شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يدخل في صلاة الغداة فيصلى منها ركعة ثم تطلع الشمس ) قال أبو جعفر روى عطاء بن يسار وغيره عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أدرك من صلاة الصبح ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد أدرك الصلاة وقد ذكرنا ذلك بأسانيده في با · حديث 2298
2173 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو مصعب الزهرى قال ثنا بن أبى حازم عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عرس ذات ليلة بطريق مكة فلم يستيقظ هو ولا أحد من أصحابه حتى ضربتهم الشمس فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هذا منزل به شيطان فاقتاد رسول الله صلى الله عليه و سلم واقتاد أصحابه حتى ارتفع الضحى فأناخ رسول الله صلى الله عليه و سلم وأناخ أصحابه فأمهم فصلى الصبح فلما رأينا النبي صلى الله عليه و سلم أخر صلاة الصبح لما طلعت الشمس وهى فريضة فلم يصلها حينئذ حتى ارتفعت الشمس وقد قال في غير هذا الحديث من نسي صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها دل ذلك أن نهيه عن الصلاة عند طلوع الشمس قد دخل فيه الفرائض والنوافل وأن الوقت الذي استيقظ فيه ليس بوقت للصلاة التي نام عنها فان قال قائل فلم قلت ببعض هذا الحديث وتركت بعضه فقلت من صلى من العصر ركعة ثم غربت له الشمس أنه يصلى بقيتها قيل له لم تقل ببعض هذا الحديث ولا بشيء منه بل جعلناه منسوخا كله بما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من نهيه عن الصلاة عند طلوع الشمس وبما قد دل عليه ما ذكرنا من حديث جبير وعمران وأبى قتادة وأبى هريرة على أن الفريضة قد دخلت في ذلك وأنها لا تصلى حينئذ كما لا تصلى النافلة وأما الصلاة عند غروب الشمس لعصر يومه فانا قد ذكرنا الكلام في ذلك في باب مواقيت الصلاة فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا رأينا وقت طلوع الشمس الى أن ترتفع وقتا قد نهى عن الصلاة فيه فأردنا أن ننظر في حكم الأوقات التي ينهى فيها عن الأشياء هل يكون على التطوع منها دون الفرائض أو على ذلك كله فرأينا يوم الفطر ويوم النحر قد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيامهما وقامت الحجة عنه بذلك فكان ذلك النهى عند جميع العلماء على أن لا يصام فيهما فريضة ولا تطوع فكان النظر على ذلك في وقت طلوع الشمس الذي قد نهى عن الصلاة فيه أن يكون كذلك لا تصلى فيه فريضة ولا تطوع وكذلك يجىء في النظر عند غروب الشمس وأما نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن الصلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس وبعد الصبح حتى تطلع الشمس فان هذين الوقتين لم ينه عن الصلاة فيهما للوقت وانما نهى عن الصلاة فيهما للصلاة وقد رأينا ذلك الوقت يجوز لمن لم يصل أن يصلى فيه الفريضة والصلاة الفائتة فلما كانت الصلاة هي الناهية وهي فريضة كانت إنما ينهى عن غير شكلها من النوافل لا عن الفرائض وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد قال بذلك الحكم وحماد
علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی راہ میں رات کے پچھلے حصہ میں قیام فرمایا نہ آپ بیدار ہوئے نہ ہی آپ کے اصحاب میں سے کوئی بیدار ہوا یہاں تک کہ سورج کی دھوپ انہیں لگی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمایا یہ وہ جگہ ہے جہاں شیاطین ہیں ۔ پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کو مؤخر فرمایا جب کہ سورج چڑھ آیا، حالانکہ یہ تو فرض نماز ہے آپ نے اس کو مؤخر فرما یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا اور دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا " من نسی صلاۃ اونام عنھا فلیصلھا اذا ذکرھا"(الحدیث) جو شخص کوئی نماز بھول جائے یا سونے کی وجہ سے رہ جائے تو اس کو یاد آنے پر ادا کر لے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ کا نماز سے طلوع آفتاب کے وقت منع کرنا فرائض و نوافل ہر دو کو شامل ہے اور وہ وقت جس میں بیدار ہو وہ اس نماز کا وقت ہے جو سونے کی بناء پر چھوٹ گئی ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ جناب آپ نے اس حدیث کا بعض حصہ تو بیان کر دیا مگر بعض کو ترک کر دیا ؟ تم نے کہا " من صلی من العصر رکعۃ ثم غربت لہ الشمس انہ یصلی بقیتھا" جس نے نماز عصر کی ایک رکعت ادا کی پھر سورج غروب ہو گیا تو وہ بقیہ نماز ادا کرے" تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ ہم نے نہ تو اس حدیث کا بعض حصہ لیا اور نہ کچھ لیا بلکہ اس مکمل روایت کو اس روایت سے منسوخ تسلیم کرتے ہیں جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع کے وقت نماز سے منع فرمایا ہے اور اس سے منسوخ جانتے ہیں جس پر جناب جبیر ، عمران ، ابو قتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایت دلالت کرتی ہے کہ فرض بھی ممانعت میں شامل ہے اور ان اوقات میں اسے بھی نہ پڑھا جائے جیسا کہ نوافل نہیں پڑھے جاتے وہی نماز عصر جو غروب آفتاب کے وقت پڑھی جاتی ہے اس کے متعلق ہم باب مواقیت الصلاۃ میں بجث کر آئے روایات کے معانی کی تصحیح کے اعتبار سے یہ اس باب کی وضاحت ہے ۔ البتہ نظرو فکر کے لحاظ سے اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ہم نے دیکھا کہ طلوع آفتاب کے وقت نماز کی ممانعت ہے جب تک کہ سورج بلند نہ ہو جائے ۔ پھر ہم نے ممنوعہ اوقات کو دیکھا کہ آیا وہاں نفل سے منع کیا گیا یا فرائض سے یا دو سے پس ہم عیدالفطر اور عید قربان کو دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام میں روزے کی ممانعت فرمائی اور اس پر آپ کی طرف سے دلیل بھی قائم کی تو تمام علماء کے ہاں ان دنوں میں فرض و نفل دونوں قسم کے روزوں کی ممانعت ہے ۔ پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے وقت کی ممانعت بھی اسی طرح کی ہے اس میں فرض و نفل دونوں کی ممانعت ہے ۔ غروب آفتاب کے وقت سے متعلق بھی عقل اسی بات کی متقاضی ہے ۔ جہاں تک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصر کے بعد غروب آفتاب اور فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز سے منع کرنے کا معاملہ ہے تو ان دونوں اوقات میں نماز کی ممانعت وقت کی بناء پر نہیں ہے بلکہ ممانعت نماز کی وجہ سے ہے اور ہم اس بات کوپاتے ہیں کہ جس آدمی نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے لیے درست ہے کہ وہ اس وقت میں فرض وقتی اور سابقہ فوت شدہ نماز پڑھ سکتا ہے پس جب نماز ہی روکنے والی بن گئی حالانکہ وہ فرض ہے تو وہ اپنے ساتھ مشابہت نہ رکھنے والی نفل نماز کے لیے مانع تو بنے گی مگر فرائض کے لیے نہیں ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور جلیل القدر تابعی حضرت حکم و حماد کا قول اس کے موافق ہے ملاحظہ ہو ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کوچ کیا اور چلتے رہے یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہو گیا تو آپ نے اونٹنی بٹھائی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی بٹھا دیں پھر آپ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ
Hadith 2298
