Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2382

2250 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهرى عن سالم عن أبيه قال أصلى صلاة سفر ما لم أجمع إقامة وان مكثت ثنتي عشرة ليلة

سالم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا میں جب تک فیصلہ اقامت نہیں کرتا اس وقت تک سفری نماز پڑھتا ہوں اگرچہ بارہ راتیں رکا رہوں ۔

أصلى صلاة سفر ما لم أجمع إقامة وان مكثت ثنتي عشرة ليلة ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2382

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2383

2251 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن بن أبي نجيح قال أتيت سالما أسأله وهو عند باب المسجد فقلت كيف كان أبوك يصنع قال كان إذا صدر الظهر وقال نحن ماكثون أتم الصلاة وإذا قال اليوم وغد أخر وإن مكث عشرين ليلة

ابن ابی نجیع بیان کرتے ہیں کہ میں سالم کے پاس آیا اور ان سے پوچھ رہا تھا اور وہ اس وقت مسجد کے دروازہ کے پس تھے میں نےکہا تمہارے والد کس طرح کرتے تھے ؟ جب ظہر کے شروع وقت میں وہ کہتے ہم قیام کریں گے تو پھر وہ نماز پوری کرتے اور اگر کہتے آج یا کل تو قصر کرتے اگرچہ بیس رات قیام کرتے۔

اليوم وغد أخر وإن مكث عشرين ليلة ← كان إذا صدر الظهر وقال نحن ماكثون أتم الصلاة وإذا ← أتيت سالما أسأله وهو عند باب المسجد فقلت كيف كان أبوك يصنع ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2383

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2384

2252 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا أبو عامر الخزاز قال ثنا بن أبى مليكة قال صحبت بن عباس من مكة الى المدينة فكان يصلى الفريضة ركعتين

ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ مین نے حضرت ابن عباس کی رفاقت مکہ سے مدینہ تک کی وہ فرض دو رکعت پڑھتے رہے ۔

صحبت بن عباس من مكة الى المدينة فكان يصلى الفريضة ركعتين ← بن أبي مليكة ← أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2384

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2385

2253 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا شعبة عن أنس بن سيرين قال خرجنا مع أنس بن مالك رضي الله عنه الى شق سيرين فأمنا في السفينة على بساط فصلى الظهر ركعتين ثم صلى بعدها ركعتين

انس بن سیرین کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے سیرین کی جانب گئے تو انہوں نے کشتی میں ایک دری پر نماز پڑھائی انہوں نے ظہر دو رکعت پڑھائی پھر اس کے بعد دو رکعت پڑھیں۔

أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2385

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2386

2254 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يحيى بن سعيد قال ثنا شعبة قال ثنا الأزرق بن قيس قال رأيت أبا برزة الأسلمى بالأهواز صلى العصر قلت فكم صلى قال ركعتين قال أبو جعفر فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كانوا يقصرون في السفر وينكرون على من أتم ألا ترى أن سعدا لما قيل له إن المسور وعبد الرحمن بن عبد يغوث يتمان قال نحن أعلم ولم يعذرهما في إتمامهما وإن الرجل الذي قدمه سلمان رضي الله عنه ومعه ثلاثة عشر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى أربعا فقال له سلمان رضي الله عنه عنه ما لنا وللمربعة إنما يكفينا نصف المربعة ولم ينكر ذلك عليه من كان بحضرته من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فدل ذلك أن مذاهبهم لم تكن إباحة الإتمام في السفر فان قال قائل فقد أتم الرجل الذي قدمه سلمان والمسور رضي الله عنه وهما صحابيان فقد ضاد ذلك ما رواه سلمان رضي الله عنه ومن تابعه على ترك الإتمام في السفر قيل له ما في هذا دليل على ما ذكرتم لأنه قد يجوز أن يكون المسور رضى الله عنه وذلك الرجل أتما أنهما لم يكونا يريان في ذلك السفر قصرا لأن مذهبهما أن لا تقصر الصلاة إلا في حج أو عمرة أو غزاة فإنه قد ذهب الى ذلك أيضا غيرهما فلما احتمل ما روى عنهما ما ذكرنا وقد ثبت التقصير عن أكثر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يجعل ذلك مضادا لما قد روى عنهم إذ كان قد يجوز أن يكون على خلاف ذلك وهذا عثمان بن عفان فقد صلى ب منى أربعا فأنكر ذلك عليه عبد الله بن مسعود رضي الله عنه ومن أنكر معه من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وإن كان عثمان إنما فعله لمعنى رأى به إتمام الصلاة مما سنصفه في موضعه من هذا الباب إن شاء الله تعالى فلما كان الذي ثبت لنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعن أصحابه هو تقصير الصلاة في السفر لا إتمامها لم يجز لنا أن نخالف ذلك الى غيره فان قال قائل فهل رويتم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا يدلكم على أن فرائض الصلاة ركعتان في السفر فيكون ذلك قاطعا لما ذهب اليه مخالفكم قلنا نعم

ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے ابو برزہ اسلمی کو اہواز میں دیکھا کہ انہوں نے نماز عصرپڑھائی میں نے پوچھا انہوں نے کتنی رکعت پڑھائی تو کہنے لگے دو رکعت ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ سفر میں قصر کرتے تھے اور تکمیل کرنے والے پر تنکیر کرتے تھے کیا تم دیکھتے نہیں کہ جب سعد کو یہ کہا گیا کہ مسوراور عبد الرحمن بن عبد یغوث رضی اللہ عنہ پوری نماز پڑھتے ہیں تو فرمایا ہم خؤب جانتے ہیں اور آ پ نے تکمیل میں ان کو معذور قرار نہیں دیا اور وہ شخص جس کو سلمان رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے آگے کیا اس وقت ان کے ساتھ تیرہ اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو انہوں نے چار رکعات نماز پڑھائی تو سلمان رضی اللہ عنہ ہمیں چار رکعات سے کیا تعلق ہے ہمیں تو چار کا نصف کا فی ہے وہاں جتنے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ان میں سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا تو اس سے یہ ثبوت مہیا ہو گیا ان تمام کے ہاں سفر میں تکمیل نماز نہ تھی ۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ اس شخص نے بھی چار رکعت ادا کیں جس کو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے مقدم کیا اور مسور رضی اللہ عنہ اور وہ دونوں صحابی ہیں اس شخص نے بھی نماز کو اس لیے مکمل کیا کیونکہ وہ اور مسور سفر میں قصر کے قائل نہ تھے کیونکہ ان کے ہاں تو صرف نماز قصر صرف حج یا عمرہ یا غزوہ میں تھی اور اس بات کو ان کے علاوہ دوسروں نے بھی اختیا کیا جب اس روایت میں احتمال پیدا ہو گیا حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت سے نماز قصر ثابت ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے جو کچھ مروی ہے اس کو اس کے متضاد قرار نہیں دیا جائے گا اس لیے کہ یہ ممکن ہے کہ اس کی کوئی اور وجہ ہو ۔ یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں کہ جنہوں نے منیٰ میں چار رکعات ادا کیں جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان پر تنکیر کی اور ان کے ساتھ دیگر اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اوپر قرار دیا ، اگرچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی اور وجہ سے کیا جس کی بناء پر انہوں نے نماز میں تکمیل کی ہم عنقریب اپنے موقع پر اسی باب میں بیان کریں گے ان شا ء اللہ تعالیٰ پس جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نماز سفر میں قصر کا ثبوت مہیا ہو گیا نہ کہ اتمام تو ہمیں اس کی مخالفت کر کے کسی اور بات کو اختیار کرنا جائز نہیں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسی کوئی بات مروی ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ سفر میں فرض نماز چار رکعات ہیں تو یہ تمہارے پاس مخالفین کے لیے دلیل قطعی بن جائے گی ہم کہتے ہیں کہ جی ہاں ! (ہمارے پاس ذیل کی روایات ہیں )

«رَكْعَتَيْنِ» ← رأيت أبا برزة الأسلمى بالأهواز صلى العصر قلت فكم صلى ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2386

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2387

2255 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا عبد العزيز بن معاوية قال ثنا يحيى بن حماد ح

عبدالعزیز بن معاویہ نے یحییٰ بن حماد سے بیان کیا ۔

يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← عبد العزيز بن معاوية ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2387

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2388

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو إسحاق الضرير قالا ثنا أبو عوانة عن بكير بن الأخنس عن مجاهد عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما أنه قال قد فرض الله الصلاة على لسان نبيكم في الحضر أربعا وفي السفر ركعتين

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پیغمبر کی زبان پر حضر میں چار رکعات نماز فرض کی اور سفر میں دو رکعت ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ، ← مُجَاهِدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أبو إسحاق الضرير ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2388

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2389

2256 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر وروح قالا ثنا الثوري عن زبيد اليامي ح

ثوری نے زبید یامی سے بیان کیا ۔

زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← الثَّوْرِيُّ ← أبو عامر وروح ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2389

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2390

وحدثنا أبو بكرة قال أبو المطرف بن أبى الوزير قال ثنا محمد بن طلحة بن مصرف عن زبيد اليامي عن عبد الرحمن بن أبى ليلى عن عمر رضي الله عنه قال صلاة الأضحى ركعتان والفطر ركعتان والجمعة ركعتان وصلاة الصفر ركعتان تمام ليس بقصر على لسان نبيكم صلى الله عليه و سلم

زبید نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے عمررضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ عیدقربان کی نماز دو رکعت اور عید الفطر دو رکعت اور جمعہ دو رکعت اور نماز سفر دو رکعت مکمل ہے ناقص نہیں ہے یہ تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بتلایا گیا ہے ۔

عُمَرَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، ← أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2390

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2391

2257 - وحدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عامر ومسلم بن إبراهيم قال ثنا محمد بن طلحة عن زبيد عن عبد الرحمن بن أبى ليلى قال خطبنا عمر رضي الله عنه فذكر مثله

عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

خطبنا عمر فذكر مثله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← زُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أبو عامر ومسلم بن إبراهيم ← وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2391

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2392

2258 - وحدثنا يزيد بن سنان وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان عن زبيد عن عبد الرحمن بن أبى ليلى قال قال عمر رضي الله عنه فذكر مثله

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ یا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عمر فذكر مثله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← وحدثنا يزيد بن سنان وإبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2392

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 62 باب صلاة المسافر ) · حديث 2393

2259 - وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو إسحاق الضرير قال ثنا محمد بن طلحة عن زبيد فذكر بإسناده مثله

محمد بن طلحہ نے زبید سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

زبيد فذكر بإسناده مثله ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أبو إسحاق الضرير ← وحدثنا بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2393

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter