Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2496

2359 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا بكر بن بكار قال ثنا على بن مالك الرواسي من أنفسهم قال سمعت عامرا يحدث أن المغيرة بن شعبة سها في السجدتين الأوليين فسبح به فاستتم قائما حتى صلى أربعا ثم سجد سجدتي السهو وقال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم

عامر بیان کرتے ہیں کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ پہلے دو سجدوں میں بھول گئے سبحان اللہ کہی گئی وہ مکمل سیدھے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ چار رکعات مکمل کی پھر سہو کے دو سجدے کیے اور کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے ۔

عَامِرًا ← على بن مالك الرواسي من أنفسهم ← بكر بن بكار ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2496

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2497

2360 - حدثنا مبشر قال ثنا أبو عامر قال ثنا شعبة عن جابر عن قيس بن أبى حازم عن المغيرة مثله

قیس بن ابی حازم نے مغیرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

المغيرة مثله ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← جَابِرٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مبشر

Hadith 2497

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2498

2361 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا شبابة بن سوار قال ثنا قيس بن الربيع عن المغيرة بن شبيل عن قيس بن أبى حازم قال صلى بنا المغيرة بن شعبة فقام في الركعتين فسبح الناس خلفه فأشار إليهم أن قوموا فلما قضى صلاته سجد سجدتي السهو ثم قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا استتم أحدكم قائما فليصل وليسجد سجدتي السهو وإن لم يستتم قائما فليجلس ولا سهو عليه

قیس بن ابی حازم نے کہا کہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی وہ دو رکعتوں میں کھڑے ہو گئے پیچھے لوگوں نے سبحان اللہ تو کہی مگر انہوں نے کھڑے ہو جانے کا اشارہ کیا جب اپنی نماز پوری کر چکے تو سہو کے دو سجدے کیے پھر کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی سیدھا کھڑا ہو جائے تو اسے نماز جاری رکھنی چاہیے پھر وہ سہو کے دو سجدے کر ے اور اگر وہ بالکل سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو تو وہ بیٹھ جائے اس پر سجدہ سہو بھی نہیں ہے ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← حسين بن نصر

Hadith 2498

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2499

2362 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن إبراهيم بن طهمان عن المغيرة بن شبيل عن قيس بن أبى حازم قال صلى بنا المغيرة بن شعبة فقام من الركعتين قائما فقلنا سبحان الله فأومى وقال سبحان الله فمضى في صلاته فلما قضى صلاته وسلم سجد سجدتين وهو جالس ثم قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستوى قائما من جلوسه فمضى في صلاته فلما قضى صلاته سجد سجدتين وهو جالس ثم قال إذا صلى أحدكم فقام من الجلوس فان لم يستتم قائما فليجلس وليس عليه سجدتان فان استوى قائما فليمض في صلاته وليسجد سجدتين وهو جالس فهذا المغيرة يحكى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سجد للسهو لما نقصه من صلاته بعد السلام وهذه الأحاديث قد تحتمل وجوها فقد يجوز أن يكون ما ذكرنا في حديث بن بحينة ومعاوية من سجود رسول الله صلى الله عليه و سلم للسهو قبل السلام على كل سهو وجب في الصلاة من نقصان أو زيادة ويجوز أن يكون ما في حديث المغيرة من سجود رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد السلام على كل سهو أيضا يكون في الصلاة يجب له سجود السهو من نقصان أو زيادة ويجوز أن يكون ما في حديث عمران وأبى هريرة وابن عمر رضي الله عنهما من سجود النبي صلى الله عليه و سلم بعد السلام لما زاده في الصلاة ساهيا يكون كذلك كل سجود وجب لسهو فهناك يسجد ولا يكون قصد بذلك الى التفرقة بين السجود للزيادة وبين السجود للنقصان ويجوز أن يكون قد قصد بذلك التفرقة بينهما فنظرنا في ذلك فوجدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه قد حضر سجود سهو النبي صلى الله عليه و سلم في يوم ذي اليدين للزيادة التي كان زادها في صلاته من تسليمه فيها وكان سجوده ذلك بعد السلام فوجدناه قد سجد بعد النبي صلى الله عليه و سلم لنقصان كان منه في الصلاة بعد السلام

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی وہ دو رکعتوں میں (بیٹھنے کی بجائے ) کھڑے ہو گئے پس ہم نے سبحا ن اللہ کہا انہوں نے اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا پھر اپنی نماز کو جاری رکھا جب نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرا تو بیٹھ کر سہو کے دو سجدے کیے پھر کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ جلسے سے سیدھے کھڑے ہو گئے اور نماز کےتسلسل کو جاری رکھا پھر جب نماز پوری کر لی تو بیٹھ کر دو سجدے ادا کیے پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتے ہوئے جلسے سے کھڑا ہو جائے اگر وہ اپنی نماز کو جاری رکھے اور بیٹھ کر دو سجدے کرے یہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کر رہے ہیں کہ آپ نے نماز میں کمی کی وجہ سے سجدہ سہو سلام کے بعد کیا اور ان احادیث میں کئی وجود کا احتمال ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ابن بحسینہ اور معاویہ رضی اللہ عنہم کی روایات میں مذکورہ وجہ مراد ہو کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقصان و زیادتی دونوں حالتوں مین سجدہ سہو سلام سے پہلے کیا اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ صورت مراد ہو جو کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے کہ آپ اضافے اور نقصان دونوں حالتوں میں آپ سے سجدہ سہو سلام کے بعد فرمایا اور تیسری صورت وہ بھی مراد ہو سکتی ہے جو کہ روایت حضرت عمران و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ میں مذکور ہے ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اضافے کا سجدہ سہو سلام کے بعد کیا اسی طرح ہر سجدہ سہو جو واجب ہو خواہ اضافہ کی بناء پر ہو یا نقصان کی وجہ سے بلا تفریق اسے آپ نے سلام کے بعد ادا فرمایا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہو ۔ جب ہم نے غور کیا تو ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ سہو میں جو ذوالیدین والے دن پیش آیا خود شریک تھے وہ سجدہ اضافے کی وجہ سے تھا اور سلام کے بعد تھا اور ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ انہوں نے آپ کے بعد نقصان کی بناء سلام کے بعد سجدہ کیا ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Hadith 2499

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2500

2363 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة قال حدثني عكرمة بن عمار اليمامي عن ضمضم بن جوس الحنفي عن عبد الرحمن بن حنظلة بن الراهب أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه صلى صلاة المغرب فلم يقرأ في الركعة الأولى شيئا فلما كانت الثانية قرأ فيها بفاتحة القرآن وسورة مرتين فلما سلم سجد سجدتي السهو فصار سجود رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي قد عمله للزيادة التي كان زادها في صلاته وسجوده لها بعد السلام دليلا عنده على أن حكم كل سجود سهو في الصلاة مثله وقد فعل سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه أيضا مثل ذلك

حنظلہ بن راہب کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی اور پہلی رکعت میں کچھ بھی نہ پڑھا جب دوسری رکعت ہوئی تو اس میں فاتحہ الکتاب اور ایک سورۃ دو مرتبہ پڑھی جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کیے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ سجد ہ جو نماز میں اضافہ کی وجہ سے تھا اور وہ سلام کے بعد کیا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو ا س بات کی دلیل سمجھا کہ ہر سہو کا نماز میں یہی حکم ہے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بھی اس طرح کیا ۔

ضمضم بن جوس الحنفي ← عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ الْيَمَامِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 2500

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2501

2364 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن بيان أبى بشر الأحمسي قال سمعت قيس بن أبى حازم قال صلى بنا سعد بن مالك فقام في الركعتين الأوليين فقالوا سبحان الله فقال سبحان الله فمضى فلما سلم سجد سجدتي السهو وقد روى أيضا عن عبد الله بن مسعود وابن عباس وابن الزبير وأنس بن مالك رضي الله عنهم أنهم سجدوا للسهو بعد السلام

قیس بن حازم کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھائی وہ پہلی دو رکعتوں کے تشہد میں بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا تو انہوں نے سبحان اللہ کہا اور نماز کو جاری رکھا جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کئے۔ اوریہ یہ ابن مسعود ، ابن زبیر ، انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے سلام کے بعد سہو کے سجدے کیے ۔

سبحان الله فمضى فلما سلم سجد سجدتي السهو وقد روى أيضا ← سُبْحَانَ اللَّهِ. ← صلى بنا سعد بن مالك فقام في الركعتين الأوليين ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بيان أبى بشر الأحمسي ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ

Hadith 2501

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2502

2365 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن حصين عن أبى عبيدة عن عبد الله رضي الله عنه قال السهو أن يقوم في قعود أو يقعد في قيام أو يسلم في الركعتين فإنه يسلم ثم يسجد سجدتي السهو ويتشهد ويسلم

ابو عبیدہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے بھولنا یہ ہے کہ آدمی قعود میں کھڑا ہو جائے یا قیام میں بیٹھا رہے یا دو رکعت پر سلام پھیر دے تو ان سب صورتوں میں وہ سلام پھیرے پھر سہو کے دو سجدے کر ے اور تشہد پڑھے اور سلام پھیرے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← حُصَيْنٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2502

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2503

2366 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا سعيد بن عفير فقال ثنا يحيى بن أبى أيوب عن قرة بن عبد الرحمن حدثه عن عمرو بن دينار حدثه عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال سجدتا السهو بعد السلام

عمروبن دینا نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انہوں نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کیے ۔

سجدتا السهو بعد السلام ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← يحيى بن أبى أيوب ← سعيد بن عفير فقال ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 2503

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2504

2367 - حدثنا فهد قال ثنا على بن معبد قال ثنا عبيد الله عن زيد عن جابر عن عطاء بن أبى رباح رضي الله عنه قال صليت خلف بن الزبير فسلم في الركعتين فسبح القوم فقام فأتم الصلاة فلما سلم سجد سجدتين بعد السلام قال عطاء فانطلقت الى بن عباس رضي الله عنهما فذكرت له ما فعل بن الزبير رضي الله عنهما فقال أحسن وأصاب

عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے دو رکعتوں پر سلام پھیرا لوگوں سے سبحان اللہ کہا وہ کھڑے ہو ئے اور نما ز کو مکمل کیا جب سلام پھیرا تو سلام کے بعد دو سجدے کیے عطاء کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور میں نے ان کو ابن زبیر کا عمل بتلایا تو انہوں نے توثیق و تحسین و تصویب فرمائی ۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← جَابِرٍ ← زيد1 ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Hadith 2504

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2505

2368 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا هشيم عن أبي بشر عن يوسف بن ماهك قال صلى بنا بن الزبير رضي الله عنهما فقام في الركعتين الأوليين من الظهر فسبحنا به فقال سبحان الله ولم يلتفت إليهم فقضى ما عليه ثم سجد سجدتين بعد ما سلم

یوسف بن ماہک کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں کھڑے ہو گئے ( تشہد نہ پڑھا) ہم نے سبحان اللہ کہا تو انہوں نے سبحان اللہ کہا اور ان کی کوئی پرواہ نہ کی پھر انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر سلام کے بعد سہو کےدو سجدے کیے ۔

صلى بنا بن الزبير فقام في الركعتين الأوليين من الظهر فسبحنا به ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2505

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2506

2369 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا أبو بشر فذكر بإسناده مثله

ہشیم نے کہا ہمیں ابو بشر نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے ۔

أبو بشر فذكر بإسناده مثله ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 2506

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 65 باب سجود السهو في الصلاة هل هو قبل التسليم أو بعده ) · حديث 2507

2370 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا يزيد بن إبراهيم قال ثنا قتادة عن أنس رضي الله عنه أنه قال في الرجل يهم في صلاته لا يدرى أزاد أم نقص قال يسجد سجدتين بعد ما يسلم

قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے متعلق فرمایا جس کو نماز میں یہ معلوم نہ رہے کہ اس نے رکعات کم کر دیں یا زیادہ تو آپ نے فرمایا سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کرے۔

يسجد سجدتين بعد ما يسلم ← في الرجل يهم في صلاته لا يدرى أزاد أم نقص ← أَنَسِ، أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 2507

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter