Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2562

2421 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا إسماعيل بن إبراهيم قال ثنا هشام بن عبد الله قال ثنا أبو الزبير عن جابر رضي الله عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في سفر فبعثنى في حاجة فانطلقت إليها ثم رجعت اليه وهو على راحلته فسلمت عليه فلم يرد على ورأيته يركع ويسجد فلما سلم رد على

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے مجھے کسی کام بھیجا میں چلا گیا پھر میں جب لوٹا تو اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے میں نے سلام کیا آپ نے مجھے جواب نہ دیا میں نے آپ کو رکوع و سجدے کے اشارے کرتے پایا جب آپ نے سلام پھیر دیا تو میرے سلام کا جواب دیا ۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 2562

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2563

2422 - حدثنا أبو بكر قال ثنا أبو داود قال ثنا هشام فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يقل فلم يرد على وقال فلما فرغ من صلاته قال أما أنه لم يمنعني أن أرد عليك إلا أنى كنت أصلى فهذا جابر بن عبد الله أيضا قد أخبر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يرد عليه وأنه لما فرغ من صلاته رد عليه فالكلام في هذا مثل الكلام فيما رويناه قبله عن بن مسعود رضي الله عنه وفي حديث جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أما انه لم يمنعني أن أرد عليك الا أنى كنت أصلى فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه لم يكن رد عليه شيئا فذلك ينفى أن يكون رد عليه بإشارة أو غيرها وقد

ابوبکرہ نے ابو داؤد سے اس ہشام سے بیان کیا انہوں نے اپنی سند سے روایت کی البتہ یہ الفاظ نقل نہیں کیے لم یرد علی بلکہ یہ ہیں جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے نماز مانع تھی یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ جو یہ بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میر بات کا جواب نہ دیا اور جب آپ نماز سے فارغ ہو ئے تو تب آپ نے سلام کا جواب دیا ۔ پس اس کے متعلق گفتگو سابقہ روایت کی گفتگو کی طرح ہے جس کو حضرت ابن مسود رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے اور روایت جابر رضی اللہ عنہ میں یہ بھی اضافہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اما انہ یمنعنی ان ارد علیک الا انی کنت اصلی " بھئی میں نے نماز میں مصورفیت کی وجہ سے تمہارے سلام کا جواب نہیں دیا اور اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ میں نے بالکل تمہارا جواب نہیں دیا اس سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ آپ نے اشارہ یا اور کسی طریق سے جواب دیا ہو۔

فلما فرغ من صلاته ← بإسناده مثله غير أنه لم يقل فلم يرد على ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرٍ

Hadith 2563

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2564

2423 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا يزيد بن إبراهيم قال ثنا أبو الزبير عن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم بعثه لبعض حاجته فجاء وهو يصلى على راحلته فسلم عليه فسكت ثم أومى بيده ثم سلم عليه فسكت ثلاثا فلما فرغ قال أما أنه لم يمنعني أن أرد عليك الا أنى كنت أصلى فهذا جابر رضي الله عنه قد أخبر في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أومى اليه بيده حين سلم ثم قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم بعدما فرغ من الصلاة أما أنه لم يمنعني أن أرد عليك الا أنى كنت أصلى فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه لم يكن رد عليه في الصلاة فدل ذلك أن تلك الإشارة التي كانت منه في الصلاة لم تكن ردا وإنما كانت نهيا وهذا جائز فقد روى هذا عن النبي صلى الله عليه و سلم كما قد ذكرنا وقد روى عنه ما قد

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام بھیجا جب میں آیا تو آپ اونٹنی پر سواری کی حالت میں نماز ادا فرما رہے تھے میں نے سلا م کیا آپ خاموش رہے پھر ہاتھ سے اشارہ کیا پھر میں نے سلام کیا آپ تین بار خاموش رہے جب نماز سے فارغ ہو ئے تو فرمایا میں نماز میں تھا اس لیے تیرے سلام کا جواب نہیں دیا ۔ یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ جو اس روایت میں اطلاع دے رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے وقت ان کی طرف اشارہ کیا پھر نماز سے فراغت کے بعد فرمایا سنو بھئی مجھے تمہارا جواب دینے سے نماز مانع تھی ۔ پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ میں نے نماز میں سلام کا جواب نہیں دیا ۔ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ آپ نے نماز میں جو اشارہ فرمایا یہ ان کے سلام کا جواب نہ تھا بلکہ یہ ممانعت تھی اور یہ درست ہے اور یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی جیسا ہم نے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Hadith 2564

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2565

2424 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبى قال ثنا الأعمش قال حدثني أبو سفيان قال سمعت جابرا رضي الله عنه يقول ما أحب أن أسلم على الرجل وهو يصلى ولو سلم علي لرددت عليه

ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتےسنا میں نمازپڑھنے والے کو سلام کرنا پسند نہیں کرتا اور اگر وہ مجھے سلام کرتا تو میں اس کو لوٹا دیتا ( یعنی منع کر دیتاہوں) یہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں کہ نمازی کو سلام کرنا مکروہ قرار دے رہے ہیں ۔ جبکہ انہوں نے خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں سلام کیا تھا اور آپ نے ان کو اشارہ فرمایا۔ اگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کیاجانے والا اشارہ سلام کا جواب ہوتا تو جابر رضی اللہ عنہ کبھی اس کو مکروہ قرار نہ دیتے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان کو منع نہیں کیا ، لیکن آپ نے اس کا ناپسند فرمایا۔ آپ کا اس وقت اشارہ نمازی کو سلام کرنے کی ممانعت تھی ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے تو اپنی اس روایت میں فرمایا اگر کوئی مجھے سلام کرے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں ۔ تو اس کے جواب میں اس طرح کہیں گے ۔ کیا جابر نےیہ کہا کہ میں نامز میں جواب دوں گا۔ تو اس کے متعلق یہ کہنا درست ہو گیا کہ میں نماز سے فراغت کے بعد سلام کا جواب دیتا ہوں اور ان کا طریقہ اس بات پر دلات کرتا ہے ۔

جَابِرًا ← أَبُو سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Hadith 2565

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2566

2425 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أحمد بن أشكاب رضي الله عنه قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش فذكر بإسناده مثله فهذا جابر بن عبد الله قد كره أن يسلم على المصلى وقد كان سلم على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلى فأشار اليه فلو كانت الإشارة التي كانت من النبي صلى الله عليه و سلم ردا للسلام عليه إذ لما كره ذلك لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينهه عنها ولكنه إنما كره ذلك لأن إشارة رسول الله صلى الله عليه و سلم تلك كانت عنده نهيا منه له عن السلام عليه وهو يصلى فان قال قائل فقد قال جابر في حديثكم هذا ولو سلم على لرددت قيل له أفقال جابر لرددت في الصلاة قد يجوز أن يكون أراد بقوله لرددت أي بعد فراغى من الصلاة وقد دل على ذلك من مذهبه ما

ابو معاویہ نے اعمش سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے روایت بیان کی ۔

Hadith 2566

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2567

2426 - حدثنا على بن زيد قال ثنا موسى بن داود قال ثنا همام قال سأل سليمان بن موسى عطاء أسألت جابرا عن الرجل يسلم عليك وأنت تصلى فقال لا ترد عليه حتى تقضى صلاتك فقال نعم قال أبو جعفر فدل ذلك أن الرد الذي أراد جابر رضي الله عنه في الحديث الأول هو الرد بعد الفراغ من الصلاة فقد وافق ذلك ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ودل من معناه على ما ذكرناه وقد روى عن بن عباس رضي الله عنهما في هذا نحو من ذلك

سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا کیا تم نے جابر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کا حکم معلوم کیا جو نماز کے دوران تم کو سلام کہے تو کہنے لگے کہ نماز پوری کرنے تک اس کو جواب مت دو ؟ اس نے کہا جی ہاں یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اپنی نماز میں مصروفیت کی حالت میں سلام کرنے والے کے سلام کا جواب نماز میں نہیں دیا بلکہ اس کی حرکت کو نا پسند کرتے ہوئے ہاتھ سے کچھ کا دیا ۔ جب حضرت ابن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہ جن دونوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں خود سلام کیا تھا ۔ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد اس کا ناپسند کیا تو اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ آپ کا نماز میں اشارہ سلام کے جواب کی خاطر نہ تھا بلکہ ممانعت کے لیے تھا کیونکہ نماز سلام کی جگہ نہیں ، کیونکہ سلام تو کلام ہے ۔ اس کا جواب بھی کلام شمار ہو گا ۔ پس جب نماز کلام کی جگہ نہیں ہے تو سلام کا جواب بھی کلام ہے تو نماز اس کی جگہ نہیں حالانکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم کے اطراف کوپر سکون رکھنے کا حکم فرمایا ہے ۔

أبو جعفر فدل ذلك ← نَعَمْ ← لا ترد عليه حتى تقضى صلاتك ← الرجل يسلم عليك وأنت تصلى ← سأل سليمان بن موسى عطاء أسألت جابرا ← هَمَّامٌ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Hadith 2567

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2568

2427 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا عارم قال ثنا جرير بن خازن عن قيس عن عطاء أن بن عباس رضي الله عنهما سلم عليه رجل وهو يصلى فلم يرد عليه شيئا وغمزه بيده فهذا بن عباس رضي الله عنهما أيضا لم يرد في صلاته على الذي سلم عليه وهو فيها ولكنه غمزه بيده على الكراهة منه لما فعل فلما كان عبد الله بن مسعود وجابر بن عبد الله رضي الله عنهم وقد كانا سلما على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يصلى قد كرها من بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم السلام على المصلى فثبت بذلك أن ما كان من إشارة النبي صلى الله عليه و سلم التي قد علمها منه لم تكن ردا وإنما كانت نهيا لأن الصلاة ليست بموضع سلام لأن السلام كلام فجوابه أيضا كذلك فلما كانت الصلاة ليست بموضع كلام يكون رد السلام لم يكن أيضا بموضع سلام وقد أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بتسكين الأطراف في الصلاة

عطاء نے روایت کی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ایک آدمی نے سلام کیا جبکہ وہ نماز میں مصروف تھے آپ نے اس آدمی کو جواب نہ دیا مگر ہاتھ سے اسے کچو کا لگایا ۔ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سکون کا حکم فرمایا تو اشارہ سے سلام کا جواب اس حکم مخالفت ہے کیونکہ اس میں ہاتھ بلند کرنا اور انگلیوں کا حرکت دینا ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ نماز میں تسکین کے حکم میں اعضاء واطراف کو نماز میں پر سکون رکھنا بھی شامل ہے ۔ یہ قول جو اس بات میں بیان ہوا یہ امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

قَيْسٍ ← جرير بن خازن ← عَارِمٌ، ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Hadith 2568

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2569

2428 - حدثنا بذلك فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن جابر بن سمرة قال دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم المسجد فرأى قوما يصلون وقد رفعوا أيديهم فقال ما لي أراكم ترفعون أيديكم كأنها أذناب خيل شمس اسكنوا في الصلاة فلما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسكون في الصلاة وكان رد السلام بالإشارة فيه خروج من ذلك لأن فيه رفع اليد وتحريك الأصابع ثبت بذلك أنه قد دخل فيما أمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم من تسكين الأطراف في الصلاة وهذا القول الذي بينا في هذا الباب قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

مسیب بن رافع نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا رکھے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نماز میں گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھوں کو اٹھانے والے ہو نماز میں سکون اختیار کرو ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← بذلك فهد

Hadith 2569

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter