Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2418

2284 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر قال قال حماد وأخبرنا قتادة قال قال عثمان بن عفان رضي الله عنه إنما يقصر الصلاة من حمل الزاد والمزاد وحل وارتحل

قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نماز قصر اس کے لیے مانتے تھے جو زادراہ اور مشک اٹھائے پھرے اور اترے اور کوچ کر جائے ۔

عثمان بن عفان إنما يقصر الصلاة من حمل الزاد والمزاد وحل وارتحل ← حماد وأخبرنا قتادة ← أَبُو عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2418

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2419

2285 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا سعيد بن أبى عروبة عن قتادة عن عياش بن عبد الله أن عثمان بن عفان رضي الله عنه كتب الى عماله أن لا يصلين ركعتين جاب ولا نائى ولا تاجر إنما يصلى الركعتين من كان معه الزاد والمزاد

قتادہ نے عیاش بن عبداللہ سے نقل کیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کی طرف لکھ بھیجا وہ آدمی قصر نہ کرے جو صدقہ وصول کرنے والا دور جانے والا اور تاجر ہو صرف وہ قصر کرے جس کے ساتھ زاد سفر اور مشکیزہ ہو ۔

عياش بن عبد الله أن عثمان بن عفان ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2419

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2420

2286 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح وأبو عمر قالا أخبرنا حماد بن سلمة أن أيوب السختياني أخبرهم عن أبى قلابة الجريبى عن عمه أبى المهلب قال كتب عثمان بن عفان رضي الله عنه أن بلغني أن قوما يخرجون إما لتجارة وإما لجباية وإما لحشر ثم يقصرون الصلاة وإنما يقصر الصلاة من كان شاخصا أو بحضرة عدو قال وكان مذهب عثمان بن عفان رضي الله عنه أن لا يقصر الصلاة إلا من كان يحتاج الى حمل الزاد والمزاد ومن كان شاخصا فأما من كان في سفر مستغنيا به عن حمل الزاد والمزاد فإنه يتم الصلاة قالوا ولهذا أتم الصلاة ب منى لأن أهلها في ذلك الوقت كثروا حتى صارت مصرا استغنى من حل به عن حمل الزاد والمزاد وهذا المذهب عندنا فاسد لأن منى لم تصر في زمن عثمان بن عفان وعمر رضي الله عنهما من مكة في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى بها ركعتين ثم صلى بها أبو بكر رضي الله عنه بعده كذلك ثم صلى بها عمر بعد أبى بكر رضي الله عنه كذلك فإذا كانت مكة مع عدم احتياج من حل بها الى حمل الزاد والمزاد يقصر فيها الصلاة فما دونها من المواطن أحرى أن يكون كذلك فقد انتفت هذه المذاهب كلها بفسادها عن عن عثمان رضي الله عنه أن يكون من أجل شيء منها قصر الصلاة غير المذهب الأول الذي حكاه معمر عن الزهرى فإنه يحتمل أن يكون من أجله أتمها وفي ذلك الحديث أن إتمامه لنيته الإقامة على ما روينا فيه وعلى ما كشفنا من معناه وأما ما رويناه عن حذيفة فليس فيه دليل أيضا على الإتمام في السفر كان ذلك سفر طاعة أو غير طاعة لأنه قد يجوز أن يكون كان من رأيه أن لا يقصر الصلاة إلا حاج أو معتمر أو مجاهد كما قد روى عن بن مسعود رضي الله عنه فإنه

اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں قصر صرف حاجی معتمر یا مجاہد کے ساتھ خاص ہے پس عین ممکن ہے کہ حذیفہ کا بھی خیال ہو اسی کے مطابق انہوں نے تیمی کو حکم فرمایا کہ جب وہ فقط سفر کریں جو حج و جہاد کا نہ ہو تو قصر نہ کریں پس اس کے مطابق اس روایت میں انکی دلیل نہ رہی جو مسافر کو سفر میں مکمل نماز کا حکم کرتے ہیں ۔ ابو المہلب کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے عمال کی طرف لکھ بھیجا کہ کچھ لوگ تجارت یا وصولی خراج کے لیے نکلتے ہیں یا جانور چرانے کے لیے پھر وہ نماز میں قصر کرتے ہیں نمازکو وہ قصر کریں جو اگندہ حالت یا دشمن کی موجودگی میں سفر کرنے والا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مذہب یہ تھا کہ وہ شخص نماز میں قصر کرے جو زادر اہ اور مشکیزہ ساتھ اٹھانے والا ہو اور وہ شخص جو گھر سے دور ہو ۔ رہا وہ شخص جو سفر میں زاد راوہ اور مشکیزے کا محتاج نہ ہو وہ نماز کو پوری پڑھے اور انہوں نے منیٰ میں اسی بنیاد پر نماز کو پورا کیا کیونکہ منیٰ میں اس وقت کافی آبادی ہو گئی تھی یہاں تک کہ وہ شہر کے حکم میں ہو گیا تھا وہاں اترنے والے سفری کھانا لینے اور مشکیزہ لینے سے بے نیاز تھا ۔ مگر ہمارے ہاں یہ تاویل فاسد ہے کیونکہ منیٰ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مکہ سے زیادہ آباد نہ تھا ۔ بلکہ زمانہ زمانہ نبوت والی حالت تھی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وہاں دو رکعت ادا فرمائیں پھر وہاں آپ کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا ۔ پھر حضڑت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے بعد اسی طرح کیا اور جب مکمہ مکرمہ میں زادراہ اور مشکیزہ کی عدم احتیاح کے باوجود آپ نماز قصر پڑھتے رہے تو اس کے مضافاتی علاقے اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہاں قصر کی جائے ۔ یہ تمام مذاہب فاسد ہونے کی بناء پر متففی ہو گئے اور ثابت ہو گیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کسی کی بھی بنیاد پر نماز میں قصر نہیں کی تھی ۔ البتہ معمر نے زہری رحمۃ اللہ علیہ سے جو روایت نقل کی ہے کہ اس کی بنیاد پر ان کے مکمل کرنے کو محمول کریں گے اور اسی روایت میں یہ وارد ہے کہ انہوں نے اقامت کی نیت کر لینے کی وجہ سے تکمیل کی جیسا کہ ہم روایت کر آئے اور جیسا کہ ہم نے اس کا معنی واضح کیا۔ رہی وہ روایت جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کر آئے اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ سفر میں اس کو مکمل کیا جائے اور وہ نیکی کا سفر ہو یا گناہ کا ۔ کیونکہ اس کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان کا اجتہاد ہو کہ قصر وہ کرے جو سفر حج یا عمرہ یا جہاد میں ہو ،جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← روح وأبو عمر ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2420

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2421

2287 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة قال ثنا سليمان عن عمارة بن عمير عن الأسود قال كان عبد الله لا يرى التقصير إلا لحاج أو معتمر أو مجاهد فقد يجوز أن يكون مذهب حذيفة كان كذلك فأمر التيمى إذ كان يريد سفرا لا لحج ولا لجهاد أن لا يقصر الصلاة فانتهى أن يكون في حديثه ذلك حجة لمن يرى للمسافر إتمام الصلاة في السفر وأما ما روينا عن بن عمر رضي الله عنهما في ذلك فان حديث حيان هو على أنه سأله وهو في مصر من الأمصار فقال له اني من بعث أهل العراق فكيف أصلي فأجابه بن عمر رضي الله عنهما فقال إن صليت أربعا فأنت في مصر وإن صليت اثنتين فأنت مسافر فدل ذلك أن مذهبه كان في صلاة المسافر في الأمصار هكذا وقد روى عنه صفوان بن محرز حين سأله عن الصلاة في السفر فكان جوابه له أن قال هى ركعتان من خالف السنة كفر فذلك على الصلاة فىغير الأمصار حتى لا يتضاد ذلك وما روى حيان فيكون حديث حيان على صلاة المسافر في الأمصار وحديث صفوان على صلاته في غير الأمصار وسنبين الحجة في هذا الباب في آخره إن شاء الله تعالى وأما ما روى عن عائشة رضي الله عنها في ذلك فان أبا بكرة

اسود سے مروی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ قصر کو صرف حاجی ، معتمر اور مجاہد کے ساتھ سمجھتے تھے یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مذہب اس طرح ہو اسی لیے وہ تیمی کو فرماتے جب حج و جہاد کے علاوہ سفر کرنے لگتے کہ نماز کو قصر نہ کرنا ۔ پس ان کی روایت میں ان لوگوں کی دلیل نہ رہی جو مطلق مسافر کے لیے نماز کو پورا پڑھنے کا حکم ثابت کرتے ہیں ۔ رہی وہ روایت جو اس سلسلہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے آئی ہے ۔ پس روایت حیان رحمۃ اللہ علیہ میں اس طرح ہے کہ میں نے ان سے ایک شہر میں سوال کیا کہ میں لشکر کے عراقی دستہ سے ہوں تو میں نماز کس طرح ادا کروں ۔ تو انہوں نے فرمایا اگر تم چار پڑھو تو تم شہر میں ہو اور اگر تم دو پڑھو پھر مسافر ہو ۔ اس سے یہ دلالت ملی کہ ان کا مذہب مسافر کی نماز کے سلسلہ میں شہر میں اسی طرح ہے اور صفوان بن محرز کی روایت میں جب کہ اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نماز سفر کے متعلق سوال کیا تو فرایا وہ دو رکعت ہیں جس نے سنت کی خلاف ورزی کی تو اس نے ناشکری کی ۔ یہ شہروں کے علاوہ ان کے ہاں نماز کا حکم ہے یہ تاویل اس لیے کی ہے کہ تاکہ یہ روایت حیان والی روایت سے متضاد و متصام نہ ہو ۔ پس روایت حیان کی روایت شہروں میں مسافر کی نماز سے متعلق ہے اور صفوان کی روایت شہروں کے علاوہ مسافر کی نماز سے متعلق ہے ۔ ہم اس باب میں عنقریب دلیل ذکر کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت یہ ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2421

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2422

2288 - حدثنا قال ثنا روح قال ثنا بن جريج قال أنا بن شهاب قال قلت لعروة ما كان يحمل عائشة رضي الله عنها على أن تصلى في السفر أربعا فقال تأولت ما تأول عثمان في إتمام الصلاة ب منى وقد ذكرنا ما تأول في إتمام عثمان رضي الله عنه الصلاة ب منى فكان ما صح من ذلك هو أنه كان من أجل نيته للإقامة فان كان من أجل ذلك كانت عائشة رضي الله عنها تتم الصلاة فإنه يجوز أن يكون كانت لا يحضرها صلاة إلا نوت إقامة في ذلك المكان يجب عليها بها إتمام الصلاة فتتم الصلاة لذلك فيكون إتمامها وهي في حكم المقيمين لا في حكم المسافرين وقد قال قوم كان ذلك منها لمعنى غير هذا وهو أنى سمعت أبا بكرة يقول قال أبو عمر كانت عائشة رضي الله عنها أم المؤمنين فكانت تقول كل موضع أنزله فهو منزل بعض بنى فتعد ذلك منزلا لها وتتم الصلاة من أجله وهذا عندي فاسد لأن عائشة وإن كانت هى أم المؤمنين فان رسول الله صلى الله عليه و سلم أبو المؤمنين وهو أولى بهم من عائشة فقد كان ينزل في منازلهم فلا يخرج بذلك من حكم السفر الذي يقصر فيه الصلاة الى حكم الإقامة التي تكمل فيها الصلاة وقد قال قوم كان مذهب عائشة في قصر الصلاة أنه يكون لمن حمل الزاد والمزاد على ما روينا عن عثمان رضي الله عنه وكانت تسافر بعد النبي صلى الله عليه و سلم في كفاية من ذلك فتركت لهذا المعنى قصر الصلاة فلما تكافأت هذه التأويلات في فعل عثمان وعائشة رضي الله عنهما لزمنا أن ننظر حكم قصر الصلاة ما يوجبه فكان الأصل في ذلك أنا رأينا الرجل إذا كان مقيما فى أهله فحكمه في الصلاة حكم الإقامة وسواء كان في إقامته طاعة أو معصية لا يتغير بشيء من ذلك حكمه فكان حكمه تمام الصلاة يجب عليه بالإقامة خاصة لا بطاعة ولا بمعصية ثم إذا سافر خرج بذلك من حكم الإقامة فقد جرى في هذا من الاختلاف ما قد ذكرنا فقال قوم لا يجب له حكم التقصير إلا أن يكون ذلك السفر سفر طاعة وقال آخرون يجب له حكم التقصير في الوجهين جميعا فلما كان حكم الإتمام يجب له في الإقامة بالإقامة خاصة لا بطاعة ولا بغيرها كان كذلك يجىء في النظر أن يكون حكم التقصير يجب له في السفر بالسفر خاصة لا بطاعة ولا غيرها قياسا ونظرا على ما بينا وشرحنا ولما ثبت أن التقصير إنما يجب له بحكم السفر خاصة لا بغيره ثبت أنه يقصر ما كان مسافرا في الأمصار وفي غيرها لأن العلة التي لها تقصر في السفر الذي لم يخرج منه بدخوله الأمصار وجميع ما بينا في هذا الباب وصححنا هو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے عروہ سے سوال کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے سفر میں چار کیوں پڑھیں تو اس نے کہا کہ انہوں نے وہی تاویل کی جو عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز کو مکمل پڑھنے کی کی تھی۔ کہ انہوں نے اقامت کی نیت کر لی تھی اس سے یہ ثابت ہوا کہ جب نماز کا وقت آتا تو وہ اس مقام پر اقامت کی نیت کر لیتیں تو ان کے قصر چھوڑنے کی وجہ نیت اقامت سے مقیم بن جانا تھا جس کی وجہ سے وہ مقیمین والی نماز پڑھتیں ایسا نہیں تھا کہ وہ مسافر ت کی نیت ہوتے ہوئے مکمل پڑھی تھیں ۔ ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے منیٰ میں چار رکعات ادا کرنے کی جو صحیح تاویل نقل کی ہے وہ یہی تھی کہ آپ نے اقامت کی نیت کی تھی۔ پس حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی نماز کو اسی وجہ سے پوری کرتی ہوں ہر نماز کے وقت وہ نیت اقمات کر لیتی ہوں جسکی وجہ سے ان پر نماز کو مکمل پڑھنا لازم ہو ۔ چنانچہ وہ نماز کو مکمل کرتیں ۔ فلہذا آپ کا مکمل نماز پڑھنا اس لیے ہوا کہ آپ مقیمین کے حکم میں تھیں سرے سے مسافرین کے حکم ہی میں نہ تھیں ۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ کسی اور وجہ سے نماز پوری پڑھتی تھیں ۔ وہ یہ کہ ابو عمر نے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ وہ فرماتیں میں مومنوں کی ماں ہوں ہر جگہ جہاں اتروں وہ میرے بیٹوں کی منزل و مکان ہے ۔ وہ اس کو اپنا ٹھکانہ شمار کر کے نماز کو مکمل کرتیں مگر میں ابو جعفر کے ہاں یہ وجہ فاسد ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بلا شبہ ام المومنین ہیں اور جناب رسول اللہ بمنزلہ مومنوں کے باپ کے ہیں اور آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی بنسبت مومنوں کے قریب تر ہیں اور آپ ان کے مکانات میں اتر نے کے باوجود آپ کو یہ نزول اجلال مسافروں کے حکم سے نہ نکالتا تھا اور آپ قصر چھوڑ کر مکمل نماز ادا نہ فرماتے تھے (قتدبر) بعض لوگوں نے یہ کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مذہب نماز کو قصر کرنے کے سلسلہ میں وہ تھا جو ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جو زادراہ اور مشکیزہ رکھے اور وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سفر فرماتیں تو ان کی ضرورت نہ رہتی اسی وجہ سے انہوں نے نماز میں قصر کو ترک فرمایا جب حضرت عثمان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کے اقوال میں یہ تاویلات ذکر کی جا چکیں تو اب ہم نظر و فکر کے اعتبار سے جو چیز لازم آتی ہےاس پر غور کرنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں یہ اصل پایا گیا کہ جب آدمی اپنےاہل و عیال کے ساتھ ہو تو اس کا حکم اقامت والا ہو جاتا ہے خواہ اقامت اطاعت کی ہو یا گناہ کی ہو اس کا حکم کسی لحاظ سے تبدیل نہ ہو گا پس اسے نماز کو پورا پڑھنے کا حکم دیا جائے گا اس پر اقامت کی وجہ سے نماز خصوصاً کامل فرض لازم ہوں گے نہ کہ طاعت و معصیتہ کے سبب سے پھر جب وہ سفر کرے گا تو اس کی وجہ سے وہ مقیم کے حکم سے نکل جائے گا اس سلسلہ میں جو اختلاف تھا جس کا تذکرہ گزشتہ سطور میں کر دیا گیا بعض نے کہا کہ اس پر قصر اس وقت لازم ہے جبکہ یہ سفر بھی اطاعت والا ہو اور دوسروں کا کہنا یہ ہے طاعت و معصیت کے ہر دوسفروں کا دخل نہ تھا تو قیاس یہی چاہتا ہے کہ قصر کے حکم کا دارو مدار بھی سر پر ہو اس طاعت و غیر طاعت کا کچھ دخل نہ ہو ۔ جیسا کہ ہم نے کھول کر بتلایا غور و فکر اسی کا تقاضا کرتے ہیں جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ قصر خصوصی طور پر سفر کی وجہ سے لازم آتا اس میں اور کسی سبب کا دخل نہیں تو اس سے یہ بات پختہ ہو گئی کہ شہروں میں بھی شہر کے علاوہ مقامات میں وہ جب تک مسافر رہے گا وہ قصر کرتا رہے گا ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جس علت کی وجہ سے قصر ہے وہ سفر ہے جس سے شہروں کا داخلہ خارج نہیں کرتا۔ ہم نے جو کچھ اس بات میں بیان کیا اور اس کی تصیحح دلائل سے کی وہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ عیہم کا قول ہے ۔

بن شِهَابٍ ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2422

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter