شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2550
2410 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا يونس بن بكير قال أنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن أبى غطفان بن طريف عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم التسبيح للرجال والتصفيق للنساء ومن أشار في صلاته إشارة تفهم منه فليعدها فذهب قوم الى أن الإشارة التي تفهم إذا كانت من الرجل في الصلاة قطعت عليه صلاته وحكموا لها بحكم الكلام واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا تقطع الإشارة الصلاة واحتجوا في ذلك بما
ابو عطفان بن ظریف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح مردوں کے لیے اور تصفیق عورتوں کے لیے ہے اور جس نے نماز میں ایسا اشارہ کیا جو مقصد کو ظاہر کرتا ہے وہ نماز کا اعادہ کرے بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز میں ایسا اشارہ کرے جو سمجھا جاتا ہو تو اس سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ انہوں نے اس پر کلام والا حکم لگایا اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے علماء نے کہا کہ اشارہ نماز کو نہیں توڑتا ان کی دلیل ذیل کی روایا ت ہیں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،
Hadith 2550
