شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2606
2463 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن بكير أن بشر بن سعيد وسليمان بن يسار حدثاه أن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف حدثهما أنه كان في صلاة فمر به سليط بن أبى سليط فجذبه إبراهيم فخر فشج فذهب الى عثمان بن عفان رضي الله عنه فأرسل الى فقال لي ما هذا فقلت مر بين يدي فرددته لئلا يقطع صلاتي قال ويقطع صلاتك قلت أنت أعلم قال انه لا يقطع صلاتك
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ میں نماز میں مصروف تھا میرے سامنے سے سلیط بن ابی سلیط گزرا ۔ ابراہیم نے اس کو کھینچا پس وہ گر پڑے اور ان کے سر پر زخم آگیا سلیط عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نےمیری طرف پیغام بھیجا اور مجھے کہا یہ کیا حرکت کی ہے ؟ میں نے کہا یہ میرے سامنے سے گزرا میں نے اس کو روکا تاکہ میری نماز نہ توڑ دے آپ نے فرمایا اس کے گزرنے سے تیری نماز ٹوٹ جائے گی ۔ میں نے کہا اس کا تو آپ کوعلم ہے ۔ آپ نے فرمایا اس کے گزرنے سے تمہاری نماز نہیں ٹوٹتی تھی ۔
بُكَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2606
