Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 66 باب الكلام في الصلاة لما يحدث فيها من السهو ) · حديث 2548

2408 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا سفيان عن عاصم فذكر بإسناده مثله وزاد وأن مما أحدث قضى أن لا تتكلموا في الصلاة فقد أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن الله عز و جل قد نسخ الكلام في الصلاة ولم يستثن من ذلك شيئا فدل ذلك على كل الكلام الذي كانوا يتكلمون في الصلاة فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح الآثار وأما وجه ذلك من طريق النظر فانا قد رأينا أشياء يدخل فيها العباد تمنعهم من أشياء فمنها الصلاة تمنعهم من الكلام والأفعال التي لا تفعل فيها ومنها الصيام يمنعهم من الجماع والطعام والشراب ومنها الحج والعمرة يمنعانهم من الجماع والطيب واللباس ومنها الاعتكاف يمنعهم من الجماع والتصرف فكان من جامع في صيامه أو أكل أو شرب ناسيا مختلفا في حكمه فقوم يقولون لا يخرجه ذلك من صيامه تقليدا لآثار رووها وقوم يقولون قد أخرجه ذلك من صيامه وكل من جامع في حجته أو عمرته أو اعتكافه متعمدا أو ناسيا فقد خرج بذلك مما كان فيه من ذلك فكان ما يخرجه من هذه الأشياء إذا فعل ذلك متعمدا فهو يخرجه منها إذا فعله غير متعمد وكان الكلام في الصلاة يقطع الصلاة إذا كان على التعمد كذلك فالنظر على ما ذكرنا من ذلك أن يكون أيضا يقطعها إذا كان على السهو ويكون حكم الكلام فيها على العمد والسهو سواء كما كان حكم الجماع في الاعتكاف والعمرة على العمد والسهو سواء فهذا هو النظر أيضا في هذا الباب وقد وافق ما صححنا عليه معاني الآثار وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى فان سأل سائل عن المعنى الذي له لم يأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم معاوية بن الحكم بإعادة الصلاة لما تكلم فيها قيل له ذلك لأن الحجة لم تكن قامت عنده قبل ذلك بتحريم الكلام في الصلاة فلم يأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم بإعادة الصلاة لذلك فأما من فعل مثل ذلك بعد قيام الحجة بنسخ الكلام في الصلاة فعليه أن يعيد الصلاة وقد يجوز أيضا أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمره بإعادة الصلاة ولكن لم ينقل ذلك في حديثه وقد قال قوم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يسجد يوم ذي اليدين

سفیان نے عاصم سے نقل کیا کہ پھر انہوں اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ نیا حکم یہ ملا ہے کہ تم نماز میں کلام مت کرو پس اس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے نماز میں کلام کو منسوخ کر دیا ہے اور آپ نے اس میں کسی چیز کو مستثنیٰ نہیں کیا ۔ پس اس سے یہ دلالت میسر ہو گئی کہ ہر وہ کلام جس کو وہ نماز میں لیا کرتے تھے وہ منسوخ کر دی گئی ہے ۔ یہ روایات کی معانی کو درست رکھنے کی ایک صورت ہے البتہ بطور نظر و فکر اس کی صورت یہ ہو گی ۔ ہم نے دیکھا کہ بعض چیزوں میں بندے جب داخل ہوتے ہیں تو ان کو بعض چیزوں سے منع کر دیا جاتا ہے ان میں سے ایک نماز ہے کہ یہ کلام اور ان افعال سے روک دیتی ہے جو اس سے غیر متعلق ہیں اسی طرح دوسرے نمبر پر روزہ ہے یہ جماع اور کھانے پینے سے روک دیتا ہے اور تیسرا حج و عمرہ ہیں جو کہ جماع خوشبو سے لباس سے روک دیتا ہے ایک ان میں سے اعتکاف ہے جو کہ جماع اور تصرفات (تجارت) سے روک دیتا ہے ۔ پس جس آدمی نے روزہ کی حالت میں جماع کر لیا یا بھول کر کھا پی لیا اس کا حکم مختلف قیہ ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ آثار کی پیروی کرتے ہوئے اس کا زوزہ نہ ٹوٹے گا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور جو شخص حج یا عمرہ یا اعتکاف کی حالت میں جان بوجھ کر یا بھول کر جماع کر لیتا ہے تو وہ ان اعمال سے باہر ہو جائے گا۔ پس جس امور کو جان بوجھ کر کرنے سے وہ عبادت سے خارج ہو جاتا ہے اگر وہ بلا قصدوار ادہ بھی کر لے تب بھی وہ اس عبادت سے نکل جاتا ہے اور نماز میں جان بوجھ کر کلام یہ نماز کو توڑدیتا ہے ۔ اس مذکوربات پر قیاس و نظر کا تقاضا یہ ہے کہ جب کلام بھول کر کی جائے تو تب بھی نماز ٹوٹ جائے اور جان بوجھ کر کلام یا بھول کرحکم برابر ہو جیسا کہ اعتکاف و حجرہ و عمرہ میں جماع کا حکم بھول اور قصد میں برابر ہے اور یہ بات معانی آثار کی تصحیح کے موافق ہے اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہ قول ہے ۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاوی بن حکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے لوٹانے کاحکم نہیں فرمایا جبکہ انہوں نے اس میں گفتگو کی تو ان کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ ان کے ہاں اس وقت تک کلام میں حرام ہونے کی حجت قائم نہ ہوئی تھی اس وجہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اعادہ نماز کا حکم نہیں فرمایا ۔ رہا وہ شخص جو کلام کے نماز میں منسوخ ہونے کی حجت کو جان چکا تو اسے کلام کی صورت میں لوٹا نا لازم ہے اور اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز کے لوٹانے کا حکم فرمایا ہو مگر ان کی اپنی روایت میں وہ منقول نہ ہوا ۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے دن سجد ہائے سہو بھی نہیں فرمائے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2548

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 66 باب الكلام في الصلاة لما يحدث فيها من السهو ) · حديث 2549

2409 - حدثنا بذلك ربيع المؤذن قال ثنا خالد بن عبد الرحمن قال ثنا بن أبي ذئب عن الزهري قال سألت أهل العلم بالمدينة فما أخبرني أحد منهم أنه صلاهما يعني سجدة السهو يوم ذي اليدين فمعنى هذا عندنا والله أعلم انه إنما يجب سجود السهو في الصلاة إذا فعل فيها ما لا ينبغي أن يفعل فيها مثل القيام من القعود أو القعود في غير موضع القعود أو ما أشبه ذلك مما لو فعل على العمد كان فاعله مسيئا فأما ما فعل فيها مما ليس بمكروه فيها فليس فيه سجود السهو وكان حكم الصلاة يوم ذي اليدين لا بأس بالكلام فيها والتصرف فيها فلما فعل ذلك فيها على السهو وكان فاعله على العمد غير مسىء كان فاعله على السهو غير واجب سجود السهو فهذا مذهب الذين ذهبوا الى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يسجد يومئذ وهذا حجة لأهل المقالة التي بيناها في هذا الباب وكان مذهب الذين ذكروا أنه سجد يومئذ أن الكلام والتصرف وإن كانا قد كانا مباحين في الصلاة يومئذ فلم يكن من المباح يومئذ أن يسلم في الصلاة قبل اوان السلام فلما سلم النبي صلى الله عليه و سلم فيها سلاما أراد به الخروج منها على أنه قد كان أتمها وكان ذلك مما لو فعله فاعل على العمد كان مسيئا لما فعله على السهو وجب فيه سجود السهو وهذا مذهب أهل المقالة في هذا الحديث

ابو ذئب نے زہری سے نقل کیا ہے کہ میں نے مدینہ منورہ کے اہل علم سے سوال کیا تو ان میں سے کسی نے بھی ذوالیدین والی یہ خبر نہیں دی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن سہو کے سجدے کیے ہوں اس روایت کا مطلب ہمارے ہاں ( واللہ اعلم) یہ ہےکہ سجدہ سہو اس وقت لازم ہوتا ہے جبکہ نماز میں ایسا کام کرے جو کرنا مناسب نہ ہو مثلا قعدے کو چھوڑ کر اٹھ جانا یا قعدے کی جگہ نہ تھی مگر قعدہ کر دیا وغیرہ۔ یعنی ایسے کام کہ اگر وہ جان بوجھ کر اختیار کرے تو وہ گنا ہگارہو گا اور اگر اس نے کوئی ایسا فعل کیا جو اس میں مکروہ نہیں تو اس میں سجدہ سہو نہیں ذوالیدین کے دن نماز میں کلام و تصرف میں پابندی نہ تھی جب انہوں نے بھول کر کیا جان بوجھ کر کرنے والا جب گناہگار نہیں تو بھول کر کرنے والے پر سجدہ سہو واجب نہ ہوگا یہ ان لوگوں کے قول کے مطابق ہے جو اس دن سجدہ سہو کے قائل نہیں یہ مرجوح مذہب ہے البتہ جمہور کے نزدیک سجدہ سہو کیا رہا کلام وغیرہ اگر یہ ان دونوں مباح تھیں تو مباح تو مباح پر سجدہ سہو نہیں مثلا سلام سے پہلے سلام پھیرنا جب نماز سے نکلنے کی نیت سے سلام پھیرا یہ سمجھتے ہوئے کہ آپ نماز پوری کر چکے اگر اس کو کوئی جان بوجھ کر کرے گا تو وہ گنگہار ہے مگر آپ نے بھول کر کیا تو سہو کا سجدہ لازم ہوا ۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے (واللہ اعلم) کہ سجدہ سہو نماز میں اس وقت لازم ہے جب کوئی ایسا عمل کرے جس کا اس مقام پر کرنا درست نہ ہو ۔ مثلا قعدہ کی بجائے قیا م کرنا اور قعدہ کرنا اور اسی طرح وہ افعال کہ جن کو جان بوجھ کر کرے تو کرنے والا گناہ گار ہو گا ۔ البتہ جو مکروہ نہ ہوں ان کے کر لینے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا اور ذوالیدین والے دن نماز میں کلام کرنے اور کلام میں کسی اور قسم کا تصرف کرنے میں کوئی حرج و گناہ نہ تھا اور انہوں نے یہ عمل بھول کر کیا ۔ تو جب جان بوجھ کر کرنے والا بھی گناہ گار شمار نہ ہوتا تھا تو بھول کر کرنے پر سجدہ سہو کیوں کر لازم ہو گا یہ ان لوگوں کی بات ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اس نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن سجدہ سہو نہیں کیا اور یہ دلیل بھی انہی لوگوں کی ہے مگر جو حضرات اس دن سجدہ کے قائل ہیں ان کا مذہب یہ ہے اگر چہ اس موقعہ پر نماز میں کلام و تصرف درست تھا مگر وقت سلام سے پہلے پھیر لیناجائز نہ تھا پس جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس وقت آپ نماز سے باہر آنے کا ارادہ فرمارہے تھے اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس کو قصد کے ساتھ کرنے میں سلام پھیرا تو اس وقت آپ نماز سے باہر آنے کا ارادہ فرما رہے تھے اوریہ ایسی چیز ہے کہ اس کو قصد کے ساتھ کرنے میں گناہ گار ہوتا ہے اور بھول کر نے کی صورت میں سجدہ لازم ہو جاتا ہے ۔ اور یہ ان لوگوں کا قول ہے جو اس روایت پر کلام کرتے ہیں ۔

سألت أهل العلم بالمدينة فما ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بذلك ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2549

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter