شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2562
2421 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا إسماعيل بن إبراهيم قال ثنا هشام بن عبد الله قال ثنا أبو الزبير عن جابر رضي الله عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في سفر فبعثنى في حاجة فانطلقت إليها ثم رجعت اليه وهو على راحلته فسلمت عليه فلم يرد على ورأيته يركع ويسجد فلما سلم رد على
ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے مجھے کسی کام بھیجا میں چلا گیا پھر میں جب لوٹا تو اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے میں نے سلام کیا آپ نے مجھے جواب نہ دیا میں نے آپ کو رکوع و سجدے کے اشارے کرتے پایا جب آپ نے سلام پھیر دیا تو میرے سلام کا جواب دیا ۔
جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Hadith 2562
