Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2550

2410 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا يونس بن بكير قال أنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن أبى غطفان بن طريف عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم التسبيح للرجال والتصفيق للنساء ومن أشار في صلاته إشارة تفهم منه فليعدها فذهب قوم الى أن الإشارة التي تفهم إذا كانت من الرجل في الصلاة قطعت عليه صلاته وحكموا لها بحكم الكلام واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا تقطع الإشارة الصلاة واحتجوا في ذلك بما

ابو عطفان بن ظریف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح مردوں کے لیے اور تصفیق عورتوں کے لیے ہے اور جس نے نماز میں ایسا اشارہ کیا جو مقصد کو ظاہر کرتا ہے وہ نماز کا اعادہ کرے بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز میں ایسا اشارہ کرے جو سمجھا جاتا ہو تو اس سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ انہوں نے اس پر کلام والا حکم لگایا اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے علماء نے کہا کہ اشارہ نماز کو نہیں توڑتا ان کی دلیل ذیل کی روایا ت ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Hadith 2550

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2551

2411 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن نافع عن بن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى قباء فسمعت به الأنصار فجاؤوه يسلمون عليه وهو يصلى فأشار إليهم بيده باسطا كفه وهو يصلي

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں تشریف لائے انصار کو اطلاع ہوئی وہ آ آ کر سلام کرنے لگے آپ اس وقت نماز میں مصروف تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی کو دراز کر کے ان کی طرف نماز میں اشارہ فرمایا ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يُونُسَ

Hadith 2551

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2552

2412 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب عن هشام عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما مثله غير أنه قال فقلت لبلال رضي الله عنه وصهيب كيف رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يرد عليهم وهو يصلى قال يشير بيده

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ فرمایا ہے کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا اور صہیب رضی اللہ عنہ سے کہ تم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز میں ان کے سلام کا جواب دیتے پایا انہوں نے بتلایا آپ ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے ۔

بن عمر مثله غير ← نَافِعٍ ← هِشَامٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 2552

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2553

2413 - حدثنا على بن معبد قال ثنا أبو نوح عبد الرحمن بن غزوان قال أنا هشام بن سعد فذكر بإسناده مثله غير أنه قال فقلت لبلال رضي الله عنه كيف كان يرد عليهم

ابو نوح عبدالرحمن بن غزوان نے ہشام بن سعد سے نقل کیا پھر اپنی اسناد سے روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔ البتہ اس قدر فرق ہے کہ میں نے بلال کو کہا کہ کس طرح ان کو جواب دیتے تھے ۔

فقلت لبلال كيف كان يرد عليهم ← هشام بن سعد فذكر بإسناده مثله غير أنه ← أَبُو نُوحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 2553

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2554

2414 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد ح

ابن مرزوق نے ابوالولید سے نقل کیا ۔

أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن مرزوق

Hadith 2554

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2555

وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث بن سعد عن بكير عن نابل صاحب العباء عن بن عمر رضي الله عنهما عن صهيب قال مررت برسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلى فسلمت عليه فرد الى بإشارة قال بن مرزوق في حديثه قال ليث أحسبه قال بأصبعه

نابل صاحب عباء نے ابن عمر رضی اللہ عنہ انہوں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایسے وقت گزرا جب آپ نماز ادا فرما رہے تھے میں نے سلام کیا آپ نے اس کے جواب میں میری طرف اشارہ فرمایا ۔

صُھَیْبٍ ← بن عُمَرَ ← نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ ← بُكَيْرٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Hadith 2555

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2556

2415 - حدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن عجلان عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبى سعيد الخدري أن رجلا سلم على النبي صلى الله عليه و سلم فرد عليه إشارة وقال كنا نرد السلام في الصلاة فنهينا عن ذلك قال أبو جعفر ففي هذه الآثار ما قد دل أن الإشارة لا تقطع الصلاة وقد جاءت مجيئا متواترا غير مجيء الحديث الذي خالفها فهى أولى منه وليست الإشارة في النظر من الكلام في شيء لأن الإشارة إنما هى حركة عضو وقد رأينا حركة سائر الأعضاء غير اليد في الصلاة لا تقطع الصلاة فكذلك حركة اليد فان قال قائل فإذا كانت الإشارة في الصلاة عندكم قد ثبت أنها بخلاف الكلام وانها لا تقطع الصلاة كما يقطعها الكلام واحتججتم في ذلك بهذه الآثار التي رويتموها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم كرهتم رد السلام من المصلى بالإشارة وقد فعل ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما رويتموه في هذه الآثار ولئن كان ذلك حجة لكم في أن الإشارة لا تقطع الصلاة فإنه حجة عليكم في أن الإشارة لا بأس بها في الصلاة قيل له أما ما احتججنا بهذه الآثار من أجله وهو أن الإشارة لا تقطع الصلاة فقد ثبت ذلك بهذه الآثار على ما احتججنا به منها واما ما ذكرت من إباحة الإشارة في الصلاة فى رد السلام فليس فيها دليل على ذلك وذلك أن الذي فيها هو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أشار إليهم فلو قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تلك الإشارة أردت بها رد السلام على من سلم على ثبت بذلك أن كذلك حكم المصلى إذا سلم عليه في الصلاة ولكنه لم يقل من ذلك شيئا فاحتمل أن تكون تلك الإشارة كانت ردا منه للسلام كما ذكرتم واحتمل أن يكون كانت منه لهيا لهم عن السلام عليه وهو يصلى فلما لم يكن في هذه الآثار من هذا شيء واحتملت من التأويل ما ذهب اليه كل واحد من الفريقين لم يكن ما تأول أحد الفريقين أولى منها مما تأول الآخر الا بحجة يقيمها على مخالفة أما من كتاب وإما من سنة وإما من إجماع فان قال قائل فما دليلكم على كراهة ذلك قيل له

عطاء بن یسار نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اشارہ سے جواب دیا ہم نماز میں سلام کا جواب دے لیتے تھے پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ آثار اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ اشارے سے نماز نہیں ٹوٹتی اور کثیر روایات اس سلسلہ میں آئی ہیں صرف ایک ہی روایت نہیں جیسا کہ روایت بالا ہے جو ان کے خلاف ہے اشارہ عضو کی ایک حرکت ہے یہ کلام نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر اعضاء جو ہاتھ کے علاوہ ہیں وہ جب حرکت کی وجہ سے نماز کو نہیں توڑتے تو ہاتھ کی حرکت کا بھی یہی حکم ہے اگر کوئی شخص معترض ہو کر تمہارے نزدیک جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اشارہ کلام سے الگ چیز ہے اور کلام کی طرح یہ نماز کے لیے قاطع نہیں ہے اور تم نے ان آثار کو دلیل میں پیش کیا ۔ تو جناب اشارہ سے نمازی کو سلام کا جواب دینے کو تم مکروہ قرار دیتے ہو ، حالانکہ یہ ان آثارمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جن کو آپ نے اپی دلیل میں پیش کیا ہے کہ اشارہ نماز کے لیے قاطع نہیں ہے تو یہی روایات تمہارے خلاف شاہد ہیں کہ نماز میں اشارہ کرنے میں کچھ قباحت نہیں ۔ ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم نے مندرجہ بالا روایات سے یہ استدلال کی ہے کہ اشارہ نماز کو نہیں توڑتا اور یہ بات ان روایات سے ثابت ہے جس طرح ہم نے استدلال کیا ہے کہ اشارہ نماز کو نہیں توڑتا اور یہ بات ان روایات سے ثابت ہے جس طرح ہم نے استدلال کیا ہے رہی وہ بات جو تم نے نکالی ہے کہ سلام کو جواب دینے کے لیے اشارہ ہاتھ سے جائز ہے۔ تو اس روایت میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں وہ اس طرح کہ اس روایت میں تو اس طرح ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ فرمایا ۔ پس اگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ فرماتے کہ میں نے اس میں اشارہ اس لیے کہا ہے تاکہ اس آدمی کے سلام کا جواب دوں جس نے مجھے سلام کیا ہے تو اس سے ثابت ہو جائے گا کہ نمازی کو جب نماز میں سلام دیا جائے تو اس کا حکم یہ ہے مگر آپ نے اس سلسلہ میں تو کوئی بات نہیں فرمائی پس اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ اشارہ آپ کی طرف سے سلام کا جواب ہو جیسا کہ تم نے کہا اور دوسروا احتمال یہ بھی ہے کہ نماز کے دوران سلام کی ممانعت ہو ۔ جب ان روایات میں ان میں سے کوئی بات ثابت نہیں ، ہر جماعت کے قول کے مطابق تاویل کا احتمال موجود ہے تو کسی ایک فریق کی تاویل کو قرآن و سنت و اجماع کی دلیل کے بغیر بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس کی کراہیت کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے تو جواب میں یہ روایت پیش کر دیں گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن

Hadith 2556

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2557

2416 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا عاصم عن أبى وائل قال قال عبد الله كنا نتكلم في الصلاة ونأمر بالحاجة ونقول السلام على جبرائيل عليه السلام وميكائيل وكل عبد صالح يعلم اسمه في السماء والأرض فقدمت على النبي صلى الله عليه و سلم من الحبشة وهو يصلى فسلمت عليه فلم يرد على فأخذنى ما قدم وما حدث فلما قضى صلاته قلت يا رسول الله أنزل في شيء قال لا ولكن الله يحدث من أمره ما يشاء

ابو وائل نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نماز میں سلام کا جواب دے لیتے اور ضرورت کی بات کہہ لیتے اور کہتے جبرائیل پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو اور ہر صالح بندے پر سلام ہو جس کا نام معلوم ہو خواہ زمین میں ہو یا آسمان میں ۔ پس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حبشہ سے آیا تو آپ کو نماز پڑھتے پایا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا تو میرے اوپر پریشانی طار ی ہو گئی جب آپ نے نماز مکمل فرمائی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرے متعلق کوئی چیز اتری ہے ؟ فرمایا نہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ جس تازہ حکم کو چاہتے ہیں اترتے ہیں (یعنی کلام میں ممانعت کا حکم اتار دیا ہے )

أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2557

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2558

2417 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا عبيد الله بن موسى قال أنا إسرائيل عن أبى إسحاق عن أبى الأحوص عن عبد الله قال خرجت في حاجة ونحن يسلم بعضنا على بعض في الصلاة ثم رجعت فسلمت فلم يرد على وقال إن في الصلاة شغلا

ابو الا حوص نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں کسی کام سے نکلا ہم نماز میں ایک دوسرے کو سلام کر لیا کرتے تھے پھر میں لوٹا اور میں نے سلام کیا مگر آپ نے جواب نہ دیا اور فرمایا بے شک نماز میں ایک خآص مشغولیت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں )

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← علي بن شيبة

Hadith 2558

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2559

2418 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا المسعودي عن حماد عن إبراهيم قال قال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قدمت من الحبشة وعهدى بهم وهم يسلمون في الصلاة ويقضون الحاجة فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلمت عليه وهو يصلى فلم يرد على فلما قضى صلاته قال إن الله يحدث للنبي من أمره ما يشاء وقد أحدث لكم أن لا تتكلموا في الصلاة واما أنت أيها المسلم فالسلام عليك ورحمة الله

ابراہیم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ سے روایت کی ہے کہ میں حبشہ سے لوٹا اور میرے زمانے میں نماز میں سلام کرتے تھے اور ضرورت کا کام کہہ لیتے تھے پس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مصروف تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہ دیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر پر جو نیا حکم اتارتا ہے اب نیا حکم تمہارے لیے یہ آیا ہے کہ تم نماز میں کلام مت کرو باقی تم اے سلام کرنے والے پس تم پر اللہ کی طر ف سے سلام و رحمت ہو ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2559

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2560

2419 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا محمد بن فضيل عن مطرف عن أبى الجهم عن أبى الرضراض عن عبد الله رضي الله عنه قال كنت أسلم على النبي صلى الله عليه و سلم في الصلاة فيرد على فلما كان ذات يوم سلمت عليه فلم يرد على فوجدت في نفسي فذكرت ذلك له فقال إن الله يحدث من أمره ما يشاء قال أبو جعفر ففي حديث أبى بكرة عن أبى داود أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رد على الذي سلم عليه في الصلاة بعد فراغه منها فذلك دليل أنه لم يكن منه في الصلاة رد السلام عليه لأنه لو كان ذلك منه لأغناه عن الرد عليه بعد الفراغ من الصلاة كما يقول الذي يرى الرد في الصلاة بالإشارة وأن المصلى إذا فعل ذلك بمن يسلم عليه في صلاته فلا يجب عليه الرد بعد فراغه من صلاته وفي حديث أبى بكرة أيضا عن مؤمل فلم يرد على فأخذنى ما قدم وما حدث ففي ذلك دليل أنه لم يكن رد أصلا بالإشارة ولا غيرها لأنه لو كان رد عليه بإشارته لم يقل لم يرد على ولا قال رد على إشارة ولما أصابه من ذلك ما أخبر أنه أصابه مما قدم ومما حدث وفي حديث على بن شيبة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن في الصلاة شغلا فذلك دليل على أن المصلى معذور بذلك الشغل عن رد السلام على المسلم عليه ونهى لغيره عن السلام عليه وقد روى عن عبد الله من قوله بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد

ابو الرضراض نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا آپ نماز میں جواب دیتے ایک دن میں نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہ دیا میں نے دل میں پریشانی محسوس کی اور اس کا تذکرہ آپ کو کر دیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم اتارتا ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نماز سے فراغت کے بعد دیا ۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نماز میں آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۔ کیونکہ اگر نماز ہی میں جواب فرحمت فرما چکے ہوتے تو یہ چیز فراغت کے بعد سلام کے جواب سے بے نیاز کر دیتی جیسا کہ وہ لوگ کہتے ہیں جو اشارہ کے ساتھ سلام کا جواب نماز میں درست مانتے ہیں اور جب نمازی نے سلام کرنے والے کو یہ اشارہ کر دیا تو نماز سے فراغت کے بعد جواب اس پر لازم نہیں ہے ۔ اور تو مل رحمۃ اللہ علیہ نے جو روایت حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی اس کے الفاظ یہ ہیں ( فلم یرد علی فاخذ لی ما قدم وما حدث) آپ نے مجھے جواب نہ دیا تو مجھے اگلی پچھلی پڑ گئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کسی طرح اشارہ وغیرہ سے جواب نہیں دیا۔ کیونکہ اشارہ سے جواب دیا ہوتا تو " لم یرد علی " کے الفاظ نہ ہوتے بلکہ کہتے رد علی اشارہ اسی وجہ سے ان پر پریشانی سواری ہو گئی اور علی بن شیبہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ان فی الصلاۃ شغلا" نماز میں ایک خاص مشغولیت ہے پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی اس مشغولیت کی وجہ سے سلام کے جواب سے معذور ہے اور دوسرے کو اسی لیے نمازی کو سلام دینے سے منع فرمایا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أبي الرضراض ← أَبِي الْجَهْمِ ← مُطَرِّفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← الحماني ← فهد

Hadith 2560

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 67 باب الإشارة في الصلاة ) · حديث 2561

2420 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الله أنه كره أن يسلم على القوم وهم في الصلاة وقد روى عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك نظير ما روى عن بن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ابراہیم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انہوں نے نماز میں مشغول لوگوں کو سلام کہنا مکروہ قرار دیا ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا وہ روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی نظیر ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Hadith 2561

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter