شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2800
2644 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أحمد قال ثنا إسرائيل عن عثمان بن عبد الله بن موهب قال صليت خلف أبى هريرة رضي الله عنه على جنائز من رجال ونساء فسوى بينهم وكبر أربعا فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم المذكورون في هذه الآثار قد كانوا يكبرون في صلاتهم على جنائزهم أربع تكبيرات ثم لا ينكر ذلك عليهم غيرهم فدل ذلك أن ذلك هو حكم التكبير في الصلاة على الجنائز وأن ما زاد على التكبيرات الأربع فإنما كان لمعنى خاص خص به بعض الموتى ممن ذكرنا من أهل بدر على سائر الناس فثبت بما ذكرنا أن التكبير على الجنازة أربعا على الناس جميعا من بعد أهل بدر إلى يوم القيامة وكان مذهب أبى حنيفة وسفيان وأبى يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله في التكبير على الجنائز أيضا ما ذكرنا وقد روى ذلك أيضا عن محمد بن الحنفية
عبد اللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کئی لوگوں کے جنازے اکٹھے ادا کیے جن میں مرد اور عور تیں شامل تھیں انہوں نے ان کو برابر رکھا اور چار تکبیرات کہیں یہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا تذکرہ ان آثار میں کیا گیا ۔ وہ اپنی نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہتے تھے پھر اس سلسلہ میں ان پر کوئی تکبیر نہ کرتے تھے پاس اس سے ثبوت مل گیا کہ جناز ے کی تکبیرات کا یہی کا حکم تھا ۔ اور جو چار سے زائد تکبیرات ہیں ان کی خاص وجہ ہے جس کے لیے بعض مرنے والے مخصوص ہیں جن کا ہم نے اہل بدر میں تذکرہ کیا بقیہ لوگوں کی بجائے پس اس سے ثابت ہوا کہ جنازہ کی تکبیرات چار ہیں جو تمام لوگوں کےلیے لازم ہیں علاوہ اہل بدر کے جب تک دنیا باقی ہے ۔ امام ابو حنیفہ ، سفیان ابو یوسف ، محمد بن الحسن رحمتہ اللہ علیہم کا مذہب تکبیرات میں یہی ہے اور اما م محمد بن حفنیہ رحمۃ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔
صليت خلف أبى هريرة على جنائز من رجال ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2800
