Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2312

وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قالا ثنا إسرائيل عن أبى إسحاق عن أرقم بن شرحبيل قال سافرت مع بن عباس رضي الله عنهما من المدينة الى الشام فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما مرض مرضه الذي مات فيه كان في بيت عائشة رضي الله عنها فقال ادعوا لي عليا رضي الله عنه فقالت عائشة رضي الله عنها ألا ندعو لك أبا بكر رضي الله عنه قال ادعوه فقالت حفصة رضي الله عنها ألا ندعو لك عمر رضي الله عنه قال ادعوه فقالت أم الفضل ألا ندعو لك العباس عمك قال ادعوه فلما حضروا رفع رأسه ثم قال ليصل للناس أبو بكر رضي الله عنه فتقدم أبو بكر رضي الله عنه فصلى بالناس ووجد رسول الله صلى الله عليه و سلم من نفسه خفة فخرج يهادى بين رجلين فلما أحسه أبو بكر سبحوا به فذهب أبو بكر يتأخر فأشار اليه النبي صلى الله عليه و سلم مكانك فاستتم رسول الله صلى الله عليه و سلم من حيث انتهى أبو بكر رضي الله عنه من القراءة وأبو بكر رضي الله عنه قائم ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس فأتم أبو بكر رضي الله عنه برسول الله صلى الله عليه و سلم وأتم الناس بأبي بكر رضي الله عنه فما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلاة حتى ثقل فخرج يهادى بين رجلين وأن رجليه لتخطان بالأرض فمات رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يوص قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أن أبا بكر رضي الله عنه ائتم برسول الله صلى الله عليه و سلم قائما والنبي صلى الله عليه و سلم قاعد وهذا من فعل النبي صلى الله عليه و سلم بعد قوله ما قال في الأحاديث التي في الباب الأول

ارقم بن شرحبیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے شام کا سفر کیا تو آپ نے فرمایا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے آپ نے فرمایا میرے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلاؤ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کیا ہم آپ کے لیے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نہ بلادیں ؟ آپ نے فرمایا انہی کو بلاؤ پس حفصہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کیا ہم آپ کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کو نہ بلا دیں فرمایا اس کو بلاؤ تو ام فضل کہتی ہیں کیا ہم آپ کے لیے آپ کے چچا عباس کو نہ بلا دیں آپ نے فرمایا ان کو بلاؤ جب یہ تمام حضرات آگئے تو آپ نے فرمایا لوگوں کو ابوبکر نماز پڑھائیں پس ابو بکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر آپ کی اقتداء کی جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز کی امامت فرما رہے تھے ۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے اس کے بعد کہ وہ آپ کا قول ہے جو باب اول کی روایات میں گزرا ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آرام محسوس کیا تو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر نکلے ۔

سافرت مع بن عباس من المدينة الى الشام فقال ← أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أسد ← وحدثنا ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2312

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2313

2186 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زائدة قال ثنا موسى بن أبى عائشة عن عبيد الله بن عبد الله قال دخلت على عائشة رضي الله عنها فقلت ألا تحدثينى عن مرض رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت بلى كان الناس عكوفا في المسجد ينتظرون رسول الله صلى الله عليه و سلم لصلاة العشاء الآخرة فأرسل رسول الله صلى الله عليه و سلم الى أبى بكر أن يصلى بالناس فكان يصلى بهم تلك الأيام ثم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم وجد من نفسه خفة فخرج يهادى بين رجلين لصلاة الظهر وأبو بكر يصلى بالناس فلما رآه أبو بكر ذهب ليتأخر فأومى اليه ألا يتأخر وقال لهما اجلسانى الى جنبه فأجلساه الى جنب أبي بكر رضي الله عنه فجعل أبو بكر يصلى وهو قائم بصلاة النبي صلى الله عليه و سلم والناس يصلون بصلاة أبو بكر والنبي صلى الله عليه و سلم قاعد قال عبيد الله فدخلت على بن عباس رضي الله عنهما فعرضت حديثها عليه فما أنكر من ذلك شيئا

عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا میں نے گزارش کی کہ آپ مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے سلسلہ میں بتائیں انہوں نے حامی بھرلی ۔ لوگ مسجد میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے باہر تشریف لانے کے منتظر تھے تاکہ آپ عشاء کی نماز پڑھائیں پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ وہی ان (ایام مرض) میں دنوں نماز پڑھاتے رہے پھر (ایک دن ) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ افاقہ محسوس فرمایا تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز ظہر کے لیے تشریف لائے اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابو بکررضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے پس آپ نے ان کی طرف پیچھے نہ ہٹنے کا اشارہ فرمایا اور ان دونوں کو فرمایا مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ان دونوں نے آپ کو ابو بکر کے پہلو میں بٹھا دیا پس ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھنے لگے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کے مطابق نما زپڑھنے لگے جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرما رہے تھے عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اورمیں نے ان کی تمام روایت ان کو سنائی تو انہوں نے اس میں سے کسی چیز کا انکاری نہ کیا ۔

مرض رسول الله صلى الله عليه و سلم ← دَخَلْت عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْت إِلاَّ تُحَدِّثِينِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2313

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2314

2187 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو معاوية قال ثنا الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها قالت لما ثقل رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءه بلال رضي الله عنه يؤذنه بالصلاة فقال ايتو أبا بكر فليصل بالناس قالت فقلت يا رسول الله لو أمرت عمر رضي الله عنه يصلى بهم فإن أبا بكر رجل آسيف ومتى يقوم مقامك لم يسمع الناس قال مروا أبا بكر فليصل بالناس فأمروا أبا بكر فصلى بالناس فلما دخل في الصلاة وجد رسول الله صلى الله عليه و سلم خفة فقام يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الأرض فلما سمع أبو بكر حسه ذهب ليتأخر فأومى اليه أن صل كما أنت فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى جلس عن يسار أبى بكر رضي الله عنه فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى بالناس وأبو بكر يقتدى بالنبي صلى الله عليه و سلم وهو قائم والناس يقتدون بصلاة أبى بكر رضي الله عنه فقال قائلون لا حجة لكم في هذا الحديث لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان في تلك الصلاة مأموما واحتجوا في ذلك بما

اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مرض کی وجہ سے بوجھل ہو گئی تو بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ کو نماز کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عر ض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ابو بکر رضی اللہ عنہ تو بہت رفیق القلب ہیں جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگ ان کی قراءت نہ سن سکیں آپ نے بار دیگر فرمایا جاؤ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں انہؤں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب وہ نماز شروع کر چکے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تخفیف محسوس کی تو دو آدمیوں کا سہارا لے کر آپ اٹھے جبکہ آپ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد کو محسوس کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ جیسا پڑھا رہے ہو پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بائیں جانب بیٹھ گئے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی اقتداء کر رہے تھے اس حال میں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہےکہ اس روایت میں تمہارے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس روایت کے مطابق اس نماز میں مقتدی تھے اور انہوں نے ان روایتوں کو دلیل بنایا ہے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2314

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2315

2188 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبى شيبة قال ثنا شبابة قال ثنا شعبة عن نعيم بن أبى هند عن أبى وائل عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي توفى فيه خلف أبى بكر رضي الله عنه قاعدا

مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں اپ کی وفات ہوئی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2315

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2316

2189 - حدثنا محمد بن حميد بن هشام الرعيني أبو قرة قال ثنا بن أبى مريم قال أنا يحيى بن أيوب قال حدثني حميد قال حدثني ثابت البناني عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى خلف أبى بكر في ثوب واحد برد مخالف بين طرفيه فكانت آخر صلاة صلاها

ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک کپڑے میں نماز ادا کی ہے جس کے دونوں کناروں کو اطراف میں ڈالا ہو ا تھا ، یہ آخری نماز تھی جو آپ نے ادا فرمائی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← محمد بن حميد بن هشام الرعيني أبو قرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2316

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2317

2190 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا معاوية بن عمرو الأزدي قال ثنا زائدة عن عبد الملك بن عمير عن أبى بردة بن أبى موسى عن أبيه قال مرض النبي صلى الله عليه و سلم فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت عائشة رضي الله عنها إن أبا بكر رجل رقيق فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فإنكن صواحب يوسف [ ص 407 ] قال قام أبو بكر في حياة رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان من الحجة عليهم في ذلك أنه قد روى هذا الحديث الذي قد ذكروه ولكن أفعال النبي صلى الله عليه و سلم في صلاته تلك تدل على أنه كان إماما وذلك أن عائشة قالت في حديث الأسود عنها فقعد رسول الله صلى الله عليه و سلم عن يسار أبى بكر وذلك قعود الإمام لأنه لو كان أبو بكر إماما له لكان النبي صلى الله عليه و سلم يقعد عن يمينه فلما قعد عن يساره وكان أبو بكر عن يمينه دل ذلك على أن النبي صلى الله عليه و سلم كان هو الإمام وأن أبا بكر هو المأموم وحجة أخرى أن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال في حديثه فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم في القراءة من حيث انتهى أبو بكر ففي ذلك ما يدل أن أبا بكر قطع القراءة وقرأ النبي صلى الله عليه و سلم فذلك دليل أنه كان الإمام ولولا ذلك لم يقرأ لأن تلك الصلاة كانت صلاة يجهر فيها بالقراءة ولولا ذلك لما علم رسول الله صلى الله عليه و سلم الموضع الذي انتهى اليه أبو بكر من القراءة ولا علمه من خلف أبى بكر فلما ثبت بما وصفنا أن تلك الصلاة كانت مما يجهر فيه بالقراءة وقرأ رسول الله فيها وكان الناس جميعا لا يختلفون أن المأموم لا يقرأ خلف الإمام كما يقرأ الإمام ثبت بذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان في تلك الصلاة إماما فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا رأينا الأصل المجتمع عليه أن دخول المأموم في صلاة الإمام قد يوجب فرضا على المأموم ولم يكن عليه قبل دخوله ولم نره يسقط عنه فرضا قد كان عليه قبل دخوله فمن ذلك أنا رأينا المسافر يدخل في صلاة المقيم فيجب عليه أن يصلى صلاة المقيم أربعا ولم يكن ذلك واجبا عليه قبل دخوله معه وانما أوجبه عليه دخوله معه ورأينا مقيما لو دخل في صلاة مسافر صلى بصلاته حتى إذا فرغ أتى بتمام صلاة المقيم فلم يسقط عن المقيم فرض بدخوله مع المسافر وكان فرضه على حاله غير ساقط منه شيء فالنظر على ذلك أن يكون كذلك الصحيح الذي كان عليه فرض القيام إذا دخل مع المريض الذي قد سقط عنه فرض القيام في صلاته أن لا يكون ذلك الدخول مسقطا عنه فرضا كان عليه قبل دخوله في الصلاة فان قال قائل فانا قد رأينا العبد الذي لا جمعة عليه يدخل في الجمعة فيجزيه من الظهر ويسقط عنه فرض قد كان عليه دخوله مع الإمام فيها قيل له هذا يؤكد ما قلنا وذلك أن العبد لم يجب عليه جمعة قبل دخوله فيها فلما دخل فيها مع من هى عليه كان دخوله إياها يوجب عليه ما هو واجب على إمامه فصار بذلك إذا وجب عليه ما هو واجب على إمامه في حكم مسافر لا جمعة عليه دخل في الجمعة فقد صارت واجبة عليه لوجوبها على إمامه وصارت مجزئة عنه من الظهر لأنها صارت بدلا منها فكذلك العبد لما وجبت عليه الجمعة بدخوله فيها أجزأته من الظهر لأنها صارت بدلا منها فقد ثبت بما ذكرنا أن دخول الرجل في صلاة غيره قد يوجب عليه ما لم يكن واجبا عليه قبل دخوله فيها ولا يسقط عنه ما كان واجبا عليه قبل دخوله فثبت بذلك أن الصحيح الذي القيام في الصلاة واجب عليه إذا دخل مع من قد سقط عنه فرض القيام في صلاته لم يكن يسقط عنه بدخوله من القيام ما كان واجبا عليه قبل ذلك وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف رحمهم الله وكان محمد الحسن رحمه الله يقول لا يجوز لصحيح أن يأتم بمريض يصلى قاعدا وإن كان يركع ويسجد ويذهب الى أن ما كان من صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قاعدا في مرضه بالناس وهم قيام مخصوص لأنه قد فعل فيها ما لا يجوز لأحد بعده أن يفعله من أخذه في القراءة من حيث انتهى أبو بكر وخروج أبى بكر رضي الله عنه من الإمامة الى أن صار مأموما في صلاة واحدة وهذا لا يجوز لأحد من بعده باتفاق المسلمين جميعا فدل ذلك على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان خص في صلاته تلك بما منع منه غيره [ ص 408 ]

ابو بردہ بن ابو موسیٰ نے اپنے والد ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا بو بکررضی اللہ عنہ کو کہو کہ وہ لوگوں کو نما ز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ (میں نے کہا) ابو بکر نرم دل آدمی ہیں اس پر بھی آپ نے فرمایا جاؤ لوگوں کو کہو کہ وہ ابو بکر کو نماز پڑھانے کےلیے کہیں تم تو یوسف کو مشورہ دینے والیاں ہو۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی زندگی میں ( آپ کے مصلی پر امامت کے لیے ) کھڑے ہوئے ان کے خلاف دلیل یہ ہے اگرچہ یہ روایت جس کا انہوں نے تذکرہ کیا وہ مروی ہے مگر نماز میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ امام تھے ( نہ کہ متقدی) اور وہ اس طرح کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسود والی روایت میں فرمایا( فعقد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن یسار ابی بکر) کہ آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بائیں جانب بیٹھ گئے اور یہ امام کے بیٹھنے کا مقام ہے ۔ اگر جناب ابو بکر رضی اللہ عنہ امام ہوتے تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دائیں جانب بیٹھتے اب جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بائیں جانب بیٹھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی دائیں جانب تھے تو یہ اس بات کی کھلی دلیل ہےکہ آپ امام تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مقتدی تھے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں یہ ذکر کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراء ت کو روک دیا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت شروع فرمائی اس سےثابت ہوگیا کہ آپ امام تھے ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ قراءت نہ کرتے کیونکہ وہ ایسی نماز تھی جس میں قراءت کو جہر سے پڑھا جاتا ہے اگریہ بات نہ ہوتی تو آپ مقام قراءت کو نہ جان سکتے کہ کہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے قراءت کو چھوڑا ہے اور دوسرے مقتدیوں کو بھی معلوم نہ ہو سکتا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قراءت فرمائی اور اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے قراءت نہ کرنا چاہیے جیسا امام قراءت کرتا ہو۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں امام تھے یہ تو اس باب کے آثار کو پیش نظر رکھتے ہوئے صورت ہے ۔ باقی نظر و فکر کا طریق پیش کیے دیتے ہیں ۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنیادی بات جس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب مقتدی امام کے ساتھ نماز میں شمولیت کر لے تو اس پر امام والے فرض کو لازم کر دیتی ہے جو کہ پہلے اس پر فرض نہ تھےاور ہم یہ مقتدی کے متلق خیال نہیں کرتے کہ اس پر جو چیز پہلے سےفرض تھی تو یہ داخل ہونا اس کے فرض کو ساقط کر دے گا۔ پس اس کی مثال یہ ہےکہ اگر کوئی مسافر کسی مقیم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جائے تو اس کے ذمہ ضروری ہے کہ وہ مقیم والی نماز چار رکعت ادا کر لے حالانکہ اس مقیم امام کی اقتداء سے پہلے اس پر فرض نہ تھی ( صرف دو رکعت تھیں ) امام کے ساتھ شمولیت نے اس کے چار فرض کو گرا کر دو نہیں کر دیا بلکہ وہ فرض اسی طرح رہیں گے اس میں ذرہ بھر حصہ ساقط نہ ہوگا ۔پس اس نظر کا تقاضا یہ ہے وہ صحت مند آدمی جس پر قیام تھا جب وہ مریض کے ساتھ نماز میں شامل ہوا کہ جس مریض کا قیام والا فرض ساقط ہو چکا تو اس کی نماز میں داخلہ اس فرض کو اس سے ساقط نہ کرے گا جو داخلہ سے پہلے اس پر لازم تھا ۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ غلام جس پر جمعہ لازم ہی نہیں اگروہ جمعہ میں شامل ہو جائے تو وہ اس کی ظہر کی جگہ کفایت کر جائے گا اور ظہر کا فریضہ اس سے ساقط ہو جائے گا اور اس کے ذمہ سے وہ فرض ساقط ہو جائے گاجو امام کے ساتھ نماز میں داخلے سے پہلے اس پر لازم تھا ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آپ کی یہ بات تو ہمارے قول کو موید ہے اور وہ اس طرح کہ غلام پر تو امام کے ساتھ داخلے سے پہلے جمعہ لازم ہی نہ تھا پھر جب وہ امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوا تو اس کا نماز میں داخلہ ہی اس پر امام والی بات کو اس پر لازم کر رہا ہے ۔ پس وہ اس طرح اس مسافر کے حکم میں ہو گیا کہ جس پر جمعہ فرض نہ تھا مگر وہ امام کے ساتھ جمعہ میں شامل ہو گیا تو اب اس پر وہ چیز واجب ہو گئی جو اس کے امام پر واجب تھی اور اس کا وہ جمعہ ظہر کی بجائے کفایت کر جائے گا کیونکہ وہ ظہر کا بدل بن گیا۔ پس اسی طرح جب غلام پر امام کی نماز میں داخلہ کے بعد جمعہ لازم ہو گیا اور وہ ظہر کی جگہ کفایت کر گیا کیونکہ وہ ظہر کا بدل بن گیا پس ہماری اس بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ اگر کوئی شخص دوسرے کے ساتھ نماز میں شامل ہو گا تو اس کی دو حالتیں ہوں گی بعض اوقات اس سے اس پر وہ چیز واجب ہو جائے گی جو داخلہ سے پہلے اس پر لازم نہ تھی اور جو داخلہ سے پہلے اس کے ذمہ لازم ہو چکی تھی وہ اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہو گی (بعض اوقات دوسری صورت ہو گی جو مذکور ہوئی) اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ وہ صحت مند جس پر قیام کرنا نماز میں لازم ہے جب وہ اس مریض کے ساتھ نماز میں شامل ہو جس سے فرض قیام ساقط ہے تو امام کے ساتھ نماز میں شمولیت سے اس سے فرض قیام ساقط نہ ہوگا جو کہ پہلے اس پر لازم ہو چکا تھا اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے ۔ امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ صحت مند شخص کو ایسے مریض کی اقتداء ہی درست نہیں جو بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو ۔ اگرچہ وہ رکوع و سجدہ سے نماز ادا کرتا ہو ۔ ا ن کا رجحان اس طرف ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹھ کر نماز پڑھنا جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حالت قیام میں تھے یہ آپ کی خصوصیت ہے اس لیے کہ اس میں آپ نے وہ عمل کیا جو آپ کے بعد کسی کو جائز نہیں مثلا آپ نے قراءت اس جگہ سے شروع فرمائی جہاں تک جناب ابو بکر پہنچے تھے ۔ اسی طرح دوسری بات یہ ہے کہ جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ایک ہی نماز میں امامت سے نکل کر مقتدی بن گئے اور یہ بات اجماعی ہے کہ یہ عمل آپ کے سواء اور کسی کے لیے جائز نہیں ۔ پس اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ یہ عمل جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے جو دوسروں کے لیے ممنوع ہے ۔

عَائِشَةَ ← مروا أبا بكر فليصل ← مرض النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَزْدِيُّ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2317

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter