Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يدخل في صلاة الغداة فيصلى منها ركعة ثم تطلع الشمس ) قال أبو جعفر روى عطاء بن يسار وغيره عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أدرك من صلاة الصبح ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد أدرك الصلاة وقد ذكرنا ذلك بأسانيده في با · حديث 2298

2173 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو مصعب الزهرى قال ثنا بن أبى حازم عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عرس ذات ليلة بطريق مكة فلم يستيقظ هو ولا أحد من أصحابه حتى ضربتهم الشمس فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هذا منزل به شيطان فاقتاد رسول الله صلى الله عليه و سلم واقتاد أصحابه حتى ارتفع الضحى فأناخ رسول الله صلى الله عليه و سلم وأناخ أصحابه فأمهم فصلى الصبح فلما رأينا النبي صلى الله عليه و سلم أخر صلاة الصبح لما طلعت الشمس وهى فريضة فلم يصلها حينئذ حتى ارتفعت الشمس وقد قال في غير هذا الحديث من نسي صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها دل ذلك أن نهيه عن الصلاة عند طلوع الشمس قد دخل فيه الفرائض والنوافل وأن الوقت الذي استيقظ فيه ليس بوقت للصلاة التي نام عنها فان قال قائل فلم قلت ببعض هذا الحديث وتركت بعضه فقلت من صلى من العصر ركعة ثم غربت له الشمس أنه يصلى بقيتها قيل له لم تقل ببعض هذا الحديث ولا بشيء منه بل جعلناه منسوخا كله بما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من نهيه عن الصلاة عند طلوع الشمس وبما قد دل عليه ما ذكرنا من حديث جبير وعمران وأبى قتادة وأبى هريرة على أن الفريضة قد دخلت في ذلك وأنها لا تصلى حينئذ كما لا تصلى النافلة وأما الصلاة عند غروب الشمس لعصر يومه فانا قد ذكرنا الكلام في ذلك في باب مواقيت الصلاة فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا رأينا وقت طلوع الشمس الى أن ترتفع وقتا قد نهى عن الصلاة فيه فأردنا أن ننظر في حكم الأوقات التي ينهى فيها عن الأشياء هل يكون على التطوع منها دون الفرائض أو على ذلك كله فرأينا يوم الفطر ويوم النحر قد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيامهما وقامت الحجة عنه بذلك فكان ذلك النهى عند جميع العلماء على أن لا يصام فيهما فريضة ولا تطوع فكان النظر على ذلك في وقت طلوع الشمس الذي قد نهى عن الصلاة فيه أن يكون كذلك لا تصلى فيه فريضة ولا تطوع وكذلك يجىء في النظر عند غروب الشمس وأما نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن الصلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس وبعد الصبح حتى تطلع الشمس فان هذين الوقتين لم ينه عن الصلاة فيهما للوقت وانما نهى عن الصلاة فيهما للصلاة وقد رأينا ذلك الوقت يجوز لمن لم يصل أن يصلى فيه الفريضة والصلاة الفائتة فلما كانت الصلاة هي الناهية وهي فريضة كانت إنما ينهى عن غير شكلها من النوافل لا عن الفرائض وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد قال بذلك الحكم وحماد

علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی راہ میں رات کے پچھلے حصہ میں قیام فرمایا نہ آپ بیدار ہوئے نہ ہی آپ کے اصحاب میں سے کوئی بیدار ہوا یہاں تک کہ سورج کی دھوپ انہیں لگی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمایا یہ وہ جگہ ہے جہاں شیاطین ہیں ۔ پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کو مؤخر فرمایا جب کہ سورج چڑھ آیا، حالانکہ یہ تو فرض نماز ہے آپ نے اس کو مؤخر فرما یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا اور دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا " من نسی صلاۃ اونام عنھا فلیصلھا اذا ذکرھا"(الحدیث) جو شخص کوئی نماز بھول جائے یا سونے کی وجہ سے رہ جائے تو اس کو یاد آنے پر ادا کر لے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ کا نماز سے طلوع آفتاب کے وقت منع کرنا فرائض و نوافل ہر دو کو شامل ہے اور وہ وقت جس میں بیدار ہو وہ اس نماز کا وقت ہے جو سونے کی بناء پر چھوٹ گئی ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ جناب آپ نے اس حدیث کا بعض حصہ تو بیان کر دیا مگر بعض کو ترک کر دیا ؟ تم نے کہا " من صلی من العصر رکعۃ ثم غربت لہ الشمس انہ یصلی بقیتھا" جس نے نماز عصر کی ایک رکعت ادا کی پھر سورج غروب ہو گیا تو وہ بقیہ نماز ادا کرے" تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ ہم نے نہ تو اس حدیث کا بعض حصہ لیا اور نہ کچھ لیا بلکہ اس مکمل روایت کو اس روایت سے منسوخ تسلیم کرتے ہیں جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع کے وقت نماز سے منع فرمایا ہے اور اس سے منسوخ جانتے ہیں جس پر جناب جبیر ، عمران ، ابو قتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایت دلالت کرتی ہے کہ فرض بھی ممانعت میں شامل ہے اور ان اوقات میں اسے بھی نہ پڑھا جائے جیسا کہ نوافل نہیں پڑھے جاتے وہی نماز عصر جو غروب آفتاب کے وقت پڑھی جاتی ہے اس کے متعلق ہم باب مواقیت الصلاۃ میں بجث کر آئے روایات کے معانی کی تصحیح کے اعتبار سے یہ اس باب کی وضاحت ہے ۔ البتہ نظرو فکر کے لحاظ سے اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ہم نے دیکھا کہ طلوع آفتاب کے وقت نماز کی ممانعت ہے جب تک کہ سورج بلند نہ ہو جائے ۔ پھر ہم نے ممنوعہ اوقات کو دیکھا کہ آیا وہاں نفل سے منع کیا گیا یا فرائض سے یا دو سے پس ہم عیدالفطر اور عید قربان کو دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام میں روزے کی ممانعت فرمائی اور اس پر آپ کی طرف سے دلیل بھی قائم کی تو تمام علماء کے ہاں ان دنوں میں فرض و نفل دونوں قسم کے روزوں کی ممانعت ہے ۔ پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے وقت کی ممانعت بھی اسی طرح کی ہے اس میں فرض و نفل دونوں کی ممانعت ہے ۔ غروب آفتاب کے وقت سے متعلق بھی عقل اسی بات کی متقاضی ہے ۔ جہاں تک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصر کے بعد غروب آفتاب اور فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز سے منع کرنے کا معاملہ ہے تو ان دونوں اوقات میں نماز کی ممانعت وقت کی بناء پر نہیں ہے بلکہ ممانعت نماز کی وجہ سے ہے اور ہم اس بات کوپاتے ہیں کہ جس آدمی نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے لیے درست ہے کہ وہ اس وقت میں فرض وقتی اور سابقہ فوت شدہ نماز پڑھ سکتا ہے پس جب نماز ہی روکنے والی بن گئی حالانکہ وہ فرض ہے تو وہ اپنے ساتھ مشابہت نہ رکھنے والی نفل نماز کے لیے مانع تو بنے گی مگر فرائض کے لیے نہیں ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور جلیل القدر تابعی حضرت حکم و حماد کا قول اس کے موافق ہے ملاحظہ ہو ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کوچ کیا اور چلتے رہے یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہو گیا تو آپ نے اونٹنی بٹھائی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی بٹھا دیں پھر آپ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 2298

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يدخل في صلاة الغداة فيصلى منها ركعة ثم تطلع الشمس ) قال أبو جعفر روى عطاء بن يسار وغيره عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أدرك من صلاة الصبح ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد أدرك الصلاة وقد ذكرنا ذلك بأسانيده في با · حديث 2299

2174 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة قال سألت الحكم وحمادا عن الرجل ينام عن الصلاة فيستيقظ وقد طلع من الشمس شيء قالا لا يصلى حتى تنبسط الشمس

شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم وحماد سے کہا کہ جو آدمی نماز سے سو جائے پھر بیدار ہو جبکہ ذرا سا سورج نکل چکا ہو( تو کیا حکم ہے) انہوں نے کہا وہ اس وقت تک نہ پڑھے یہاں تک کہ دھوپ پھیل جائے ۔

لا يصلى حتى تنبسط الشمس ← الصلاة فيستيقظ وقد طلع من الشمس شيء ← الرجل ينام ← سَأَلْتُ الْحَكَمَ وَحَمَّادًا ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بن مرزوق

Hadith 2299

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2300

2175 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى ح

علی بن شیبہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کی ہے ۔

يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Hadith 2300

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2301

وحدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قالا ثنا حميد بن عبد الرحمن بن حميد الرواسي عن أبيه عن أبى الزبير عن جابر رضي الله عنه قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر وأبو بكر خلفه فإذا كبر رسول الله صلى الله عليه و سلم كبر أبو بكر ليسمعنا فبصر بنا قياما فقال اجلسوا أومى بذلك إليهم فلما قضى الصلاة قال كدتم أن تفعلوا فعل فارس والروم بعظمائهم ائتموا بأئمتكم فان صلوا قياما فصلوا قياما وإن صلوا جلوسا فصلوا جلوسا

ابوالزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے راویت کی کہ ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ابو بکر کہتے تا کہ ہم تکبیر کی آواز سن پائیں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑے دیکھا تو بیٹھنے کا اشارہ کیا جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا قریب ہے کہ تم بھی اپنےبڑوں کے ساتھ فارسیوں رومیوں جیسا سلوک شروع کر دو اپنے ائمہ کی اقتداء کرو اگر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں تو کھڑے نماز ادا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں تو بیٹھ کر ادا کرو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبِيهِ ← حميد بن عبد الرحمن بن حميد الرؤاسي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Hadith 2301

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2302

2176 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ركب فرسا فصرع عنه فجحش شقه الأيمن فصلى صلاة من الصلوات وهو قاعد وصلينا وراءه قعودا فلما انصرف قال إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا صلى قائما فصلوا قياما وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعين

ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہو ئے اور اس سے گر کر آپ کے چمڑے پر دائیں جانب خراش آگئی تو آپ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا امام اقتداء کے لیے بنایا گیا ہے جب وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے تو کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 2302

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2303

2177 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني الليث ويونس عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

لیث و یونس نے ابن شہاب سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← الليث ويونس ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 2303

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2304

2178 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا حميد قال ثنا أنس بن مالك رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله

حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 2304

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2305

2179 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه أن عائشة رضي الله عنها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيته وهو شاك فصلى جالسا فصلى خلفه قوم قياما فأشار إليهم أن اجلسوا ثم ذكر مثله

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں نماز ادا فرمائی آپ کو درد کی شکایت تھی پس آپ نے بیٹھ کر نماز ادا کی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو آپ نے لوگوں کو بیٹھنے کااشارہ کیا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 2305

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2306

2180 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا على بن مسهر عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا انہوں نےجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← حسين بن نصر

Hadith 2306

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2307

2181 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن يعلى بن عطاء قال سمعت أبا علقمة يحدث عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أطاعنى فقد أطاع الله ومن عصانى فقد عصى الله ومن أطاع الأمير فقد أطاعنى ومن عصى الأمير فقد عصانى فإذا صلى قائما فصلوا قياما وإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا

ابو علقمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے گویا میری نافرمانی کی جب امام کھڑے ہو کر نماز ادا کرے تو کھڑے ہو کر ادا کرو اور بیٹھ کر ادا کرے تو بیٹھ کر ادا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا عَلْقَمَةَ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 2307

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2308

2182 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا وهب عن مصعب بن محمد القرشي عن أبى صالح عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا أجمعين

ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام تو اقتداء کے لیے بنایا گیا جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بیٹھ کر پڑھو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مصعب بن محمد القرشي ← وَھْبٍ ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 2308

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 59 باب صلاة الصحيح خلف المريض ) · حديث 2309

2183 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 2309

chevron_left Previous
12345…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter