Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2800

2644 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أحمد قال ثنا إسرائيل عن عثمان بن عبد الله بن موهب قال صليت خلف أبى هريرة رضي الله عنه على جنائز من رجال ونساء فسوى بينهم وكبر أربعا فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم المذكورون في هذه الآثار قد كانوا يكبرون في صلاتهم على جنائزهم أربع تكبيرات ثم لا ينكر ذلك عليهم غيرهم فدل ذلك أن ذلك هو حكم التكبير في الصلاة على الجنائز وأن ما زاد على التكبيرات الأربع فإنما كان لمعنى خاص خص به بعض الموتى ممن ذكرنا من أهل بدر على سائر الناس فثبت بما ذكرنا أن التكبير على الجنازة أربعا على الناس جميعا من بعد أهل بدر إلى يوم القيامة وكان مذهب أبى حنيفة وسفيان وأبى يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله في التكبير على الجنائز أيضا ما ذكرنا وقد روى ذلك أيضا عن محمد بن الحنفية

عبد اللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کئی لوگوں کے جنازے اکٹھے ادا کیے جن میں مرد اور عور تیں شامل تھیں انہوں نے ان کو برابر رکھا اور چار تکبیرات کہیں یہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا تذکرہ ان آثار میں کیا گیا ۔ وہ اپنی نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہتے تھے پھر اس سلسلہ میں ان پر کوئی تکبیر نہ کرتے تھے پاس اس سے ثبوت مل گیا کہ جناز ے کی تکبیرات کا یہی کا حکم تھا ۔ اور جو چار سے زائد تکبیرات ہیں ان کی خاص وجہ ہے جس کے لیے بعض مرنے والے مخصوص ہیں جن کا ہم نے اہل بدر میں تذکرہ کیا بقیہ لوگوں کی بجائے پس اس سے ثابت ہوا کہ جنازہ کی تکبیرات چار ہیں جو تمام لوگوں کےلیے لازم ہیں علاوہ اہل بدر کے جب تک دنیا باقی ہے ۔ امام ابو حنیفہ ، سفیان ابو یوسف ، محمد بن الحسن رحمتہ اللہ علیہم کا مذہب تکبیرات میں یہی ہے اور اما م محمد بن حفنیہ رحمۃ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔

صليت خلف أبى هريرة على جنائز من رجال ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2800

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2801

2645 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال أنا أبو حمزة عمران بن أبى عطاء قال شهدت وفاة بن عباس بالطائف فوليه محمد بن الحنفية فصلى عليه فكبر أربعا

عمران بن ابی عطاء کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت طائف میں موجود تھا ان کے ولی محمد بن حنیفہ تھے انہوں نے انکی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات کہیں ۔

أبو حمزة عمران بن أبي عطاء ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2801

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2802

2646 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا سفيان عن عمران بن أبى عطاء قال صليت خلف بن الحنفية على بن عباس فكبر أربعا

عمران بن ابی عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن حنفیہ کے پیچھے نماز جنازہ ادا کی جو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ تھی انہوں نے اس میں چارتکبیرات کہیں ۔

صليت خلف بن الحنفية على بن عباس فكبر أربعا ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2802

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2803

2647 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني الليث بن سعد عن بن شهاب حدثه عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك أن جابرا بن عبد الله أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بدفن قتلى أحد بدمائهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث فقالوا لا يصلى على من قتل من الشهداء في المعركة ولا على من جرح منهم فمات قبل أن يحمل من مكانه كما لا يغسل وممن قال بذلك أهل المدينة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يصلى على الشهيد وكان من الحجة لهم في ذلك على مخالفهم أن الذي في حديث جابر إنما هو أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يصل عليهم فقد يجوز أن يكون تركه ذلك لأن سنتهم أن لا يصلى عليهم كما كان من سنتهم أن لا يغسلوا ويجوز أن يكون لم يصل عليهم وصلى عليهم غيره لما كان به حينئذ من ألم الجراح وكسر الرباعية وما أصابه يومئذ من المشركين فإنه

عبدالرحمن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقتولین احد کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرمایا ان کو نہ غسل دیا گیا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ۔

عبد الرحمن بن كعب بن مالك أن جابرا بن عبد الله ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2803

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2804

2648 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبى حازم وسعيد بن عبد الرحمن الجمحي عن أبى حازم قال سعيد في حديثه سمعت سهل بن سعد وقال بن أبى حازم عن سهل أنه سئل عن وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد بأي شيء دووي قال سهل كسرت البيضة على رأسه وكسرت رباعيته وجرح وجهه فكانت فاطمة رضي الله عنها تغسله وكان على رضي الله عنها تغسله وكان علي رضي الله عنه يسكب الماء بالمجن فلما رأت فاطمة رضي الله عنها أن الماء لا يزيد الدم الا كثرة أخذت قطعة حصير فأحرقتها وألصقتها على جرحه فاستمسك الدم يختلف لفظ بن أبى حازم وسعيد في هذا الحديث والمعنى واحد

ابو حازم نے سعید سے روایت کی ہے کہ میں نے سہل بن سعد سے سنا ہے ابن ابی حازم نے سہل سے نقل کیا سہل سے احد کے دن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے زخم کے متعلق پوچھا گیا کہ اس کا کس طرح علاج کیا گیا ؟ تو سہل نے کہا اپ کے سر کا خود ٹوٹ گیا اور سامنے والا دانت بھی ٹو تا ۔ اور چہرہ مبارک (خود کی کڑیوں کے گھسنے سے ) زخمی ہو گیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا زخم کو دھو رہیں تھیں اور علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے ۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پانی سے خون گھٹنے کی بجائے بڑھ رہا ہے تو چٹائی کا ٹکڑا لے کر اس کو چلایا اور اس کی راکھ زخم پر چمٹا دی جس سے خون رک گیا امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے مذکورہ الصدر روایت کو اختیار کر کے کہا کہ معرکہ میں شہید ہونے والے پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے گی اور نہ اس پر جو میدان جنگ میں زخمی ہو اور اپنے مقام کی طرف انتقال سے پہلے مر جائے جیسا کہ اسے غسل نہیں دیا جاتا اور یہ اہل مدینہ کا قول ہے دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا بلکہ شہید پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور ان کی اپنے مخالفین کے خلاف دلیل یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ والی مذکورہ روایت کا جملہ " ان النبی لم یصل علیھم " اس کا معنی ممکن ہے یہ ہو کہ آپ نے ان پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جیسا کہ ان کے ہاں یہ طریقہ تھا کہ ان کو غسل نہ دیا جاتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے خود ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی بلکہ دوسری نے نماز جنازہ پڑھی کیونکہ آپ کو زخموں کی وجہ سے سخت تکلیف تھی آپ کا باعیہ دانت ٹوٹ گیا اور مشرکین کی طرف سے سخت ایذاء پہنچی تھی ۔ ابن ابی حازم اور سعید کے الفاظ تو مختلف ہیں مگر مفہوم ایک ہے ۔

سَهْلٍ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← سعيد في حديثه ← أَبِي حَازِمٍ ← بن أبى حازم وسعيد بن عبد الرحمن الجمحي ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2804

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2805

2649 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن نافع عن هشام عن أبى حازم عن سهل أن النبي صلى الله عليه و سلم أصيب يوم أحد في وجهه فجرح وأن فاطمة رضي الله عنها ابنته أحرقت قطعة من حصير فجعلته رمادا وألصقته على وجهه وقال النبي صلى الله عليه و سلم اشتد غضب الله عز و جل على قوم دموا وجه رسول الله

ابو حازم نے سہل سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کے دن چہرے پر زخم آیا آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی کا ایک ٹکڑا جلا کر اس کی راکھ کو چہرے کے زخم پر چپکا دیا آپصلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر نازل ہو جنہوں نے اپنے پیغمبر کے چہرے کو زخمی کر دیا ۔

سَهْلٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2805

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2806

2650 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا بن أبى مريم قال انا أبو غسان قال حدثني أبو حازم عن سهل بن سعد قال هشت البيضة على رأس رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد وكسرت رباعيته وجرح وجهه

ابو حازم نے سہل بن سعد سے نقل کیا کہ آپ کے سر مبارک پر خود ٹوٹ گیا اور آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے اور چہرہ مبارک احد کے موقعہ پر زخمی ہو گیا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← أبو غسان، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2806

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2807

2651 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عمرو بن عون قال أنا خالد بن عبد الله عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال اشتد غضب الله تعالى على قوم دموا وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم وكانوا دموا وجهه يومئذ وهشموا عليه البيضة وكسروا رباعيته

ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا( ایسی قوم پر اللہ تعالیٰ کا غضب ٹوٹے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلود کر دیا ) انہوں نے آپ کے چہرے کو خون آلود کر دیا اور خود ٹوٹ کر چہرے میں گھس گئی اور انہوں نے آپ کا دانت توڑ دیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2807

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2808

2652 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا القعنبي قال ثنا حماد عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كسرت رباعيته يوم أحد وشج وجهه فجعل يسلت الدم على وجهه ويقول كيف يفلح قوم شجوا وجه نبيهم وكسروا رباعيته وهو يدعوهم الى الله عز و جل فأنزل الله عز و جل ليس لك من الأمر شيء فيجوز أن يكون صلى الله عليه و سلم تخلف عن الصلاة عليهم لألم ما نزل به وصلى عليهم غيره وقد

ثابت بنانی نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنے والا دانت احد کے دن ٹوٹ گیا اور چہرہ مبارک زخمی کر دیا گیا آپ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے وہ قوم کیونکر کامیاب ہو گی جنہوں نے اپنے پیغمبر کے چہرے کو زخمی کر دیا اور ان کے سامنے دانت کو توڑ دیا حالانکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ۔ لیس لک من الامر شیء (ال عمران 128) پس یہ کہنا بھی درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درد کی وجہ سے ان پر جنازہ پڑھنے میں شامل نہ ہوئے ہوں اور دوسروں نے ان پر نماز جنازہ پڑھی ہو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2808

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2809

2653 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال ثنا أسامة بن زيد الليثي أن بن شهاب حدثه أن أنس بن مالك حدثه أن شهداء أحد لم يغسلوا ودفنوا بدمائهم ولم يصل عليهم ففي هذا الحديث ما ينفى الصلاة عليهم من رسول الله صلى الله عليه و سلم ومن غيره فنظرنا في هذا الحديث كيف هو وهل زيد على بن وهب فيه شيء

ابن وہب نے اپنی سند سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ شہدا ء احد کو غسل نہ دیا گیا بلکہ ان کے خون سمیت ان کو دفن کر دیا گیا اور ان پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی گئی اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی پر نماز جنازہ نہیں پڑھی صرف حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر پڑھی اور ان پر اس لیے پڑھی کیونکہ وہ شہداء احڈ میں سب سے افضل تھے پس اگر شہداء کے متعلق طریقہ جنازہ نہ پڑھنے کاہوتا تو آپ حمزہ رضی اللہ عنہ پر بھی جنازہ نہ پڑھتے جیسا کہ ان کو غسل نہ دیا تھا اس لیے کہ شہداء کے متعلق طریقہ یہ تھا اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ زخموں او ر تکلیف کی شدت کی وجہ سے ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی اور دیگر لوگوں نے ان پر نماز جنازہ پڑھی۔ حالانکہ یہ روایات میں وارد ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور تمام شہداء پر نماز جنازہ پڑھی ۔

أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ← أسامة بن زيد الليثي أن بن شهاب ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2809

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2810

2654 - فإذا إبراهيم بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا عثمان بن عمر بن فارس قال أنا أسامة عن الزهرى عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر يوم أحد بحمزة وقد جدع ومثل به فقال لولا أن تجزع صفية لتركته حتى يحشره الله من بطون الطير والسباع فكفنه في نمرة إذا خمر رأسه بدت رجلاه وإذا خمر رجليه بدا رأسه فخمر رأسه ولم يصل على أحد من الشهداء غيره وقال أنا شهيد عليكم يوم القيامة ففي هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يصل يومئذ على أحد من الشهداء غير حمزة فإنه صلى عليه وهو أفضل شهداء أحد فلو كان من سنة الشهداء أن لا يصلى عليهم لما صلى على حمزة كما لم يغسله إذ كان من سنة الشهداء أن لا يغسلوا وصار ما في هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى على حمزة ولم يصل على غيره فهذا يحتمل أن يكون لم يصل على غيره لشدة ما به مما ذكرنا وصلى عليهم غيره من الناس وقد جاء في غير هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى يومئذ على حمزة وعلى سائر الشهداء

عثمان بن عمر نے اپنی سند سے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میدان احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسد کے پاس سے ہوا ان کے ناک ، کان ، ہونٹ کاٹ کر ان کا مثلہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا اگر مجھے صفیہ کی گھبراہٹ کا خطرہ نہ ہوتا تو میں اس کو اسی طرح چھوڑتا یہاں تک کہ پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے ان کا حشر ہوتا آپ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو دھاری دار چادر سے کفن دیا جس سے سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ظاہر ہو جاتا ان کے سر کو ڈھانپ دیا گیا اور ا ن کے علاوہ کسی اور شہیداحد پر آپ نے نماز جنازہ نہ پڑھی اور فرمایا میں قیامت کے دن تمہارا گواہ ہوں گا ۔ یہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں دونوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسی طرح کی روایت حضرت ابو مالک غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أُسَامَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← فإذا إبراهيم بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2810

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 7 باب الصلاة على الشهداء ) · حديث 2811

2655 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا أبو بكر بن عياش عن يزيد بن أبى زياد عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يوضع بين يديه يوم أحد عشرة فيصلى عليهم وعلى حمزة ثم يرفع العشرة وحمزة موضوع ثم يوضع عشرة فيصلى عليهم وعلى حمزة معهم

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے احد کے دن دس دس شہداء کو رکھا جاتا اور ان پر نماز پڑھی جاتی اور حمزہ پر بھی پھر دس کو اٹھا لیا جاتا اور حمزہ کو وہیں رہنے دیا جاتا پھر اور دس رکھے جاتے اور ان پر نماز پڑھی جاتی اور حمزہ پر ان کے ساتھ نماز پڑھی جاتی ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2811

chevron_left Previous
1…111213…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter