شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 66 باب الكلام في الصلاة لما يحدث فيها من السهو ) · حديث 2548
2408 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا سفيان عن عاصم فذكر بإسناده مثله وزاد وأن مما أحدث قضى أن لا تتكلموا في الصلاة فقد أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن الله عز و جل قد نسخ الكلام في الصلاة ولم يستثن من ذلك شيئا فدل ذلك على كل الكلام الذي كانوا يتكلمون في الصلاة فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح الآثار وأما وجه ذلك من طريق النظر فانا قد رأينا أشياء يدخل فيها العباد تمنعهم من أشياء فمنها الصلاة تمنعهم من الكلام والأفعال التي لا تفعل فيها ومنها الصيام يمنعهم من الجماع والطعام والشراب ومنها الحج والعمرة يمنعانهم من الجماع والطيب واللباس ومنها الاعتكاف يمنعهم من الجماع والتصرف فكان من جامع في صيامه أو أكل أو شرب ناسيا مختلفا في حكمه فقوم يقولون لا يخرجه ذلك من صيامه تقليدا لآثار رووها وقوم يقولون قد أخرجه ذلك من صيامه وكل من جامع في حجته أو عمرته أو اعتكافه متعمدا أو ناسيا فقد خرج بذلك مما كان فيه من ذلك فكان ما يخرجه من هذه الأشياء إذا فعل ذلك متعمدا فهو يخرجه منها إذا فعله غير متعمد وكان الكلام في الصلاة يقطع الصلاة إذا كان على التعمد كذلك فالنظر على ما ذكرنا من ذلك أن يكون أيضا يقطعها إذا كان على السهو ويكون حكم الكلام فيها على العمد والسهو سواء كما كان حكم الجماع في الاعتكاف والعمرة على العمد والسهو سواء فهذا هو النظر أيضا في هذا الباب وقد وافق ما صححنا عليه معاني الآثار وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى فان سأل سائل عن المعنى الذي له لم يأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم معاوية بن الحكم بإعادة الصلاة لما تكلم فيها قيل له ذلك لأن الحجة لم تكن قامت عنده قبل ذلك بتحريم الكلام في الصلاة فلم يأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم بإعادة الصلاة لذلك فأما من فعل مثل ذلك بعد قيام الحجة بنسخ الكلام في الصلاة فعليه أن يعيد الصلاة وقد يجوز أيضا أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمره بإعادة الصلاة ولكن لم ينقل ذلك في حديثه وقد قال قوم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يسجد يوم ذي اليدين
سفیان نے عاصم سے نقل کیا کہ پھر انہوں اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ نیا حکم یہ ملا ہے کہ تم نماز میں کلام مت کرو پس اس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے نماز میں کلام کو منسوخ کر دیا ہے اور آپ نے اس میں کسی چیز کو مستثنیٰ نہیں کیا ۔ پس اس سے یہ دلالت میسر ہو گئی کہ ہر وہ کلام جس کو وہ نماز میں لیا کرتے تھے وہ منسوخ کر دی گئی ہے ۔ یہ روایات کی معانی کو درست رکھنے کی ایک صورت ہے البتہ بطور نظر و فکر اس کی صورت یہ ہو گی ۔ ہم نے دیکھا کہ بعض چیزوں میں بندے جب داخل ہوتے ہیں تو ان کو بعض چیزوں سے منع کر دیا جاتا ہے ان میں سے ایک نماز ہے کہ یہ کلام اور ان افعال سے روک دیتی ہے جو اس سے غیر متعلق ہیں اسی طرح دوسرے نمبر پر روزہ ہے یہ جماع اور کھانے پینے سے روک دیتا ہے اور تیسرا حج و عمرہ ہیں جو کہ جماع خوشبو سے لباس سے روک دیتا ہے ایک ان میں سے اعتکاف ہے جو کہ جماع اور تصرفات (تجارت) سے روک دیتا ہے ۔ پس جس آدمی نے روزہ کی حالت میں جماع کر لیا یا بھول کر کھا پی لیا اس کا حکم مختلف قیہ ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ آثار کی پیروی کرتے ہوئے اس کا زوزہ نہ ٹوٹے گا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور جو شخص حج یا عمرہ یا اعتکاف کی حالت میں جان بوجھ کر یا بھول کر جماع کر لیتا ہے تو وہ ان اعمال سے باہر ہو جائے گا۔ پس جس امور کو جان بوجھ کر کرنے سے وہ عبادت سے خارج ہو جاتا ہے اگر وہ بلا قصدوار ادہ بھی کر لے تب بھی وہ اس عبادت سے نکل جاتا ہے اور نماز میں جان بوجھ کر کلام یہ نماز کو توڑدیتا ہے ۔ اس مذکوربات پر قیاس و نظر کا تقاضا یہ ہے کہ جب کلام بھول کر کی جائے تو تب بھی نماز ٹوٹ جائے اور جان بوجھ کر کلام یا بھول کرحکم برابر ہو جیسا کہ اعتکاف و حجرہ و عمرہ میں جماع کا حکم بھول اور قصد میں برابر ہے اور یہ بات معانی آثار کی تصحیح کے موافق ہے اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہ قول ہے ۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاوی بن حکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے لوٹانے کاحکم نہیں فرمایا جبکہ انہوں نے اس میں گفتگو کی تو ان کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ ان کے ہاں اس وقت تک کلام میں حرام ہونے کی حجت قائم نہ ہوئی تھی اس وجہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اعادہ نماز کا حکم نہیں فرمایا ۔ رہا وہ شخص جو کلام کے نماز میں منسوخ ہونے کی حجت کو جان چکا تو اسے کلام کی صورت میں لوٹا نا لازم ہے اور اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز کے لوٹانے کا حکم فرمایا ہو مگر ان کی اپنی روایت میں وہ منقول نہ ہوا ۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے دن سجد ہائے سہو بھی نہیں فرمائے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2548
