يصلى عليهم الا بعد مضي مثل هذه المدة ويجوز أن يكون سائر الشهداء يعجل الصلاة عليهم غير شهداء أحد فان سنتهم كانت تأخير الصلاة عليهم أنه قد ثبت بكل المعاني أن من سنتهم ثبوت الصلاة عليهم إما بعد حين وإما قبل الدفن ثم كان الكلام بين المختلفين في وقتنا هذا إنما هو في اثبات الصلاة عليهم قبل الدفن أو في تركها البتة فلما ثبت في هذا الحديث الصلاة عليهم بعد الدفن كانت الصلاة عليهم قبل الدفن أحرى وأولى ثم قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في غير شهداء أحد أنه صلى عليهم فمن ذلك ما

ابو الخیر نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر نکلے اور اہل احد پر نماز جنازہ اسی طرح ادا کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے آپ کا ان پر اس وقت میں نماز جنازہ پڑھنا تین معانی کے احتمال رکھتا ہے نمبر 1یا تو ان کے ہاں طریقہ یہ تھا کہ ان پر نماز نہ پڑھی جاتی تھی پھر حکم منسوخ ہو گیا نمبر 2 یا وہ نماز جوان پر پڑھی گئی وہ نفلی تھی اور اصل میں ان پر نماز مسنون ہے نہ واجب ۔ نمبر3۔ یا ان کے ہاں یہ طریقہ ہو کہ دفن کے وقت نماز نہ پڑھتے ہوں اور ان پر طویل مدت کے نماز پڑھتے ہوں۔ آپ کا یہ عمل مبارک ان تین معانی میں ایک احتمال ضروری رکھتا ہے ۔ پس ہم نے جانچا تو ہم نے یہ بات پائی کہ نماز کا حکم تو عام مردوں پر ہے اور وہ اس طرح ہے کہ تدفین سے پہلے ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے پھر لوگوں نے دفن سے قبل اور بعد اس کے نفل ہونے میں کلام کیا ہے بعض علماء نے اس کو درست قرار دیا جبکہ دوسروں نے اس کو نا پسند کیا ۔ سنت سے اس کا حکم نفل سے موکد ہے کیونکہ سنت ہونے پر اجماع ہے البتہ نفل ہونے میں اختلاف ہے ۔ پس اگر مقتولین احد پر نماز نفلی نماز تھی تو پھر اس نماز کے ثبوت سے نفل کا وقت آنے سے قبل نماز کا ان پر سنت ہونا ثابت ہو رہا ہے اور قاعدہ یہ ہےکہ ہر نفل کی فرض میں اصل پائی جاتی ہے پس اگر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نماز نفلی تھی اور آپ نے بطور نفل پڑھی تھی ۔ تو یہ اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ نماز سنت ہو ۔ جیسا کہ دوسروں پر نماز ہے ۔ اور اگر ان پر نمازہ جنازہ پہلے فعل کے منسوخ ہونے کی بناء پر ہو اور ان پر نمازچھوڑنے کی وجہ ہو ۔ تو آپ کا ان پر نماز پڑھنا اس بات کو لازم کرتا ہے کہ ان کے ہاں طریقہ ان پر نماز چھوڑنے کی وجہ ہو۔ تو آپ کا ان پر نماز پڑھنا اس بات کو لازم کرتا ہے کہ ان کے ہاں طریقہ ان پر نماز پرھنے کا تھا اور دفن کے وقت ان پر نماز جنازہ کا ترک والا عمل منسوخ ہو چکا ہے ۔ اور اگر آپ کا ان پر نماز پڑھنا اس بناء پر تھا کہ ان کے ہاں طریقہ یہی تھا کہ ان پر نماز اتنی مدت کے بعد پڑھی جائے اور یہ ان کی خصوصیت تھی ۔ تو اس میں یہ بھی احتمال ہےکہ تمام شہداء کا یہی حکم ہو کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے اور عین ممکن ہے کہ تمام شہداء پر جو شہدا ء احد کے علاوہ ہوں جلد نماز پڑھی جاتی ہو اور ان کے ہاں تاخیر کا طریقہ ہو ۔ بہر صورت یہ معانی شہداء پر نماز جنازہ کو ثابت کرتے ہیں خواہ کچھ وقت کے بعد ہو یا دفن سے پہلے پھر آج تک اختلاف کرنے والوں میں یہ بات چلی آرہی ہے کہ وہ دفن سے قبل ان کے لیے پایہ ثبوت کو پہنچ گئی یا قطعا اسے چھوڑ دیا پس جب اس روایت نے دفن کے بعد بھی نماز ان پر ثابت کر دی تو اس سے بہتر یہ ہے کہ دفن سے پہلے پڑھی جائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہداء احد کے علاوہ شہداء پر نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہے ۔ جیسا اس روایت میں ہے ۔ عقبہ کی دوسری روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین احد پر ان کے قتل کے آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2816

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2817

2661 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا نعيم بن حماد قال أنا عبد الله بن المبارك قال أنا بن جريج [ ص 506 ] قال أخبرني عكرمة بن خالد أن بن أبى عمار أخبره عن شداد بن الهاد أن رجلا من الأعراب جاء الى النبي صلى الله عليه و سلم فآمن به واتبعه وقال أهاجر معك فأوصى به النبي صلى الله عليه و سلم بعض أصحابه فلما كانت غزوة غنم فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم أشياء فقسم وقسم له فأعطى أصحابه ما قسم له وكان يرى ظهرهم فلما جاء دفعوه اليه فقال ما هذا قالوا قسم قسمه لك رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذه فجاء به النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا محمد ما هذا قال قسمته لك قال ما على هذا اتبعتك ولكني اتبعتك أن أرمى ها هنا وأشار الى حلقه بسهم فأموت وأدخل الجنة فقال إن تصدق الله يصدقك فلبثوا قليلا ثم نهضوا الى العدو فأتى به النبي صلى الله عليه و سلم يحمل قد أصابه سهم حيث أشار فقال النبي أهو هو قالوا نعم قال صدق الله فصدقه وكفنه النبي صلى الله عليه و سلم في جبة النبي صلى الله عليه و سلم ثم قدمه فصلى عليه فكان مما ظهر من صلاته عليه اللهم إن هذا عبدك خرج مهاجرا في سبيلك فقتل شهيدا أنا شهيد عليه ففي هذا الحديث إثبات الصلاة على الشهداء الذين لا يغسلون لأن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث لم يغسل الرجل وصلى عليه فثبت بهذا الحديث أن كذلك حكم الشهيد المقتول في سبيل الله في المعركة يصلى عليه ولا يغسل فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما النظر في ذلك فانا رأينا الميت حتف أنفه يغسل ويصلى عليه ورأيناه إذا صلى عليه ولم يغسل كان في حكم من لم يصل عليه فكانت الصلاة عليه مضمنة بالغسل الذي يتقدمها فان كان الغسل قد كان جازت الصلاة عليه وإن لم يكن غسل لم تجز الصلاة عليه ثم رأينا الشهيد قد سقط أن يغسل فالنظر على ذلك أن يسقط ما هو مضمن بحكم الغسل ففي هذا ما يوجب ترك الصلاة عليه الا أن في ذلك معنى وهو أنا رأينا غير الشهيد يغسل ليطهر وهو قبل أن يغسل في حكم غير الطاهر لا ينبغي الصلاة عليه ولا دفنه على حاله تلك حتى ينقل عنها بالغسل ثم رأينا الشهيد لا بأس بدفنه على حاله تلك قبل أن يغسل وهو في حكم سائر الموتى الذين قد غسلوا فالنظر على ذلك أن يكون الصلاة عليهم في حكم سائر الموتى الذين قد غسلوا هذا هو النظر في هذا الباب مع ما قد شهد له من الآثار وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد

ابن ابی عمار نے بتلایا کہ شداد بن الھاد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ایمان لا کر ساتھ ہو لیا اور کہنے لگا میں آپ کے ساتھ چلوں گا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق ایک آدمی کو خصوصی ہدایت فرمائی جب غزوہ پیش آیا اور مال غنیمت میں کچھ مال آیا آپ نے تقسیم کیا تو تقسیم میں اس کا حصہ اس کے ساتھیوں کو دیا وہ ا ن کے اموال واشاء کا خیال رکھتا تھا جب وہ گلے کی نگہبانی سے واپس لوٹا توانہوں نے اس کو وہ حصہ دیا اس سے پوچھا یہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتلایا تیرا حصہ ہے وہ لے کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے آپ نے فرمایا۔ یہ تیرا حصہ ہے ۔ اس نے کہا میں نے اس کی خاطر آپ کی پیروی نہیں کی بلکہ میں تو اس لیے آپ کے ساتھ آیا کہ میری طرف کافر تیر پھینکیں اور وہ میرے حلق میں لگ جائے اور اس سے میری موت واقع ہو جائے اور میں جنت میں چلاجاؤں آپ نے فرمایا اگر تو نے اللہ تعالیٰ سے سچا وعدہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں سچا کر دے گا صحابہ کرام تھوڑی دیگر ٹھہرے پھر دشمن کی طرف گئے اس کو وہیں تیر لگا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا صحابہ کرام اس کوآپ کی خدمت میں اٹھا لائے ۔ آپ نے پوچھا کیا یہ وہی ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا اس نے اللہ تعالیٰ سے سچا وعدہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسے سچا کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے جبہ مبارک میں کفن دیا پھر اس کو سامنے کیا اور نماز جنازہ پڑھی ۔ آپ کی ان دعاؤں میں سے جو اس کے لیے مانگیں ایک یہ تھی ۔ اللھم ان ہذا عبدک خرج مہاجرا فی سبیلک فقتل شہیدا ، انا شہید علیہ۔ اے اللہ تیرا یہ بندہ تیری راہ میں مہاجربن کر نکلا پھر شہادت کی موت پائی میں اس پر گواہ ہوں ۔ اس روایت میں ان شہداء کی نماز جنازہ کا ثبوت مل رہا ہے جن کو غسل نہیں دیا جاتا کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو غسل نہیں دیا مگر اس پر جنازہ پڑھا پس اس حدیث نے ثابت کر دیا کہ میدان جنگ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہو جانے والے کا یہی حکم ہے ۔ کہ اس پر جنازہ تو پڑھیں مگر غسل نہ دیں ۔ اس باب کے آثار کے معانی کی تصیحح تو اسی صورت میں ہو سکتی ہے ۔ رہا غور و فکر کا معاملہ تو ملاحطہ ہو ۔ہم یہ دیکھتے ہیں کہ طبعی موت کے ساتھ فوت ہونے والے پر غسل و جنازہ دونوں ہیں اور یہ بھی ہمارے سامنے ہےکہ جب ان کی نماز جنازہ بلا غسل ادا کر دی جائے تو یہ جنازہ نہ پڑھنے کے حکم میں ہے ۔ تو گویا اس کی نماز اس کے اس غسل کو اپنے اندر سمیٹنے والی ہے جو اسے نماز سے پہلے دیا جاتا ہے اگر غسل ہوا تو جنازہ درست اور اگر غسل نہ کرایا گیا تو نماز جنازہ ہی درست نہ ہوتی ۔ دوسری طرف شہید پر نگاہ ڈالی کہ اس سے غسل تو ساقط ہو گیا ۔ قیاس تو یہی چاہتا ہے کہ جو چیز غسل سے متعلق ہو غسل کے ترک سے اسے بھی ترک کر دیا جائے تو اس قیاس سے نماز جنازہ کا ترک لازم آتا ہے ۔ مگر یہاں ایک بات اس سے مختلف ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص شہید نہ ہو اس کو غسل اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ اسے پاک کیا جائے وہ غسل سے پہلے حکما غیر ظاہر ہوتا ہے پس اس پر نماز جنازہ مناسب نہیں اور نہ اس کو اس حالت میں دفن مناسب ہے ۔ یہاں تک کہ غسل کے ذریعہ اس حالت کو بدلا جائے ۔ پھر شہید کو دیکھا کہ اسے غسل سے پہلے دفن میں چنداں حرج نہیں اور وہ اس حالت میں ان اموات کے حکم میں ہے جن کو غسل دیا گیا تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر جنازہ کا حکم وہی ہو جو عام مردوں کا ہے جن کو غسل دیا گیا ہو ۔ اس باب میں قیاس یہی ہے اور بہت سے آثار اس کےموید ہیں ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا بھی قول یہی ہے ۔

عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2817

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2818

2662 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الخطاب بن عثمان الفوزى قال ثنا إسماعيل بن عياش عن سعيد بن عبد الله قال سمعت مكحولا يسأل عبادة بن أوفى النميري عن الشهداء يصلى عليهم فقال عبادة نعم فهذا عبادة بن أوفى يقول هذا ومغازى أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كان جلها هناك نحو الشام فلم يكن يخفى على أهله ما كانوا يصنعون بشهدائهم من الغسل والصلاة وغير ذلك

مکحول نے عبادہ بن اوفی رضی اللہ عنہ سے شہداء کی نماز کے متعلق دریافت کیاتو انہوں نے فرمایا نماز پڑھی جائے گی یہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بڑی بڑی جنگیں ملک شام کی جانب لڑی گئیں ۔ وہاں کے ساکنین پر یہ بات مخفی نہ تھی کہ وہ شہدا کے کفن دفن غسل کے متعلق کیا عمل کرتے تھے ۔

عبادة نعم فهذا عبادة بن أوفى ← الشهداء يصلى عليهم ← مكحولا يسأل عبادة بن أوفى النميري ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الخطاب بن عثمان الفوزي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2818

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2819

2663 - حدثنا بن أبى عمران قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد قال ثنا أبى عن بن إسحاق عن عبد الله بن أبى بكر عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دفن ابنه إبراهيم رضي الله عنه ولم يصل عليه

عمرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹے ابراہیم کو نماز جنازہ پڑھا ئے بغیر دفن کر دیا ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2819

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2820

2664 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن يحيى النيسابوري قال ثنا يعقوب فذكر مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى أنه لا يصلى على الطفل واحتجوا في ذلك بهذا الحديث ورووا في ذلك أيضا عن سمرة بن جندب

محمد بن یحییٰ نیسا بوری نے یعقوب سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ بچوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے گی اور انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا اور حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی روایت بھی لی ۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى ← مِثْلَہُ ← يَعْقُوبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2820

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2821

2665 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث قال ثنا عقبة بن يسار قال حدثني عثمان بن جحاش وكان بن أخي سمرة بن جندب قال مات بن لسمرة قد كان سقى فسمع بكاء فقال ما هذا فقالوا على فلان مات فنهى عن ذلك ثم دعا بطست ونقير فغسل بين يديه وكفن بين يديه ثم قال لمولاه فلان انطلق به الى حفرته فإذا وضعته في لحده فقل بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أطلق عقد رأسه وعقد رجليه وقل اللهم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده قال ولم يصل عليه

عثمان بن جحاش یہ سمرہ بن جندب کے بھتیجے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ سمرہ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جس نے پانی کا گھونٹ پیا تھا سمرہ نے رونے کی آواز سنی تو پوچھا یہ آواز کسی ہے انہوں نے کہا یہ فلاں پررونے کی آواز ہے جس کی وفات ہو گئی اپ نے اس زور والی آواز سے منع کر دیا پھر ایک تھال یا لکڑی کا برتن منگوایا اور اپنے سامنے اس کو غسل دلایا پھر ان کے سامنے کفن دیا گیا پھر اپنی لونڈی کو فرمایا اس کو اس کی قبر کی طرف لے جاؤ جب لحد میں رکھو تو کہنا بسم اللہ وعلی ستہ رسول اللہ پھر اس کے سر کی اور پاؤں کی گروہ کھول دینا اور اس طرح کہنا اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تقتنا بعدہ عثمان کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی ۔

كان بن أخي سمرة بن جندب ← عُثْمَانَ بْنَ جِحَّاشٍ ← عقبة بن يسار ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2821

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2822

2666 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة يعنى عن خلاس عن بن جحاش عن سمرة بن جندب أن صبيا له مات فقال ادفنوه ولا تصلوا عليه فإنه ليس عليه إثم ثم ادعوا الله لأبويه أن يجعله لهما فرطا وسلفا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يصلى على الطفل واحتجوا في ذلك بما

ابن جحاش نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ان کا ایک بچہ فوت ہو گیا تو انہوں نے کہا اس کو دفن کر دو اور اس پر نماز جنازہ مت پڑھو یہ بے گناہ ہے پھر اس کے والدین کے لیے دعا کرنا کہ وہ اس کو ان کا استقبالی اور ذخیرہ بنائے اور دیگر علماء نے ان کی مخالفت کی ہے اور فرمایا بلکہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے ان کا استدلال اس طرح ہے ۔

سمرة بن جندب أن صبيا له مات ← بن جحاش ← خِلَاسٍ، ← شُعْبَةُ يَعْنِي ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2822

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 8 باب الطفل يموت أيصلى عليه أم لا ) · حديث 2823

2667 - حدثنا يونس قال أنا سفيان عن طلحة بن يحيى بن طلحة عن عمته عائشة بنت طلحة عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت جاءت الأنصار بصبى الى النبي صلى الله عليه و سلم ليصلي عليه فقلت وقيل له هنيئا له يا رسول الله لم يعمل سوءا قط ولم يدركه عصفور من عصافير الجنة فقال أو غير ذلك ان الله عز و جل لما خلق الجنة خلق لها أهلا وهم في أصلاب آبائهم وخلق النار وخلق لها أهلا وهم في أصلاب آبائهم

عائشہ بنت طلحہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ انصار ایک بچے کو آپ کی خدمت میں لائے تاکہ اس پر جنازہ پڑھا جائے میں نےکہا اس کو کہا گیا خوش نصیب ہے کہ اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا اور نہ برے عمل کو پایا یہ جنت کی چڑیا ہے آپ نے فرمایا کیا کچھ اور بھی ۔ اللہ تعالیٰ نے جب جنت بنائی اور جنت کے اندر رہنے والے بنائے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور آگ کے بنایا اور آگے والے لوگ بنائے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی اصلاب میں تھے ۔

عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2823

chevron_left Previous
1…121314…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter