شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 61 باب التوقيت في القراءة في الصلاة ) · حديث 2343
2214 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان عن مخول بن راشد عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فلما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار أنه قرأ في العيدين والجمعة غير ما جاء عنه في الآثار الأول لم يجز أن يحمل ذلك على التضاد والتكاذب ولكنا نحمله على الاتفاق والتصادق فنجعل ذلك كله قد كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقرأ بهذا مرة وبهذا مرة فحكى عنه كل فريق من الفريقين ما حضره منه ففي ذلك دليل على أن لا توقيت للقراءة في ذلك وان للإمام ان يقرأ في ذلك مع فاتحة الكتاب أي القرآن شاء وكذلك ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا أنه كان يقرأ في ذلك يوم الجمعة
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا انہوں نے جناب رسول اللہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایات وارد ہوئی ہیں کہ آپ نے عیدین اور جمعہ کی نمازوں میں اس کے علاوہ بھی قراءت کی ہے البتہ وہ پہلے آثار جن میں عدم جواز معلوم ہوتا ہے تو اس کی بجائے اس کے کہ ہم تضاد اور ایک دوسرے کی روایت کی تکذیب پر محمول کریں ہم انہیں ایک دوسرے کی تصدیق پر محمول کریں گے اور تمام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرار دیں گے اور وہ اس طرح کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھا اور کبھی دوسری سورتوں کو پڑھا ۔ روایت میں جو موجود تھے انہوں نے اپنا مشاہدہ نقل کر دیا اور اس میں اس بات کا ثبوت مل گیا کہ کسی نماز کے لیے کوئی قراءت مقرر نہیں ہے اور امام کو اختیار ہے کہ فاتحہ الکتاب کے ساتھ قرآن مجید کا جو نسا حصہ بھی پڑھے درست ہے اور اسی طرح وہ جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں یہ قراءت کرتے تھے ۔
أبو جعفر فلما جاء ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2343
