شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 68 باب المرور بين يدي المصلى هل يقطع عليه ذلك صلاته أم لا ) · حديث 2582
وحدثنا محمد قال ثنا بن أبى مريم قال أنا يحيى بن أيوب قال عبد الله بن صالح في حديثه عن محمد بن عمر وقال بن أبى مريم في حديثه قال حدثني محمد بن عمر ثم ذكر بإسناده مثله غير أنه قال زار رسول الله صلى الله عليه و سلم عباسا فقد وافق هذا الحديث حديث صهيب وعبيد الله عن بن عباس رضي الله عنهما اللذين قدمنا ذكرهما في الفصل الذي قبل هذا ثم رجعنا الى حكم مرور الكلب بين يدي المصلى كيف هو وهل يقطع الصلاة أم لا فكان أحد من روى عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه يقطع الصلاة بن عباس رضي الله عنهما قد روينا ذلك عنه في أول هذا الباب ثم قد روينا في حديث الفضل الذي قد ذكرنا ما قد خالفه ثم روينا عن بن عباس رضي الله عنهما بعد من قوله بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عكرمة عنه أن الكلب لا يقطع الصلاة فدل ذلك على ثبوت نسخ ذلك عنده وعلى أن ما رواه الفضل عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه فصل بين الكلب الأسود من غيره من الكلاب فجعل الأسود يقطع الصلاة وجعل ما سواه بخلاف ذلك وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن ذلك فقال الأسود شيطان فدل ذلك على أن المعنى الذي وجب له قطعه إنما هو لأنه شيطان فأردنا أن ننظر هل عارض ذلك شيء
عبداللہ بن صالح نے اپنی روایت میں محمدبن عمر بن حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ۔ یہ روایت صہیب و عبیداللہ والی مذکورہ روایت کے موافق ہے جس کا فصل اول میں ہم تذکرہ کر آئے ۔ ہم دوبارہ کتے کے نمازی کے سامنے سے گزرنے کے مسئلہ کی طرف لوٹتے ہیں کہ اس سے نماز ٹوٹ جائے گی یا نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی شروع باب میں جو روایت گزری ہے اس سے تو کتا گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے پھر ہم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی روایت بھی ذکر کی جو اس کے خلاف ہے پھر ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فتویٰ ذکرکیا جو عکرمہ کی روایت سے نقل ہوا کہ کتا نماز کو نہیں توڑتا۔ اس سے اس بات کو ثبوت مل گیا کہ ان کے ہاں یہ حکم منسوخ ہو چکا اور فضل رضی اللہ عنہ والی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے متاخر ہے ۔ البتہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کی ہے آپ نے سیاہ اور دیگر کتوں میں فرق کیا سیاہ کتے کو نماز کے لیے توڑنے والا قرار دیا ان کے علاوہ کو عدم قاطع اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں پوچھا گیا تو فرمایا سیاہ کتا شیطان ہے ۔ پس اس سےیہ دلالت مل گئی کہ توڑنے کا باعث سیاہ کتے کا شیطان ہونا ہے ۔ اب ہم مزید روایات پر نظر ڈالتے ہیں کہ آیا اس کے معارض کوئی روایت موجود ہے چنانچہ ملاحظہ ہو ابن ابی مریم نے اپنی روایت میں محمد بن عمر بن حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پھر اپنی سند سے روایت نقل کی ہے البتہ ان الفاظ کا فرق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ کےپاس آئے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2582
