شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 71 باب الفخذ هل هو من العورة أو لا ) · حديث 2652
2507 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني أبو خالد عن عبد الله بن سعيد المديني قال حدثتني حفصة بنت عمر رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم قد وضع ثوبه بين فخديه فجاء أبو بكر رضي الله عنه فاستأذن فأذن له النبي صلى الله عليه و سلم على هيأته ثم جاء عمر رضي الله عنه بمثل هذه الصفة ثم جاء أناس من أصحابه والنبي صلى الله عليه و سلم على هيأته ثم جاء عثمان فاستأذن عليه فأذن له ثم أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ثوبه فتجلله فتحدثوا ثم خرجوا فقلت يا رسول الله جاء أبو بكر وعمر وعلى رضي الله عنهم وناس من أصحابك وأنت على هيأتك فلما جاء عثمان رضي الله عنه تجللت ثوبك فقال أو لا أستحي ممن تستحى منه الملائكة قالت وسمعت أبى وغيره يحدثون نحوا من هذا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن الفخذ ليست من العورة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الفخذ عورة وقالوا قد روى هذا الحديث جماعة من أهل البيت على غير ما رواه الذي احتججتم بروايتهم فمن ذلك ما روى في ذلك ما
عبداللہ بن سعید المدینی نے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنا کپڑا اپنی رانوں کے درمیان رکھا تھا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی جبکہ آپ اسی حالت میں رہے پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ اپنی اسی ہییت پر رہے پھر کچھ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آئے تو آپ اپنی اسی حالت پر قائم تھےپھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت طلب کی تو ان کو اجازت مل گئی اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا لےکر کھلے حصہ کوڈھانپ لیا یہ حضرات آپ سے باتیں کرتے رہے پھر چلے گئے میں نے عرض کیا یارسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر ، عمر ، علی رحمۃ اللہ علیہم آئے اور آپ کے کچھ اوراصحاب آئے اور آپ اپنی ہیت پر تشریف فرما رہے جب عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے اپنے کھلے حصہ کو ڈھانپ لیا تو آپ نے فرمایا کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نےابی رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی سنا کہ وہ بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ ران ستر کا حصہ نہیں اور انہوں نے اس روایت بالا کو دلیل بنایا ہے ۔ دیگر علماء کی جماعت نے ان سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ رات ستر کاحصہ ہے ۔ اس روایت کو اہل بیت کی ایک جماعت نے اس سے مختلف انداز میں نقل کیا جو تم نے نقل کر کے دلیل بنایا ۔ چنانچہ ہم ان میں بعض کو ذیل میں نقل کرتے ہیں ۔
حدَّثتني حفصةُ بنتُ عمرَ ← عبد الله بن سعيد المديني ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2652
