Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 70 باب دباغ الميتة هل يطهرها أم لا ) · حديث 2648

2504 - أن بن أبى داود قد حدثنا قال ثنا المقدمي قال ثنا أبو عوانة قال ثنا سماك بن حرب ح

ابو عوانہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ہے ۔

سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← أن بن أبى داود قد

Hadith 2648

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 70 باب دباغ الميتة هل يطهرها أم لا ) · حديث 2649

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال ماتت شاة لسودة بنت زمعة رضي الله عنها فقالت يا رسول الله ماتت فلانة تعني الشاة قال فلولا أخذتم مسكها فقالت نأخذ مسك شاة قد ماتت فقال النبي صلى الله عليه و سلم إنما قال الله قل لا أجد فيما أوحى إلى محرما على طاعم يطعمه الآية فإنه لا بأس بأن تدبغوه فتنتفعوا به قالت فأرسلت إليها فسلخت مسكها فدبغته فأتخذت منه قربة حتى تخرقت ففي هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم لما سألته عن ذلك قرأ عليها الآية التي نزل فيها تحريم الميتة فأعلمها بذلك لما حرم عليهم بتلك الآية من الشاة حين ماتت إنما هو الذي يطعم منها إذا ذكيت لا غير وأن الانتفاع بجلودها إذا دبغت غير داخل في ذلك الذي حرم منها وقد روى عبيد الله بن عبد الله أيضا عن بن عباس رضي الله عنهما نحوا من ذلك

عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کی بکری مر گئی اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری مر گئی آپ نے فرمایا تم اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ اس نے کہا ہم مردہ بکری کی کھال اتار لیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : قل لا اجد فی ما اوحی انی محرما علی طاعم یطعمہ (الانعام 145) اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اس کی کھال کو دباغت کر کے استعمال میں لاؤ ۔ سودہ کہنے لگیں میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے کھال اتروا کر اس کو دباغت دی پس اس سے میں نے ایک مشکیزہ بنایا ( اس کو استعمال کرتی رہی ) یہاں تک کہ و ہ پھٹ گئی ۔ اس روایت میں اس طرح ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے تحریم مردار والی آیت تلاوت فرمائی اور اس کو بتلا دیا اس حکم کے ذریعہ مردار بکری کا کھانا حرام کر دیا گیا خواہ اس کو ذبح کر دیا جائے اس کے علاوہ نہیں اور دباغت کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہی حاصل کرنا تو اس حرمت میں شامل نہیں ۔ چنانچہ حضرت عبید اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح کی روایت کی ہے ۔

مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← وحدثنا صالح بن عبد الرحمن

Hadith 2649

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 70 باب دباغ الميتة هل يطهرها أم لا ) · حديث 2650

2505 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال حدثني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وجد شاة ميتة أعطيتها مولاة لميمونة رضي الله عنها من الصدقة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا انتفعتم بجلدها قالوا إنها ميتة قال إنما حرم أكلها فدل ذلك على أن الذي حرم من الشاة بموتها هو الذي يراد منها للأكل لا غير ذلك من جلودها وعصبها فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا قد رأينا الأصل المجتمع عليه أن العصير لا بأس بشربه والانتفاع به ما لم يحدث فيه صفات الخمر فإذا حدثت فيه صفات الخمر حرم بذلك ثم لا يزال حرام كذلك حتى تحدث فيه صفات الخل فإذا حدثت فيه صفات الخل حل فكان يحل بحدوث الصفة ويحرم لحدوث صفة غيرها وإن كان بدنا واحدا فالنظر على ذلك أن يكون كذلك جلد الميتة يحرم بحدوث صفة الموت فيه ويحل بحدوث صفة الأمتعة فيه من الثياب وغيرها فيه وإذا دبغ فصار كالجلود والأمتعة فقد حدثت فيه صفة الحلال فالنظر على ما ذكرنا أن يحل أيضا بحدوث تلك الصفة فيه وحجة أخرى أن قد رأينا أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أسلموا لم يأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بطرح نعالهم وخفافهم وأنطاعهم التي كانوا اتخذوها في حال جاهليتهم وإنما كان ذلك من ميتة أو من ذبيحة فذبيحتهم حينئذ إنما كانت ذبيحة أهل الأوثان فهى في حرمتها على أهل الإسلام كحرمة الميتة فلما لم يأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بطرح ذلك وترك الانتفاع به ثبت أن ذلك كان قد خرج من حكم الميتة ونجاستها بالدباغ الى حكم سائر الأمتعة وطهارتها وكذلك كانوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا افتتحوا بلدان المشركين لا يأمرهم بأن يتحاموا خفافهم ونعالهم وأنطاعهم وسائر جلودهم فلا يأخذوا من ذلك شيئا بل كان لا يمنعهم شيئا من ذلك فذلك دليل أيضا على طهارة الجلود بالدباغ ولقد روى في هذا عن جابر بن عبد الله ما قد

عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردہ بکری پائی جو حضر ت میمونہ رضی اللہ عنہ کی لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا انہوں نے کہا کہ وہ مردہ ہے آپ نے فرمایا اس کا کھانا حرام ہے ۔ اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ بکری کی موت سے جو چیز حرام ہوئی وہ اس کے گوشت کا کھانا ہے نہ کو پوست اور پٹھا ۔ آثار کے پیش نظر اس باب کا یہی مفہوم ہے ۔ البتہ نظر و فکر کے لحاظ سے تو ملاحظہ فرمائیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک اتفاقی قاعدہ انگور کے نچوڑ سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے جب تک کہ اس میں شراب کی خصوصیات پیدا نہ ہوں ، جب شراب کی صفات اس میں پیدا ہو جائیں تو اس سے وہ حرام ہو جائے گا پھر وہ حرام باقی رہے گا جب تک اس میں سرکہ کی صفات پیدا نہ کی جائیں پس جب اس میں سر کے والی صفات آجائیں گی تو وہ حلال ہو جائے گا۔ تو گویا وہ چند صفات کے آنے سے حرام ہوا اور جدید صفات کے پیدا ہونے سے حلال ہو گیا ۔ جو پہلے سے مختلف تھیں ۔ اگرچہ اس کا وجود ایک ہی ہو پس غور و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ مردار کے چمڑے کا حال بھی اسی طرح ہو کہ جب اس میں صفات میت پیدا ہو جائیں تو حرام ہو جائے اور جب اس میں برتنے کی چیزوں والی صفات آجائیں تو وہ اس وقت حلال ہو جائیں ۔مثلاً کپڑے وغیرہ جب اس میں دباغت کر لی گئی تو وہ چمڑے اور سامان کی طرح ہو گیا ۔ اس سے اس میں حلت کی صفت آگئی۔ اس گزشتہ بات پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس صفت کے آجانے سے وہ حلال ہو جائے ایک اور دلیل سنیے! ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب اسلام لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوجوتے اور موزے اور چمڑے پھینک دینے کاحکم نہیں فرمایا جن کو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں حاصل کیا تھا اور بلا شبہ وہ مردار کی کھال یا ذبیحہ کی کھال سے تھے اور ان کا ذبیحہ بھی توبت پر ستوں کا ذبیحہ ہے ۔ بت پرستوں کو ذبیحہ مسلمان کے لیے مردار کا حکم رکھت ہے پس جب جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پھینکنے کا حکم نہ فرمایا اور ان کو اس سے فائدہ حاصل کرنے دیا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ وہ مردار کے حکم سے خارج تھے اور باغت کی وجہ ان کی نجاست دوسرے سامان کی طرح طہارت میں بدل چکی تھی ۔ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اسی طرح رہتے تھے جب وہ مشترکین کے کسی علاقہ کو فتح کرتے تو آپ انہیں ان کے موزوں ، جوتوں، چمڑوں دیگر کھالوں کو پھینکنے کا حکم نہ فرماتے تھے بلکہ ان کو ان میں سے کسی چیز کے استعمال سے نہ روکتے تھے ۔ اس میں ان چمڑوں کے دباغت کے ساتھ ہونے کی دلیل ہے ۔ یہ بات حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 2650

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 70 باب دباغ الميتة هل يطهرها أم لا ) · حديث 2651

2506 - حدثنا فهد قال أبو غسان قال ثننا محمد بن راشد عن سليمان بن موسى عن عطاء بن أبى رباح عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال كنا نصيب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مغانمنا من المشركين الأسقية فنقتسمها وكلها ميتة فننتفع بذلك فدل ذلك على ما ذكرنا وهذا جابر رضي الله عنه يقول هذا وقد حدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال لا تنتفعوا من الميتة بشيء فلم يكن ذلك عنده بمضاد لهذا فثبت أن معنى حديثه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تنتفعوا من الميتة بشيء غير معنى حديثه الآخر وأن الشيء المحرم من الميتة في ذلك الحديث هو غير المباح في هذا الحديث فكذلك أيضا ما روى عبد الله بن عكيم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما نهى عن الانتفاع به من الميتة وهو غير ما أباح في هذه الآثار من أهبها المدبوغة حتى تتفق هذه الآثار ولا يضاد بعضها بعضا وهذا الذي ذهبنا اليه في هذا الباب من طهارة جلود الميتة بالدباغ قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے غنائم میں مشکیزے پاتے جو مردار کی کھالوں کے ہوتے ہم ان کو باہمی تقسیم کرتے اور ان سے نفع اٹھاتے اس روایت مذکورہ سے یہ دلالت میسر آگئی کہ یہی جابر رضی اللہ عنہ یہاں یہ فرما رہے ہیں اور دوسری طرف یہی اس ( لا تنتفعوا) الحدیث ،۔ والی روایت کے راوی ہیں ۔ پس یہ روایت کے متضاد نہیں ہو سکتی ۔ اس ے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کی لاتنفتعوا۔۔۔(الحدیث) کا معنی اس روایت سے مختلف ہے اور مینہ کی جو چیز حرام جس کا اس روایت میں تذکرہ ہے وہ اس چیز میں مذکور مباح چیز سے مختلف ہے ۔ اسی طرح عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ نے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے جس میں مردار سے نفع اٹھانا حرام فرمایا تھا وہ اس سے الگ چیز ہے جس کو ان آثار میں مباح قرار دیا گیا یعنی دباغت شدہ کھالیں اور یہ معنی اس لیے مانا تاکہ آثار کا باہمی تضاد ایک دوسرے سے نہ رہے اور یہ جس کی طرف ہم اس باب میں گئے ہیں یعنی دباغت سے مردار کی کھالوں کاپاک ہو جانا یہ امام ابو حنیفہ ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

فهد

Hadith 2651

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter