Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2406

2272 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا نعيم بن حماد قال أنا بن المبارك قال أنا خالد الحذاء عن أبى قلابة عن رجل قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم لحاجة فإذا هو يتغدى فقال هلم الى الغداء قلت انى صائم فقال ان الله عز و جل وضع عن المسافر نصف الصلاة والصوم

ابوقلابہ نے ایک آدمی سے بیان کیا وہ کہتا ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کام آیا آپ اس وقت صبح کا کھانا تناول فرما رہے تھے آپ نے فرمایا ۔ آؤ صبح کا کھانا کھا لو۔ میں نے کہا میں روزہ دار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزہ ہٹا دیا ۔

المسافر نصف الصلاة والصوم ← ان الله عز و جل وضع ← هلم الى الغداء قلت انى صائم ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم لحاجة فإذا هو يتغدى ← رَجُلٌ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← بن الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2406

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2407

2273 - حدثنا نصر قال ثنا نعيم قال أنا بن المبارك قال أنا بن عيينة عن أيوب قال حدثني أبو قلابة عن شيخ من بني قشير عن عمه ثم لقيناه يوما فقال له أبو قلابة حدثه يعنى أيوب فقال الشيخ حدثني عمى أنه ذهب في إبل له فانتهى الى النبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله وزاد وعن الحامل والمرضع

ابو قلابہ نے بنی قشیر کے ایک شخص سے نقل کیا انہوں نے اپنے چچا سے پھر ہم ان کو ایک دن ملے تو ان کو ابو قلابہ نے کہا وہ روایت ایوب کو بھی بیان کر دو۔ شیخ نے کہا میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے ساتھ گیا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا پھر اسی طرح کی روایت بیان کی اور اس میں عن الحامل والمرضع کا اضافہ کیا ہے ۔

عَمِّي، ← الشَّيْخُ ← يعنى أيوب ← له أبو قلابة ← عمه ثم لقيناه يوما ← شَيْخٍ، مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَيُّوبَ، ← بن عُيَيْنَةَ ← بن الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمٌ ← نَصْرٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2407

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2408

2274 - حدثنا نصر قال ثنا نعيم قال أنا بن المبارك قال أنا محمد بن سليم عن عبد الله بن سوادة عن أنس بن مالك من بنى عبد الله بن كعب بن مالك قال أغارت علينا خيل رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله

عبداللہ بن سوادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بنو عبداللہ بن کعب بن مالک سے نقل کیا کہ ہم پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستہ نے حملہ کیا ۔پھر اسی طرح سے روایت نقل کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← أغارت علينا خيل رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ← أنس بن مالك من بنى عبد الله بن كعب بن مالك ← عَبْد اللَّه بْنِ سَوَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمٍ ← بن الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمٌ ← نَصْرٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2408

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2409

2275 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو داود عن أبى عوانة عن أبى بشر عن هانئ بن عبد الله بن الشخير عن رجل بلجريش قال كنا نسافر فأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يطعم فقال هلم فاطعم فقلت انى صائم فقال هلم أحدثك عن الصيام إن الله وضع عن المسافر الصيام وشطر الصلاة

ہانی بن عبداللہ بن الشخیر نے بلجر یش کے ایک آدمی سے بیان کیا کہ ہم جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے آپ اس وقت کھانا تناول فرما رہے تھے آپ نے فرمایا آ کھانا کھالو۔ میں نے عرض کیا میں روزہ دار ہوں آپ نے کہا آؤ میں تہیں روزے کے متعلق بیان کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے اور نماز کے ایک حصہ کو ہٹالیا ہے ۔

الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ، وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، ← الصِّيَامِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ ← هلم أحدثك ← هَلُمَّ فَاطْعَمْ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ← كنا نسافر فأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يطعم ← رجل بلجريش ← هانئ بن عبد الله بن الشخير ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبِي عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2409

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2410

2276 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد عن الأوزاعي عن يحيى قال ثنا أبو قلابة قال حدثني أبو أمية أو عن رجل عن أبى أمية قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم من سفر فقال ألا تنتظر الغدا يا أبا أمية فقلت انى صائم ثم ذكر مثله فهذه الآثار التي رويناها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم تدل على أن فرض المسافر ركعتان وأنه في ركعتيه كالمقيم في أربعة فكما ليس للمقيم أن يزيد في صلاته على أربعة شيئا فكذلك ليس للمسافر أن يزيد في صلاته على ركعتين شيئا وكان النظر عندنا في ذلك أنا رأينا الفروض المجتمع عليها لا بد لمن هى عليه من أن يأتى بها ولا يكون له خيار في أن لا يأتي بما عليه منها وكان ما أجمع عليه أن للرجل أن يأتى به إن شاء وإن شاء لم يأت به فهو التطوع إن شاء فعله وإن شاء تركه فهذه هى صفة التطوع وما لا بد من الإتيان به فهو الفرض وكانت الركعتان لا بد من المجيء بهما وما بعدهما ففيه اختلاف فقوم يقولون لا ينبغي أن يؤتى به وقوم يقولون للمسافر أن يجىء به إن شاء وله أن لا يجىء به فالركعتان موصوفتان بصفة الفرض فهما فريضة وما بعد الركعتين موصوف بصفة التطوع فهو تطوع فثبت بذلك أن المسافر فرضه ركعتان وكان الفرض على المقيم أربعا فيما يكون فرضه على المسافر ركعتين فكما لا ينبغي للمقيم أن يصلى بعد الأربع شيئا من غير تسليم فكذلك لا ينبغي للمسافر أن يصلى بعد الركعتين شيئا بغير تسليم فهذا هو النظر عندنا في هذا الباب وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى فان قال قائل فقد روى عن جماعة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنهم كانوا يتمون وذكر في ذلك ما قد فعله عثمان رضي الله عنه بمنى وما

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو امیہ نے یا کسی آدی نے ابو امیہ سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفر سے واپس آیا تو آپ نے فرمایا اے ابو امیہ ! کیا تم صبح کے کھانے کا انتظار کروگے ۔ میں نے عرض کیا میں روزے سے ہوں پھر اسی طرح روایت نقل کی یہ وہ آثار ہیں جن کو ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے یہ تمام اس پر دلالت کرتے ہیں کہ مسافر کے لیے فرض نماز دو رکعت ہے اور وہ اپنی دو رکعتوں میں اس مقیم کی طرح ہے جو اپنی چار رکعتوں سے ادائیگی کرنے والا ہو پس جس طرح مقیم کو چار رکعت سے اضافہ اپنی نماز میں درست نہیں اسی طرح مسافر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی نماز میں دو رکعت سے اضافہ کرے ہماے نزدیک اس میں نظر و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ فرض نماز کو مکمل پڑھنا تمام کے ہاں متفق علیہ ہے ۔ اس میں سے کسی چیز کا چھوڑ نا اس شخص کے لیے جائز نہیں جس پر لازم ہو ، اس پر سب کا اتفاق ہے اور اسکو مکمل ادا کرنا بہرحال ضروری ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے جس چیز کو کرنے یا نہ کرنے میں اختیار ہے وہ نوافل ہیں اور نوافل کا یہ ہی حکم ہے اور جس کا کرنا ضروری ہے وہ فرض ہے اور دو رکعت کا ادا کرنا تو ضروری ہے اور دو کے بعد والی رکعات میں اختلاف ہے بعض لوگوں نے ان کے ادا کرنے کو ضروری قرار دیا اور دوسروں نے کہا کہ مسافر کے لیے ان دو کی ادائیگی مرضی پر موقف ہے خواہ ادا کرے یا ادا نہ کرے ۔ تو گویا دو رکعت میں فرض کی صفت پائی جاتی ہے اور بعد والی دو رکعت نوافل والی حالت رکھتی ہیں پس وہ نفل ہیں پس اس سے یہ بات بات ثابت ہوئی ہک مسافر کا اصل فرض دو رکعت ہے اور مقیم کا فرض اس نماز میں چار رکعت ، جس میں مسافر کے لیے دو رکعت ہیں ۔ پس جس طرح مقیم کے لیے جائز نہیں کہ ایک سلام سے چار رکعت پر کچھ اضافہ کرے بالکل اسی طرح مسافر کے لیے جائز نہیں ہے کہ دو رکعت کے بعد سلام کے بغیر کسی چیز کا اضافہ کرے ۔ ہمارے نزدیک اس باب میں نظر و فکر کا تقاضا یہ ہے اور یہی قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ،محمد رحمۃ اللہ علیہم کا ہے بالفرض اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ وہ نماز تکمیل کرتے تھے اور اس کے ثبوت میں منیٰ کیا جانے والا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کر لے ۔

أبي أمية ← رَجُلٌ: ← أبو أمية، أو ← أَبُو قِلَابَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2410

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2411

2277 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا يونس بن بكير قال حدثني محمد بن إسحاق قال حدثني صالح بن كيسان عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت أول ما فرضت الصلاة ركعتين ثم اكملت أربعا وأثبتت للمسافر قال صالح فحدثت بذلك عمر بن عبد العزيز فقال عروة حدثني عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت تصلى في السفر أربعا

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ وہ فرماتی ہیں کہ شروع میں نماز دو رکعت فرض ہوئی پھر چار مکمل کی گئی اور مسافر کے لیے اسی طرح قائم رکھی گئی صالح کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز کو یہ بات کہی تو انہوں نے کہا مجھے عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعت پڑھا کرتی تھیں ۔

عائشة أنها كانت تصلى في السفر أربعا ← صالح فحدثت بذلك عمر بن عبد العزيز فقال عروة ← أول ما فرضت الصلاة ركعتين ثم اكملت أربعا وأثبتت للمسافر ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2411

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2412

2278 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن الحكم عن إبراهيم التيمى عن أبيه قال استأذنت حذيفة من الكوفة الى المدائن أو من المدائن الى الكوفة في رمضان فقال آذن لك على أن لا تفطر ولا تقصر قال قلت وأنا أكفل لك أن لا أقصر ولا أفطر

ابراہیم تیمی نے اپنے والد سے بیان کیا کہ میں نے کوفہ سے مدائن جانے کے لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی یا مدائن سے کوفہ آنے کی اجازت رمضان میں طلب کی تو انہوں نے کہا میں تمہیں اس شرط پر اجازت دیتا ہوں کہ تو نہ قصر کرے اور نہ افطار کرے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ نہ قصر کروں گ اور نہ افطار کروں گا۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2412

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2413

2279 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا بن عون قال قدمت المدينة فأدركت ركعة من العشاء فصنعت شيئا برأيى فسألت القاسم بن محمد فقال أكنت ترى أن الله يعذبك لو صليت أربعا كانت أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها تصلى أربعا وتقول للمسلمون يصلون أربعا

روح نے بیان کیا کہ ہمیں ابن عون نے بیان کیا کہ میں مدینہ آیا تو مجھے عشاء کی ایک رکعت ملی میں نے اپنی رائے سے ایک پر عمل کیا پھر میں نے قاسم بن محمد سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اگر تو چار پڑھ لیتا تو اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دیتا ؟ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چار پڑھا کرتی تھیں اور مسلمانوں کو چار پڑھنے کا حکم دیتی تھی ۔

بن عون ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2413

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2414

2280 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا بن جريج قال قلت لعطاء أي أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يوفى الصلاة في السفر فقال لا أعلمه إلا عائشة رضي الله عنها وسعد بن أبى وقاص فهذا عطاء قد حكى ذلك عن سعد وقد روينا عنه خلاف ذلك في حديث الزهرى وحبيب بن أبي ثابت

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کون سے اصحاب سفر میں پوری نماز کرتے تھے انہوں نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کا علم نہیں ۔ یہ عطاء ہیں جو کہ سعد سے اسی طرح روایت کررہے ہیں حالانکہ حدیث زہری میں ہم سعد سے اس کے خلاف نقل کر آئے ہیں ۔ اسی طرح حبیب بن ابی ثابت سے بھی سعد رضی اللہ عنہ کا قول اس کے خلاف نقل کیا ہے ۔

بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2414

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2415

2281 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا شعبة عن حبان البارقي قال قلت لابن عمر انى من بعث أهل العراق فكيف أصلى قال إن صليت أربعا فأنت في مصر وإن صليت ركعتين فأنت مسافر فهذا عثمان بن عفان رضي الله عنه وحذيفة بن اليمان وعائشة رضي الله عنها وابن عمر رضي الله عنهما قد روى عنهم في إتمام الصلاة في السفر ما قد ذكرنا ولكل واحد منهم في مذهبه الذي ذهب اليه معنى سنبينه في هذا الباب ونذكر مع ذلك ما يجب به لقوله من طريق النظر وما يجب عليه أيضا من طريق النظر ان شاء الله تعالى فأما عثمان بن عفان رضي الله عنه فالذى ذكرنا عنه من ذلك هو إتمامه الصلاة ب منى فلم يكن ذلك لأنه أنكر التقصير في السفر وكيف يتوهم ذلك عليه وقد قال الله تعالى وإذا ضربتم في الأرض الآية فأباح الله لهم التقصير في هذه الآية إذا خافوا أن يفتنهم الذين كفروا نعم أخبرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ذلك واجب لهم وان أمنوا في حديث يعلى بن منية الذي رويناه عنه عن عمر رضي الله عنه في أول هذا الباب وصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ب منى ركعتين وهم أكثر ما كانوا وأمنه وعثمان معه رضي الله عنه فلم يكن إتمامه الصلاة ب منى لأنه أنكر التقصير في السفر ولكن لمعنى قد اختلف فيه

حبان بارقی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا میں عراق کی طرف جا رہا ہوں میں کسی طرح نماز ادا کروں انہوں نے فرمایا اگر تم چار پڑھو تو تم شہر میں ہو اور اگر دو پڑھو تو مسافر ہو ۔ لو یہ حضرت عثمان بن عفان ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، حذیفہ بن الیمان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جن سے سفر میں نماز کی تکمیل سے متعلق منقول ہوئیں ۔ ان حضرات میں سے ہر ایک کے پاس اپنے اختیار کردہ عمل کی کوئی نہ کوئی وجہ ہے جس کا عنقریب ہم تذکرہ کریں گے اور بطریقہ نظرو فکر ہر ایک کے معنی پر جو چیز لازم ہوتی ہے وہ بھی ذکرکریں گے ۔ ان شاء اللہ ۔ وضاحت سنیے یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے منیٰ میں نماز کو مکمل کیا تو وہ اس بناء پر نہ تھی کہ وہ سفر میں قصر کے قائل نہ تھے اور اس کا قطعا واہمہ بھی نہیں کیا جا سکتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ( واذا ضربتیم فی الارض۔۔۔۔) (الایۃ) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قصر کو ان کے لیے اس وقت مباح کیا ہے جبکہ کفار کے فتبنہ میں مبتلا کرنے کا خطرہ ہو پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اطلاع دی کہ یہ ان کے لیے لازم ہے خواہ وہ امن کی حالت میں ہوں یہ بات حجرت یعلیٰ بن منیہ کی روایت میں موجود ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے یہ روایت اسی باب کی ابتداء میں مذکور ہے اور جناب رسوال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت نماز ادا کی جبکہ وہ تعداد میں بھی زیادہ اور خوب امن میں بھی تھے ۔ اور اس وقت عثمان بھی ان کے ساتھ تھے ۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز کو دراز یعنی چار رکعت اس لیے ادا نہیں کیا کہ وہ قصر کا سفر میں انکار کرتے تھے بلکہ اس کی وجہ میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ روایت یہ ہے ۔

حبان البارقي ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2415

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2416

2282 - فحدثنا أبو بكرة قال ثنا حسين بن مهدى قال أنا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهرى قال إنما صلى عثمان ب منى أربعا لأنه أزمع على المقام بعد الحج فأخبرنا الزهرى في هذا الحديث أن إتمام عثمان رضي الله عنه إنما كان لأنه نوى الإقامة فصار إتمامه ذلك وهو مقيم قد خرج مما كانا فيه من حكم السفر ودخل في حكم الإقامة فليس في فعله ذلك دليل على مذهبه كيف كان في الصلاة في السفر هل هو الإتمام أو التقصير وقد قال الزهرى أيضا غير ذلك

زہری سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے منیٰ میں چار پڑھائیں کیونکہ انہوں نے حج کے بعد قیام کا ارادہ کر رکھا تھا پس ہمیں زہری نے اس روایت میں اس بات کی خبر دی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مکمل نماز منیٰ میں اس وجہ سے ادا کی کیونکہ وہ اقامت کی مکہ میں نیت کر چکے تھے پس انکا مکمل کرنا مقیم ہونے کی وجہ سے تھا پس جب وہ سفر والے حکم سے نکل گئے اور اقامت والے حکم میں داخل ہو گئے تو اب ان کے سفر میں تکمیل کی کوئی دلیل قائم نہ رہی کہ ان کی سفری نماز کیسی تھی کامل یا قصر والی ۔ زہری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے علاوہ بھی روایت نقل کی ہے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← حُسَیْنُ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2416

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2417

2283 - فحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر عن حماد بن سلمة قال أنا أيوب عن الزهرى قال إنما صلى عثمان رضي الله عنه ب منى أربعا لأن الاعراب كانوا أكثر في ذلك العام فأحب أن يخبرهم أن الصلاة أربع فهذا يخبر أنه فعل ما فعل ليعلم الأعراب به أن الصلاة أربع فقد يحتمل أن يكون لما أراد أن يريهم ذلك نوى الإقامة فصار مقيما فرضه أربع فصلى بهم أربعا وهو مقيم بالسبب الذي حكاه معمر عن الزهري في الفصل الذي قبل هذا ويحتمل أن يكون فعل ذلك وهو مسافر لتلك العلة والتأويل الأول أشبه عندنا والله أعلم لأن الأعراب كانوا بالصلاة وأحكامها في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم أجهل منهم بها وبحكمها في زمن عثمان رضي الله عنه وهم بأمر الجاهلية حينئذ أحدث عهدا فهم كانوا في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم الى العلم بفرائض الصلاة أحوج منهم الى ذلك في زمن عثمان رضي الله عنه فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يتم الصلاة لتلك العلة ولكن قصرها ليصلوا معه صلاة السفر على حكمها ويعلمهم صلاة الإقامة على حكمها في السفر كان عثمان رضي الله عنه أحرى أن لا يتم بهم الصلاة بتلك العلة ولكنه يصليها بهم على حكمها في السفر ويعلمهم كيف حكمها في الحضر فقد عاد معنى ما صح من تأويل حديث أيوب عن الزهرى الى معنى حديث معمر عن الزهرى وقد قال آخرون إنما أتم الصلاة لأنه كان يذهب الى انه لا يقصرها إلا من حل وارتحل واحتجوا في ذلك بما

زہری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت اس لیے ادا کیں کیونکہ بدو اس سال کثرت سے حج میں آئے پس انہوں نے چاہا کہ ان کو بتلا دیا جائے کہ نماز چار رکعت ہے ۔ زہری رحمۃ اللہ علیہ نے اس نے روایت میں خبر دی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت بدوؤں کو اس بات کی تعلیم دینے کے لیے کیا کہ اصل نماز ظہر و عصر چار چار رکعت ہے ۔ پس اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ جب ان کو تعلیم دینے کا ارادہ کیا تو اقامت کی نیت کر لی جس سے وہ مقیم ہو گئے اور ان کے فرض چار رکعت لازم ہو گئے اس لیے انہوں نے چار رکعت پڑھائی اور وہ اس سبب کے باعث مقیم ہو گئے جس کو معمر نے زہری سے ہی پہلی فصل میں ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے مسافر ہونے کی حالت میں اس سبب کی بناء پر نماز کو مکمل فرمایا ہو ( کہ شادی کر کے مقیم ہو گئے ہیں ) ہمارے نزدیک پہلی تاویل اولیٰ ہے واللہ اعلم ۔ کیونکہ بدوؤں کو نماز اور اس کے احکام سے زمانہ عثمانی سے زیادہ ضرور ت تھی زمانہ نبوت میں زمانہ عثمانی سے فرائض کے جاننے کی ان کو زیادہ حاجت تھی پس جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علت کی وجہ سے نمازوں کو پورا نہیں پڑا بلکہ قصر ادا فرمایا تا کہ وہ آپ کے ساتھ نماز سفر اصل حکم کے مطابق ادا کریں اور سفر میں انکو مقیم کی نماز اس کے طریقہ کے مطابق سکھائیں ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے زیادہ مناسب تھا کہ وہ اس علت کی بناء پر نماز کو پورا نہ پڑھیں بلکہ سفری حکم کے مطابق انجام دیں اور ان کو سکھائیں کہ مقی م کی نماز کس طرح پر ہوتی ہے پس بات اسی معنی کی طرف لوٹ آئی جو زہری رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے اور زہری رحمۃ اللہ علیہ سے ایوب رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کا بھی وہی مفہوم ہوا۔ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ انہوں نے نماز اس بناء پر مکمل کی کیونکہ ان کے نزدیک قصر صرف اس کے لیے ہے جو مسافر ہو ، ٹھہر نے والا نہ ہو ۔ انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ۔

الزُّهْرِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2417

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter